عالم خلق کیا ہے؟

عالم خلق کیا ہے؟

انسان دس چیزوں سے مرکب ہے( ساخت دس 10 اجزاء سے ہوئی ہے) پانچ عالم خلق(عالم مادہ) سے یعنی چار تو عناصر ( پانی، آگ، ہوا، خاک، پانچواں نفس حیوانی جو اربعہ عناصر سے ہی پیدا ہوتا ہے اور پانچ عالم امر(عالم ماورائے مادہ) سے قلب، روح، سر، خفی، اخفی حضرت امام ربانی قدس سرہ فرماتے ہیں ان ہی اجزائے عشرہ کو لطائفِ عشرہ کہا جاتاہے۔عالمِ خلق سے جو عرش کے نیچے کی مخلوقات سے تعلق رکھتے ہیں۔

  ذات کے تینوں مراتب خارجی یعنی عالم ارواح ، عالم مثال ،عالم اجسام کو عالم خلق کہتے ہیں  

عالم شہادت

مَاوَجَدَ عَنِ السَّبَبِ وَ یُطْلَقُ بِاِزَاءِ عَالَمِ الشَّھَادۃِ (کتاب التعریفات ص 119، علامہ شريف الجرجاني،دار الكتب العلمية بيروت -لبنان )ترجمہ: جہاں سب کچھ سبب کے ذریعے وجود میں آئے اس پر عالمِ شہادت کا اطلاق آتا ہے) یعنی مادہ و مقدار سے پیدا ہونے والی مخلوق کو عالمِ خلق کہتے ہیں۔ جیسے فلکیات وارضیات وغیرہ(عالم شہادت : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ یہ چشم سرمشاہدے میں آتا ہے ۔ یہ ایک ایسا عالم ہے جس کو حواس خمسہ ظاہری سے ہرشخص دیکھ رہا ہے اور اسی وجہ سے اس کو عالم محسوس، عالم مرئی، عالم کثیف اور عالم رنگ و بو ، عالم آب و گل وغیرہ بھی کہتے ہیں اور اسی کو عالم ناسوت ، عالم خلق اور عالم ملک بھی کہا جاتا ہے ۔ اس میں اجسام و اشیاء شکل و صورت ، رنگ و وزن رکھتے ہیں ۔ طول و عرض بھی ہوتا ہے ۔ اس میں اشیاء بتدریج کمال کو پہنچتے ہیں ، انہیں ارواح کی طرح دفعتا کمال حاصل نہیں ہوتا  )

عالم خلق ہو ۔۔ یا ۔۔ عالم امر ، دونوں ہی کا عدم سے وجود میں آنا خدائے قادر مطلق کے ضابطہ کن فیکونی کے ہی ماتحت ہے ، مگر عالم خلق میں وسائل و اسباب کی بھی کارکردگی ہوتی ہے ، بخلاف عالم امر کے امور کے ، جو ظاہری اسباب و وسائل کے بغیر صرف لفظ ’ کن ‘ سے ظہور پذیر ہوجاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ عالم امر میں اس کے احکام کی تعمیل فوری ہوتی ہے ‘ جبکہ عالم خلق میں تدریج کا اصول کارفرما ہے اور یہاں وقت لگتا ہے۔ دنیا کا سارا نظام عالم خلق کے اصولوں پر چل رہا ہے۔ مثلاً آم کی گٹھلی سے کو نپلیں پھوٹتی ہیں ‘ پھر بڑھتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ ایک تناور درخت بن جاتا ہے۔ اس سارے عمل میں وقت درکار ہوتا ہے۔

دیگر نام

عالمِ خلق کو “عالمِ اسباب، عالمِ اجسام اور عالمِ ناسُوت” کے ناموں سے بھی پُکارا جاتا ہے۔ ان سب کے مجموعہ کو عالمِ مادیات بھی کہتے ہیں۔

غرضیکہ عالمِ خلق، کائناتِ مادی پر مشتمل ہے جس میں ترتیب و تدریج ہے اور جسکی تخلیق میں زمانہ صرف ہوا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَ‌ٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ (الحدید: 4)ترجمہ: وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا)

دن سے مراد ہزار سالہ دن ہے وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍۢ مِّمَّا تَعُدُّونَ (الحج: 47)ترجمہ: اور بےشک تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک روز تمہارے حساب کے رو سے ہزار برس کے برابر ہے ) یا پچاس ہزار سالہ دن ہے فِى يَوْمٍۢ كَانَ مِقْدَارُهُۥ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍۢ (المعارج: 40)ترجمہ: (اور) اس روز (نازل ہوگا) جس کا اندازہ پچاس ہزار برس کا ہوگا) یا اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق اس سے بھی بڑا دن مُراد ہے


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں