آسمان والے کی قوت

محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب الفتح الربانی والفیض الرحمانی‘‘باسٹھ (62 ) مواعظ ،متعدد ملفوظات اور فتوحات کا مجموعہ ہے، یہ خطبہ ان کی فتوحات میں سے ہے۔

ہم تم آسمانوں کے مالک کی قوت سے زندگی بسر کر رہے ہیں:

اے اس شہر کے رہنے والو! وہ سب باتیں جوتم کر رہے ہو، وہ میرے ہاں بری ہیں ، اور وہ سب باتیں جو میں کر رہا ہوں وہ تمہارے لئے بری ہیں ۔ ہم تم دوضدیں  ہیں جو کہ متفق نہیں ہوسکتیں، ہم تم آسمانوں کے مالک کی قوت سے زندگی بسر کر رہے ہیں ، ہمارے دلوں کے پرندے بے قرار ہیں انہیں قرار نہیں ، تمہاری جوانی خالق و مالک کے خلاف اس کی ناراضی میں گزررہی ہے، تو اپنے بیوی بچوں اور ہمسائیوں اور وقت کے بادشاہ کو راضی کرنے میں لگا ہے جبکہ اللہ اور اس کے فرشتوں کو ناراض کر رہا ہے، حالانکہ اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے، موت کو قبول کئے بغیر چارہ نہیں ، تو اپنی ماؤں اور اپنے باپوں اور بھائیوں اور دوستوں اور حاکموں یعنی سب سے ملاقات کرتا ہے تم میں سے کوئی نہیں کہتا کہ قیامت کب قائم ہوگی ، ہاں! جسے موت نے آلیا اس پر قیامت قائم ہوگئی، اولیاء اللہ قرب الہٰی میں ہیں، ان کی زندگی اللہ کی نسبت کے اعتبار سے ہے، وہ کئی بارموت سے ہمکنار ہو چکے ہیں ، وہ حرام سے مرچکے ہیں،  شبہ والی چیزوں سے مر چکے ہیں، مباح چیزوں سے مرچکے ہیں، ہروہ چیز جو اللہ کے سوا ہے، وہ ان سب چیزوں سے مرے ہوئے ہیں، نہ وہ یہ چیز یں طلب کرتے ہیں ، نہ وہ ان کے نزدیک جاتے ہیں، گویا کہ وہ بغیر صورت کے معنی بنے ہوئے ہیں ۔ اللہ نے انہیں پھر زندگی عطا کر دی ہے، ان کا چلنا اور ٹھہر نا سب اللہ ہی کے نام سے ہوتا ہے، قلب جب تقدیر کے سمندروں میں چلتا ہے تو ان کا ٹھہراؤ قرب الہٰی اور علم کے دروازے پر ہوتا ہے، بیداری خدمت ہے اور سونا وصال، بندہ جب نماز میں سو جا تا ہے تو اللہ اس کے ساتھ فرشتوں پر فخر کیا کرتا ہے۔

بدن ایک پنجرہ ہے اور روح ایک پرندہ ، اہل معرفت کے لئے مخلوق مکھیوں اوربھڑوں اور ریشم کے کیڑوں کی طرح ہے، ان کے احوال تمہارے ضبط میں نہیں آ سکتے، تم عقل سے کام لو، اللہ کے سامنے وہی ہلاک ہوتا ہے جو کہ احمق ہے یا ہلاکت میں پڑنے والا ہوتا ہے، تم غفلت میں نہ رہو، جو تجھے جود وسخا اور خرچ کرنے کا حکم دے، وہی تیرا دوست ہے۔ جو کوئی فقیروں کے مال سے دولت مند ہو، وہ اس کے باعث محتاج ہوا ۔ تیرے اسلام کے دعوے پر اکتفانہ کیا جائے گا، تو کب اللہ کے لئے عمل کرے گا ، اور کب وہ تجھے نفع دے گا ۔ میرے اعضاء جب حرکت کریں تو جان لو کہ یقینا میرادل جل رہا ہے۔

جود نیا میں نڈ رہا، یقینا اس نے بڑی نادانی کی:

 اے دنیا! تو میرے دوستوں پر ابتداء امر میں کڑوی بن تا کہ وہ تجھے دوست نہ بنائیں ، اورآخر میں جا کر تو ان کی خدمت کر تا کہ وہ تجھ میں مشغول نہ ہوسکیں، سید ناعیسی علیہ السلام کے روبرو جب قیامت کا ذکر کیا جا تا تھا تو آپ ایسی چیخ مارتے تھے جیسے ماں اپنے اکلوتے بیٹے کے مرنے پر رویا کرتی ہے، اورفرمایا کرتے ”انسان کو یہ سز اوار نہیں کہ جب اس کے سامنے قیامت کا ذکر کیا جائے تو وہ چپکا آرام سے بیٹھار ہے۔ تو مردہ ہے تجھ میں حس نہیں ہے، تو کبھی عاشق ہوا ہی نہیں تو دنیا میں اپنے زیادہ ٹھہر نے سے غم کیا کر ، کیونکہ عارف کا خوف اور حزن، اغیار کے پاس آمدورفت اور مخلوق کی طرف حاجت لے جانے اور غلبہ خواہش اورنفس اور طبیعت اور شیطان کے سبب ہوا کرتا ہے، جو دنیا میں نڈ رہا، یقینا اس نے بڑی نادانی کی ۔

فیوض غوث یزدانی ترجمہ الفتح الربانی،صفحہ 728،قادری رضوی کتب خانہ گنج بخش لاہور


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں