صفات حقیقیہ نہ ذات کا عین ہیں نہ ذات کا غیر مکتوب نمبر 112دفتر سوم

اس بیان میں کہ حق تعالیٰ کی صفات حقیقیہ نہ ذات کا عین ہیں نہ ذات کا غیر شریعت پناه قاضی اسلم کی طرف صادر فرمایا ہے۔ 

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی اللہ تعالیٰ کیلئے حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو ) علماء اہل سنت شکر اللہ تعالیٰ سعیهم نے واجب الوجود جل شانہ کی صفات ثمانیہ(حیات، علم، قدرت،ارادہ، سمع، بصر، کلام، تکوین) حقیقیہ میں کیا اچھا کہا ہے کہ لَا هُوَ وَلَا غَيْرُهٗ (نہ ذات ہیں اور نہ اس کے غیر) یہ معرفت طور عقل سے برتر ہے جو انہوں نے نور فراست اور انبیاء علیہم الصلوة والسلام کی متابعت کی برکت سے حاصل کی ہے۔ عقلاء اور حکماء اس عبارت سے نقیضین کا رفع(دو نقیضوں کا دور ہونا) ہوناسمجھتے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ تناقض کے حصول میں زمان و مکان کا متحد ہونا شرط ہے اور جب اس بار گاہ جل شانہ میں مکان و زمان کی گنجائش نہیں تو پھر تناقض کس طرح متصور ہوسکتا ہے۔

اور یہ جو علماء نے تناقض کے دفع کرنے میں لفظ غیر میں تصرف کیا ہے اور غیر سے خاص معنی مراد لیے ہیں اس کی بھی ضرورت نہیں نظر کشفی اس تخصیص سے منع کرتی ہے اور غیر یت کی نفی خواہ کسی معنی سے ہو۔ ثابت کرتی ہے ہم معلوم کرتے ہیں کہ حق تعالیٰ کی صفات جس طرح ذات اقدس کی عین نہیں کیونکہ اسی طرح حق تعالیٰ کی ذات کے غیر بھی نہیں اگر چہ زائد ہیں اور اثنینیت یعنی دوئی کی نسبت پیدا کی ہے یہاں معقول والوں کا یہ قضیہ مقررہ کہ اَلْاَثْنَانِ مُتَغَائِرَانِ (دو چیزیں ایک دوسرے کے مغائر ہوتی ہیں) جھوٹا ثابت ہوتا ہے اور ان کے اصول کو توڑتا ہے اور یہ جو کہا ہے کہ طور عقل سے برتر ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ عقل اس کی طرف ہدایت نہیں پاسکتی اور نہ ہی اس کا ادراک کرسکتی ہے نہ یہ کہ عقل اس کے برخلاف کام کرتی ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے اور کیونکر اس کے خلاف کام کرسکتی ہے جبکہ عقل نے اس کا تصور ہی نہیں کیا جب اس کے احاطہ ادراک ہی سے باہر ہے تو پھر اس کے اثبات اورنفی کا حکم کس طرح کرسکتی ہے۔ ۔ رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا (یا اللہ تو اپنے پاس سے ہم پر رحمت نازل فرما اور ہمارے کام سے بھلائی ہمارے نصیب کر)

مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر سوم صفحہ334ناشر ادارہ مجددیہ کراچی


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں