اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات و افعال مکتوب نمبر 1دفترسوم

سیادت پناه میر نعمان کی طرف اس کے اس سوال کے جواب میں جوحق تعالی کی ذات و صفات و افعال کے اقرب ہونے کے بارہ میں کیا تھا صادر فرمایا ہے:۔ 

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى الله تعالی کی حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو آپ کاگرامی نامہ(مکتوب) موصول ہوا۔ آپ نے  بڑی تکلیف اٹھائی۔ اللہ تعالی آپ کی کوشش کو قبول فرمائے۔

چونکہ آپ نے حق تعالی کی ذات واجبی  وصفات و افعال کے قریب ہونے کی نسبت کئی دفعہ استفسار کیا ہے اور آپ اس مضمون کے بڑے شائق ہیں۔ اس لیے اس کی ضرورت کے مطابق ظاہر کیا جاتا ہے جاننا چاہیئے کہ ہر شے اپنی اصل کے ساتھ کچھ شے  ہے اور اس شے کی ماہیت کے ثبوت کے لیے بنانے والے کی بناوٹ  کی     درکار نہیں کیونکہ شے کا ثبوت اپنے نفس کے لیے ضروری ہے۔ اسی و اسطے اہل عقول(فلاسفہ) نے کہا ہے کہ نفس ماہیات میں جعل (بناوٹ) ثابت نہیں اور ماہیات مجعول یعنی بناوٹی نہیں ہیں۔ وجود کے ساتھ ماہیات کے متصف ہونے کے لیے جاعل کا جعل درکار ہے۔ رنگنے والے کافعل کپڑے کورنگ کے ساتھ متصف کرنے میں ہے نہ یہ کہ کپڑے کو کپڑا بنا دیتا ہے اور رنگ کورنگ کردیتا ہے کہ یہ محال اور تفصیل حاصل ہے۔ پس نفس شے میں جعل نہ ہوا بلکہ شے کے وجود کے ساتھ منصف ہونے میں ہوا۔

اس سے ثابت ہوا کہ شے اپنی ماہیت میں شے ہے اور یہ امر نظر کشفی کی رو سے ظل شے اورعکس شے میں مفقود ہے، کیونکہ شے کاعکس وظل اپنی ظلی و عکسی ماہیت سے ظل و  عکس نہیں بلکہ اپنی اصل کی اہمیت سے ظل وعکس ہوا ہے کیونکہ ظل ماہیت نہیں رکھتا بلکہ اس اصل کی ماہیت ہے جس نے ظل میں اپنے آپ کو ظاہر کیا ہے۔ پس اصل ظل کے لیے نفس ظل سے زیادہ اقرب ہوگا، کیونکہ ظل اپنی اصل سے ظل ہے نہ اپنے نفس سے۔ چونکہ عالم حق تعالی کے افعال کا ظلال اور عکوس ہے اس لیے افعال جو اس کے اصول ہیں عالم کی نسبت عالم سے زیادہ قریب ہوں گے۔ ایسے ہی افعال چونکہ حق تعالی کی صفات کے ظلال ہیں۔ اس لیے صفات عالم اور عالم کے اصول کی نسبت جو افعال ہیں عالم سے زیادہ اقرب ہوں گے کہ اصل الاصل ہیں۔

چونکہ صفات بھی حق تعالی کی ذات کے ظلال ہیں اور حق تعالی کی ذات تمام اصول کا : اصل ہے۔ اس لیے حق تعالی کی ذات اور عالم افعال اور صفات کی نسبت عالم سے زیادہ اقرب ہوگی۔ یہ ہے کہ حق تعالی کی اقربیت کا بیان جوتقریر و بیان میں آیا ہےعقلمند اگر انصاف کریں گے تو امید ہے کہ ان معنوں کو قبول کر لیں گے اور اگر قبول نہ بھی کریں گے تو غم نہیں، کیونکہ بحث سے خارج ہیں چونکہ اس بیان میں معقول مقدمات بھی درج ہیں۔ اس لیے اگر سیادت پناه میر شمس الدین علی کو بھی اس مکتوب کے مطالعہ میں شریک کر لیں تو بہت ہی مناسب ہے۔ آپ نے لکھا تھا کہ مکتوبات جلد سوم کو شروع کیا جائے۔ آپ ایساہی کریں کیونکہ اہل الله جس امر میں بہتری دیکھیں مبارک ہوتا ہے۔ جب یہ کام میر مشارالیہ کے حوالہ کریں تو فرمائیں کہ نسخے متعدد نقل کریں اور اس کی ایک نقل سرہند میں بھیج دیں اور مسودوں کو بحفاظت رکھیں شاید ضرورت آ پڑے۔ دوسرے یہ کہ فقیر آپ کے رہنے اور جانے میں حیران ہے چونکہ آپ کی ملاقات کا حریص ہے۔ اس لیے آپ کے جانے کے لیے کچھ نہیں کہ سکتا اور رہنے کے لیے بھی دلالت نہیں کرسکتا کہ مبادا لوگوں کی بہت ساری مصلحتیں فوت ہو جائیں۔ البتہ اس قدرضروری ہے کہ اگر جائیں تو خواجہ محمد ہاشم کو بھیج دیں تا کہ چند روز صحبت میں رہے اور علوم و معارف اخذ کرے کیونکہ جوان قابل نظر آتا ہے اور آپ کا تربیت یافتہ بھی ہے اور آپ کے مذاق کو بھی جانتا ہے۔ آپ استفار اور سوال کو بھی اسی کے حوالے کر دیں تا کہ جواب لے کر آپ کی خدمت میں لے جائے۔ والسلام۔ 

مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر سوم صفحہ22 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں