<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>تنزلات ستہ &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA-%D8%B3%D8%AA%DB%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Tue, 23 Dec 2025 07:17:02 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>تنزلات ستہ &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>مقامات عالم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 23 Dec 2025 07:17:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[عالمِ جبروت]]></category>
		<category><![CDATA[عالمِ لاہوت (عالمِ ذات)]]></category>
		<category><![CDATA[عالمِ مثال (عالمِ برزخ)]]></category>
		<category><![CDATA[عالمِ ملکوت (عالمِ غیب/امر)]]></category>
		<category><![CDATA[عالمِ ناسوت (عالمِ شہادت/ملک)]]></category>
		<category><![CDATA[عالمِ ہاہوت]]></category>
		<category><![CDATA[مراتبِ خارجی (ظہور)]]></category>
		<category><![CDATA[مراتبِ داخلی (بطون)]]></category>
		<category><![CDATA[مراتب سته]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6670</guid>

					<description><![CDATA[تصوف کی اصطلاحات میں عالم سے مراد ماسوی اللہ (اللہ کے سوا سب کچھ) ہے، جس کا وجود ظلی ہے اور وہ اللہ کی ذات کا آئینہ ہے۔ صوفیائے کرام نے کائنات کی تخلیق اور روحانی سفر کے حوالے سے <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>تصوف کی اصطلاحات میں <strong>عالم</strong> سے مراد ماسوی اللہ (اللہ کے سوا سب کچھ) ہے، جس کا وجود ظلی ہے اور وہ اللہ کی ذات کا آئینہ ہے۔ صوفیائے کرام نے کائنات کی تخلیق اور روحانی سفر کے حوالے سے عالم کے مختلف مقامات اور درجات بیان کیے ہیں، جنہیں <strong>مراتبِ ستہ</strong> یا <strong>تنزلاتِ ستہ</strong> کہا جاتا ہے  ۔</p>
<p>عالم کے مقامات اور ان کی اقسام کی تشریح درج ذیل ہے:</p>
<h3><strong>1۔ عالم کے بنیادی مراتب (داخلی و خارجی)</strong></h3>
<p>صوفیہ کے نزدیک وجود کے چھ بڑے مرتبے ہیں، جنہیں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:</p>
<ul>
<li><strong>مراتبِ داخلی (بطون):</strong> یہ وہ مقامات ہیں جن میں ذات اور صفات کا اجمالی و تفصیلی علم ہوتا ہے۔ ان میں <strong>احدیت</strong> (ذاتِ بحت)، <strong>وحدت</strong> (حقیقتِ محمدی ﷺ) اور <strong>واحدیت</strong> (تفصیلِ صفات) شامل ہیں  ۔</li>
<li><strong>مراتبِ خارجی (ظہور):</strong> یہ وہ مقامات ہیں جہاں کائنات خارج میں ظاہر ہوتی ہے۔ ان میں <strong>عالمِ ارواح</strong>، <strong>عالمِ مثال</strong> اور <strong>عالمِ اجسام</strong> شامل ہیں۔</li>
</ul>
<h3><strong>2۔ عالم کے مشہور مقامات اور اقسام</strong></h3>
<p>تصوف میں کائنات کو پانچ بڑے عوالم یا حضرات (حضراتِ خمسہ) میں تقسیم کیا جاتا ہے:</p>
<ul>
<li><strong>عالمِ لاہوت (عالمِ ذات):</strong> یہ وہ مقام ہے جہاں سالک کو <strong>فنا فی اللہ</strong> کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ اسے روحوں کا پہلا وطن اور گنجِ مخفی کا مقام بھی کہا جاتا ہے ۔</li>
<li><strong>عالمِ جبروت:</strong> یہ لاہوت اور ملکوت کے درمیان واقع ہے جہاں احکامِ خداوندی کے مطابق امور سرانجام پاتے ہیں۔ یہ اسماء و صفاتِ الٰہی کی عظمت اور مرتبہِ واحدیت کا مقام ہے۔</li>
<li><strong>عالمِ ملکوت (عالمِ غیب/امر):</strong> یہ فرشتوں، عقول اور نفوس کا عالم ہے جو مادہ اور زمان و مکان سے پاک ہے ۔ اسے عالمِ ارواح بھی کہا جاتا ہے۔</li>
<li><strong>عالمِ مثال (عالمِ برزخ):</strong> یہ عالمِ ارواح اور عالمِ اجسام کے درمیان ایک لطیف عالم ہے۔ یہاں روحیں اپنے اعمال کی مثالی صورتیں اختیار کرتی ہیں۔</li>
<li><strong>عالمِ ناسوت (عالمِ شہادت/ملک):</strong> یہ مادی دنیا ہے جسے عالمِ اجسام اور عالمِ محسوسات بھی کہتے ہیں ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں روحیں جسموں میں داخل ہوتی ہیں۔</li>
<li><strong>عالمِ ہاہوت:</strong> یہ معرفت اور سلوک کے مقامات میں سے بلند ترین مقام ہے، جس کی طرف حدیثِ قدسی &#8220;کنت کنزاً مخفیا&#8221; میں اشارہ کیا گیا ہے ۔</li>
</ul>
<h3><strong>3۔ عالمِ امر اور عالمِ خلق میں فرق</strong></h3>
<p>صوفیہ نے تخلیق کے اعتبار سے عالم کی دو بنیادی اقسام بیان کی ہیں:</p>
<ol>
<li><strong>عالمِ امر:</strong> وہ عالم جو مادہ اور مدت (زمان و مکان) کے بغیر محض اللہ کے حکم &#8220;کُن&#8221; سے وجود میں آیا، جیسے عقول اور ارواح ۔</li>
<li><strong>عالمِ خلق:</strong> وہ عالم جو مادہ سے تخلیق ہوا اور جس میں ناپ تول، مقدار اور کمیت کو دخل ہو، جیسے اجسام اور افلاک۔</li>
</ol>
<h3><strong>4۔ عالمِ صغیر اور عالمِ کبیر</strong></h3>
<p>صوفیہ کی اصطلاح میں <strong>انسان عالمِ صغیر</strong> ہے کیونکہ وہ تمام مراتبِ کائنات کا خلاصہ اور ان پر حاوی ہے ۔ جبکہ پوری کائنات <strong>عالمِ کبیر</strong> ہے۔ عالم کا وجود ظلی ہے، یعنی عالم صورتِ حق ہے اور حق تعالیٰ روحِ عالم ہے ۔</p>
<p><strong>تمثیل:</strong> عالم کی حقیقت ایسی ہی ہے جیسے سورج اور اس کا عکس؛ جس طرح آئینہ میں سورج کا عکس نظر تو آتا ہے لیکن وہ اصل سورج نہیں ہوتا، اسی طرح یہ عالم اللہ کی صفات کا مظہر ہے مگر اس کی ذات کا عین نہیں ۔</p>
<p>صوفیاء جہان کو چار حصوں یامقاموں میں تقسیم کرتے ہیں اور ان مقاموں کے نام  رکھے ہیں۔</p>
<p>اول ناسوت۔</p>
<p>ناسوت عالم اجسام یعنی اس دنیا کو کہتےہیں</p>
<p>مفردون ہمیشہ مقام لاہوت میں رہتے ہیں۔اور لفظ مقام اس جگہ مجازًاستعمال ہوتا ہے۔ورنہ لاہوت کوئی مقام نہیں وہاں جہات ستہ نہیں ہیں۔وہ تو صرف ذاتِ الٰہی کانام ہے ۔</p>
<p>دوئم جبروت</p>
<p>جبروت صفات الہیہ کی عظمت و جلال کے مقام کو کہتے ہیں</p>
<p>۔سوئم ملکوت۔</p>
<p>۔ملکوت عالم فرشتگان یا عالم ارواح وعالم غیب وعالم اسماء کانام بتلاتے ہیں۔</p>
<p>چہارم لاہوت۔</p>
<p>۔لاہوت ذاتِ الہٰی کا عالم ہے۔جہاں جا کر سالک فنافی اللہ ہو جاتا ہے۔یعنی مفرد ومجرد ہوتا ہے۔</p>
<p>مراۃالاسرار میں لکھا ہے کہاس کے نیچے جبروت کا مقام ہے۔یعنی جبرو کسر کا مقام اور اس جگہ سے شش جہت کا انتظام شروع ہوتا ہےمعجزات و تصرفات اورتیرا میر بولنااور یہ اور وہ کا لفظ یہاں استعمال ہوتا ہےاور یہ خدا کے تخت کامقام ہے۔اور اس جگہ سے لے کر زمین کی خاک تک قطب عالم کا تصرف مانتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ لاہوت میں جبروت کا خیال کفر ہے۔وہ لوگ جو لاہوت میں پہنچتے ہیں مقام جبروت میں واپس آکر معجزات وغیرہ کیا کرتے ہیں۔اور اس وقت وہ لوگ لاہوت سے گرے ہوتے ہیں۔</p>
<p>عبدالرزاق کاشی سے منقول ہے کہ لاہوت صوفیہ کے نزدیک وہ حیات ہے جو تمام اشیا میں سرایت کیے ہوئے ہے۔اور مقام ناسوت اور روحِ انسانی اس لاہوت کا محل ہے۔اسی مضمون پر کسی صوفی کا یہ شعر ہے۔</p>
<p>روح شمع وشعاع اوست حیات خانہ روشن ازو داو از ذات<br />
میں کہتا ہوں کہ اگرچہ عام صوفی لفظ جبروت سے عالم جبرع کسی مراد لیتے ہیں تو درحقیقت لفظ جبروت جبر سے مبالغہ ہے۔جس کے معنی ہیں بڑی زبر دستی اور بڑی بلندی پس خدا کی وہ شان جس سے وہ سب چیزوں حکومت اور بلندی رکھتا ہے اسی شان کانام جبروت ہے۔اور وہ ذات پاک جس کی وہ شان ہےاسی کا نام لاہوت ہے۔پس لفظ جبروت سے صفات قدیمہ پر اور لفظ لاہوت سے ذات پاک پر اور لفظ ملکوت سے عالمِ بالا پر اور لفظ ناسوت سے عالم ِ اجسام پر اشارہ ہوتا ہے۔اور اس نشان پربظاہر کچھ نقصان نہیں ہے۔البتہ وہ کیفیتیں جو ان مقاموں میں صوفیہ نے اپنی عقل سے اپنے ولیوں کے لیے فرض کی ہیں کہ یہاں یہ ہوتا ہے۔اور وہاں وہ ہوتا ہے۔اس کا ثبوت بدلیل ان کے ذمے ہے۔میں ان کے اس بیان کو محض وہم سمجھتا ہوں۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585%2F&#038;title=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85/" data-a2a-title="مقامات عالم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حضرات خمسہ</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%d8%ae%d9%85%d8%b3%db%81/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%d8%ae%d9%85%d8%b3%db%81/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 25 Dec 2023 22:11:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات خمسہ]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[حضرات خمسہ]]></category>
		<category><![CDATA[حضرات خمسہ الہیہ]]></category>
		<category><![CDATA[حضرات ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[حضرات کلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت اول]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت پنجم]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت چہارم]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت دوم]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت سوم]]></category>
		<category><![CDATA[ظہورات کلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[عوالم خمسہ]]></category>
		<category><![CDATA[کلیات مراتب ظہور]]></category>
		<category><![CDATA[مراتب ظہور]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=8825</guid>

					<description><![CDATA[حضرات خمسہ حضرات خمسہ تصوف کی ایک اہم اصطلاح ہے جو حقیقت مطلقہ کے مختلف مراتب کو بیان کرتی ہے۔ حضرات لفظ حضرت کی جمع  کلمہ تکریم کیلئےاور دربار اور بارگاہ کیلئے بولا جاتا ہے اسی معنی میں وحدت ،واحدیت <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%d8%ae%d9%85%d8%b3%db%81/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>حضرات خمسہ</h1>
<p>حضرات خمسہ تصوف کی ایک اہم اصطلاح ہے جو حقیقت مطلقہ کے مختلف مراتب کو بیان کرتی ہے۔</p>
<p>حضرات لفظ حضرت کی جمع  کلمہ تکریم کیلئےاور دربار اور بارگاہ کیلئے بولا جاتا ہے اسی معنی میں وحدت ،واحدیت اور ارواح و مثال وغیرہ کیلئے استعمال ہوتا ہے</p>
<p>حقیقت مطلقہ کے ظہورات  نہایت (بے انتہاء)ہیں اس کے مختلف نام ہیں ان میں سے حضرات خمسہ (پانچ مراتب)، عوالم خمسہ ، حضرات کلیہ اور کلیات مراتب ظہورمشہور ہیں</p>
<p>حضرات خمسہ الہیہ جسے  کہتے ہیں پانچ ہیں۔</p>
<p><strong>حضرت اول</strong>: یہ ظہور علم اجمالی ہے جسے حضرت غیب مطلق بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا عالم اعیان ثابتہ ہے جو علم الٰہی میں موجود ہے۔</p>
<p><strong>حضرت دوم</strong>: یہ ظہور علم تفصیلی ہے جسے حضرت علمیہ یا عالم جبروت بھی کہا جاتا ہے</p>
<p><strong>حضرت سوم</strong>: یہ ظہور صور روحانیہ ہے جسے حضرت غیب برزخی یا عالم امر یا عالم ملکوت بھی کہا جاتا ہے۔</p>
<p><strong>حضرت چہارم</strong>: یہ ظہور صور مثالیہ ہے جسے حضرت شہادت مطلقہ یا عالم خلق یا عالم ملک بھی کہا جاتا ہے۔</p>
<p><strong>حضرت پنجم</strong>: یہ ظہور صور جسمانیہ ہے جسے حضرت جامع یا عالم انسان کامل بھی کہا جاتا ہے.</p><h2>حضرات خمسہ و ستہ کا فرق</h2>
<p>اگر ظہور انسانی کو جدا تصور کیا جائے توظہورات کلیہ چھ ہونگے۔ ان ظہورات کوتنزلات خمسہ یا تنزلات ستہ اور حضرات خمسہ یا حضرات ستہ بھی کہتے ہیں۔</p>
<h2>حضرات خمسہ کی تفصیل</h2>
<p>حضرات الہی جو کلی ہیں پانچ ہیں  عالم کلی جو اپنے ماسوا کو شامل ہیں وہ بھی  پانچ ہیں اورحضرات خمسہ کلیہ سےپہلا حضرت حضرت غیب مطلق ہے اور اس کا عالم اعیان ثابت ہے جو علم الہی میں موجود ہے  یعنی حضرت احدیت اسماء ذاتیہ اور اس کا عالم &#8220;سر&#8221; وجودی کا عالم ہے جو حضرت احدیت کے ساتھ خاص رابطہ غیبیہ رکھتا ہے اور کوئی شخص اس رابطہ کی کیفیت کو نہیں جانتا ہے جو کہ علم غیب خداوندی میں مکنون و مستور ہے اور یہ سر وجودی، سر وجودی علمی آسمانی اور سر عینی وجودی سے اعم(زیادہ عام) ہے</p>
<p>اور دوسرا حضرت حضرت شہادت مطلقہ ہے کہ جس کا عالم ملک  حضرت علمی و غیبی میں &#8220;عالم اعیان&#8221; ہے</p>
<p>اور تیسرا حضرت غیب مضاف ہے کہ جو حضرت غیب مطلق سے نزدیک ہے اور یہ حضرت جہت غیبیہ اسمانیہ ہے اور اس کا عالم جہت غیبیہ اعیانیہ ہے۔   اس کی  دو قسمیں ہیں ایک وہ ہے جو غیب مطلق سے بہت قریب ہے اور اس کا عالم عالم ارواح جبروتی اور ملکوتی ہے یعنی عالم عقول اور عالم نفوس مجردہ اس کے مظپر ہیں</p>
<p>اور چوتھا  حضرت غیب مضاف  ہے جو شہادت مطلق سے بہت قریب ہے اور اس کا عالم عالم مثال ہے اور غیب مضاف کے دوقسم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ارواح کی دوصورتیں ہوتی ہیں ایک صورت مثالی ہوتی ہے۔ جو شہادت مطلق کے عالم سے بہت مناسب ہے اور دوسری صورت مجرد عقلی ہوتی ہے جو غیب مطلق کے عالم سے بہت مناسب ہے اس کی جہت ظاہرہ اسمائیہ اور عالم  جہت ظاہرہ اعیانیہ ہے۔</p>
<p>اور پانچواں حضرت  ان چاروں کو جامع  ہے اس کا عالم عالم انسانی ہے جو تمام عالم اور مافیہا کا جامع ہے اور عالم مُلک عالم ملکوت کا مظہر ہے اور وہ مثالی مطلق کا عالم ہے اور وہ عالم  جبروت کا مظہر ہے اور اس سے عالم مجردات مراد ہے جو اعیان ثابتہ کے عالم کا مظہر ہے اور اعیان ثابتہ اسماء الہیہ کے مظہر ہیں اور ایک حضرت و احدیت ہے یہ حضرت احدیت کامظہرہے</p>
<h3>(عوالم پنجگانہ حضرات خمسہ الہیہ کا ظل (سایہ</h3>
<p>جان لو کہ پانچ عوالم کلیہ پانچ حضرات الہیہ کا سایہ ہیں تو خدا تعالیٰ نے اپنے اسم جامع کے ساتھ حضرات پر تجلی فرمائی اور آئینہ انسان میں ظہور کیابے شک خدا نے آدم کو اپنی صورت پر خلق فرمایا</p>
<p>نظری کرد که بیند به جهان صورت خویش خیمه در آب و گل مزرعه آدم</p>
<p>اس نے ایک نظر ڈالی کہ اس جہان میں اپنی صورت دیکھے تو آدم کے مرزعہ (کشت) کے آب وگل میں خیمہ ڈالا</p>
<p>اور وہی اسم اعظم ظل ارفع اور عالمین میں خلیفۃ اللہ ہے اور پھر دوبارہ خدا نے اپنے فیض اقدس اور ظل ارفع کے ساتھ تجلی فرمائی تو اس کے نتیجہ میں غیب مطلق اور حضرت عمانیہ سے اعیان ثابتہ کے لباس میں ظہور فرمایا، پھر فیض مقدس رحمت واسعہ اور نفس رحمانی کے ساتھ غیب مضاف کنز مخفی اور مرتبہ عمانیہ سے   مظاہر ارواح جبروتي وملكوني يعني عالم عقول مجرده و نفوس کلیہ  میں تجلی فرمائی پھر عالم مثال اور خیال مطلق یعنی عالم مثل معلقہ کے آئینوں میں اور پھر عالم شہادت مطلقہ یعنی عالم ملک و طبیعت میں تجلی فرمانی</p>
<p>انسان جو کہ تمام عوالم وما فیہا کا جامع ہے، حضرت جامعہ الہیہ کا ظل ہے اور عالم اعیان حضرت غیب مطلق کا ظل ہے اور عالم عقول ونفوس، حضرت غيب مضاف کا ظل ہے کہ جو غیب مطلق سے بہت قریب ہے اور عالم ملک حضرت شہادت مطلقہ کا ظل ہے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے کس طرح سایہ کو پھیلایا حضرت اسمانیہ و اعیان ثابتہ میں ظل اقدس کے ساتھ اور حضرت شہادت عالم ملک ملکوت اور عالم جبروت میں ظل مقدس کے ساتھ</p><p><b> </b></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d8%25b6%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25ae%25d9%2585%25d8%25b3%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%A7%D8%AA%20%D8%AE%D9%85%D8%B3%DB%81" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d8%25b6%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25ae%25d9%2585%25d8%25b3%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%A7%D8%AA%20%D8%AE%D9%85%D8%B3%DB%81" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d8%25b6%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25ae%25d9%2585%25d8%25b3%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%A7%D8%AA%20%D8%AE%D9%85%D8%B3%DB%81" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d8%25b6%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25ae%25d9%2585%25d8%25b3%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%A7%D8%AA%20%D8%AE%D9%85%D8%B3%DB%81" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d8%25b6%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25ae%25d9%2585%25d8%25b3%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%A7%D8%AA%20%D8%AE%D9%85%D8%B3%DB%81" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d8%25b6%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25ae%25d9%2585%25d8%25b3%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%A7%D8%AA%20%D8%AE%D9%85%D8%B3%DB%81" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d8%25b6%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25ae%25d9%2585%25d8%25b3%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%A7%D8%AA%20%D8%AE%D9%85%D8%B3%DB%81" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d8%25b6%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25ae%25d9%2585%25d8%25b3%25db%2581%2F&#038;title=%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%A7%D8%AA%20%D8%AE%D9%85%D8%B3%DB%81" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%d8%ae%d9%85%d8%b3%db%81/" data-a2a-title="حضرات خمسہ"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%d8%ae%d9%85%d8%b3%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>واحدیت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثالثہ )</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%84%d8%ab%db%81/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%84%d8%ab%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 14 Nov 2023 21:01:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[۔حضرت الجمع والوجود]]></category>
		<category><![CDATA[احدیث الکثرت]]></category>
		<category><![CDATA[اعیان ثابته]]></category>
		<category><![CDATA[امہات عالم]]></category>
		<category><![CDATA[تجلی ثانی]]></category>
		<category><![CDATA[تعین ذاتی]]></category>
		<category><![CDATA[تنزل ثانی]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت ارتسام]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت الاسماء والصفات]]></category>
		<category><![CDATA[حقائق الہیہ]]></category>
		<category><![CDATA[حقائق عالم]]></category>
		<category><![CDATA[حقائق کونیہ]]></category>
		<category><![CDATA[صفات افعالی]]></category>
		<category><![CDATA[صفات انفعالی]]></category>
		<category><![CDATA[صفات کمالیہ]]></category>
		<category><![CDATA[عالم معانی]]></category>
		<category><![CDATA[علم ازلی]]></category>
		<category><![CDATA[علم تفصیلی]]></category>
		<category><![CDATA[فلک الحیاة]]></category>
		<category><![CDATA[قاب قوسين]]></category>
		<category><![CDATA[قابلیت کثرت]]></category>
		<category><![CDATA[قبلہ توجہات]]></category>
		<category><![CDATA[کثرت حقیقی]]></category>
		<category><![CDATA[کثرت نِسَبی]]></category>
		<category><![CDATA[کمال اسمائی]]></category>
		<category><![CDATA[کمال ذاتی]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبه الباء]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ العماء]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ ثالثہ]]></category>
		<category><![CDATA[معدن الکثرت]]></category>
		<category><![CDATA[منتہی العابدين]]></category>
		<category><![CDATA[منتہی العالمین]]></category>
		<category><![CDATA[منشاء السویٰ]]></category>
		<category><![CDATA[منشاء الكمالات]]></category>
		<category><![CDATA[منشاء الکثرت]]></category>
		<category><![CDATA[نفس رحمانی]]></category>
		<category><![CDATA[واحدیت]]></category>
		<category><![CDATA[وجود اضافی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7939</guid>

					<description><![CDATA[واحدیت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثالثہ ) (واحدیت ، لاھوت ذات حق کا ایک مرتبہ ہے جس میں بالفعل کثرت کا اعتبار کیا گیا ہے۔ یہاں کثرت سے مراد اسماء وصفات اورمعلومات الہیہ کی کثرت ہے ۔) تنزل ثانی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%84%d8%ab%db%81/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>واحدیت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثالثہ )</h1>
<p>(واحدیت ، لاھوت ذات حق کا ایک مرتبہ ہے جس میں بالفعل کثرت کا اعتبار کیا گیا ہے۔ یہاں کثرت سے مراد اسماء وصفات اورمعلومات الہیہ کی کثرت ہے ۔)</p>
<h2>تنزل ثانی</h2>
<p>تنزل ثانی یعنی دوسرا ظهور(یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ظہور، مجمل سے مفصل ، وحدت سے کثرت اور باطن سے ظاہر کی طرف ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس ہو تو اس کو خفا یا بطون کہتے ہیں۔)اس حقیقت کا تعین ثانی(تعین کی دو قسمیں ہیں ۔1</p>
<p>تعین ذاتی : یہ کبھی نہیں بدلتا، ہر حال میں قائم ودائم رہتا ہے ۔ مثلاً زید کی شخصیت یا ذات زید ، کہ جو بچپن میں تھی وہی جوانی میں ہوتی ہے اور وہی بڑھاپے میں رہتی ہے۔ ان تینوں حالتوں میں ذات زید برابر قائم ہے۔</p>
<p>تعین با عتبار اسم وصفات : یہ بدلتا رہتا ہے، اس کو دوام و قیام نہیں مثلاً بچپن، جوانی اور بڑھاپا۔ یہ زید کے صفاتی تعینات ہیں، کبھی زید بچہ ہے، کبھی جوان اور کبھی بوڑھا  ) ہے ۔ اس مرتبہ میں ذات نے اپنی ہر صفت اور ہر قابلیت کو علیحدہ علیحدہ جانا ، چنانچہ ذات یہاں تمام اسماء وصفات کی جامع ہے (حیات علم ،ارادہ، قدر، سماعت،بصارت اور کلام  سات صفات کی جامعیت کو الہیت کہتے ہیں جو واحدیت کا دوسرا نام ہے اور انہی سات صفات کے جامع کو اللہ کہتے ہیں ، جس کا دوسرا نام واحد ہے و الھکم اله واحد سے اس طرف اشارہ ہے ۔ امہات الصفات انہیں اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ یہی صفات بسیط ہیں جو صرف ایک معنیٰ پر دلالت کرتے ہیں۔ باقی دوسری صفات ، صفات مرکبہ ہیں جو امہات الصفات کے مختلف اجتماعات اور ان کے گوں ناگوں گرہ کھانے یا ایک دوسرے کے ساتھ شرط ہونے کے نام ہیں)، خواہ یہ اسمائے کلی ہوں یا اسمائے جزئی یوں(اسمائے الہی کلی  اٹھائیس ہیں جنہیں ارباب اوران کے تحت مراتب کونیہ میں اسمائے کونی بھی اٹھائیس ہیں جو مربوبات کہلاتے ہیں ) ہر اسم دوسرے اسم سے جدا ہوا ۔ اسم عبارت ہے ایک ذات سے جو ایک صفت سے متصف ہے مثلاً ذات کو صفت سماعت کے ساتھ سمیع کہتے ہیں اور صفت کلام کے ساتھ کلیم ۔ اب اگر کہا جائے کہ اللہ تو ایک اسم ذات ہے(اللہ خدا کا اسم ذات ہے۔ کسی اور ہستی پر اس کا اطلاق نہ درست ہے نہ ممکن ۔ فارسی کے &#8221; خدا &#8221; یا انگریزی کے   کی طرح اہم نکرہ نہیں کہ معبود واحد کے علاوہ دوسروں کے لیے بھی بولا جا سکے ۔ اس کی نہ جمع آتی ہے نہ تانیث ۔ نہ اس کا ترجمہ کسی زبان میں ممکن ہے ۔ اکثر علماء وصوفیہ اس پر متفق  ہیں کہ یہ اسم جامد ہے ۔ کسی لفظ سے مشتق نہیں۔ہے۔   یہ اسم جملہ اسماء کا جامع تمام اسماء پر مقدم ہے اور تمام اسماء اس کے مظاہر کی  تجلی ہیں ۔ یہ اسم جامع  ہر اسم میں شامل ہے، جس طرح حقیقت واحدہ کا اشتمال اپنے انواع کے افراد پر ہوتا ہے جیسے انسان کا استعمال زید عمرو ، بکر اور ہر فرد بشرپر ، اسی طرح اللہ اسم ذات مشتمل ہے حی ، علیم ، قدیر ، سمیع اور بصیر وغیرہ پر ۔)، اس میں ذات، صفت سے متصف کہاں ؟ توجواب دیا جائے گا کہ جمیع کمالات کی صفت سے متصف ہے کیونکہ اللہ اس ذات کا نام ہے جو تمام صفات و کمالات کی جامع ہے اور نقصان وزوال سے منزہ</p>
<p>حق کے لیئے کمال کا ثبوت دو طرح سے ہے ۔ کمال ذاتی اور کمال اسمائی ۔</p>
<p>کمال ذاتی :ِ ذات کے کمال سے مراد ، ذات کا ظہور ، ذات کے لیے ، ذات کے ساتھ اور ذات میں، بلا امتیاز غیر وغیریت ہے یعنی ایک کمال اس کا بحیثیت ذات ہے جو عبارت ہے موجود بالذات کے ثبوت سے نہ کہ موجود بالغیر کے ثبوت سے۔ پس ذات اس کی فی نفسہ کامل ہے اور وہ بالذات واجب الوجود ہے بلکہ عین وجود ہے جو اپنے آپ بالذات موجود ہے ۔ کمال ذاتی کے لیے استغنائے مطلق لازم ہے کہ وہ اپنے وجود اپنی بقا اور اپنے دوام میں مستغنی ہے ۔ لہذا اس کمال میں وہ ساری کائنات سے بے نیاز مطلق ہے ۔<br />
کمال اسمائی ۔ اس سے مراد اسمائے حسنیٰ کی حیثیت سے حق تعالیٰ کا کمال تفصیلی  ہے یعنی ذات کا صفات سے متصف ہونا یہ علم میں اعیان ثابتہ کے ثبوت کے بعد ہی ممکن ہے کیونکہ معلوم کے بغیر علم کا، مقدور کے بغیر قدرت کا اور مخلوق کے بغیر خلق کا ظہور نہیں ۔ جب اس حقیقت کے علم میں عالم ثابت ہوئے تو حق تعالٰی کے علم نے ان صورعلمیہ کے ساتھ علاقہ پایا۔ لہذا معلومات الہیہ کے سبب اسم علیم کا ظہور ہوا اور اعیان ثابتہ اپنی تمام قابلیتوں کے ساتھ بغیرکسی تغیر کے علم میں آئے یعنی علم نے ان میں کوئی تبدیلی نہ کی کیونکہ علم معلوم کے تابع ہے۔ اس طرح یہ صورعلمیہ مقدوراور مراد ہوئے ، قدرت اور ارادے کا ان سے تعلق ہوا ۔ اب اس حقیقت کے نام جو قادر &#8221; اور &#8221; مرید &#8221; ہیں ظہور میں آئے ۔ اسی پر دوسرے اسماء کو بھی قیاس کرلو ۔<br />
اس مرتبہ میں ہر صفت دوسری صفت سے علیحدہ ہے اور بہ اعتبار امتیاز علمی ذات سے بھی جدا ہے کیونکہ اس حقیقت نے اپنی تمام قابلیتوں پر نظر ڈالی اور ہر ایک قابلیت کو جدا جدا جانا .</p>
<p>اس نے قابلیتوں کی یافت تین طرح سے کی :</p>
<p>1۔ ایک وہ قابلیات ہیں جن کا ظہور مظاہر پر موقوف نہیں جو تین عالم ہیں۔ ان کوصفات ذاتی کہتے ہیں مثلا حیات ، علم، ارادہ ، قدرت ، سماعت ، بصارت ، کلام، بقا، قبولیت، وجوب ، غنا، قدوسیت، صمدیت ، قَدِم &#8211;<br />
2۔ دوسری وہ قابلیات ہیں جو فعلیت کی صلاحیت رکھتی ہیں اور جن کا ظہور مظاہر پر موقوف ہوتا ہے۔ ان کو صفات افعالی کہتے ہیں مثلاً خالقیت یعنی پیدا کرنا ، رزاقیت یعنی رزق پہنچانا ، احیاء اور امانت یعنی جلانا اور مار ڈالنا ۔<br />
3- تیسری وہ قابلیات ہیں جو اثر قبول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ، ان کو صفات انفعالی کہتے ہیں مثلاً مخلوقیت، مرزوقیت ،حیات ،موت &#8211;<br />
صفات ذاتی اور صفات افعالی کو حقائق الہیہ کہتے ہیں کیونکہ ہر صفت کے ساتھ ذات الہی کا ایک (الگ) نام ہے اور صفات انفعالی کو حقائق کونیہ، اعیان ثابته، صورعلمیہ ماہیات، حقائق عالم ، عالم معانی ، امہات عالم ، آئینہ ہائے وجود اورعدم کہتے ہیں اور یہ مرتبہ مظہر وحدت کا ہے کیونکہ تفصیل مظہر اجمال کی ہے ۔</p>
<p>تنزلات ستہ کے ان پہلے تین مراتب یعنی احدیت ، وحدت اور واحدیت کو مراتب حقی ، مراتب الہیہ یا حقائق الہیہ کہتے ہیں اور ان کے متقابل عالم یعنی بالترتیب عالم هاهویت، عالم یاھوت اور عالم لاھوت کو مشترکہ طور پر عالم امر کہا جاتا ہے۔ یہ مراتب اظہار حق کے مراتب ہیں اور مخلوق یا تخلیق کے عمل سے بالاتر ہیں۔ تخلیق کے مراتب ان کے بعد شروع ہوتے ہیں اور انہیں مراتب کونیہ یا مراتب خلقی کہتے ہیں اور ان کے متقابل عوالم کو عالم خلق کہا جاتا ہے جن میں عالم جبروت ، ملکوت اور ناسوت شامل ہیں ۔</p>
<p>پھر اس مرتبہ کی بھی دو نسبتیں ہیں :<br />
1۔ اوپر کی نسبت کو حقائق الہیہ کہتے ہیں جس کا لازمہ وجوب ہے ۔ در میان حقیقت انسانی</p>
<p>2- اور نیچے کی نسبت کو حقائق کونیہ کہتے ہیں، جس کا لازمہ امکان ہے، یعنی بطون و ظہور اور وجود و عدم خارجی برابر ہے ۔ اس مرتبہ میں کثرت اعتباری پیدا ہوئی یعنی اسماء و صفات اور صورعلمیہ سمجھنے میں تو بہت ہیں لیکن فی الواقع اس حقیقت سے علیحدہ نہیں ہیں۔ بعض صوفیہ کہتے ہیں کہ حقائق الہیہ میں کثرت نِسَبی ہے اور حقائق کونیہ میں کثرت حقیقی ہے کیونکہ ہر ماہیت دوسری ماہیت سے علیحدہ ہے بلکہ وحدت اس میں نِسَبِی ہے کیونکہ ان تمام صورتوں میں ایک ہی وجود کا ظہور ہے<br />
اسماء وصفات الہیہ کو خزائن الہیہ کہتے ہیں کیونکہ ہر اسم اور ہر صفت میں احکام و آثار کے جواہر مخفی ہیں، جن کا ظہور تخلیق قابل کے بعد ہوتا ہے۔ یہ صورعلمیہ بالکلیہ اس حقیقت کے غیر نہیں بلکہ اس حقیقت کی شئون ہیں (حقائق موجودات کو مرتبہ وحدت میں شئون ذاتیہ مرتبہ واحدیت میں اعیان ثابتہ یا صور علمیہ، مرتبہ ارواح میں حقائق کونیه ، مرتبہ  امثال میں صور مثالیہ اور مرتبہ اجسام میں صور ہیولائی کہتے ہیں ۔)۔ ان صورعلمیہ کو اپنا یا غیر کا شعور نہیں ،اس حقیقت کی ذات میں انہوں نے حلول نہیں کیا ۔<br />
یہ صورعلمیہ مجعول یعنی مخلوق نہیں ہیں کیونکہ خالق کی تخلیق سے ان کا وجود نہیں ہوا ، اس لیئے معدوم ہیں یعنی علم سے باہر موجود نہیں ، جب ان کی تخلیق ہی نہیں ہوئی تو وہ مخلوقات میں کس طرح شامل ہوں گی ، جعل اور تخلیق تو وجود خارجی بخشنے کا نام ہے ۔ وہ صورعلمیہ وجود خارجی کے لیے اگرچہ جعل جاعل کی محتاج ہیں لیکن وجود علمی میں اپنے عدم اصلی پر قائم ہیں اگرچہ ان پر وجود خارجی تھوپا جائے کیونکہ خِفا اور پوشیدگی ان کی ذاتی ہے ، پس خارج میں کسی طرح موجود ہوں اور علم سے باہر کیونکہ آئیں اس لیئے وہ خارجا موجود نہ ہوں گے لہذا ان صور علمیہ سے جن حقائق کا ظہور ہوتا ہے ، وہ ان صورعلمیہ کے احکام و آثار ہیں نہ کہ ان صورعلمیہ کے ذوات. ان صورعلمیہ کے دو اعتبارات ہیں :<br />
1- ایک اعتبار یہ ہے کہ یہ صورعلمیہ، اس حقیقت کے ، اس کے اسماء وصفات کے آئینے ہیں، جو وجود ان آئینوں میں متعین ہے احکام و آثار کی کثرت کے سبب متعدد دکھائی دیتا ہے، اگرچہ خارج میں ظاہر نہیں۔<br />
2- دوسرا اعتبار یہ کہ وہ حقیقت ان صورعلمیہ کی آئینہ دار ہے لہذا اس حقیقت میں ان صورعلمیہ کے علاوہ کچھ بھی ظاہرنہیں ۔ وہ حقیقت جوان صورعلمیہ کی آئینہ دار ہے غیب میں ہے جیسا کہ آئینہ کی شان ہے لہذا آئینہ صرف پردہ غیب کے پیچھے سے ظاہر ہوا ہے</p>
<p>اس مرتبہ الہیت میں دو حقیقتیں ممتاز ہوتی ہیں ۔</p>
<p>1۔ایک وہ حقیقت جو صفات کمالیہ سے متصف ہے مثلا اطلاق( بے قیدی) فعالیت تأثیر، وحدت، وجوب ذاتی ، قَدِم اور بلندی ۔ یہ حقیقت واجب اور معبود ( اللہ ہے۔</p>
<p>2- دوسری وہ حقیقت جو صفات مخلوقیہ سے متصف ہے مثلاً تقید ، انفعال ، تاثیر، امکان ذاتی ، حدوث یہ حقیقت ممکن اورعابد (بندہ) ہے ۔</p>
<p>اسماء الہیہ کے تحت احکام کا ظہور مظاہر کہلاتا ہے جو امکانیہ ہیں اور خارجی وجود کے بعد ہی واقع ہوتے ہیں لہذا صورعلمیہ ( حق تعالی کے وجود کے آئینے ہیں ۔ جو عکس ان آئینوں سے ظاہر  ہو رہا ہے ، اس کو &#8221; ظل بھی کہتے ہیں کیونکہ ظل نور سے ظاہر ہوتا ہے ۔ نور نہ ہو تو ظل معدوم ۔ اسی طرح کا کائنات بھی نور وجو د حق سے پیدا ہوئی ہے ورنہ اپنی ذات کے لحاظ سے عدم اور ظلمت ہے )کو خارج میں موجود کرنا ضروری ہوا اس لئے اللہ تعالیٰ نے عالم کو خارج میں، اپنے علم تفصیلی اورعالم کی استعداد و قابلیت کے مطابق پیدا فرمایا ۔ اس تنزل ثانی کو</p>
<p>الوہیت &#8221; اسم الوہیت &#8221; اللہ &#8221; ہے جو جملہ اسماء وصفات اور افعال کا جامع ہے چونکہ اس مرتبہ کا تعلق جملہ اسماء و صفات ہی سے ہے اس</p>
<p>لیے اس کو الوہیت یا حضرت الوہیت یا حضرت الہیت کہتے ہیں ۔</p>
<p>تعین ثانی : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ مراتب وجود میں اس کا مرتبہ تعین اول کے بعد ہے اور ذات کا تقید یہاں اسماء و صفات میں ہوا ہے ۔</p>
<p>تجلی ثانی : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ ظہور کے لحاظ سے یہ دوسری تجلی ہے جو تجلی اول کی تفصیل ہے ۔ ذات کا ظہور یہاں اسما و صفات کے ساتھ ہوا ۔</p>
<p>منشاء الكمالات : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہی مرتبہ حق تعالیٰ کے کمالات اسمائی کا منشاء و مبدا اور اصل و منتزع عنہ ہے ۔</p>
<p>قبلہ توجہات : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ معلومات حق سبحانہ و تعالی کا مرکزی مرتبہ ہے ۔</p>
<p>عالم معانی : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ موجودات علمی اور معنوی کا مرتبہ ہے۔</p>
<p>حضرت ارتسام : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہیں معلومات حق کی صورتیں یعنی صور علمیہ مرتسم ہوتی ہیں ۔</p>
<p>علم ازلی : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس مرتبہ کا مقام علم معقولہ قبلیہ &#8221; ازل &#8221; ہے جو حق تعالیٰ کا ایک حکم ذاتی ہے کہ اپنے کمال کے سبب سے وہی اس کا مستحق بھی ہے اور اس کے غیر کو اس میں کوئی استحقاق حاصل نہیں ۔</p>
<p>علم تفصیلی :  اس وجہ سے کہتے ہیں ہیں کہ یہ علم الہی کا مرتبہ تفصیل ہے اوراس میں اسماء وصفات کی تفصیل ہوتی ہے ۔</p>
<p>مرتبہ العماء: اس وجہ سے کہتے ہیں کہ نفس رحمانی جو سانس کے مانند باہر کی جانب پراگندہ کیا گیا ہے اور جو تعین و تجلی ثانی ہے، اس ابر رقیق کے مانند جو قرص آفتاب کو پوشیدہ کر دیتا ہے ۔ آفتاب وجود حقیقی کو عماء نے ظہور سے مخفی رکھا اور مرتبہ کون میں لاکر اتنا مخفی کردیا کہ ظاہر کواپنے باطن کی خبر ہی نہ رہی ۔</p>
<p>،قاب قوسين : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ جن دو قوسوں سے دائرہ تعین ثانی مرکب ہے ، ان میں سے ایک قوس حقائق انہیہ سے متعلق ہے اور دوسری حقائق کو نیہ سے ۔ ایک وجوب سے متعلق ہے اور دوسری امکان سے</p>
<p>مرتبه الباء : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ حروف تہجی اور حساب ابجد میں جس طرح &#8220;ب &#8220;حرف ثانی ہے اور دوسرے حروف کا سبب بنتا ہے، اسی طرح تعین ثانی بھی ثانی مرتبہ وجود ہے اور ظہور تفصیلی کا سبب بنا ہے۔ چنانچہ &#8221; ب &#8221; کے معنی اہل اسرار کے نزدیک سبب کے ہیں ۔ اس حرف سے وجود کے مرتبہ ثانیہ اور موجودات خارجیہ کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔</p>
<p>منتبى العابدین : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ عابدین تعیین حقیقت انسانیہ کے محل سے تجاوز نہیں کر سکتے۔ نیز اس سے اشارہ ہے مرتبہ الوہیت کی طرف جو جملہ عبادات کی انتہاء کامرتبہ ہے ۔</p>
<p>منشاء السویٰ : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ وجود حق تعالیٰ یہاں صورممکنات میں غیر ناموں کے ساتھ ظاہر ہوا ، اسی وجہ سے اس عالم کو &#8220;ماسوی کہتے ہیں ۔ اس کا نام عالم بعد ظہور ہوا ہے نہ کہ قبل ظهور &#8211;</p>
<p>منشاء الکثرت: اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ مرتبہ حقائق کو نیہ کو متضمن ہے۔ جو مقام کثرت ہے اور اس تعین کا منشاء ہی کثرت ہے ۔</p>
<p>واحدیت : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ واحد اسم ثبوتی ہے، جس میں اسماء وصفات کی کثرت ثابت ہے اور یہ مرتبہ بھی اسماء وصفات کی کثرت کا مرتبہ ہے ۔</p>
<p>مرتبہ اللہ : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اللہ اسم جامع ہے جمیع اسماء و صفات کا اور اس مرتبہ میں تمام اسماء و صفات کا اعتبار کیا گیا ہے ۔</p>
<p>لوح محفوظ : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ لوح محفوظ جس طرح مقدرات کا مقام تفصیل ہے اسی طرح یہ مرتبہ بھی اسماء وصفات کا مقام تفصیل ہے ۔</p>
<p>ان کے ساتھ ساتھ  یہ نام بھی واحدیت کیلئے استعمال ہوتے ہیں</p>
<p>حضرت الاسماء والصفات : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ مرتبہ اسماء و صفات اوران چیزوں کو شامل ہے جو ان سے متعلق ہیں مثلا حقائق کو نبیہ و انسانیہ ۔</p>
<p>احدیث الکثرت : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ احدیت کا ظہور یہاں کثرت میں ہوا ۔</p>
<p>معدن الکثرت : اس وجہ سے کہتے ہیں اس تعین میں کثرت ہے۔</p>
<p>قابلیت کثرت : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ حقائق عالم یہاں اگر عالم ظہور کی قابلیت اختیار کر لیتے ہیں اور اسی وجہ سے اس کو &#8221; قابلیت ظہور بھی کہتے ہیں ۔حضرت الجمع والوجود : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ جامعیت وحدت ہی کی یہ جہت ظہور ہے ۔ وہی ذات واحد ہے جو وحدت میں جہت بطون میں تھی اور یہاں آکر اسماء و صفات سے پہچانی گئی۔</p>
<p>فلک الحیاة : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ حیات عالم کا مدار اسی مرتبہ پر موقوف ہےاور یہ مرتبہ حقائق عالم ارواح و اجسام کو متضمن ہے ۔</p>
<p>وجود اضافی  اس وجہ سے کہتے ہیں کہ موجودات سے اسے نسبت تحقق في الخارج ہے۔ اس مرتبہ میں وجود کی اضافت کا ئنات کی طرف ہوئی ۔ حدوث کے لحاظ سے اس کا نام کائنات ہے اور ظہور وجود کے اعتبار سے اس کو موجودات کہتے ہیں ۔</p>
<p>نفس رحمانی : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ تعین اول سے تعین ثانی بطور انبساط نفس حاصل ہوا اور جو کچھ باطن تھا وہی ظاہر ہوا ۔</p>
<p>منتہی العالمین : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ جملہ عوالم یہاں ظہور میں اپنی انتہار کو پہنچے ان تمام پچیدہ اصطلاحی ناموں سے جو چیز ثابت ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ یہ مرتبہ اسماء و صفات کی تفصیل کا مرتبہ ہے۔</p>
<p>یہاں یہ نہ سمجھ لینا کہ وحدت اورالہیت اور اللہ تعالی کا نام نو پید ہوا ہے کیونکہ مرتبہ ذات کی ایک آن بھی وحدت اور الہیت پر مقدم نہیں۔ یہ تقدیم و تاخیر رتبہ کی ہے اور صرف برائے تفہیم ہے مثلاً ایک سہ سطری مہر کندہ کی گئی اب اگر اس کو کا غذ پر لگا کر پڑھیں تو مقدم پہلی سطر پڑھی جائے گی ، اس کے بعد دوسری ، پھرتیسری ، لیکن کا غذ پر ان سطروں کا ثبوت مقدم اور موخر نہیں ہوا ہے</p>
<h4></h4>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ab%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%84%D8%AB%DB%81%20%29" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ab%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%84%D8%AB%DB%81%20%29" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ab%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%84%D8%AB%DB%81%20%29" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ab%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%84%D8%AB%DB%81%20%29" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ab%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%84%D8%AB%DB%81%20%29" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ab%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%84%D8%AB%DB%81%20%29" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ab%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%84%D8%AB%DB%81%20%29" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ab%25db%2581%2F&#038;title=%D9%88%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%84%D8%AB%DB%81%20%29" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%84%d8%ab%db%81/" data-a2a-title="واحدیت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثالثہ )"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%84%d8%ab%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مراتب کلیہ</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%aa%d8%a8-%da%a9%d9%84%db%8c%db%81/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%aa%d8%a8-%da%a9%d9%84%db%8c%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 13 Nov 2023 03:30:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[ارواح مجردہ]]></category>
		<category><![CDATA[برزخ کبریٰ]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت محمدیہ]]></category>
		<category><![CDATA[قابلیت محض]]></category>
		<category><![CDATA[مراتب سته]]></category>
		<category><![CDATA[مراتب کلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ حقیقت محمدیہ]]></category>
		<category><![CDATA[نفوس سماویہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7695</guid>

					<description><![CDATA[ مراتب کلیہ چھ ہیں حضرات صوفیہ کی اصطلاح میں تنزل حق کے چھ مرتبے مقرر ہیں جنہیں مراتب کلیہ  مراتب ستہ بھی کہتے ہیں اول احد تیہ جس میں صرف اعتبار ذات ہے اس کو عالم غیب بھی کہتے ہیں۔ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%aa%d8%a8-%da%a9%d9%84%db%8c%db%81/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1 style="text-align: right;"> مراتب کلیہ چھ ہیں</h1>
<p>حضرات صوفیہ کی اصطلاح میں تنزل حق کے چھ مرتبے مقرر ہیں جنہیں مراتب کلیہ  مراتب ستہ بھی کہتے ہیں</p>
<p>اول احد تیہ جس میں صرف اعتبار ذات ہے اس کو عالم غیب بھی کہتے ہیں۔ بعض مرتبہ اول وحدت کو کہتے ہیں جو تعین اول ہے، برزخ کبری اور قابلیت محض ہے۔</p>
<p><strong>احدیت</strong> وہ مرتبہ ہے جہاں صرف اللہ کی ذات کا اعتبار ہوتا ہے۔ اس مرتبے میں اللہ کی ذات کی وحدانیت اور اس کی صفات کی نفی کی جاتی ہے۔ اسے عالم غیب بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں کسی مخلوق یا صفات کا ظہور نہیں ہوتا۔</p>
<p>مرتبہ ثانی واحدیت کو کہتے ہیں جس میں ذات تفصیلا اسما کا بھی اعتبار ہے۔</p>
<p><strong>واحدیت</strong> وہ مرتبہ ہے جہاں اللہ کی صفات کا ظہور ہوتا ہے۔ اس مرتبے میں اللہ کی صفات کا تفصیلی بیان ہوتا ہے اور یہ صفات اللہ کی ذات کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں۔</p>
<p>مرتبہ ثالث ارواح مجردہ ہیں جس میں عقول عالیہ اور اروح انسانیہ ہیں۔</p>
<p><strong>عالم ارواح</strong> وہ مرتبہ ہے جہاں ارواح کا ظہور ہوتا ہے۔ یہ ارواح اللہ کی تخلیق ہیں اور ان کا تعلق عالم غیب سے ہے۔ اس مرتبے میں ارواح کی حقیقت اور ان کے مراتب کا بیان ہوتا ہے۔</p>
<p>مرتبہ رابع ملکوت ہے جس میں نفوس سماویہ اور انسان یہ ہیں اس کو عالم مثال بھی کہتے ہیں۔</p>
<p><strong>عالم مثال</strong> وہ مرتبہ ہے جہاں مثالی صورتوں کا ظہور ہوتا ہے۔ یہ صورتیں عالم ارواح اور عالم اجسام کے درمیان واسطہ کا کام کرتی ہیں۔ اس مرتبے میں مثالی صورتوں کی حقیقت اور ان کے مراتب کا بیان ہوتا ہے۔</p>
<p>مرتبہ خامس عالم ملکوت ہے کہ عالم اجسام اور عالم اعراض ہے اس کو عالم شہادت بھی کہتے ہیں۔</p>
<p><strong>عالم اجسام</strong> وہ مرتبہ ہے جہاں جسمانی صورتوں کا ظہور ہوتا ہے۔ یہ صورتیں مادی دنیا میں موجود ہوتی ہیں اور ان کا تعلق عالم مثال سے ہے۔ اس مرتبے میں جسمانی صورتوں کی حقیقت اور ان کے مراتب کا بیان ہوتا ہے۔</p>
<p>اور مرتبہ سادس عالم انسان کا مل ہے جو تمام مراتب کا جامع ہے۔</p>
<p><strong>عالم انسان کامل</strong> وہ مرتبہ ہے جو تمام مراتب کا جامع ہے۔ یہ مرتبہ حقیقت محمدیہ کا مظہر ہے اور انسان کامل کو تمام مراتب کا جامع سمجھا جاتا ہے۔ اس مرتبے میں انسان کامل کی حقیقت اور اس کے مراتب کا بیان ہوتا ہے.</p>
<p style="text-align: right;">(1)مرتبہ وحدت یعنی تعین اول حقیقت محمدیہ &#8211;</p>
<p style="text-align: right;">(2) مرتبه احدیت</p>
<p style="text-align: right;"> عالم ارواح  (3)</p>
<p style="text-align: right;">عالم مثال (4)</p>
<p style="text-align: right;">عالم ملک جس کو عالم اجسام عالم شہادت بھی کہتے ہیں (5)</p>
<p style="text-align: right;">(6) عالم انسان کامل</p>
<p style="text-align: right;">یہ جامع ہے جمیع مراتب کا بعض صوفیاء اس طرح چھ گنتے ہیں کہ</p>
<p style="text-align: right;">(1) مرتب اول ذات احدیت</p>
<p style="text-align: right;">(2) مرتبہ ثانی و حدت</p>
<p style="text-align: right;">(3) مرتبه واحدیت</p>
<p style="text-align: right;">(4) عالم ارواح</p>
<p style="text-align: right;"> (5) عالم مثال</p>
<p style="text-align: right;">(6) عالم اجسام</p>
<p style="text-align: right;">تنزلات ستہ بھی ان کو کہتے ہیں۔   اور بعض کہتے ہیں کہ  (1) مرتبہ ذات احدیت (2) مرتبہ حضرت واحدیت (3) مرتبہ ارواح مجرده (4) مرتبه نفوس عامله که عالم ملکوت و عالم مثال ہے(5) عالم ملک عالم شہادت ہے ( 6) مرتبہ کون جامع یعنی انسان کامل اور مرتبہ وحدت کو احدیت میں شمار کیا ہے</p>
<p style="text-align: right;"> بعض صوفیاء فرماتے ہیں کہ مراتب کلیہ آٹھ میں (1)، عالم  ملک (2)عالم ملکوت (3) عالم جبروت (4) عالم اعیان ثابتہ(5)اسماء الہیہ(6)صفات سبحانیہ (7)مرتبہ وحدت (8)ذات احدیت</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%DB%81" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%DB%81" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%DB%81" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%DB%81" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%DB%81" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%DB%81" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%DB%81" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581%2F&#038;title=%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%DB%81" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%aa%d8%a8-%da%a9%d9%84%db%8c%db%81/" data-a2a-title="مراتب کلیہ"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%aa%d8%a8-%da%a9%d9%84%db%8c%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>احدیت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ اولی)</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d9%84%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d9%84%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 13 Nov 2023 03:20:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[ابطن كل باطن]]></category>
		<category><![CDATA[احدیت مطلقہ]]></category>
		<category><![CDATA[ازل الآزال]]></category>
		<category><![CDATA[اعتبارات ذات]]></category>
		<category><![CDATA[الغیب المسكوت عنہ]]></category>
		<category><![CDATA[انانیت حقہ]]></category>
		<category><![CDATA[باہوت]]></category>
		<category><![CDATA[بشرط لاشے]]></category>
		<category><![CDATA[بشرط لاکثرت]]></category>
		<category><![CDATA[بطون البطون]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت حق]]></category>
		<category><![CDATA[خفاء الخفاء]]></category>
		<category><![CDATA[ذات بحت]]></category>
		<category><![CDATA[ذات بلا اعتبار]]></category>
		<category><![CDATA[ذات ساذج]]></category>
		<category><![CDATA[سقوط اعتبارات]]></category>
		<category><![CDATA[شان تنزیہ]]></category>
		<category><![CDATA[عدم العدم]]></category>
		<category><![CDATA[عنقا]]></category>
		<category><![CDATA[عین الکافور]]></category>
		<category><![CDATA[عین مطلق]]></category>
		<category><![CDATA[غیب الغيوب]]></category>
		<category><![CDATA[غیب مطلق]]></category>
		<category><![CDATA[غیب ہویت]]></category>
		<category><![CDATA[قِدَم القِدَم]]></category>
		<category><![CDATA[کنز مخفی]]></category>
		<category><![CDATA[کنہ حق]]></category>
		<category><![CDATA[گنج مخفی]]></category>
		<category><![CDATA[لا تعین]]></category>
		<category><![CDATA[مجہول النعت]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبة الهویت]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ اولی]]></category>
		<category><![CDATA[معدوم الاشارات]]></category>
		<category><![CDATA[مکنون المکنون]]></category>
		<category><![CDATA[منقطع الاشارات]]></category>
		<category><![CDATA[منقطع الوجدان]]></category>
		<category><![CDATA[نقطہ]]></category>
		<category><![CDATA[نہایۃ النہایات]]></category>
		<category><![CDATA[ھو]]></category>
		<category><![CDATA[ہویت حق]]></category>
		<category><![CDATA[ہویت حقہ]]></category>
		<category><![CDATA[ہویت مطلقہ]]></category>
		<category><![CDATA[وجود البحت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7713</guid>

					<description><![CDATA[احدیت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ اولی) جسم کثیف سے جسم لطیف کا سفر (تنزل : ذات حق تعالٰی کا تعینات میں ظاہر ہونا تنزل ہے(تنزل کے معنی یہ ہیں کہ شے اپنے اصلی وجود میں بعینہ باقی رہ کر <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d9%84%db%8c/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>احدیت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ اولی)</h1>
<h2>جسم کثیف سے جسم لطیف کا سفر</h2>
<p><span style="color: #993366;">(تنزل : ذات حق تعالٰی کا تعینات میں ظاہر ہونا تنزل ہے(تنزل کے معنی یہ ہیں کہ شے اپنے اصلی وجود میں بعینہ باقی رہ کر ظلی طور پر ایک دوسرا وجود اختیار کرے)۔ تنزلات ستہ تصوف کا مشہور مسئلہ ہے اس کا مختصر بیان یہ ہے کہ صوفیائے کرام نے ذات کے چھ مراتب قرار دیتے ہیں ۔  پہلا مرتبہ احدیث اس کو لاتعین ، ذات بحت کہتے ہیں۔)</span></p>
<p>احدیت، ذات حق کا تنزلات ستہ کا مرتبہ اولی ہے جو وہم و گمان سے پاک ہے۔ اس میں کثرت کی گنجائش نہیں، یہاں ذات قیود سے آزاد ہوتی ہے۔ اطلاقیت اس مرتبہ کا خاصہ ہے۔ احدیت میں اعتبارات ذات، علم ، نور ، وجود اور شہود ضرور ہوتے ہیں۔ اس مرتبہ میں حق تعالیٰ خود ہی علم ہے، خود ہی عالم اور خود ہی معلوم ۔ خود نور خود منوِّر اور خود منوَّر &#8211; خود وجود خود واجد اور خود موجود اس طرح خود شہود، خود شاہد اور خودمشہود &#8211; مگر اس مرتبہ میں ان اعتبارات کو بوجوہ ملحوظ نہیں رکھا گیا کیونکہ یہاں کسی قسم کے تعدد اور اعتبار غیریت کو دخل نہیں ہے ۔ یہ سقوط اعتبارات کی جہت ہے۔</p>
<p>جب کوئی چیز نہ تھی ، نہ پانی نہ خاک نہ ہوا نہ آگ ، نہ زمیں نہ آسماں ، نہ شجر نہ حجر ، نہ حیوانات تب ایک حقیقت (وجود حقیقی)تھی جو اپنے آپ موجود(موجود بالذات) تھی ہے جس کو عربی میں ہوبیت ہے ، فارسی میں ہستی۔ بعض حضرات اس کو عشق بھی کہتے ہیں ۔</p>
<p>یہ حقیقت اس مرتبہ (مراتب وجود کا پہلا مرتبہ مرتبہ لا تعین)میں تمام قیود سے پاک تھی اور اس کے تمام صفات و کمالات پوشیدہ تھے ۔ وہ اپنے کمال کے سبب کسی جانب متوجہ نہ تھی ۔ اپنے آپ پر حاضر تھی۔ اپنے غیر کی طرف متوجہ نہ تھی کیونکہ اس کا غیر تھاہی نہیں ۔ اس کی تمام صفات اُسی کی ذات(وجود مطلق) میں مندرج تھیں چنانچہ اس مرتبہ میں اس کا کوئی اسم اور کوئی صفت ظاہر نہیں۔ نہ کوئی نسبت نہ کوئی اضافت، بلکہ وہ صفت بطون و ظہور سے بھی پاک تھی ، اس کو اس مرتبہ میں ایک اور بہت نہ بولا جائے ، نہ اللہ ، نہ بندہ۔ اگرچہ بعض حضرات نے اس حقیقت کو اس مرتبہ میں بھی &#8221; اللہ &#8221; کہا ہے، لیکن اکثر صوفیہ کہتے ہیں کہ یہ اس حقیقت کا صرف تسمیہ ہے ، اس لیئے کہ الفاظ کی کوئی کمی تو ہے نہیں، جو چاہو نام رکھ لو لیکن نام رکھنے کا فائدہ کچھ نہیں کیونکہ نام رکھنے سے مقصود سمجھنا اور سمجھانا ہے ، اور یہاں صورت یہ ہے کہ کوئی اس حقیقت کو تعینات کے بغیر نہ پا سکتا ہے ، نہ سمجھ سکتا ہے ، نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ جان سکتا ہے ۔ پھر جب یہ صورت ہے تو الفاظ سے اس کی جانب کیوں اشارہ کیا جائے وہ نام کی قید میں نہیں آ سکتی ، خواہ اس کے کتنے ہی نام رکھ لیئے جائیں ۔</p>
<p>وہ حقیقت اپنی یکتائی کے سبب عالم سے بے پروا ہے کیونکہ ذات بذات خود عالم کی طرف وجود و عدم کی نسبت یکساں رکھتی ہے، نہ اس کی موجودیت کی خواہش رکھتی ہے اور نہ اس کے عدم کی رغبت (اسی لئے اسے عدم العدم کہتے ہیں)، یہ بے پروائی ذات کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اس حقیقت کو اس مرتبہ میں کوئی نہیں جان سکتا ، نہ ولی نہ نبی ہے کیونکہ وہ حقیقت اپنے اطلاق حقیقی (بے قیدی) کے سبب چاہتی ہے کہ نہ جانی جائے اور احاطہ و قید میں نہ آئے لیکن علم کا تقاضا ہے کہ معلوم اس کی گرفت میں آئے لہذا مر تبہ ذات کے ادراک سے عاجز رہنا عین ادراک (عدم علم کا علم بڑا علم ہے) ہے۔ پس تعینات ، اسماء ، صفات اور مظاہر کے بغیر ذات کی دریافت میں سعی کرنا عمر کو بے فائدہ  ضائع کرنا اور محال کو طلب کرنا ہے (ان کے بغیرادراک ممکن نہیں)۔ ایسی معرفت اس کے غیر کے لیئے ممتنع ہے ، الا یہ کہ بالا جمال ہوا اور وہ صرف یہ ہے کہ کائنات کے سوا ایک حقیقت تھی جس سے کائنات  کا ظہور ہوا ہے</p>
<p>وہ حقیقت اس مرتبہ میں تعین( حق کا اپنی ذات کو پانا)سے پاک ہے۔ کوئی ایک تعین اس حقیقت کو لازم نہیں، بلکہ ہر مرتبہ میں وہ ایک تعین، مرتبہ کے مطابق لیتی ہے۔ اور کسی تبدیلی کے بغیر مطلق بھی ہوتی ہے اور مقید بھی ، کلی بھی اور جزئئ بھی ، عام بھی اور خاص بھی، واحد بھی اور کثیر بھی ۔ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے الان کماکان یعنی اللہ تعالٰی اب بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ ازل میں تھا ۔</p>
<p>اس مرتبہ ذات کو غیب ہویت(ذات خالص جس میں اسم رسم نعت وصف کو بھی دخل نہ ہو)، غیب الغيوب (یہ مرتبہ مراتب معقولہ سے بلند ہے)، ابطن كل باطن(باطن کا باطن ترین کوئی بھی مطلع نہیں)، ہویت مطلقہ(کسی قید میں نہیں آتی )،لا تعین ( کسی تعن کا اعتبار نہیں نہ اسمائی نہ افعالی)، عین الکافور(چشمہ کافور میں کافوری قہر و غلبہ سےکافوری صفت اختیار کر لیتی ہے )، ذات ساذج(خاص ذات) ،منقطع الاشارات(کسی اشارے کی حاجت نہیں) ، منقطع الوجدان(ذاتی و صفاتی وجدان نہیں) ،احدیت مطلقہ(ذات اطلاق حقیقی کے ساتھ احد ہے)، مجہول النعت(نعت وصف ثبوتی یہاں اس کا بھی اعتبار نہیں )،عنقا(جیسے عنقا زیر دام نہیں آتااسی طرح ذات کسی یافت میں نہیں آتی)، نقطہ (نکتہ دائرہ ممکنات بناتا ہےاعتباری ہے) اور گنج مخفی(اس مرتبہ میں ذات کی قابلیتیں خود ذات سے بھی مخفی ہوتی ہیں) کہتے ہیں</p>
<p>اس مرتبہ ذات کے اور بھی نام ہیں، مثلا :ازل الآزال :۔کیونکہ یہ مرتبہ جمله مراتب قدیمیہ ازلیہ کی انتہا ہے اور اس قِدَم (قدیم)میں اس سے بالاتر کوئی مرتبہ نہیں۔</p>
<p>الغیب المسكوت عنہ : سکوت کلام کی ضد ہے اور کلام اسم وصفت کا محتاج ہے۔ یہاں نہ اسم کو دخل ہے ، نہ صفت کو ، نہ کلام کو ، سکوت کے سوا یہاں چارہ نہیں۔</p>
<p>ذات بحت : بحت کہتے ہیں خالص کو ، یہاں ذات خالص از اسم در سم اور نعت و وصف ہے ۔</p>
<p>ذات بلا اعتبار:۔ کیونکہ یہاں جملہ اعتبارات و تقیدات مفقود ہیں ۔</p>
<p>مرتبة الهویت : ذات بحت بحیثیت ھو ، یعنی ذات جو کامل ہے اپنی ذاتیت ہیں۔</p>
<p>علی ھذا القیاس اس مرتبہ کو  کنہ حق ، ہویت حق ، حقیقت حق ، وجود البحت ، عین مطلق ، غیب مطلق ، مکنون المکنون ، بطون البطون ، خفاء الخفاء، قِدَم القِدَم نہایۃ، النہایات ، معدوم الاشارات ، بشرط لاشے ، بشرط لاکثرت ، باہوت ، ھو، شان تنزیہ، انانیت حقہ ، ہویت حقہ ، اور کنز مخفی بھی کہتے ہیں ۔ ان تمام اسمائے مرتبہ سے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ ذات اس مرتبہ میں نا قابل یافت وادراک ہے۔</p>
<p>احدیت بے رنگی وبے کیفی کا مرتبہ ہے ۔ یہاں ذات بے چند وچوں اور بے شبہ ونموں ہے ۔ بے وصف ، بے نعت ، بے نام ، بے نشان، بے زمان ، بے مکان ۔ یہ مرتبہ ہویت ہے۔ اس میں اول و آخرہویت ہی ہو یت ہے۔ یہاں طمع معرفت فضول ہے۔ کان اللہ ولم یکن معه شی اللہ ہی اللہ ہے اس کے ساتھ کچھ اور نہیں ۔ یہ مرتبہ لا ادریت ہے۔ اسی کے متعلق شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نے کہا ہے :</p>
<p>كل الناس في ذات الله حمقاء</p>
<p>ذات حق کے علم میں سب احمق ہیں</p>
<p>نوٹ: یہ سب نام صوفیائے کرام نے سمجھانے کیلئے رکھے ہیں تاہم اس کے باوجود یہی واجب الوجود ذات باقی تمام مراتب کی عین اور حقیقت ہے۔ یہ ایک ایسا مرتبہ ہے۔ جس پر علم قدیم بھی احاط نہیں کرسکتا۔ مرتبہ احدیت رب تعالی کی کنہ ہے جو کسی وہم سے موہوم کسی علم سے معلوم اور کسی صفت سے موصوف نہیں ہوسکتی۔ اس مرتبہ پر صفات تو در کنار خود ذات کا اطلاق بھی نہیں ہو سکتا۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&#038;title=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d9%84%db%8c/" data-a2a-title="احدیت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ اولی)"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d9%84%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وحدت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثانیہ)</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 13 Nov 2023 03:18:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[احدیت جامعہ]]></category>
		<category><![CDATA[احدیت جمع]]></category>
		<category><![CDATA[ام الکتاب]]></category>
		<category><![CDATA[او ادنی]]></category>
		<category><![CDATA[برزخ البرازخ]]></category>
		<category><![CDATA[برزخ کبریٰ]]></category>
		<category><![CDATA[بشرط شے بالقوه]]></category>
		<category><![CDATA[بشرط کثرت بالقوه]]></category>
		<category><![CDATA[بعد مشاہدہ تعین]]></category>
		<category><![CDATA[تعین اول وحدت حقیقی]]></category>
		<category><![CDATA[تعینات و تجلیات]]></category>
		<category><![CDATA[تعیین اول]]></category>
		<category><![CDATA[تنزل اول]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[تین مراتب کونی]]></category>
		<category><![CDATA[ثبوت اعتبارات]]></category>
		<category><![CDATA[جوہراول]]></category>
		<category><![CDATA[حب ذاتی]]></category>
		<category><![CDATA[حجاب عظمت]]></category>
		<category><![CDATA[حقائق الممکنات]]></category>
		<category><![CDATA[حقيقة الحقائق]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت انسانی]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت محمدیہ]]></category>
		<category><![CDATA[خیال اول]]></category>
		<category><![CDATA[درة البيضاء]]></category>
		<category><![CDATA[دو مراتب غیب]]></category>
		<category><![CDATA[رابطہ بین الظهور والبطون]]></category>
		<category><![CDATA[رفیع الدرجات]]></category>
		<category><![CDATA[روح اعظم]]></category>
		<category><![CDATA[روح القدس]]></category>
		<category><![CDATA[روح محمدی]]></category>
		<category><![CDATA[سقوط اعتبارات]]></category>
		<category><![CDATA[ظل اول]]></category>
		<category><![CDATA[عرش مجید]]></category>
		<category><![CDATA[عقل اول]]></category>
		<category><![CDATA[فلک ولایت مطلقه]]></category>
		<category><![CDATA[قابلیت اولیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[قلم اعلی]]></category>
		<category><![CDATA[کنز الصفات]]></category>
		<category><![CDATA[کنز الكنوز]]></category>
		<category><![CDATA[گنج مخفی]]></category>
		<category><![CDATA[لوح قضا]]></category>
		<category><![CDATA[مبدأ اول]]></category>
		<category><![CDATA[محبت حقیقیہ]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبه الجمع والوجود]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبه جامعه]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ ثانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ جامع المراتب]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ ولایت مطلقہ]]></category>
		<category><![CDATA[مشاہدہ ذات مع التعین]]></category>
		<category><![CDATA[مقام اجمالی]]></category>
		<category><![CDATA[مقام جمع]]></category>
		<category><![CDATA[منشاء اول]]></category>
		<category><![CDATA[موجود اول]]></category>
		<category><![CDATA[نداء اول]]></category>
		<category><![CDATA[نشان اول]]></category>
		<category><![CDATA[نفس رحمانی]]></category>
		<category><![CDATA[وجود اول]]></category>
		<category><![CDATA[وجود مطلق]]></category>
		<category><![CDATA[وحدت قابلیات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7736</guid>

					<description><![CDATA[وحدت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثانیہ) وحدت(یا ھُوت ذات حق کا ایک مرتبہ جس میں قابلیت کثرت ہے جسے شئون ذاتیہ کہا جاتا ہے) مرتبہ ثانیہ تنزل اول اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں گنج مخفی(وجود کا مرتبہ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>وحدت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثانیہ)</h1>
<p>وحدت(یا ھُوت ذات حق کا ایک مرتبہ جس میں قابلیت کثرت ہے جسے شئون ذاتیہ کہا جاتا ہے)</p>
<h2>مرتبہ ثانیہ تنزل اول</h2>
<p>اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :</p>
<p>میں گنج مخفی(وجود کا مرتبہ اول یعنی احدیت مراد ہے) تھا یعنی ذات کے غلبہ میں تمام صفات مخفی تھیں) پھر میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں، پس میں نے مخلوق پیدا کی ہے(‌كُنْتُ ‌كَنْزًا ‌مَخْفِيًّا فَأَرَدْتُ أَنْ أُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ)</p>
<p>حقیقت کا یہی ظہور ہے جو مجالی (جلوہ گاہیں مجلاء کی جمع مراد کائنات ، عوالم اور اشیاء)یعنی تعینات میں پایا جاتا ہے اور عارفوں (صوفیائے کرام کی اصطلاح میں عارف اس شخص کو کہتے ہیں جو صفات باری تعالیٰ کو بطریق حال ومکا شفہ پہچانتا ہو ، نہ کہ بطریق علم مجرد)کے مشاہدے میں آتا ہے۔ تعینات و تجلیات میں اس کا مشاہدہ دو طرح سے ہوتا ہے ۔</p>
<p>(1) یہ کہ ذات جب اسماء یا ارواح میں نزول کرتی ہے تو عارف اولا اس کا مشاہدہ کرتا ہے اور ثانیاً متعینات میں اس کے ظہور کی کیفیت کا ، اور تعینات کے ساتھ اس کے تقید کا، خواہ یہ اسمی تعینات ہوں یا غیر اسمی تعینات مشہود ہوں ، یہ مشاہدہ اکمل الکاملین کا ہے ۔ یہ مشاہدہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ہے کیونکہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>ما رأيت شي الا ور أَيْتُ اللهَ قَبْلَهُ</p>
<p>میں نے جس چیز کو بھی دیکھا ہے ، اس سے پہلے حق کا ادراک ضرور کیا ہے ۔</p>
<p>(2)دوسرا مشاہدہ تعین اور تجلی کے درمیان ذات مطلقہ کا مشاہدہ ہے ، خواہ یہ مشاہدہ ذات مع التعین ہو یا بعد مشاہدہ تعین ۔ یہ مشاہدہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے ، کیونکہ آپ نے فرمایا ہے :</p>
<p>مار أيْتَ شَيْئًا إِلَّا وَرَأَيْتُ اللهَ مَعَهُ</p>
<p>میں نے جس چیز کو بھی دیکھا ہے ، اس کے ساتھ حق کا ادراک ضرور کیا ہے</p>
<p>الغرض اس حقیقت کے تعینات بے حد و بے شمار ہیں لیکن ان کے کلیات چھ ہیں۔ دو مراتب غیب ہیں ، کیونکہ ان میں ذات اور غیر ذات سے ہر چیز غائب ہے۔ ان دونوں مرتبوں میں حق پر کسی چیز کو ظہور حاصل نہیں۔ مرتبہ اول میں غیب سے تعین اول ہے اور مرتبہ  ثانی میں غیب سے تعین ثانی( تعین اول (وحدت) اور تعین ثانی (واحدیت ) یہ دونوں مراتب غیب ہیں کیونکہ ان میں کوئی شے موجود فی الخارج نہیں، ان کا ظہور صرف علمی ہے نہ کہ عینی) ۔</p>
<p>باقی تین مراتب کونی (مراتب کونی سے مراد مرتبہ ارواح ، مرتبہ امثال اور مرتبہ اجسام ہیں۔)ہیں اور چھٹا مرتبہ جامع المراتب &#8220;(مرتبۂ جامع المراتب سے مراد تعین سادس یعنی انسان ہے ۔ مراتب وجود یا تنزلات ستہ کاعلم اجمالی۔) ہے</p>
<p>تعین اول یعنی حقیقت کا پہلا ظہور یہ ہے کہ حق تعالی نے اپنے وجود کو پایا اور&#8221; انا &#8221;  فرمایا،</p>
<p>اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا اپنی ذات اور اپنی صفات اور تمام موجودات کو بعض کو بعض سے امتیاز کے بغیر اجمالی طور پر جان لینا ہے۔ یہ مرتبہ وحدت ہے</p>
<p>اور ساری کائینات بالاجمال علم میں آئی ۔ یوں عوالم بالاجمال حقیقت سے الگ نہیں۔ وہ ذات عالم کو ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور عالم ذات سے الگ نہیں ہے وہ ذات  بالا جمال اسماء و صفات سے متصف ہے۔ اس طرح &#8221; سمیع &#8221; قدیر &#8221;  سے الگ نہیں یعنی کوئی اسم بھی دوسرے اسم سے علیحدہ نہیں ہے۔ یہ مرتبہ قابل محض ہے۔ یہاں کثرت ظاہر نہیں ؟ خواہ حقیقی ہو یا اعتباری  سارے عوالم اس مرتبہ میں نابود ہیں جب ذات نے اپنے وجود کو پایا اور &#8221; انا &#8221;  فرمایا تو چار چیزیں پائی گئیں</p>
<p>(1) &#8211; ذات وجود یعنی خود کو انا » فرماکر جانا۔ یہ ذات ہی وجود ہے ۔</p>
<p>(2)صفت علم یہ جاننا صفت ہے ۔</p>
<p>(3)- اسم نور جو خود پہ ظاہر ہوا تو جانا ، پس یہ ظہور نور ہے ۔ بعض حضرات نے انیت(وہ وجود جس کی طرف لفظ انا میںاشارہ کیا جاتا ہے ) ہی کو نور کہا ہے ۔</p>
<p>(4)- فعل شہود یعنی خود کو دیکھا تو جانا ، لہذا یہ دیکھنا شہود ہے</p>
<p>تعین اول کو وحدت حقیقی (وہ وحدت جس میں کسی وجہ سے کثرت نہ ہو اور جو تجزی کو قبول نہ کرے اور نہ اس کے مقابل اس کی کوئی ضد ہو۔ تجزی و تغیر، ضدیت و اثنینیت اورتشبیہ کو وہ قبول نہیں کرتی)</p>
<p>مرتبه الجمع والوجود،( اس وجہ سے کہتے ہیں کہ جمع باعتبار جانب ظہور ، وحدت سے عبارت ہے اور اس مرتبہ کا باطن ہے۔ اور اس مرتبہ میں ذات من حیث الاسماء والصفات پائی جاتی ہے یعنی اس مرتبہ تنزل میں ذات نے اسماء و صفات کی یافت کی ہے اور یہاں اطلاق اسماء و صفات کا ذات پر صادق آیا ہے)</p>
<p>مرتبه جامعه( اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس میں ذات وصفات اور ظهور و بطون دونوں شامل ہیں اور یہ مرتبہ دونوں کا جامع ہے۔)</p>
<p>احدیت جامعہ، احدیت جمع، ( اعتبار ذات من حیث ھی بلا اعتبار اسقاط صفات و اثبات صفات بھی اس مرتبہ میں ہے ۔ نیز صفات کا اعتبار اجمالی بھی اس میں مندرج ہے اور اسی وجہ سے اس کو احدیت جامعہ بھی کہتے ہیں۔ )</p>
<p>مقام جمع ( وحدت ہی ذات و صفات اور بطون و ظہور کو اپنے اندر جمع کرتی ہے اور خلط ملط نہیں ہونے دیتی ۔)</p>
<p>حقيقة الحقائق ( ذات حق تعالی ہر شے کی حقیقت ہے ۔ ہر شے کا وجو د اعتباری ہے  وہ اپنا وجود حق تعالیٰ سے پائے ہوئے ہے ۔  اس مرتبہ میں اس کا تعین اول ہے اس لیئے اس کو حقیقۃ الحقائق کہا جاتا ہے۔ اس کی ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ صور علمیہ اور اعیان ثابتہ کو حقائق الممکنات کہتے ہیں۔ چونکہ مرتبہ وحدت ، حقائق الممکنات کا مرتبہ اجمال ہے اس لیئے یہ مرتبہ حقیقۃ الحقائق ہوا۔)،</p>
<p>برزخ البرازخ، برزخ کبری (  یہ حق تعالی اور جملہ برازخ کے درمیان برزخ حائل ہے ۔)</p>
<p>حقیقت محمدیہ، وجہ وجوہ کائنات اور رونق بزم کائنات ہے  مزید دیکھیں <a href="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af%db%8c%db%81/">حقیقت محمدیہ</a></p>
<p>عقل اول ( یہ علم الہی کی شکل کا وجود میں محل ہے ۔ یہ علم الہی کا نور ہے جو تنزلات میں سب سے پہلے ظاہر ہوا۔ اول ما خلق الله العقل سے اسی جانب اشارہ ہے ۔)</p>
<p>قلم اعلی (عقل اول اور قلم اعلی ، در حقیقت ایک ہی نور کے دو نام ہیں۔ جب اس نور کی نسبت عبد کی جانب کی جاتی ہے تو اس کو عقل اول کہتے ہیں اور جب اس نور کی نسبت حق تعالی کی جانب کی جاتی ہے تو اُس کو &#8221; قلم اعلیٰ &#8221; کہتے ہیں۔ پھر عقل اول سے جو در اصل نور محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، ازل میں جبرئیل علیہ السلام پیدا کیے گئے اور ان کا نام روح الامین رکھا گیا کیونکہ وہ ایک ایسی روح ہیں جن کو اللہ تعالی کے علم کا خزانہ بطور امانت سپرد کیا گیا ہے۔ اس نور کی اضافت جب انسان کامل کی جانب ہوتی ہے تو وہ روح محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے لقب سے ملقب ہوتا ہے۔ قلم اعلی عقل اول اور روح محمدی (روح اعظم )کی تعبیر جوہر فرد کی جاتی ہے ۔ مظاہر خلقیہ میں ممیز ہونے کے طور پر جو ابتدائی تعینات حق ہیں، انھیں قلم اعلیٰ کہا جاتا ہے ۔)</p>
<p>روح اعظم (  روح اعظم یا روح محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اول ما خلق الله روحی بھی ارشاد فرمایا ہے  )</p>
<p>اور تجلی اول کہتے ہیں۔( لغت میں تجلی کے معنی ظاہر کرنے اور ظاہر ہونے کے ہیں۔ اسماء وصفات اور افعال الہی کا کسی پرپھینکا جانا تجلی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ ذات مطلق کا ظہور لباس تعین ہی میں ممکن ہے ، اسی لیئے صوفیہ کرام کی اصطلاح میں لباس تعین کو تجلی کہتے ہیں۔ ہر وہ شان اور کیفیت و حالت جس میں حق تعالی کا اس کی کسی صفت یا اس کے کسی فعل کا اظہار ہو تجلی ہے ۔<br />
اس مرتبہ وحدت کو تجلی اول اس وجہ سے کہتے ہیں کہ مرتبہ خفاء الخفاءیا مرتبہ لاتعین سے اس کا ظہور ہوا ہے۔ نیز اس کو تجلی اول کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تجلیات کا آغاز اس مرتبہ وحدت سے ہوتا ہے۔ اس سے پہلے مرتبہ احدیت ہے ، جس میں تجلی نہیں پائی جاتی کیونکہ تجلی کے لیے ایک متجلی اور ایک متجلی لہ کا ہونا ضروری ہے اور احدیت میں اثنینیت نہیں ، اس لیئے اس میں تجلی بھی ممتنع ہے ۔ احدیت میں نہ ناظر ہے نہ منظور تو تجلی کیسی ؟)<br />
یہ وحدت قابلیات ذات کی ہے (یہ مرتبہ اصل جمیع قابلیات کا ایک حالہ اجمالیہ بسیطیہ ہے۔ اس کا ظہور سب سے پہلے ہوا ہے۔ یہ جمیع قابلیات کا ہیولی اور مبدا ہے۔ اسی وجہ سے اس کو قابلیت اولی بھی کہتے ہیں۔)اس مرتبہ میں ناسوت(عالم بشریت ، عالم اجسام ، اس کو مُلک، عالم شہادت اور عالم محسوسات بھی کہتے ہیں ۔) ملکوت(یعنی وہ عالم جو ملائکہ وارواح سے مختص ہے) سے(جومرتبہ ارواح ہے )جدا نہیں اورملکوت جبروت(یعنی مرتبه صفات مرتبه وحدت ، حقیقت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے (جو مرتبہ صفات ہے )ممتاز نہیں اور جبروت، لاہوت ( یعنی مرتبہ ذات ، گنج مخفی، هویت مطلقه )سے (یعنی الوہیت سے جومرتبہ ذات ہے) ممتاز نہیں ہے(  ناسوت، ملکوت ، جبروت اور لاہوت یہ چار عوالم سمجھے جاتے ہیں در حقیقت لاہوت عالم نہیں بلکہ مرتبہ ہے کیونکہ عالم کا لفظ لاہوت پر صادق نہیں آتا ۔ لفظ عالم علامت سے مشتق ہے ۔ لغوی اعتبار سے عالم وہ ہے جس کے ذریعہ سے کوئی دوسری شے پہچانی جاسکے ۔ اصطلاح صوفیہ میں ماسوی اللہ کو عالم کہتے ہیں کیونکہ اس کے ذریعہ سے اللہ تعالی کو باعتبار اسماء وصفات پہچانا جاتا ہے ۔ عالم کا ہر جزء خواہ کتنا ہی چھوٹا ہو عوام کی نگاہ میں خواہ کتنا ہی حقیر اور بے قدر کیوں نہ ہو ، حق تعالٰی کے کسی نہ کسی اسم کا مظہر ضرور ہے ۔ اس لغوی اور اصطلاحی معنی کے اعتبار سے ناسوت ، ملکوت اور جبروت ہی عوالم ہیں ۔   مراد یہاں ان سے علی الترتیب مرتبه اجسام، مرتبه ارواح، مرتبه صفات اور مرتبہ ذات ہے ۔ یہ عوالم اس مرتبہ وحدت میں ایک دوسرے سے ممتاز نہیں ہیں کیونکہ مرتبہ وحدت اجمالی ہے جیسے گٹھلی میں برگ وبار اور شاخ و شجر ممتاز نہیں یا ہیضہ میں بال و پر اور رنگ و آواز ممتاز نہیں ، اسی طرح مرتبہ وحدت میں ذات وصفات اور اسماء و افعال موجود ہونے کے باوجود ممتاز نہیں ، کیونکہ امتیاز ، تفصیل کا متقاضی ہوتا ہے اور تفصیل کی اس مرتبہ میں گنجائش نہیں)</p>
<h2>اس وحدت کے دو اولین اعتبارات ہیں</h2>
<p>(1) سقوط اعتبارات یعنی ذات سے بالکلیہ تمام اعتبارات ساقط اور معدوم ہوں ، یہ احدیت ہے یعنی تمام اعتبارات کے سقوط  وعدم کے ساتھ ذات کا ایک ہونا۔ اسی لحاظ سے ذات کو احد کہا گیا ہے یعنی ایک ایسی ذات جس سے تمام اعتبارات دور کر دیئے گئے ہوں، اسی لیے ذات کا بطون ، اس کا اطلاق اور اس کی ازلیت اسی اعتبار سے متعلق ہے۔</p>
<p>(2)- ثبوت اعتبارات یعنی اس ذات میں بے حد و بے شمار اعتبارات مندرج ہوں ، یہ واحدیت ہے یعنی جملہ اعتبارات کے ساتھ ذات کا ایک ہونا، تمام اعتبارات وصفات کے ساتھ ذات کا ایک ہی نام ہو یعنی ایک ایسی ذات جو اعتبارات کے ساتھ ہے، پس واحد ثبوتی نام ہے،  سلبی نہیں ذات کا ظہور ، ذات کا وجود (یافت) ذات کی پیشگی ابدیت اسی اعتبار سے متعلق ہے ۔</p>
<p>(یہ وحدت جوانائے مطلق اور قابلیت محض کا مرتبہ ہے۔ اس کی دو جہتیں بن جائیں گی۔ پہلی جہت یہ ہے کہ اعتبارات اس سے ساقط ہوں، اس ذات سے متعلق کوئی اعتبار قائم نہ ہو۔ یہ نری ذات کی یکتائی ہے ، اس لیئے اس کو احدیت کہیں گے ۔ اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ مرتبہ احدیت میں ذات بلا اعتبار ہوتی ہے ، ہر اعتبار یہاں ساقط ہوتا ہے ، اسی لیے ذات کو اس مرتبہ میں احد کہتے ہیں واحد نہیں، کیونکہ احد سلبی نام ہے اور واحد ثبوتی اور اسی لیے احد ہی کو صمد کہا گیا ۔ صمد کہتے ہیں ٹھوس چٹان کو جس میں نہ کوئی چیز داخل ہو سکے ، نہ اس سے کوئی چیز خارج ہو سکے ۔ یہاں اسماء وصفات اور افعال کسی کا بھی اعتبار نہیں کیا جاتا،یہ  احدیت ہے ۔ ذات بحت کے علاوہ یہاں کچھ نہیں ۔ بطون، اطلاق اور ازلیت ، وحدت کی اسی جہت (احدیت) سے متعلق ہے۔ &#8211;</p>
<p>دوسری جہت یہ ہے کہ بے حد و بے شمار اعتبارات اس وحدت سے متعلق قائم ہوں، بلکہ اس میں مندرج ہوں ۔ یہ ذات کی یکتائی جملہ اعتبارات کے ساتھ ہے، اس لیے اب اس کو واحدیت کہیں گے۔ اس مرتبہ میں ذات ، نری نہیں رہتی بلکہ بے شمار اعتبارات بھی اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اسماء وصفات اور افعال بھی اس سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اس میں ذات کو واحد کہتے ہیں احد نہیں، کیونکہ واحد ثبوتی نام ہے جب کہ احد سلبی &#8211; اسماء و صفات اور افعال کا اعتبار اسی مرتبہ میں ہوگا جو واحدیت ہے ۔ ذات کے ساتھ یہاں ہزاروں اعتبارات بھی ہیں ، ظہور ، وجود (یافت) اور ابدیت، وحدت کی اسی جہت (واحدیت) سے متعلق ہے۔ )</p>
<p>ان دونوں اعتبارات( جہت سقوط اعتبارات اور جہت ثبوت اعتبارات ۔) یا دیگر اعتبارات( اسماء وصفات اور افعال ہیں، صوفیہ کرام ان کے لیے بھی اعتبارات کا لفظ ہی استعمال کرتے ہیں) میں کوئی غیریت یا تفریق (حقیقی) نہیں۔ کثرت مغایرت احکام کی وجہ سے ہے اور وحدت میں کثرت بالفعل نہیں( کثرت یہاں بالقوہ ہوتی ہے کیونکہ وحدت ذات حق کا ایک ایسا مرتبہ ہے جس میں قایلیت کثرت ہے، بالقوہ نہ کہ بالفعل، ان قابلیات کثرت کو شئون ذاتیہ اور حروف عالیہ کہتے ہیں جو غیب الغیوب میں مخفی ہیں جس طرح شجر تخم میں طاؤوس بیضہ میں اور آگ سنگ چقماق میں۔) لہذا وحدت اس ذات کی یکتائی ہے جس نے خود کو بغیر سقوط اعتبارات اور بغیر ثبوت اعتبارات کے جانا ۔ مرتبہ ذات میں فرق نہ ثبوت اعتبارات کا ہے اور نہ سقوط اعتبارات کا( سقوط اعتبارات اور ثبوت اعتبارات کے بغیر ذات کی یکتائی کا نام ہے ۔ یہ سقوط وثبوت اعتبارات کے بغیر انائے مطلق ہے ۔)</p>
<p>پس یہ ذات کا ظہور اول ہے(اسی بنا پر اسے تجلی اول کہتے ہیں) ، احدیت اور واحدیت دونوں اس کی نسبتیں ہیں۔ اگر وحدت نہ ہوتی تو یہ نسبتیں بھی نہ ہوتیں ، جیسے عشق کی دو نسبتیں ہیں ، عاشق اور معشوق یہ دونوں عشق کے بغیر معدوم ہیں ۔ اسی طرح احدیت ، وحدت کے اوپر اور واحدیت ، وحدت کے نیچے ہے اور وحدت برزخ ہے یعنی ان دونوں کے درمیان ہے ۔ اس وحدت کو تجلی اول ، تنزل اول(ذات کا پہلا نزول اسی مرتبہ میں ہوا)، حقیقة الحقائق، برزخ کبری ، اصل البرازخ ، او ادنی (اوادنی : وحدت کا یہ نام قاب قوسین او ادنی سے ماخوذ ہے ۔ قاب قوسین صوفیہ کرام کے نزدیک وہ مقام اتصال ہے جہاں سے احدیت اور واحدیت کی قوسین میں امتیازپیدا ہو جاتا ہے۔ فنافی اللہ سے قبل یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج و شہود اور وجدان کی انتہا ہے ۔ تمیز کے دور ہوتے ہی قوسین بواسطہ سطوت تجلی ذات متحد ہو گئیں اور فنافی اللہ حاصل ہوگئی جس کی جانب او ادنی سے اشارہ ہے ۔)اور الف کہتے ہیں</p>
<p>(الف : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ الف نام ہے خط کا جو نقطہ سے بنتا ہے اور پھر خط ہی سے سارے حروف بنتے ہیں ، جیسا کہ مولانا عبد الرحمن جامی نے فرمایا :</p>
<p style="text-align: center;">یک نقطه الف گشت والف گشت حروف</p>
<p style="text-align: center;">در حرف الف بنامے موصوف</p>
<p style="text-align: center;">چون حرف مرکب شده آمد به سخن</p>
<p style="text-align: center;">ظرفیست سخن نقطه در وچوں مظروف</p>
<p> اک نقطہ الف ہو گیا اور الف سے حروف بن گئے پھر الف ہر حرف میں ایک نام سے موسوم ہو گیا۔ پھر جب حروف مرکب ہوئے تو سخن ہو گیا اور اب سخن ظرف ہے اور نقطه مانند مظروف)</p>
<p>چونکہ احدیت کو نقطہ کہا جاتا ہے ، اس لیے وحدت کو الف کہتے ہیں۔ )</p>
<p>اس مرتبہ ثانیہ یعنی وحدت کے اور بھی نام ہیں</p>
<p>قابلیت اولی : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ مرتبہ تمام قابلیات کی اصل ہے ۔</p>
<p>مرتبہ ولایت مطلقہ : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس مرتبہ پر ولایت مطلقہ کا دارو مدار ہے۔ اور ولایت کا کوئی مرتبہ ، ولایت مطلقہ سے بلند تر نہیں ۔ ولایت مطلقہ کہتے ہیں ولایت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ ہی کی اتباع کامل کی وجہ سے ولایت خاتم الاولیاء کو بھی اس سے موسوم کیا جاتا ہے ۔</p>
<p>حجاب عظمت : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ سوائے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کوئی یہاں تک نہ پہنچ سکا</p>
<p>محبت حقیقیہ : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ مقام حب حقیقی و حب ذاتی ہے بفحوائے كنت كنزاً مخفيا فاحببت ان اعرف یہاں حب ذاتی اور توجہ بخلق کا ظہور ہوا۔</p>
<p>وجود مطلق : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس مرتبہ میں دیگر مراتب کے بخلاف ذات کا شعور اور اس کی یافت بہ اعتبارات ، مطلق و مجمل ہے اور ایک مرتبہ نے اس سے تقید پایا ہے۔</p>
<p>تعیین اول : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس میں ذات کے لیئے اسماء وصفات کا اولا تقرر ہوا ہے ۔</p>
<p>رفیع الدرجات: اس وجہ سے کہتے ہیں کہ وحدت ہی کے درجات کی تفصیل واحدیت میں ہوتی ہے، رفیع الدرجات ذو العرش سے اس طرف اشارہ ہے۔</p>
<p>اسی طرح اس مرتبہ کو کنز الكنوز ، کنز الصفات، احدیت الجمع،مقام اجمالی ، ام الکتاب، روح القدس، لوح قضا ، عرش مجید، درة البيضاء ، بشرط شے بالقوه ، بشرط کثرت بالقوه ، نفس رحمانی ، وحدت الحقیقۃ،حقیقت انسانی ، حب ذاتی ، رابطہ بین الظهور والبطون ،فلک ولایت مطلقه ،علم مطلق، ظل اول ، وجود اول ،موجود اول ، مبدأ اول ، نشان اول،منشاء اول ، جوہراول ، نداء اول ، خیال اول بھی کہتے ہیں۔ ان تمام اصطلاحی اسماء سے ایک ہی چیز واضح ہوتی ہے کہ یہ ذات کا پہلا مرتبہ نزول ہے ۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&#038;title=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/" data-a2a-title="وحدت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثانیہ)"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>تنزلات ستہ کا مفہوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 27 Aug 2021 01:38:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[تعین اول]]></category>
		<category><![CDATA[تعین ثانی]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[حضرات خمسہ]]></category>
		<category><![CDATA[مراتب الہیہ]]></category>
		<category><![CDATA[مراتب باطنی]]></category>
		<category><![CDATA[مراتب خارجی]]></category>
		<category><![CDATA[مراتب داخلی]]></category>
		<category><![CDATA[مراتب کونیہ]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ احدیت]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ جامعہ]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ عالم اجسام]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ عالم ارواح]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ عالم مثال]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ واحدیت]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ وحدت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=1847</guid>

					<description><![CDATA[تنزلات ستہ کا مفہوم جب اللہ کی ذات نے مرتبہ لاتعین اور وراءالوراء سے نزول فرما کر باغ کائنات کی گلشن آرائی فرمائی تو اس کو صوفیا تنزلات کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں  یہ تنزل کی جمع ہے تنزل <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<h1>تنزلات ستہ کا مفہوم</h1>
<p>جب اللہ کی ذات نے مرتبہ <strong>لاتعین </strong>اور وراءالوراء سے نزول فرما کر باغ کائنات کی گلشن آرائی فرمائی تو اس کو صوفیا <strong>تنزلات </strong>کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں  یہ تنزل کی جمع ہے تنزل کے معنی یہ ہیں کہ شے اپنے اصلی وجود میں بعینہ باقی رہ کر ظلی طور پر ایک دوسرا وجود اختیار کرے</p>



<p>ذات حق تعالی کا تعینات میں ظاہر ہونا تنزل کہلاتا ہے <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">تنزلات ستہ</span></strong> تصوف کا مشہور مسئلہ ہے اس کا مختصر بیان یہ ہے کہ صوفیائے کرام نے ذات کے چھ مراتب قرار دیئے ہیں جو یہ ہیں۔</p>



<p>احدیت، وحدیت، واحدیت، عالم ارواح، عالم مثال اور عالم شہادت۔</p>



<p> نمبر 1:۔ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">مرتبہ احدیت</span></strong> اسکو<span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>لا تعین ذات بحت</strong></span> کہتے ہیں۔اس مرتبہ احدیت کا نام<strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"> جمع الجمع</span></strong>، <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">حقیقت الحقائق</span></strong> اور<strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">عماء </span></strong>بھی ہے</p>



<p> نمبر 2:۔ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">مرتبہ وحدیت</span></strong> علم مجمل علم ذاتی <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>حقیقت محمدیہ</strong></span> اس کو <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">تعین اول</span></strong> کہتے ہیں اسی مرتبہ میں ذات نے اپنے آپ کو انا سے تعبیر فرمایا ہے۔</p>



<p> نمبر 3:۔ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">مرتبہ واحدیت</span></strong> علم تفصیلی نفس رحمان حقیقت ادم ہے اس کو <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">تعین ثانی</span></strong> کہتے ہیں اس مرتبہ میں ذات کو علم تفصیلی اپنی صفات و اسماء کا ہے اسے<span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>قابلیت ظہور</strong></span>&#8216;اور &#8216;<span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>وجودِ فائض</strong></span>&#8216; اور&#8217;<strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">ظل ممدود</span></strong>&#8216; بھی کہتے ہیں ان تینوں مراتب کو<strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"> مراتب باطنی</span></strong> اور داخلی کہتے ہیں۔</p>
<p>ان پہلے تینوں مراتب کومراتب باطنی اور داخلی کہتے ہیں</p>



<p> نمبر 4:۔ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">مرتبہ عالم ارواح </span></strong> یہ عالم بحر ناپیدا کنار ہے ایک طرف ذات بیچوں(بے مثال) سے بکیفیت بیچونی متصل ہے دوسری طرف عالم اجسام سے متصل ہے اورروح مقیم اسی کو کہتے ہیں  روح الروح روح اعظم اسی کا نام ہے یہ ایک عالم بسیط  اور اور الطف ہے بے کیف ہے شش جہات  سے بری قرب اور بعد سے پاک  ہے افراد عالم میں ہر کسی کی استعداد کے موافق اس میں متصرف ہے جماد میں روح جمادی نبات میں روح نباتی  حیوان میں روحِ حیوانی انسان میں روح انسانی اسی کا نام ہے جب کسی جسم کے ساتھ اس کا تعلق ہوتا ہے ظاہر و باطن میں اس کے مطابق متصرف ہوتی ہے اسی کا نام حیات ہے اور جب اس کا تعلق جسم سے منقطع ہوجاتا ہے تصرف ظاہر و باطن سے اٹھ جاتا ہے وہ موت ہے اورحالت نوم میں قائم رہتا ہے اسی لیے نوم کو موت کی بہن کہا جاتا ہے۔</p>



<p>نمبر5:۔ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">مرتبہ عالم مثال</span></strong> اس کو عالم برزخ اورروح جاری بھی کہتے ہیں یہ ایک لطیف جسم ہی قابل طیر و سیر ہے خواب اور مشاہدہ میں نظر آتا ہے اسے ہاتھ سے چھوا نہیں جاتا آنکھ سے دیکھا نہیں جاتا اس کی صورتوں کے مطابق عالم اجسام کا ظہور ہے۔</p>



<p>نمبر6 :۔<strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">مرتبہ عالم شہادت</span></strong> اورعالم اجسام اسی کو کہتے ہیں یہ قابل لمس ہے اسے ظاہری آنکھ سے دیکھا جاتا ہے یہ عالم ذات کا انتہا ظہور ہے یہ تینوں عالم یعنی عالم ارواح  ، عالم مثال عالم اجسام ذات کے مراتب خارجی کہلاتے ہیں واضح رہے کہ ذات کے یہ چھ مراتب ہیں ان کو تنزلات ستہ کہتے ہیں اور سب عین ذات ہیں غیریت محض اعتباری ہے اور ذات مطلق  باوجود ان تعینات و تنزلات  ویسی ہی بے چون و بے چگون(بے کیف ہونا)  ہے اس  معمہ کا کھل جانا توحیدذوقی ہے</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-luminous-vivid-orange-color"><a href="https://archive.org/details/istelahaat-e-sufia-by-hafiz-e-bukhari-allama-sufi-syed-abdul-samad-chishti-modoodi-r.a./page/n32/mode/1up" target="_blank" rel="noopener">اصطلاحات صوفیہ صفحہ34 خواجہ شاہ محمد عبد الصمد دلی پرنٹنگ ورک دہلی</a></span></strong></p>



<p><strong>شیخ ابن عربی کے نزدیک ذاتِ الٰہی سے پہلا تنزل &#8216;حقیقت ِمحمدیہ&#8217; میں ہوا ہے اور یہ تنزل اللہ تعالیٰ کی صفت علم میں ہوا ہے۔ دوسرا تنزل ان کے نزدیک &#8216;حقیقت ِمحمدیہ&#8217; سے &#8216;اَعیانِ ثابتہ&#8217; میں ہوا ہے۔ اور تیسرا تنزل &#8216;اَعیانِ ثابتہ&#8217; سے &#8216;روح&#8217; میں ہوا ہے۔ چوتھا تنزل &#8216;روح&#8217; سے &#8216;مثال&#8217; میں اور پانچواں &#8216;مثال&#8217; سے &#8216;جسم&#8217; میں اور چھٹا &#8216;جسم&#8217; سے &#8216;انسان &#8216; میں ہوا ہے۔</strong></p>



<figure class="wp-block-image size-full"><img fetchpriority="high" decoding="async" width="646" height="556" class="wp-image-3370" src="https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/10/Tanazilat.png" alt="" srcset="https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/10/Tanazilat.png 646w, https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/10/Tanazilat-300x258.png 300w" sizes="(max-width: 646px) 100vw, 646px" /></figure>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&#038;title=%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85/" data-a2a-title="تنزلات ستہ کا مفہوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>تنزلات مراتب</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%aa%d8%a8/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%aa%d8%a8/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 26 Aug 2021 04:46:58 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[تجلیات  ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[تعینات ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[تقیدات ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات خارجی]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات شہودی]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات علمی]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات عینی]]></category>
		<category><![CDATA[حضرات ستہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=1839</guid>

					<description><![CDATA[تنزلات مراتب تنزلات مراتب تنزل کا لغوی معنی نیچے اترنے اور اوپر سے نیچے آنا ہے ۔ تنزل کے معنی یہ ہیں کہ شے اپنے اصلی وجود میں بعینہ باقی رہ کر ظلی طور پر ایک دوسرا وجود اختیار کرے <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%aa%d8%a8/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p><h1>تنزلات مراتب</h1>
</p><p>تنزلات مراتب تنزل کا لغوی معنی نیچے اترنے اور اوپر سے نیچے آنا ہے ۔</p>
<p>تنزل کے معنی یہ ہیں کہ شے اپنے اصلی وجود میں بعینہ باقی رہ کر ظلی طور پر ایک دوسرا وجود اختیار کرے</p>



<h2 class="wp-block-heading">تنزلات کا مفہوم</h2>



<p>جب اللہ کی ذات نے <strong>مرتبہ اولیٰ یا&nbsp;</strong> مرتبہ <strong>لاتعین اور وراءالوراء </strong>سے جن زینوں سے علی الترتیب نزول فرما کر باغ کائنات کی گلشن آرائی فرمائی تو اس کو صوفیاء <strong>تنزلات </strong>کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں</p>



<p>اصطلاح تصوف میں ذات کے ظہور کو تنزل کہتے ہیں مگر تصوف میں تنزلات مراتب سے لغوی معنی مراد نہیں بلکہ اصطلاحی معنی ملحوظ ہے یعنی وجود کا اپنی ذات و صفات کو قائم رکھتے ہوئےظہور فرمانا کیونکہ وجود جیسا تھا اب بھی ویسا ہی ہے اس میں کسی قسم کا تغیر واقع نہیں ہوا اس کی شان <strong>الان کما کان</strong> ہے۔</p>



<p>صوفیائے کرام نے ذات&nbsp; کے چھ مراتب قرار دئیے ہیں جن مرتبوں سے علی الترتیب نزول فرما کر کائنات میں ظہور فرمایا ہے ان مرتبوں کو تنزلات کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور حسب موقع ان کو <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">تعینات </span></strong>،<strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">تجلیات</span></strong>، <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">اعتبارات </span></strong>اور <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">تقیدات </span></strong>کے ناموں سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے نیز یہ تمام <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>تنزلات شہودی </strong></span>اور اعتباری ہیں نہ کہ وجودی اورحقیقی یعنی تمام تنزلات شہود میں واقع ہوئے ہیں نہ کہ وجود میں۔</p>



<h2 class="wp-block-heading">تنزلات ستہ</h2>



<p>حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی علیہ الرحمۃ اور ان کے متبعین کا موقف یہ ہے کہ وجود وجود مطلق ہے اور مراتب وحدت میں یہ مرتبہ لاتعین ہے وحدت اپنے تعینات یا تنزلات میں چھ مراتب سے گذرتی ہےپہلے دو تنزلات علمی ہیں اور بعد کے  تنزلات عینی یا خارجی تنزل حق کے چھ مراتب یعنی (1) احدیت، (2)وحدیت،(3)واحدیت، (4)عالم ارواح، (5)عالم مثال (6) عالم شہادت۔</p><br /><p><strong><span style="color: #33cccc;">پہلا تنزل</span></strong> مرتبہ احدیت اس کو لاتعین ذات بحت کہتے ہیں اس میں ذات کو اپنا شعوربحیثیت وجود محض حاصل ہوتا ہے اورشعور صفات اجمالی رہتا ہے۔</p><br /><p><span style="color: #33cccc;"><strong>دوسرا تنزل</strong></span>   مرتبہ وحدت علم عمل علم ذاتی حقیقت محمدیہ اس کو تعین اول کہتے ہیں اسی مرتبہ میں ذات نے اپنے آپ کو انا سے تعبیر فرما یا ہے اس میں ذات کو اپنا شعور بحیثیت متصف بہ صفات ہوتا ہے یہ صفات تفصیلی کا مرتبہ ہے( یعنی صفات کے بالتفصیل واضح ہونے کا )یہ دونوں تنزلات بجائے واقع ہونے کے ذہنی یا محض منطقی تنزلات کے طور پر تصور کئے گئے ہیں کیونکہ وہ غیر زمانی ہیں اور خود ذات و صفات کا امتیاز بھی صرف ذہنی ہے اس کے بعد تنزلات عینی یا خارجی شروع ہوتے ہیں۔</p><br /><p><span style="color: #33cccc;"><strong> تیسرا تنزل</strong> </span>مرتبہ واحدیت علم تفصیلی نفس رحمان حقیقت ادم ہے اس کو تعین ثانی کہتے ہیں اس مر تبہ میں ذات کو علم تفصیلی اپنی صفات و اسماء کا ہے ان تینوں مراتب کو مراتب باطنی اور داخلی کہتے ہیں</p><br /><p><span style="color: #33cccc;"><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">چوتھا تنزل </span></strong></span>رتبہ عالم ارواح یہ عالم بحر نا پیدا کنار ہے۔ ایک طرف ذات بیجوں سے بکیفیت بیچونی متصل ہے دوسری طرف عالم اجسام سے متصل ہے۔ روح مقیم اسی کو کہتے ہیں روح الروح ، روح اعظم اسی کا نام ہے یہ ایک عالم بسیط اور الطف ہے بے کیف ہے شش جہات سے بری ہے قرب اور بعد سے پاک ہے۔ افرادعالم میں ہر کسی کی استعداد کے موافق اس میں متصرف ہے ۔ جماد میں روح جمادی نباتات میں روح نباتی حیوان میں روح حیوانی ۔ انسان میں روح انسانی اسی کا نام ہے جب کسی قسم کے ساتھ اس کا تعلق ہوتا ہے ظاہر و باطن میں اس کے متصرف ہوتی ہے اسی کا نام حیات ہے اور جب اس کا تعلق جسم سے منقطع ہو جاتا ہے ۔ تصرف ظاہر وباطن سے اٹھ جاتا ہے وہ موت ہے ۔ اور حالت نوم میں اس کا تصرف ظاہری بند ہو جاتا ہے اور باطنی قائم رہتا ہے اسی لئے نوم کو موت کی بہن کہا جاتا ہے ۔ حدیث ( النوم اخ الموت) یہ عیون مثالی ہے جس سے عالم مثال وجود میں آتا ہے</p><br /><p> <strong><span style="color: #33cccc;">پانچواں تنزل</span></strong> عالم مثال اس کو عالم برزخ اور روح جاری بھی کہتے ہیں یہ ایک لطیف حسم ہے ۔ قابل طیر وسیر ہے خواب اور مشاہدہ   میں نظر آتا ہے اپنے ہا تھ سے چھوا نہیں جاتا۔ آنکھ سے دیکھا نہیں جاتا ۔ اس کی صورتوں کے مطابق عالم اجسام کا ظہور ہےتعین جسدی ہے اس سے مظاہر یا اشیاء طبعی ظاہر ہوتی ہیں۔</p><br /><p style="text-align: right;"> <span style="color: #33cccc;"><strong>چھٹا تنزل</strong> </span>، عالم اجسام عالم شہادت اسی کو کہتے ہیں یہ قابل لمس ہے اسے ظاہری آنکھ سے دیکھا جاتا ہے عالم ذات کا انتہاء ظہورہے یہ تینوں عالم یعنی عالم ارواح عالم مثال عالم اجسام ذات کے مراتب خارجی کہلاتے ہیں واضح رہے کہ ذات کے یہ چھ مراتب ہیں ان کو نزلات ستہ کہتے ہیں اور یہ سب عین ذات میں غیرت محض اعتباری ہے اور وہ ذات مطلق با وجود ان تعینات اور تنزلات کے ویسی ہی بے چون وبے جنگون ہے اس مقدمہ کا کھل جانا توحید ذوقی ہے</p><br /><p style="text-align: right;">ذات کے مرتبہ ظہور کو تعین کہتے ہیں جو چھ ہیں تنزلات ستہ کو<strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"> تعینات ستہ </span></strong>اور حضرات ستہ بھی کہا جاتا ہے</p><br /><p><img decoding="async" width="281" height="300" class="size-medium wp-image-9017 aligncenter" src="https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/Screenshot-2024-03-23-153636-281x300.png" alt="" srcset="https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/Screenshot-2024-03-23-153636-281x300.png 281w, https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/Screenshot-2024-03-23-153636.png 685w" sizes="(max-width: 281px) 100vw, 281px" /></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8%2F&#038;title=%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%aa%d8%a8/" data-a2a-title="تنزلات مراتب"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%aa%d8%a8/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
