قضاء غالب، موت طالب

حضرت شیخ المشائخ، قطب ربانی، غوث صمدانی ، محبوب سبحانی، سیدنا عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ وارضاہ نے تصوف و طریقت پر مشتمل کتاب” آداب السلوک والتواصل الی منازل الملوک“ میں فرمایا :

جملہ احوال قبض ہیں۔ کیونکہ صاحب ولایت کو ان کی حفاظت کا حکم دیا جاتا ہے۔ اور یہ بات مسلمہ ہے کہ جس چیز کی حفاظت کا حکم دیا جائے وہ قبض شمار ہوتی ہے۔ اور تقدیر خداوندی کے ساتھ قیام بسط ہی بسط ہے کیونکہ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جس کی حفاظت کاحکم دیا گیا ہو۔ ہاں تقدیر میں اس کا موجود ہونا الگ بات ہے۔ اگر ایسا ہو تو اسے تقدیر میں جھگڑا نہیں کرنا چاہیئے۔ بلکہ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں وہ موافقت کرے ۔ احوال کے لیے ایک حد مقرر ہے اس لیے ان کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے جبکہ فعل الہی یعنی تقدیر غیر محدود ہے اس لیے اس کی حفاظت کا حکم نہیں دیا گیا۔ اور اس بات کی علامت کہ انسان قدر وفعل خداوندی میں داخل ہو گیا ہے یہ ہے کہ انسان کو حظوظ کا حکم دیا جاتا ہے جبکہ احوال میں بامر باطنی اسے ترک حظوظ اور زهد فی الدنیاکا حکم دیا گیا تھا۔ اب جبکہ اس کا باطن میں اللہ تعالی بس گیا ہے اور غیر کا وجود مٹ گیا ہے تو اسے بامر باطنی حکم دیا گیا ہے کہ حظوظ سے لطف اندوز ہو اور ان چیزوں کو طلب کرے جو اس کی قسمت کا نوشتہ ہیں اس لیے ان چیزوں کا حاصل کرنا اور سوال کر کے اس تک پہنچنا ضروری ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالی کے نزدیک اس کی عزت و تکریم محقق ہو چکی ہے اور اللہ تعالی اس کی دعائیں قبول کر کے اس پر لطف و کرم فرماتا ہے۔ 

بندے پر اللہ کریم کا احسان کرنا۔ اسے اعطاۓ حظوظ کیلئے سوالی بنانا اور پھر اس کی دعا کو قبول کرنا قبض کے بعد بسط کی بڑی علامتوں میں سے ایک ہے۔ اس سے انسان اندازہ کر سکتا ہے کہ اسے احوال، مقامات اور حفظ حدود میں مکلف ہونے سے نکال کربسط کے مقام پر فائز کر دیا گیا ہے۔ 

اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اس سے تو تکلیف سے بری الذمہ ہونا لازم آتا ہے اور ایسا عقیدہ کفر ، اسلام سے خروج ہے اور آیت قرآنی وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ  کارد ہے تو کہا جائے گا کہ اس سے زوال تکلیف کفر اور آیت قرآنی کا رد لازم نہیں آتا۔ اللہ بڑا کریم ہے۔ اسے اپنے بندوں سے کمال محبت ہے۔ وہ انہیں نقص والی جگہ قدم رکھنے سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس سے دین اور عصمت کی خود نگہداشت کرتا ہے اس سے ایسا کوئی فعل صادر نہیں ہونے دیتا جو اس کی قائم کردہ شریعت کے خلاف ہو اور جس سے کفر لازم آتا ہے۔ بلکہ اسے قبیح فعل سے دور کر دیتا ہے۔ 

حظوظ نفسانی سے لطف اندوز ہونے کے باوجود اس سے کوئی لغزش نہیں ہوتی ۔ عصمت حاصل رہتی ہے اور بغیر تکلف و مشقت کے حدود شریعت کی پاسداری کرتا رہتا ہے۔ وہ قرب خداوندی کی وجہ سے لغزشوں اور معاصی سے دور رہتا ہے۔ رب قدوس کا ارشاد گرامی ہے۔ 

كَذَلِكَ ‌لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ

یوں ہوا تا کہ ہم دور کر دیں یوسف سے برائی اور بے حیائی کو بیشک وہ ہمارے ان بندوں میں سے تھاجو چن لیے گئے ہیں ۔

إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ ‌سُلْطَانٌ بیشک میرے بندوں پر تیرا کوئی بس نہیں چلتا۔

 إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ البتہ اللہ کے مخلص بندے  اس عذاب سے محفوظ رہیں گے

اے مسکین ! وہ پروردگار کے سپرد ہو چکا ہے۔ اللہ کریم کا وہ مطلوب و مراد بن چکا ہے۔ پروردگار اپنی قدرت اور لطف و کرم کی جھولی میں اس کی تربیت فرما رہا ہے۔ بھلا اس تک شیطان کیسے پہنچ سکتا ہے۔ اور قبائح  و مکارہ کا اس سے کیسے ارتکاب ہو سکتا ہے ؟ تو نے کھانا پینا چھوڑا اور قرب خداوندی کو عظیم خیال کیا اور پھر اپنے منہ سے اتنی بری بات کہہ ڈالی۔ ایسی خسیس، اور نا قص ہمتوں، ناقص اور دور از کار عقلوں اور فاسد و خلل پذیر آراء پر تف ہے۔ اللہ تعالی ہمیں اور ہمارے بھائیوں کو اپنی قدرت کاملہ الطاف شاملہ اور رحمت واسعہ کے ذریعے تمام گمراہیوں سے پناہ عطا کرے۔ اور اپنے کرم کے پردوں میں ہمیں چھپائے اور اپنی بے پایاں نعمتوں اور دائمی فضائل سے اپنی مہربانی اور کرم سے ہماری تربیت کرے۔ آمین۔

آداب السلوک شیخ عبد القادر الجیلانی صفحہ 157 ،مکتبہ دارالسنابل دمشق شام


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں