حواس باطنی

حواس باطنی

اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم میں بہت سے حواس ظاہرہ اور باطنہ ودیعت فرمائے ہیں

حواس عربی میں حاسّہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں محسوس کرنا

حواس  دو قسم کے ہیں ایک حواس دماغی دوسرے حواس قلبی حواس دماغی دس ہیں  پانچ ظاہری پانچ باطنی

پانچ حواس باطنی جنہیں حواس دماغی بھی کہتے ہیں یہ ہیں

حس مشترک

یہ پانچوں حواس ظاہری کے محسوسات میں تمیز کرتی ہے اس کی جگہ مقدم بطن اول اوراول دماغ ہےجیسے ہی انسانی عقل کا یہ گوشہ حواسِ ظاہری کے اوّلین تاثرات کو وصول کرتا ہے وہ عقل پر جا کر جذب ہو جاتے ہیں۔ مثلاً جب ہماری آنکھ کسی چیز کو دیکھتی ہے تو اِنسانی عقل اُس حسِ مشترک کو قبول کر لیتی ہے۔

قوت خیال

اس کی جگہ بطن اول کا آخری حصہ ہے اس میں حس مشترک کی تمیز کردہ اشکال الوان اصوات کیفیات لمس اجسام محفوظ رہتے ہیں گویا یہ حس مشترک کا خزانہ ہےان تصویروں اور شکلوں کو اچھی طرح محفوظ کر نے کی صلاحیت قوت خیال کہلاتی ہے

قوت وہم

تیسری قوت وہم ہے اس کی جگہ دماغ کے بطن اوسط کا آخری حصہ ہے یہ قوت خزانہ خیال کی صورت اشیاء کے معنی ادراک کرتی ہےمحسوسات کے معانی اور مفاہیم کی اس صلاحیت کووہم کہتے ہیں

قوت حافظہ

قوت حافظہ ان معانی کو محفوظ رکھتی ہے اس کی جگہ دماغ کا بطن مؤخر ہے معانی و مفاہیم کو اچھی طرح محفوظ کرنےکی اس صلاحیت کو ”حافظہ“ کہتے ہیں

قوت متصرفہ

قوت متصرفہ کی جگہ دماغ کے بطن اوسط کا مقدم حصہ ہے اس کا فعل یہ ہے کہ خزانہ خیال کی صورتوں کوقوت وہم کے سامنے پیش کرے تاکہ وہ اس کے معنی سمجھے اور قوت حافظہ کے محفوظ شدہ معنی کو بوقت ضرورت وہم کے سامنے پیش کرے اور ان صور(شکلوں) و معانی میں ترتیب و تطبیق یا تفصیل کرے اور اسی قوت میں عالم مثال و عقل فعال کے امور منعکس ہوتے ہیں پھر یہ قوت ان کو عالم اجسام کی صور پر ڈھالتی ہے عوام الناس کا خواب یہی ہوتا ہے اس کا نام قوت متفکرہ ہوتا ہے اور جب اس کا فعل صرف صور محسوسات و معانی مدرکات دماغیہ کے متعلق ہوتا ہے تو اس کومتخیلہ کہتے ہیں یہ دس حواس دماغی ہیں مادیات و  حسیات کی دریافت ان کے ذریعے سے ہوتی ہے

بعض نے حواس باطنہ کو 15 شمار کیا ہے جیسے

(1) وہم 

(2) خیال 

(3) حس مشترک 

(4) قوت متفکرہ 

(5) ذہانت و قوت عاقلہ 

(6) قوت ناطقہ 

(7) قوت شہویہ 

(8)  قوت غضبیہ 

(9) قوت جاذبہ غذا کیلئے 

(10)قوت ہاضمہ طعام کیلئے 

(11) قوت غاذیہ طعام و دواء وغیرہ کو اپنے ٹھکانے پر پہنچانے کیلئے 

(12) قوت دافعہ فضلات کا جسم سے اخراج کے لیے 

(13)قوت نامیہ جسم کی نشو و نما کیلئے 

(14) قوت مولدہ تولید و نسل کیلے 

(15)  قوت حافظہ ہر چیز کی نگہداشت کیلئے

حواس باطنہ میں وہم خیال قوت متفکرہ ذہانت اور قوت عاقلہ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے دماغ میں رکھی ہیں۔

حواس انسانی صرف آلہ ادراک ہیں حقیقی ادراک صرف عقل کرتی ہے حواسِ باطنہ کے ذریعے جو معلومات حاصل ہوتی ہیں انھیں ”وجدانیات“ کہا جاتا ہے


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں