دیدار اور آخرت کے شبہات کا ردمکتوب نمبر44دفتر سوم

 دیدار اور آخرت کے منکروں کے شبہوں کو دور کرنے کے بیان میں میر عبدالرحمن ولد میر نعمان کی طرف صادر فرمایا ہے:۔ 

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

دیدار آخرت کے منکر لوگ وہ اعتراض جو رؤیت کے مسئلہ میں پیش کرتے ہیں اور وہ دلیل جورؤیت کی نفی پرلاتے ہیں۔ یہ ہے کہ رویت بصری یعنی آنکھوں سے دیکھنا یہ چاہتا ہے کہ رائی(یعنی دیکھنے والا شخص) مرئی (یعنی جس کو دیکھیں)کے مقابل اور برابر ہو اور دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں اور یہ بات حق تعالیٰ  میں مفقود ہے۔ کیونکہ جہت(سمت) لازم آتی ہے جو احاطہ اور تحدید(حد مقرر کرنا) و نہایت کو چاہتی ہے۔ یہ سرا سرنقص اور الوہیت کے منافی ہے۔تعالی الله عن ذلک علوا كبيرا (اللہ تعالیٰ  اس سے بہت ہی برتر ہے) جواب اس کا یہ ہے کہ جب قادر پر کمال جل شانہ نے اس ضعیف اور فانی دنیا میں دنیاوی آنکھ کو جودو بے حس و حرکت اور اندر سے خالی عصبوں یعنی پٹھوں سے بنی ہے۔ اس قد رقوت بخشی ہے کہ مقابلہ (سامنا)اورمحاذات(برابر)  کی شرط پر اشیاء کو دیکھ سکتی ہے تو عالم آخرت میں جو قوی اور باقی ہے اگر ان دونوں عصبوں کو اس قدر قوت بخش دے کہ مقابلہ و محاذات  کے بغیر مرئی کو دیکھ سکیں۔ خواہ وہ مرئی تمام جہتوں میں ہو یا ایک جہت میں۔ تو اس میں کونسی تعجب کی بات ہے اور کیا حال ہے۔ کیونکہ فاعل جل شانہ اقتدار کے اعلی مرتبہ میں ہے اور قابل یعنی فاعل کی طرف سے اثر قبول کرنے والی آنکھ ابصار واحساس کے لیے مستعد ہے۔ حاصل کلام یہ کہ بعض مکان و زمان میں کسی خاص مصلحت کے لیے محاذات  اور جہت کے تعین کی شرط کو احساس اور ابصار میں مدنظر رکھا ہے اور بعض دوسرے مکان و زمان میں اس شرط کا اعتبار نہیں کیا اور اس شرط کے بغیر رؤیت و ابصار مقرر کر دیا ہے۔ ایک جگہ کو دوسری جگہ پر اعتبار کرنا ان کے مقتضیات کے کمال اختلاف کے باوجود انصاف سے دور ہے۔ گویا عالم ملک وشہادت کے مکشوفات پر ہی نظر کا بند رکھنا اور خالق زمین  وآسمان کے عالم ملکوت کےعجائبات سے انکار کرنا ہے۔

 سوال: اگر حق تعالیٰ  کو دیکھا جائے تو چاہیئے کہ بصر کے احاطہ اور ادراک میں بھی آئے اور اس امر سے حد ونہایت لازم آتی ہے۔ تعالى الله عن ذلک علوا كبيرا۔ جواب: جائز ہے کہ دیکھا بھی جائے اور بصر کے احاطہ اور ادراک میں بھی نہ آئے اللہ تعالیٰ   فرماتا ہے۔ لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں، لیکن وہ آنکھوں کا ادراک کر سکتا ہے اور وہ لطیف اور خبیر ہے) مومن آخرت میں حق تعالیٰ  کو دیکھیں گے اور یقین وجدانی سے معلوم کر لیں گے کہ حق تعالیٰ  کو دیکھ رہے ہیں اور وہ لذت جو رؤیت پر مترتب ہوتی ہے۔ کامل طور پر اپنے آپ میں پالیں گے، لیکن مرئی کچھ بھی ان کے ادراک میں نہ آئے گا اور مرئی سے کچھ حاصل نہ ہوگا اور رؤیت کے وجدان اور دیدار کی لذت کے بغیر مرئی کی کوئی چیز نہ پاسکیں گے۔

 بیت عنقا شکار کس نشود دام بازچیں کاینجا ہمیشہ باد بدست است دام را 

ترجمه بیت اٹھائے جال عنقا کب کسی کے ہاتھ آتا ہے لگاتا ہے یہاں جو جال خالی ہاتھ جاتا ہے 

وہ نقصان جو رؤیت میں پایا جاتا ہے۔ مرئی کا احاطہ اور ادراک ہی ہے جو اس مقام میں مفقود ہے۔ وہاں صرف بے جہت رویت ثابت ہے اور وہ لذت جو دیکھنے والے کو اس سے حاصل ہوتی ہے۔ نقص وقصور نہیں ہے۔ بلکہ مرئی کا کمال انعام و احسان ہے کہ اپنےجمال پر کمال کو محبت کی آگ کے جلے ہوؤں پر جلوہ گر کرتا ہے اور وصال رؤیت کے میٹھے پانی سے ان کو متلذذ اور سیراب کرتا ہے۔ حق تعالیٰ  کی پاک بارگاہ کی طرف کوئی نقص وقصور عائد نہیں ہوتا اور وہاں کوئی جہت اور احاطہ پیدا نہیں ہوتا۔

 بیت ازاں طرف نپذیرد کمال تو نقصان وزیں طرف شرف روزگار من باشد 

ترجمه بيت ذرہ بھی کم نہ ہو گا ہرگز کمال تیرا لیکن بڑھے گا دگنا جاہ و جلال میرا اس امر کا دوسرا جواب یوں بھی ہے کہ میں کہتا ہوں کہ اگر رؤیت کے حاصل ہونے میں مقابلہ اور محاذات  کی شرط ہو۔ تو چاہیئے کہ جس طرح مرئی کی جانب میں شرط ہے۔ اسی طرح رائی کی جانب میں بھی شرط ہو۔ کیونکہ مقابلہ ایک نسبت ہے۔ جو ہر دو با ہم مقابل ہونے والوں میں رائی اور مرئی میں قائم ہے۔ پس اس سے لازم آتا ہے کہ حق تعالیٰ  بھی اشیاء کونہ دیکھے اور اشیاء کو دیکھنے کی صفت اس کے لیے ثابت نہ ہو اور یہ بات نصوص قرآنی کے مخالف ہے۔ اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے۔ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (جوکچھ تم کرتے ہو الله تعالیٰ  دیکھتا ہے هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے وَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ ( اللہ تعالیٰ  تمہارے عمل کو دیکھے گا) نیز اس بات سے حق تعالیٰ کانقص اور اس سے  صفت  کاملہ کا سلب لازم آتا ہے۔

سوال: اگر کہیں کہ حق تعالیٰ  کی رؤیت اشیاء سے مراد ان کا علم ہے۔ علم کے سوا کوئی اور امر جو جہت کومستلزم لازم ہو نہیں ہے۔

 جواب: اس میں کچھ شک نہیں کہ رؤیت صفات کاملہ سے ہے اور مستقل طور پر حق تعالیٰ  کے ساتھ نصوص قرآنی کے ساتھ ثابت ہے۔ علم کی طرف اس کا رجوع کرنا ظاہر کے برخلاف ہے اور اگر اس کو علم کی اقسام سےتسلیم بھی کر لیں تو پھربھی محاذات اور مقابلہ کی شرط لازم آئے گی، کیونکہ علم دوقسم  پرہے۔ ایک یہ ہے کہ اس میں معلوم کا محاذی اور مقابل ہونا شرط نہیں۔ دوسری قسم وہ ہے کہ جس میں محاذات و مقابلہ شرط ہے۔ جس کو رؤیت کہتے ہیں۔ یہ قسم ممکنات میں علم کی قسموں میں سے اعلے ہے جو اطمینان قلب کے مرتبہ میں ہے۔ معقولات میں وہم کے معارضہ سے امن حاصل نہیں ہے۔ وہ محسوس ہی ہے جو اس معارضہ اورخلل سے باہر ہے۔ یہی سبب ہے کہ حضرت خلیل الرحمان علیہ الصلوة والسلام نے مردوں کے زندہ ہونے پر ایمان و یقین کے باوجود مردوں کے زندہ ہونے کی رؤیت کا سوال کیا۔ تا کہ اس سے اطمینان قلب حاصل کریں۔ جاننا چاہیئے۔ کہ رؤیت جو صفات کاملہ میں سے ہے۔ جب واجب تعالیٰ  میں ثابت نہ ہو ممکن میں کہاں سے آئے گی۔ کیونکہ جو کمال کہ ممکن میں ظاہر ہوتا ہے اس کمال کا عکس ہے۔ جو حضرت ذات تعالیٰ  میں موجود و ثابت ہے۔ خدا نہ کرے کہ کوئی کمال اور صفت ممکن میں ہو اور واجب میں نہ ہو۔ کیونکہ ممکن فی حدذاتہ  شرونقص ہے۔ اگر اس میں کوئی کمال ہے تو واجب تعالیٰ  کی طرف سے ہے جو سراسر خیر وکمال ہے۔ عاریت کے طور پر اس کو حاصل ہوا ہے۔

 بیت نیاوردم از خانہ چیزے نخست تو دادی ہمہ چیزومن چیز تست 

 ترجمه بيت نہیں لایا میں بھی اپنے گھرسےملا سب کچھ مجھے یہ تیرے در سے 

اصل سوال کا ایک اور جواب اس طرح بھی ہے کہ میں کہتا ہوں۔ کہ یہ اعتراض حق تعالیٰ  کے وجود میں بھی ہوسکتا ہے اور رؤیت کی نفی کی طرح حق تعالیٰ  کے وجود کی بھی نفی کرتا ہے۔ پس  یہ اعتراض صادق نہیں کیونکہ اس سے محال عقلی لازم آتا ہے۔ اس کا یہ بیان ہے کہ اگر حق تعالیٰ  موجود ہو تو اس عالم کی جہات میں سے کسی جہت میں ہوگا اوپر ہوگا یا نیچے، دائیں ہو گا یا بائیں، آگے ہوگا یا پیچھے اور اس سے احاطہ اور تحدید لازم آتا ہے۔ جو سراسر نقص اور الوہیت کے منافی ہے۔

 سوال: ہوسکتا ہے کہ عالم کی تمام اطراف میں ہو اور کوئی احاطہ اورتحدید لازم نہ آئے۔

جواب: میں کہتا ہوں کہ عالم کی تمام جہات میں ہونا احاطہ اورتحدید کی نفی نہیں کر سکتا کیونکہ اس صورت میں بھی عالم کے ماوراء ضرور ہوگا اور ماوراء ہونا غیر ہونے کے لازم ہے اور معقول والوں کے نزدیک قضیه مقررہ ہے کہ الاثنان متغائران دو چیزیں ایک دوسرے کے غیر ہوتی ہیں۔ اس بات سے بھی تحدید لازم آتی ہے۔ پوشیدہ نہ رہے کہ اس قسم کے بیہودہ اور جھوٹے شبہات سے خلاصی ونجات نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہم امام غیبت اور امام شہادت میں فرق نہیں کرتے اور شاہد پر غائب کا قیاس کرتے ہیں، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ  بعض احکام شاہد میں صادق ہوں اور غائب میں کاذب اور شاہدمیں کمال ہوں اورغائب میں نقص۔ اس لیے کہ مقامات کے اختلافات کے بموجب دونوں کے احکا م جدا جدا ہیں۔ خاص کر جبکہ مقاموں کے درمیان بہت ہی فرق و اختلاف ہو۔۔

 مَا لِلتُّرَابِ وَ رَبُّ الْاَرْبَابِ(چہ نسبت خاک را با عالم پاک ،خاک  کو عالم  پاک سے کیا نسبت)

 حق تعالیٰ  ان کو انصاف د ے کہ اس قسم کی مشتبہ وہمی اور خیالی باتوں سے نصوص قرآنی کا انکار نہ کریں اورنبی ﷺکی صحیح احادیثوں کی تکذیب نہ کریں۔ اس قسم کے منزلہ احکام پر ایمان لے آنا چاہیئے اور ان کی کیفیت کے معلوم نہ ہونے کا قصور اپنے ذمے لگانا چاہیئے۔ نہ یہ کہ اپنے ادراک کو اپنا مقدا بنا کر ان احکام کی نفی کر دیں کیونکہ یہ بات صواب و سلامتی سے دور ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بہت سی چیزیں نفس امر میں صادق ہوں، لیکن ہمارے ناقص عقلوں کے ادراک سے دور اور بعید ہوں۔ اگر صرف عقل کانی ہوتی تو ابوعلی سینا جیساشخص جو تمام معقول والوں کا پیشوا اور مقتدا ہے تمام احکام عقلیہ میں حق پرہوتااورغلطی نہ کرتا۔ حالانکہ الواحد لايصدر عنه الا الواحد (واحد سے ایک ہی کام صادر ہوتا ہے)کے ایک ہی مسئلہ میں اس قدر غلطیاں کی ہیں جو منصف ناظرین پرتھوڑے سے تامل سے واضح ہو جاتی ہیں۔ اس مقام میں امام فخرالدین رازی اس پرطعن کرتا ہے اور اس عبارت سے اس پر اعتراض لاتا ہے۔ والعجب ممن يفنى عمره في تعليم الالة العاصمة عن الخطاء في الفكر و تعلمها ثم إذا جاء إلى هذا المطلب الأشرف وقع منه أشياء يضحک منه الصبيان (اس شخص سے تعجب آتا ہے جو اپنی تمام عمراس آلہ(یعنی منطق)کے تعلیم تعلم میں جو فکر میں خطا سے بچالانے والا ہے صرف کر دے پھر اس اعلے مطلب پہنچ کر اس سے ایسی باتیں صادر ہوں جس پر بچے بھی ہنسی  اڑاتے ہیں علماء اہل سنت و جماعت تمام احکام شرعیہ کو ثابت رکھتے ہیں۔ خواہ ان احکام کی کیفیت معلوم ہو یا نہ ہو۔ ان کی کیفیت معلوم نہ ہونے کے باعث ان احکام کی نفی نہیں کرتے۔ مثلا عذاب قبر اور سوال منکرونکیر اور پل صراط اور اعمال کے ترازو وغیرہ کے بارہ میں جن کے ادراک سے ہماری ناقص عقلیں عاجز ہیں۔ ان بزرگواروں نے کتاب وسنت کو اپنا مقتداء و پیشوا بنایا ہے اور اپنی عقلوں کو ان کے تابع بنایا ہے۔ اگر ادراک کرلیا تو بہتر ورنہ احکام شرعیہ کو قبول کر لیتے ہیں اور عدم ادراک کو اپنے قصورفہم پر محمول کرتے ہیں۔ نہ یہ کہ دوسروں کی طرح جو کچھ ان کی عقلیں قبول کریں اور اس کو پاسکیں قبول کر لیں اور جو کچھ ان کےعقول کے ادراک میں نہ آئے، قبول نہ کریں۔ یہ لوگ نہیں جانتے کہ انبیاءعلیہم الصلوة والسلام کی بعثت اس لیے ہوئی ہے کہ عقلیں بعض ان مطالب کے سمجھنے سے جن میں حق تعالیٰ  کی رضامندی ہے بالکل قاصر ہیں۔ عقل بیشک حجت ہے لیکن حجت کامل نہیں۔ حجت کاملہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی بعثت سے تمام ہوئی ہے۔ الله تعالیٰ  فرماتا ہے وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا جب تک ہم رسول نہ بھیج لیں عذاب نہیں دیتے) اب ہم اصل بات کو بیان کرتے اور کہتے ہیں کہ شاہد کی رؤیت میں اگر چہ مقابلہ اورمحاذات  کی شرط ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ غائب میں یہ شرط نہ ہو۔ جس طرح غائب موجود ہے اور موجودات کی جہات میں سے کوئی جہت اس میں نہیں یعنی جس طرح مرئی دیکھنے والے کی رؤیت کے بغیر جہات سے منزہ ہے۔ اسی طرح رؤیت کے بعد بھی اس کے لیے کوئی جہت ثابت نہ ہو اور وہاں مقابلہ اور محاذات  مفقود ہو۔ اس بیان میں کونسی بعید اور محال بات ہے۔بیچون کی رؤیت بھی بیچون ہے کیونکہ چون کو بیچون کی طرف کوئی راستہ نہیں لا يحمل عطايا الملک إلا مطاياه بادشاہ کے عطیوں کو اسی کے اونٹ اٹھا سکتے ہیں بیچون کی اس رؤیت کو چون کی رؤیت پر جو چون کی مرئیات سے تعلق رکھتی ہے۔ قیاس کرنا نامناسب اور انصاف سے دور ہے۔ والله سبحانه الموفق للصواب (الله تعالیٰ  بہتری کی توفیق دینے والا ہے۔

مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر سوم صفحہ140ناشر ادارہ مجددیہ کراچی


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں