علوم دو یا تین حرفوں میں مکتوب نمبر201دفتر اول

ایک استفسار کے جواب میں کو چک بیگ حصاری کی طرف لکھا ہے: 

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفٰى سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو۔

جناب کوچک بیگ حصاری نے پوچھا ہے کہ ایک شخص کہتا ہے کہ علوم سب کے سب دو یا تین حرفوں میں مندرج ہیں۔ اس بات کا یقین کریں یا نہ کریں؟ اس کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ ظاہر اس شخص نے علم و سماع اور کتابوں کے مطالعہ کی رو سے کہا ہوگا ۔ کیونکہ متقدمین(پہلے) بزرگوں سے اس قسم کی باتیں سرزد ہوئی ہیں۔ 

حضرت امیر(علی) کرم الله وجہہ نے فرمایا ہے کہ تمام علوم بسم اللہ کی با میں مندرج ہیں بلکہ اس با کے نقطہ میں اور اگر وہ شخص اس بات میں کشف کا دعوی کرتا ہے تو اس کا امردوحال سے خالی نہیں ۔ اگر وہ یہ کہے کہ مجھ پر ظاہر کیا گیا ہے کہ تمام علوم دو تین حرفوں میں عام طور پر مندرج ہیں۔ خواہ ان دو تین حرفوں کو خاص طور پر اسے جتلایا گیا ہو یہ دعویٰ صدق کا احتمال رکھتا ہے اور اگر کہے کہ سب علوم کو دو تین حرفوں کےضمن میں مجھ پر منکشف کیا ہے اور ان دو تین حرفوں کے صفحہ میں تمام علوم کا مطالعہ کرتا ہوں۔ تو وہ جھوٹا مدعی ہے اس کی بات کا یقین نہ کرنا چاہیئے ۔ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى وَالتَزَمَ مُتَابَعَةَ المُصطَفىٰ عَلَيهِ وَعَليٰ اٰلِہٖ الصَّلَواتُ وَالتَّسلِيمَاتُ العُلیٰ اَتَمَّهَا وَاَدْوَمَهَا اور سلام ہو آپ پر اوران لوگوں پر جو ہدایت کے رستہ پر چلے اور جنہوں نے حضرت محمدﷺکی متابعت کو لازم پکڑا۔

مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول(حصہ دوم) صفحہ60ناشر ادارہ مجددیہ کراچی


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں