تنزلات مراتب

تنزلات مراتب تنزل کا لغوی معنی نیچے اترنے اور اوپر سے نیچے آنا ہے ۔

تنزلات کا مفہوم

جب اللہ کی ذات نے مرتبہ لاتعین اور وراءالوراء سے نزول فرما کر باغ کائنات کی گلشن آرائی فرمائی تو اس کو صوفیا تنزلات کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں

اصطلاح تصوف میں ذات کے ظہور کو تنزل کہتے ہیں مگر تصوف میں تنزلات مراتب سے لغوی معنی مراد نہیں بلکہ اصطلاحی معنی ملحوظ ہے یعنی وجود کا اپنی ذات و صفات کو قائم رکھتے ہوئےظہور فرمانا کیونکہ وجود جیسا تھا اب بھی ویسا ہی ہے اس میں کسی قسم کا تغیر واقع نہیں ہوا اس کی شان الان کما کان ہے۔

صوفیائے وحدت الوجود کے نزدیک وجود نے جن مرتبوں سے علی الترتیب نزول فرما کر کائنات میں ظہور فرمایا ہے ان مرتبوں کو تنزلات کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور حسب موقع ان کو تعینات ،تجلیات، اعتبارات اور تقیدات کے ناموں سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے نیز یہ تمام تنزلات شہودی اور اعتباری ہیں نہ کہ وجودی اورحقیقی یعنی تمام تنزلات شہود میں واقع ہوئے ہیں نہ کہ وجود میں۔

تنزلات خمسہ

حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی علیہ الرحمۃ اور ان کے متبعین کا موقف یہ ہے کہ وجود وجود مطلق ہے اور مراتب وحدت میں یہ مرتبہ لاتعین ہے وحدت اپنے تعینات یا تنزلات میں پانچ مراتب سے گذرتی ہےپہلے دو تنزلات علمی ہیں اور بعد کے تین تنزلات عینی یا خارجی ہیں ۔

پہلے تنزل میں ذات کو اپنا شعوربحیثیت وجود محض حاصل ہوتا ہے اورشعور صفات اجمالی رہتا ہے۔
دوسرے تنزل میں ذات کو اپنا شعور بحیثیت متصف بہ صفات ہوتا ہے یہ صفات تفصیلی کا مرتبہ ہے( یعنی صفات کے بالتفصیل واضح ہونے کا )یہ دونوں تنزلات بجائے واقع ہونے کے ذہنی یا محض منطقی تنزلات کے طور پر تصور کئے گئے ہیں کیونکہ وہ غیر زمانی ہیں اور خود ذات و صفات کا امتیاز بھی صرف ذہنی ہے اس کے بعد تنزلات عینی یا خارجی شروع ہوتے ہیں۔

تیسرا تنزل تعین روحی ہے یعنی وحدت بصورت روح یا ارواح نزول کرتی ہے اور وہ اپنے آپ کو بہت سی ارواح میں تقسیم کر دیتی ہے مثلا فرشتے وغیرہ۔
چوتھا تنزل عیون مثالی ہے جس سے عالم مثال وجود میں آتا ہے
پانچواں تنزل تعین جسدی ہے اس سے مظاہر یا اشیاء طبعی ظاہر ہوتی ہیں۔

ذات کے مرتبہ ظہور کو تعین کہتے ہیں جو پانچ ہیں

تنزلات خمسہ کو تعینات پنجگانہ اور حضرات خمسہ بھی کہا جاتا ہے صوفیائے وحدۃالوجود کے مطابق

تعین اول مرتبہ وحدت حقیقت محمدیہ اس مرتبہ میں ذات نے اپنے کو انا سے تعبیر فرمایا ہےاور یہ ذات کا علم اجمالی ہے۔ یہ تعین داخلی کہلاتا ہے

تعین ثانی اس مین ذات نے اپنی صفات کا تفصیلی علم ظاہر فرمایا ہے اسی کو مرتبہ واحدیت ،حقیقت ادم اور نفس رحمان کہتے ہیں۔ یہ بھی تعین داخلی کہلاتا ہے ۔

تعین ثالث عالم ارواح کو کہتے ہیں جس صورت میں خود حق تعالیٰ نزول فرمایا ہے اس میں ذات کے اسماء ،افعال اور صفات کا ظہور ہوتا ہے یہ تعین خارجی کہلاتا ہے

تعین رابععالم مثال کو کو کہتے ہیں جس صورت میں خود حق تعالیٰ نزول فرمایا ہے اس میں ذات کے اسماء ،افعال اور صفات کا ظہور ہوتا ہے یہ تعین خارجی کہلاتا ہے

تعین خامس عالم اجساد کو کہتے ہیں جس صورت میں خود حق تعالیٰ نزول فرمایا ہے اس میں ذات کے اسماء ،افعال اور صفات کا ظہور ہوتا ہے یہ تعین خارجی کہلاتا ہے

اصطلاحات صوفیہ :خواجہ شاہ محمد عبد الصمد صفحہ 31،مطبوعہ دلی پرنٹنگ ورکس دہلی


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں