حضرت معاویہ اورعقیدہ اہلسنت

حضرت معاویہ اور عقیدہ اہلسنت

بسم الله الرحمن الرحيم
نحمده و نصلی ونسلم على رسوله المختار و على آله واصحابه الاطهار

اہلسنت کا صحابہ کے متعلق عقیدہ

ا الان الا الله این کرام علیم اعوان و غیره
مسلمانوں کا سواد اعظم یعنی بڑا گروہ اہل سنت و جماعت کہلاتا ہے اس گروہ کا وہی مذہب ہے جو تمام صحابہ کرام و ائمہ عظام کا تھا اسی میں حضرت علی اور دوسرےتمام امام (جنہیں عرف عام میں بارہ امام کہتے ہیں) بھی شامل ہیں اگرچہ اہل تشیع کھینچ تان کر ا نکو تقیہ کا پابند بناتے ہیں مگر حقیقت چھپی نہیں رہ سکتی ۔ خدا نے غلبہ اور کامیابی اسی گروہ کی قسمت میں لکھی ہے ۔ حضرت علی کا نہج البلاغۃمیں صاف حکم منقول ہے کہ سواد اعظم کولازم پکڑو کیوں کہ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے اور جو جماعت سے الگ ہو جاتا ہے وہ شیطان کے حصہ میں اسی طرح آجاتا ہے جس طرح گلہ سے الگ ہوئی ہوئی بکری بھیڑیئے کا لقمہ بن جاتی ہے

سواد اعظم

الحمد للہ کہ بمطابق ارشاد حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہم اہل سنت و الجماعت سواد اعظم میں داخل ہیں اور ہم پر شیطان تسلط نہیں پاسکتا۔
اہل سنت و الجماعت کو صحابہ کرام کی نسبت جو ان کا مذہب ہے وہ ذہن نشین رکھنا چاہئیے اوروہ یہ ہے کہ
(1) رسول اللہ ﷺ کے اصحاب رضی اللہ عنھم ساری امت سے بلند مرتبہ ہیں
(2) ان صحابہ سے چاروں خلفاء حضرت ابو بکر صدیق حضرت عمر فاروق حضرت عثمان غنی اور حضرت علی شیر خدا رضی اللہ عنھم افضل ہیں۔ اور ان کی فضیلت خلافت کی ترتیب سے ہے یعنی اول درجہ پر حضرت صدیق اور چوتھے درجہ پر حضرت علی رضی اللہ عنھما
(3) پھر ان کے بعد باقی چھ اصحاب عشرہ مبشرہ افضل ہیں عشرہ مبشرہ ان دس اصحاب کو کہتے ہیں جن کی نسبت حضور ﷺ نے بارہا فرمایا ہے کہ وہ قطعی جنتی ہیں اور وہ رسول اللہ کے چاروں یار(چار خلفاء) اور طلحہ ، زبیر، ابو عبیدہ بن جراح ، عبد الرحمن بن عوف ، سعد بن ابی وقاص اور سعید بن زید رضی اللہ عنھم ہیں ۔
(4) پھر وہ اصحاب افضل ہیں جو غزوہ بدر میں شریک تھے۔
(5) پھر وہ جو احد کے جہاد میں شامل ہوئے
(6) پھر وہ جو بیعت رضوان میں شامل و داخل تھے
(7) خلافت راشدہ کی میعاد تیس سال ہے اور اس کے بعد اسلامی بادشاہی اور امارت کا دور دورہ ہے
(8) ہمیں تمام اصحاب کرام کا ذکر ہمیشہ ہمیشہ نیکی ہی سے کرنا چاہیئے
(9) کسی اہل قبلہ مسلمان کو کافر نہیں کہنا چاہیئے۔ مگر اس وقت جب وہ ارکان دین کا منکر ہو یعنی یہ کہے کہ میں فلاں رکن اسلام کو نہیں مانتا یا میں شریعت پر نہیں چلتا اگر کوئی شخص شراب پیئے ۔ زنا کرے یا چوری کرے تو وہ فاسق وگناہگار ہے کافر نہیں ۔
(10) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ یقینا رسول اللہﷺ کے صحابی تھے اس لئے سنی مسلمانوں کو اپنے عقیدہ کی رو سے ان کا ہمیشہ ذکر خیر ہی کرنا چاہیئے ۔ زید کے متعلق حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سکوت اور توقف کرنا چاہیے نہ اس کو کافر کہا جائے نہ اس پر لعن طعن کیا جائے؛ بلکہ اس کے امر کو خدا تعالیٰ کے حوالہ کردینا چاہیے۔ کسی کو نام لے کر لعنت کرنا مسلمانوں کے لئے حرام ہے ہاں لعنت اللہ علی الظالمین – لعنت الله علی الکاذبین کہنا جائز ہے مگر اس سے کوئی ثو اب حاصل نہیں ہوتا۔ مسلمانوں کو حصول ثواب کی ہمیشہ کوشش کر تی چاہیے اور فضولیات میں وقت نہیں ضائع کرنا چاہیے

تمام صحابہ یعنی مہاجرین و انصار و اہل بیت کرام علی سیدهم وعليهم الصلوة والسلام أن سب کے بارے میں اہل سنت و جماعت کا عقیدہ کیا ہے ؟
امام علامہ نجم الدين عمر بن محمد نسفی(م 537ھ) اہلسنت کے عقیدے کی کتاب عقائد نسفیہ میں فرماتے ہیں
یكف عن ذكر الصحابة الا بخير
صحابہ کے بارے میں تذکر ہ خیر کے علاوہ دل و زبان کو پاک رکھنا لازم ہے۔
پھر علامہ سعد الدين مسعود بن عمر الفتازانی (م791ھ) اس کی شرح میں فرماتے ہیں
لما ورد من الأحاديث الصحيحة في مناقبهم ووجوب الكف عن الطعن فيهم كقوله عليه السلام
‌لَا ‌تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ(صحيح البخاري كتاب فضائل اصحاب النبی ، صحیح مسلم كتاب فضائل الصحابۃ)
کیونکہ صحابہ کی خوبی وفضائل میں احادیث صحیحہ وارد ہیں اور صحابہ پر طعن و اعتراض سے پر ہیز واجب فرمارہی ہیں۔ جیسے یہ ار شاد اقدس حضور سید عالم ﷺ كہ میرے صحابہ کو برا نہ کہو تم میں اگر کوئی احد پہاڑبرابرسونا خیرات کرے تو وہ میرے صحابہ کے ایک چوتھائی صاع(پیمانہ) کیا اس کے آدھے تصدق() کو بھی نہیں پہنچے گا۔
وكقوله عليه السلام اور یہ ار شا د پاک
أَكْرِمُوا ‌أَصْحَابِي؛ فَإِنَّهُمْ خِيَارُكُمْ (مشکوۃ)
میرے صحابہ کی عزت کرو تعظیم کرو کیونکہ وہ تمہارے نیک و برگزیدہ ہیں۔
اور یہ ارشاد پاک
اللهَ اللهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ ‌غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللهَ، وَمَنْ آذَى اللهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ(سنن الترمذی)
اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے اصحاب کے حق میں : انہیں نشانہ نہ بنالینا میرے بعد جو ان سے دوستی رکھتا ہے میری محبت کے سبب ان سے دوستی رکھتا ہے ، اور جوان سے کینہ رکھتا ہے وہ میرے بغض کے سبب ان سے بیر رکھتا ہے ، اور جس نے انہیں ایذاء دی اُس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے ایذاء دی اُس نے اللہ کو ایذاء دی ، اور جس نے اللہ کو ایذار دی سوقریب ہے کہ اللہ اسے گرفتار کرے۔
اور ان سے پہلے پانچویں صدی ہجری کے مجدد امام حجۃ الاسلام ابو حامد محمد بن محمد غزالی قدس سره العالي (م 505ھ) اہلسنت کے عقیدے کی کتاب “قواعد العقائد میں فرماتے ہیں اور علامہ سید محمد بن محمد حسینی زبیدی معروف بہ مراکشی (م 1205ھ) اس کی شرح میں فرماتے ہیں کہ
( و اعتقاد اهل السنة والجماعة ) تزكية جميع الصحابة رضى الله عنهم وجوباً ، باثبات العدالة لكل منهم . و الكف عن الطعن فيهم والثناء عليهم كما اثني الله سبحانه وتعالى و اثني رسوله صلى الله عليه وسلم
اہلسنت و جماعت کا عقیدہ ہے تمام صحابہ کو پاکیزہ ماننا ، یعنی ہر ایک صحابی کو عادل یعنی احکام شرع کا پابند ماننا اور کسی صحابی پر اعتراض خیال میں نہ لانا ، اور تمام صحابہ کی تعریف کرنا ، جیسا کہ اللہ ورسول جل و علا و صلى الله تعالى عليه وعليهم وسلم نے آیات واحادیث میں ان کی تعریف بیان فرمائی
بخاری ومسلم میں حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث ہے فرمایا میرے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کہ
میرے صحابہ کو برا نہ کہو
دارمی و ابن عدی کی حدیث ہے
أَصْحَابِي ‌كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ
میرے صحابہ تاروں کی مانند ہیں تم ان میں جس کسی کی پیروی کرو گے ہدایت پالوگے
ترمذی کی حدیث ہے
اللهَ اللهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ ‌غَرَضًا بَعْدِي
اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے بارے میں ، میرے بعد میرے صحابہ کو نشانہ اعتراض نہ بنالینا .
طبرانی کی حضرت ابن مسعود و حضرت ثوبان سے اور ابویعلی کی امیر المومنین فاروق اعظم رضی الله تعالى عنهم سے حدیث ہے
‌إِذَا ‌ذُكِرَ ‌أَصْحَابِي فَأَمْسِكُوا
جب میرے صحابہ کا تذکرہ ہو تو دل زبان کو سنبھالو ۔
حضرات صحابہ کے فضائل بکثرت ہیں۔ اور جو مسلمان اللہ و رسول کے فرمان کا تابعدار ہے اُس پر واجب ہے کہ تمام صحابہ کے لیے وہی شان و عظمت مانے جو عہد رسالت میں اُن کے لیے تھی۔(اتحاف السادۃ المتقین بشرح احیاء علوم الدین)
پھر یہ شارح سید ذی شرف حسینی نسب مسلمانوں کی اعلی درجہ کی خیر خواہی کرتے اور نہایت بالا اصولی بات پیش فرماتے ہیں کہ
اگر کوئی وحشتناک بات کسی نے نقل کر دی ہے تو جو اپنے سر میں دماغ رکھتا ہو وہ غور کرے کہ نقل کیسی ہے؟ ضعیف ہو تو اُسے مردود جانے ، اور ظاہر ہو اور ایک یا معدودے چند اُس کے راوی ہوں تو بھی وہ حضرات صحابہ کی اُس شان و عظمت پر اثر انداز نہیں ہوگی جو شان و عظمت تواتر سے معلوم ہے اور کتاب مجید کی آیتیں جس شان و عظمت کی گواہی دے رہی ہیں۔(اتحاف السادۃ المتقین بشرح احیاء علوم الدین)
اسی کی مثل شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی نےتكميل الايمان (ص96) میں فرمایا ، نیز علامہ جمال الدین محدث نے روضۃ الاحباب میں نیز احیاء العلوم ہی کے مثل یہ بیان امام علامہ قاضی عیاض مالکی (م 544ھ) نے اپنی مبارک کتاب

الشفاء کے آخر میں فرمایا اُس فصل میں جس کا عنوان دیا
وَسَبّ آل بَيْتِه وَأزْوَاجِه وَأصْحَابِه صلى الله عليه وسلم وَتَنقّصُهُم حَرَام ‌مَلْعُون فاعِلُه
حضور اقدس صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کے اہل بیت ازواج مطہرات اور صحابہ کو برا کہنا اور اُن حضرات کی بے ادبی کرنا حرام ہے ، جو ایسا کرے ملعون ہے۔(شفاء شریف 307/2)
اس مبارک کتاب کی شرح جو مشہور ہے علامہ شہاب الدین خفاجی (م1069ھ) اور علامہ ملاعلی قاری حنفی (م1014ھ) نے فرمائی ہے۔
نیز حجۃ الاسلام امام غزالی کا رسالہ قدسیہ” (یعنی کتاب قواعد العقائد کی فصل ثالث) ایک صوفی مشرب برادر دینی کو پڑھاتے وقت امام علامہ کمال الدین محمد معروف بہ ابن ہمام [م861ھ) نے جو اہم اضافات اور کافی توضیح وتسہیل کی جس سے ایک کتاب مستقل ہو گئی اور اس کا نام المسایرہ ہوا اُس میں بھی احیاء العلوم کے مثل بیان صحابہ ہے۔ اور اس مبارک کتاب کی شرح علامہ کمال ابن ابی شریف (م 906ھ) اور علامہ شیخ زین الدین قاسم حنفی (م 879ھ) نے فرمائی اور ان دونوں حضرات نے مسایرہ کا تذکرہ یوں کیا
كتاب المسايرة في العقائد المنجية في الآخرة تاليف شيخنا (مسايره مع شرح ص2)
کتاب مسایرہ ہمارے استاذ کی تصنیف جو اُن عقیدوں کے بیان میں ہے جو آخرت میں نجات دلانے والے ہیں
تو جسے فکر ہو۔
کہ ایک دن مرنا ہے اور تن تنہا اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے وہ اُن بلند مرتبہ حضرات کے بارے میں باہوش رہے جو دین اسلام کے اولین ستون ہیں انہی نے یہ آخرت میں نجات دلانے والا عقیدہ اپنے آقا صلی اللہ تعالى عليه وعليہم وسلم کے ارشادات سے جان مان کر اپنی سرفروشانہ کوششوں سے اپنے بعد والوں کو پہنچایا۔ تو جان سے بڑھ کر عزیز یہ عقیدۂ حقہ آخرت کی ہمیشہ ہمیش زندگی کا سرمایہ جنہوں نے ہزاروں تکلیفیں جھیل کر پہنچایا اُن میں سے کسی کو ہدف ملامت و نشانہ اعتراض بنانا کیا یہی احسان شناسی کا تقاضا ہے؟ کچھ تو اللہ سے ڈرے کچھ تو اُن کے احسانوں کا خیال کرے کچھ تو اُن کے احسانوں کی قدر سمجھے ہفت کشور کی دولت وسلطنت بھی اُن کے احسانوں کے آگے کچھ نہیں کہ یہ آخر ایک دن فنا ہونے والی ہے اور انہوں نے جو احسان کیا وہ دولت جاودانی ہے۔
صاحب دل صاحب نظر عارف ربانی امام شعرانی اپنی کتاب یواقیت میں جو خصوصاً حضرات اولیاء و اصفیاء کا عقیدہ بیان فرمانے میں لکھی ہے فرماتے ہیں
و كيف يجوز الطعن في حملة ديننا و فیمن لم يأتنا خبر عن نبينا الا بواسطتهم ، فمن طعن في الصحابة فقد طعن في نفس دينه( اليواقيت والجواہر جلد 2ص 445)
اور کیسے اُن حضرات پر طعن روا ہوگا جو ہم تک ہمارا دین پہنچانے والے ہیں ہمیں اپنے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے جو کچھ پہنچا ہے انہی حضرات کے واسطے سے پہنچا ہے۔ لہذا جو صحابہ پر طعن کرے وہ خود اپنے دین پر طعن کرتا ہے۔
پھر جس کے دل میں اپنے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی عظمت ہے
بارگاہ رسالت میں حاضری کے شرف کو معمولی نہ جانے جس کے انوار نے صحابہ کے دلوں کو حق کا والہ وشیدا کر دیا اور دو شمع رسالت کے اولین فدائی ہوئے۔
نقلة الدين الباذلين انفسهم و اموالهم في نصرته المكرمین بصحبة خير البشر و محبته(شرح مقاصد للعلامہ التفتازانی ( 536/3)
وو دین کو اپنے بعد آنے والوں تک پہنچانے والے ، جنہوں نے دین کی مدد میں اپنا مال خرچ کیا اور اپنی جانیں قربان کیں ، پھر اُن . کی سعادت یہ کہ پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحبت اور مرتبہ صحابیت سے سرفراز اور محبت حضور کے شرف سے نہال
تو ان کے آپس میں اگر کچھ وہ ہوا جو سرسری بھی نظر میں نازیبا معلوم ہوتا ہے تو انہیں اپنے اوپر قیاس نہ کرے۔
حضرت مولائے روم قدس سرہ المکتوم کی پر مغز خیر خواہانہ نصیحت یاد کرے کہ
کار پا کاں را قیاس از خود مگیر گرچہ با شد در نوشتن شیر و شیر
پاک لوگوں کے کاموں کو اپنے اوپر قیاس مت کرو لفظ شیر(درندہ )اور شیر(دودھ) اپنی صورت میں اگر چہ ایک جیسے ہیں مگر حقیقت میں ایک نہیں۔
تم ہیجان نفس فرط غضب عیش فانی کے شکنجے میں جکڑ ے ہوحمایت حق کی تمنا بھی کرتے ہو تو ان بندھنوں سے نہیں نکلتے اور وہ وہ میں جو ان خصلتوں کو جلا کر خاکستر کر چکے ہیں۔
آخر ان جلیل القدر علمائے امت امنائے شریعت بزرگان ملت پیشوایان طریقت کے بارے میں کیا خیال ہے؟
کیا وہ تمہارے برابر بھی نظر نہ رکھتے تھے جو عقیدہ اہلسنت کی کتابوں میں اور بیان عقائد میں صاف صاف واشگاف یہ تحریر فرما رہے ہیں کہ
و ما جرى بين معاوية و على رضى الله عنهما ) من الحروب بسبب طَلَبِ تسليم قتلة عثمان رضي الله عنه معاوية . (مسایره و مسامره ص270)
حضرت علی مرتضی اور حضرت معاويہ رضى الله تعالى عنهما کے بیچ جو جنگ ہوئی اس سبب سے کہ امیر معاویہ کا مطالبہ تھا کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قاتلین ان کے حوالے کیے جائیں۔
في صفين لم يكن عن غرض نفساني و حظوظ شهوة.(اتحاف 250/22)
یہ جنگ مقام صفین میں کسی نفسانی غرض کو حاصل کرنے اور نفسانی خواہش کو تسکین دینے کے لیے تھی بلکہ
كان مبنيا على الاجتهاد من كل منهما ) لا منازعة من معاوية في الامامة .
ہر دو حضرات کے اجتہاد پر مبنی تھی۔ حضرت معاویہ کو حضرت علی کے امیر المومنین و خلیفہ المسلمین ہونے میں کوئی نزاع نہ تھا
كان لا ينكر امامته و لا يدعيها لنفسہ(اتحاف)
وہ آپ کی خلافت کے منکر اور اپنے لیے خلافت کے مدعی نہ تھے۔
اذ ظن على رضي الله عنه ان تسليم قتلة عثمان على الفور مع كثرة عشائرهم و اختلاطهم بالعسكر يؤدى الى اضطراب امر الامامة العظمى التي بها انتظام كلمة اهل الاسلام خصوصا في بدايتها فرأى التاخير اصوب.
احياء العلوم – مسایره مسامره ص270)
جو کچھ ہوا اس کی بناء اپنا اپنا اجتہاد تھا۔ سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ قاتلین کو فی الوقت حوالے کرنا جبکہ وہ کئی قبائل ہیں اور لشکر میں شامل ہیں اس سے خلافت کا معاملہ جو کہ مسلمانوں کو ایک مرکز پر جمع کیے اور وحدت ملی کی لڑی میں پروئے ہوئے ہے درہم برہم ہو جائے گا ، خصوصاً ابھی جبکہ خلافت کے ابتدائی ایام ہیں۔ لہذا آپ کی نظر میں تاخیر زیادہ درست تھی۔
او انه رأى انهم اى قتلة عثمان رضى الله عنه بغاة اتوا ما اتوا من القتل عن تاويل فاسد استحلوا به دم عثمان رضی الله عنه لانكارهم عليه امورا ظنوا انها مبيحة لما فعلوه خطاً و جَهلاً و الباغي اذا انقاد الى الامام العدل لا يؤاخذ بما اتلف عن تاويل من دم ، كما هو رأى ابي حنيفة رضى الله عنہ وھو المرجح من قول الشافعی مختصرا
(المسایرہ مع شرح المسامرہ ص 270 والفظ لھما اتحاف شرح احیاء)
یا آپ کی نظر میں یہ تھا کہ قاتلین باغی ہیں اُنہوں نے جو کیا تاویل فاسد سے کیا ، تاویل فاسد سے حضرت ذوالنورین رضی الله تعالى عنہ کا خون حلال سمجھا ، کیونکہ قاتلین حضرت ذوالنورین پر کچھ باتوں میں معترض تھے اپنی غلطی اور جہالت سے اُن باتوں کو قتل کی وجہ جواز سمجھ گئے تھے اور باغی جب خلیفہ برحق کی اطاعت میں آجائے تو پہلے جو بر بنائے تاویل خون بہا چکا اُس پر اُس سے مواخذہ نہیں ہے۔ جیسا کہ یہی امام اعظم رضی الله تعالیٰ عنہ اور دیگر مجتہدین کا اجتہاد ہے ، اور یہی امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول سے مرجع ہے۔
و ظن معاوية رضى الله عنه تاخير امرهم اى قتلة عثمان مع عظيم جنايتهم من هجومهم عليه داره ، و هتكهم ستر اهله ، و نسبوه الى الجور و الظلم ، مع تنصله من ذلك ، و اعتذاره من كل ما اوردوه عليه ، و من اكبر جنايتهم هتك ثلاثة حرم ، حرمة الدم و الشهر والبلد يوجب الاغراء بالائمة و يعرض الدماء للسفك فمعاوية طلب قتلة عثمان من على ظانا انه مصيب و كان مخطئا ولم يذهب الى تخطئة على رضى الله عنه ذوتحصیل و نظر في العلم اصلا ، بل كان رضي الله عنه مصيباً في اجتهاده متمسكا بالحق( احياء العلوم1/161) -اتحاف شرح احیاء)
اور امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی نظر میں یہ تھا کہ قاتلین کے معاملہ میں تاخیر کرنا جبکہ اُن کا جرم کتنا بڑا ہے کہ امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں آپ پر ہجوم کر آئے اہل خانہ کا پردہ نہ رکھا آپ کو ظالم و جابر کہا حالانکہ آپ نے اپنی برات ظاہر فرمائی اور ان کا ہر اعتراض دفع کیا ، نیز سب سے بڑا جرم یہ کہ قاتلین تین بے حرمتیوں کے مرتکب ہوئے خون کی بے حرمتی مبارک مہینہ کی بے حرمتی پاک مبارک شہر مدینہ امینہ کی بے حرمتی اس پر ان کی سزا فوری نہ ہو تو یہ تو خلفائے مسلمین کی بے حرمتی پر ابھارنا اور انہیں قتل پر پیش کرنا ہے۔ تو امیر معاویہ نے خود کو بر سر درست گمان کر کے قاتلین کو حوالہ کرنے کا سیدنا علی مرتضی سے مطالبہ کیا ، حالانکہ اس مطالبہ میں وہ خطاء پر تھے اور حضرت علی كرم الله تعالى وجهه الكريم كو بھی اہل علم صاحب نظر نے خطاء پر نہیں مانا بلکہ آپ اپنے
اجتہاد میں بر سر درست پر سر صواب تھے اور جسے آپ اپنی دلیل سمجھا ، وہ حق تھی۔
اور علامہ تفتازانی نے شرح عقائد میں فرمایا
وما وقع بينهم من المنازعات و المحاربات فله محامل و تاویلات (شرح عقائد ص 155)
اُن کے آپس میں جو اختلافات اور جنگیں ہوئیں وہ بہتر معنی اور صحیح تاویل رکھتی ہیں۔
علامه بدر الدین محمد بن محمد بن خليل حنفی معروف به ابن الغرس (م 894ھ) شرح عقائد کی شرح میں اس مقام پر فرماتے ہیں
فله محامل جميلة تليق بمراتبهم السنية ، و تاويلات صحيحة تناسب مقاصدهم المرضية ، و لا يقدح ذلك في عدالتهم و علو شانهم. (مخطوطه ص 436)
ان باہمی اختلافات اور جنگوں کے وہ محمل(کسی معنی کے سچا ہونے کی جگہ) حسن ہیں جو صحابہ کے بلند مراتب کے شایاں ہیں اور ایسی تاویل صحیح ہیں جو صحابہ کے نیک مقاصد سے ہم آہنگ ہیں۔ اور ان نزاعات و محاربات سے اُن کی عدالت و پابندی شرع اور اُن کے علو مرتبت کو نقصان نہیں۔
وہ شمع رسالت کے پروانے ہیں پروانے کبھی ایک دوسرے سے ٹکر ابھی جاتے ہیں مگر ٹکرانا اُن کا مقصود نہیں ہوتا اُن کا مقصود شمع پر قربان ہونا ہوتا ہے بس۔
قصاص دین اسلام کا مسئلہ اور کیسا عظیم الشان مسئلہ کہ جس نے دین کو نازل کیا فرماتا ہے
وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ( البقرة:179)
اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اسے عقلمندو! کہ تم کہیں بچو۔
کیونکہ قصاص مقرر ہونے سے لوگ قتل سے باز رہیں گے اور جانیں بچیں گی “
اس حکم الہی کو بچانا ایک جماعت کی نظر میں ہے اور اس کے لیے اُنہیں اپنی جان کی پروا نہیں ہے۔ دوسری جانب باب مدینۃ العلم کی نظر اعلیٰ میں یا تو یہ ہے کہ قصاص کی وہ بجا آوری جو امت کی جمعیت کو منتشر کر دے بلائے فتنہ جگائے آزمائش میں ڈال دے اور پوری امت کو خطرے کی نذر کر دے یہ حکمِ الہی کی بجا آوری نہیں ، یہ قصاص کو بچانا نہیں بلکہ بیشمار احکام الہیہ کی بجا آوری کا دروازہ بند کر دینا ہے۔
قَالَ عَلِيٌّ: ‌قَتْلَايَ وَقَتْلَى مُعَاوِيَةَ فِي الْجَنَّةِ (المعجم الکبیر الطبرانی)
حضرت علی نے فرمایا میری اور معاویہ کی جنگ میں شہید ہونے والے جنتی ہیں
یا یہ ہے کہ قاتلین نے جو کچھ کیا ایک شبہ سے کیا جیسا کہ مسایره و اتحاف سے گذرا۔ وہ شبہ اگرچہ تاویل فاسد ہے تاہم مواخذ ۂ دنیا اٹھا دینے میں تاویل صحیح سے لاحق ہے۔
شرح فقہ اکبر میں ہے جسے حضرت تاج الفحول نے اپنے جواب میں سندا پیش کیا کہ
و قد كان امر طلحة و الزبير خطأ غير انهما فعلا ما فعلا عن اجتهاد وكانا من اهل الاجتهاد ، فظاهر الدلائل توجب القصاص على قتل العمد ، و استيصال شأن من قصد دم امام المسلمين بالاراقة على وجه الفساد ، فاما الوقوف على الحاق التاويل الفاسد بالصحيح في حق ابطال المواخذة فهو علم خفى فاز به على ، لما ورد عن النبي صلى الله تعالى عليه و آله وسلم انه قال له انک تقاتل على التاويل كما تقاتل على التنزيل و قد ندما على ما فعلا ، و كذا عائشة ندمت على ما فعلت ، و كانت تبكي حتى تبل خمارها ثم كان معاوية مخطئا ، الاانه فعل ما فعل عن تاويل ، فلم يصر به فاسقا (شرح فقه اكبر ص81)
حضرت طلحہ و حضرت زبیر کا جناب مرتضی سے جنگ و مطالبہ قصاص خطاء تھا مگر ان دو حضرات نے جو کیا اجتہاد سے کیا اور وہ حضرات مجتہد تھے۔چنانچہ نصوص شرع کے ظاہر معنی ظاہر تاویل سے قتلِ عمد پر قصاص واجب ہے یعنی جن لوگوں نے خلیفہ المسلمین کا خون براہ ظلم قصداً بہایا اُن کا نام ونشان نہ رہنے دیا جائے۔
رہا نصوص شرع کے اس معنی ( اس تاویل) پر آگاہی کہ تاویل فاسد(جب امام برحق کی اطاعت میں آجائے) مواخذہ دنیا اٹھا دینے کے بارے میں تاویل صحیح سے لاحق اور تاویل صحیح کے زمرے میں ہے یہ وہ بار یک علم اور وہ تاویل دقیق ) ہے جس تک نظر مرتضوی رسا ہوئی۔ جیسا کہ وارد ہے کہ میرے آقا صلى الله تعالى عليہ و آلہ وسلم نے جناب مرتضی سے فرمایا
تم سے تاویل پر جنگ کی جائے گی جیسا کہ تنزیل پر جنگ کی جاتی ہے ۔)
یعنی جیسے قرآن کریم کو ماننے کے سبب کفار تم سے جنگ کرتے ہیں ، قرآن کے بار یک معنی پر تمہارے اعتقاد و عمل کے سبب وہ جن کی نظر رسا نہیں ہوئی تم سے جنگ کریں گے
اور حضرات طلحہ وزبیر سے تو جو کچھ ہوا وہ اُس پر نادم ہوئے ، یونہی ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنھا سے جو ہوا وہ اُس پر نادم ہوئیں ، وہ اتنا روتی تھیں کہ اُن کی اوڑھنی تر ہو جاتی تھی۔ پھر حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ خطاء پر تھے مگر جو کیا تاویل سے کیا اپنی نصوص کے ظاہر معنی سے کہ اس تک ان کی نظر اجتہاد رسا ہوئی آگے ہیں، لہذا آپ اس مخالفت سے فاسق نہیں ہوئے۔
ایک قول شہنشاہ بغداد حضور سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی الله تعالی عنہ وارضاه عنا کی مبارک کتاب غنیۃ الطالبین سے ہے
رہا سیدنا علی مرتضی سے حضرات طلحہ و زبیر اور سیدہ عائشہ رضوان الله تعالى عليهم اجمعین کی جنگ تو امام احمد بن حنبل رحمة الله تعالى عليہ نے تصریح فرمائی ہے کہ یہ اور جو کچھ اُن حضرات کے آپس میں اختلاف و دوری و دو موقعی ہوئی اس میں نہ پڑو اس لیے کہ اللہ تعالی روز قیامت یہ اُن سے زائل فرمادے گا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ (الحجر:47)
اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لیے آپس میں بھائی ہیں تختوں پر روبرو بیٹھے۔
نیز اس لیے کہ حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس جنگ میں حق پر تھے کیونکہ جماعت صحابہ کے ارباب حل و عقد بالا تفاق آپ کو امام و خلیفہ تسلیم کر چکے تھے جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا اس وجہ سے آپ خود کو خلیفہ برحق جانتے تھے۔
اب جو دائرہ اطاعت سے باہر ہو اور آپ کے سامنے جنگ کی نوبت کھڑی کرے وہ باغی ہے امام برحق پر خروج کرنے اور مقابلہ پر آنے والا ، تو اُس سے جنگ جائز ہے۔

اور حضرات معاویہ طلحہ و زبیر جنہوں نے حضرت علی مرتضی سے جنگ کی یہ آپ سے مطالبہ کناں تھے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کے خون کا بدلہ لیں جو کہ خلیفہ برحق تھے اور ظلما شہید کیے گئے جبکہ قاتلین آپ کے لشکر میں تھے۔ تو ہر ایک کی نظر میں تاویل صحیح ہے۔ یعنی ہر ایک نے نصوص شرع سے ایسا معنی لیا جو بجائے خود صحیح ہے ، ہاں قاتلین پر اسے جاری کرتے میں ایک جانب سے خطاء ہوئی )
لہذا ہمارے لیے بہتر یہ ہے کہ ہم اس معاملہ میں نہ پڑیں اور اسے اللہ عزوجل کے سپرد کریں وہ احکم الحاکمین ہے بہتر فیصلہ فرمانے والا ۔ ہم اپنے نفس کے عیوب دیکھنے ، بڑے بڑے گناہوں سے دل کو پاک کرنے اور مہلک چیزوں سے ظاہر کو ستھرا کرنے میں لگیں۔ رہی حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیان کی خلافت تو اس وقت سے صحیح وثابت ہے جب شہادت مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد امام حسن مجتبی رضی الله تعالى عنه خلافت سے دست بردار ہو گئے اور خلافت امیر معاویہ کو سونپ دی ، کیونکہ یہ آپ کی نظر اجتہاد تھی ، اور عام مسلمانوں کی بھلائی آپ نے اس میں دیکھی یعنی مسلمانوں کی جانوں کی حفاظت ، اور اپنے بارے میں اپنے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی اس غیبی خبر کو صحیح کر دکھایا کہ ( میرا یہ بینا سردار ہے اللہ تعالی اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا )
تو امام حسن مجتبی کے قبول فرما لینے کے بعد حضرت امیر معاویہ کی خلافت واجب ہوگئی اور اس سال کا نام عام الجماعۃ رکھا گیا یعنی جمعیت و اتفاق کا سال کیونکہ تمام مسلمانوں کے بیچ سے اختلاف اٹھ کیا اور سب امیر معاویہ رضی الله تعالى عنه کی طاعت میں آگئے (غنیۃ الطالبین ص161)
نیز امام ربانی امام شعراني کی الیواقيت کا قول پیش فرمایا کہ
و كيف يجوز الطعن في حملة ديننا و فيمن لم يأتنا خبر عن نبينا الا بواسطتهم ، فمن طعن في الصحابة فقد
طعن في نفس دينه .فيجب سد الباب جملة واحدة ، لا سيما الحوض في امر معاوية وعمروبن العاص واضرابھما
(الیواقیت والجواہرج 2 ص445)
اور کیسے ان حضرات پر طعن روا ہوگا جو ہم تک ہما رادین پہنچانے والے ہیں اور وہ ہیں کہ ہمیں اپنے آقا صلى الله تعالى عليه وسلم سے جو کچھ پہنچا ہے انہی حضرات کے واسطے سے پہنچا ہے لہذا جو صحابہ پرطعن کرے وہ خود اپنے دین پرطعن کریگا ۔ تو حفظ دین کے لیے ضروری ہے کہ صحابہ پرطعن کا دروازہ ہی سرے سے بند کر دیا جائے خصوصا حضرت معاویہ حضرت عمرو بن العاص اور ان کے ہم نظر اہل اجتہاد کے بارے میں تفتیش کا بالکل سد باب کیا جائے۔
نیزشیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی کی تكميل الايمان سے یہ پیش کیا کہ
و نزاعے و خلافے که از مخالفان در زمان خلافت وے كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَه بوجود آمد نه در استحقاق خلافت و حق امات بود بلکه منشاء آں بغی وخروج وخطاء در اجتہاد کہ تقبیل عقوبت قاتلانِ عثمان باشد بود. پس معاویه و عائشہ رضی اللہ عنہا بر آن آمدند و در یں جانب افتادند که زود عقوبت قاتلان باید کرد و علی مرتضی و صحابه دیگر بتاخیر آن رفتند .(تكميل الايمان ص 76)
امیر المومنین علی مرتضی كَرَّمَ اللهُ تَعَالَى وَجْہہ کے دور خلافت میں کچھ صحابہ کی طرف سے جو نزاع و مخالفت ہوئی وہ آپ کے استحقاق خلافت و حق امامت میں نہ تھی ، بلکہ اس کا منشأ بغاوت اور خطائے اجتہادی تھی یعنی یہ کہ قاتلین عثمان کی سزا فوراً ہو۔ چنانچہ حضرت معاویہ وسیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نظر اجتہاد میں یہ تھا کہ یہ سزا فورا ًہونی چاہیئے ، اور حضرت مرتضی اور دیگر صحابہ کی نظر اجتہاد میں یہ تھا کہ اس میں تاخیر ہونی چاہیے۔
نیزاسی سے پیش فرمایا کہ
نكف عن ذكر الصحابة الا بخير روش اہل سنت و جماعت آن است که صحابه رسول را جز بخیر یاد نکنند ، ولعن و سب و شتم و اعتراض و انکار برایشان نکنند ، و بایشاں براه سوء ادب نروند از جهت نگاهداشت صحبت آنحضرت صلی الله عليه و آله وسلم ، وورود فضائل و مناقب ایشان در آیات و احادیث عموماً. .(تكميل الايمان ص 76)
ہم صحابہ کا تذکرہ صرف خیرسے کریں۔ اہل سنت و جماعت کا مذہب و عقیدہ یہی ہے کہ صحابہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیه وسلم کو اچھائی ہی سے یاد کریں ، لعن طعن گالی گلوچ اور ردو اعتراض سے پر ہیز کریں ، اور صحابہ کرام کے ساتھ بے ادبی نہ کریں ، تاکہ اُن حضرات نے جو حضور سید عالم صلى الله تعالى عليه وآله وسلم کی بارگاہ میں مرتبہ صحابیت کی سعادت پائی اس مرتبہ صحابیت کا ہماری طرف سے ادب و احترام برقرار رہے ، اور آیات واحادیث میں جو سب صحابہ کی تعریف اور فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ان آیات واحادیث کے ساتھ ہمارا کامل اعتقاد و ادب محفوظ رہے۔
ولہذا ان ائمۂ شریعت وطریقت کے سچے نائب سچے وارث اور سچے ترجمان نے جسے ان اسلاف کے کلمات کی برکات سے حظ وافر ملا انہی اسلاف اہلسنت کی اتباع سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُولَٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ(الحدید:10)
تم میں برابر نہیں جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے خرچ و مال کیا وہ درجے میں اُن سے بڑے جنہوں نے بعد میں خرچ و قتال کیا اور دونوں فریق سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ کہ تم کرو گے۔
الله عز وجل نے صحابہ حضور اقدس صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کو دوقسم فرمایا ایک مومنین قبل فتح مکہ دوسرے مومنین بعد فتح مکہ ، فریق اول کو فریق دوم پر فضیلت بخشی ، اور دونوں فریق کو فرمایا کہ اللہ نے ان سے بھلائی کا وعدہ کیا۔
اور مریض القلب معترضین جو اُن پر طعن کریں کہ فلاں نے یہ کام کیا فلاں نے یہ کام کیا
اگر ایمان رکھتے ہوں تو ان کا منہ تتمہ آیت سے بند فرما دیا کہ
وَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ .
مجھے خوب معلوم ہے جو کچھ تم کرنے والے ہو مگر میں تو تم سب سے بھلائی کا وعدہ فرما چکا؟
اب یہ بھی قرآن عظیم ہی سے پوچھ دیکھیئے کہ اللہ عزوجل نے جس سے بھلائی کا وعدہ فرمایا اُس کے لیے کیا ہے؟ فرماتا ہے
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا ۖ وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنفُسُهُمْ خَالِدُونَ لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ هَٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ(الانبیاء:101 تا 103)
بیشک وہ جن کے لیے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا جہنم سے دور رکھے گئے ہیں اُس کی بھنک تک نہ سنیں گے اور اپنی من مانتی نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے وہ قیامت کی سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی اور ملائکہ اُن کا استقبال کریں گے یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔
ان طعن کرنے والے اگر یقین رکھتے ہیں کہ ایک دن مرنا ہے اور اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے تو اپنے گریبان میں منہ ڈال کر سوچیں کہ ان کے لیے بھی کسی آیت کسی حدیث میں ایسا د عدد ہے؟
ان ارشادات الہیہ کے بعد مسلمان کی شان نہیں کہ کسی صحابی پر طعن کرے بفرض غلط بفرض باطل طعن کرنے والا جتنی بات بتاتا ہے اُس سے ہزار سے زائد سہی ، اُس سے یہ کہیے انتم اعلم ام الله کیا تم زیادہ جانو یا الله
کیا اللہ کو ان باتوں کی خبر تھی؟ اس کے بادہ وہ ان سے فرما چکا کہ میں نے تم سب سے بھلائی کا وعدہ فرمالیا ، تمہارے کام مجھ سے پوشید نہیں ، تو اب اعتراض نہ کرے گا مگر وہ جسے اللہ عز وجل پر اعتراض مقصود ہے ” مختصراً (فتاوی رضویہ:ج 11 ص40)
اہلسنت کے عقیدہ میں تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی تعظیم فرض ہے ، اور ان میں سے کسی پرطعن حرام ، اور ان کے مشاجرات میں خوض ممنوع حدیث میں ارشاد فرمایا
‌إِذَا ‌ذُكِرَ ‌أَصْحَابِي فَأَمْسِكُوا جب میرے صحابہ کا ذکر آئے تو زبان رو کو ۔
اللہ رب العزت کہ عالم الغیب والشہادۃ ہے اُس نے صحابہ سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دوقسمیں فرمائی قبل الفتح جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے راہ خدا میں خرچ و جہاد کیا اور مومنین بعد الفتح جنہوں نے بعد کو ، فریق اول کو دوم پر تفضیل عطاء فرمائی ، اور ساتھ ہی فرمادیا
دونوں فریق سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ فرمالیا ہے اور ان کے افعال پر جاہلانہ نکتہ چینی کا دروازہ بھی بند فرمادیا کہ ساتھ ہی ارشاد ہوا اللہ کو تمہارے اعمال کی خوب خبر ہے یعنی جو کچھ تم کرنے والے ہو وہ سب جانتا ہے بایں ہمہ تم سب سے بھلائی کا وعدہ فرما چکا خواہ سابقین ہوں یا لاحقین۔
سچا اسلامی دل اپنے رب عز وجل کا یہ ارشاد عام سن کر کبھی کسی صحابی پر نہ سوء ظن کر سکتا ہے نہ اس کے اعمال کی تفتیش بفرض غلط کچھ بھی کیا تم حاکم ہو؟ یا اللہ تم زیادہ جانو؟ یا اللہ دلوں کی جاننے والا سچا حاکم یہ فیصلہ فرما چکا کہ مجھے تمہارے سب اعمال کی خبر ہے میں تم سے بھلائی کا وعدہ فرما چکا اس کے بعد مسلمان کو اس کے خلاف کی گنجائش کیا ہے ؟ مختصراً (فتاوی رضویہ:ج 11 ص64)
رسول اللہ ﷺکے ہر صحابی کی شان اللہ واحد قہار بتاتا ہے اور جو کسی صحابی پر طعن کرے وہ اللہ تعالیٰ کو جھٹلاتا ہے اور اُن کے بعض معاملات جن میں اکثر حکایات کا ذبہ(جھوٹی گڑھی ہوئی )روایتیں ہیں ارشاد الہی کے مقابل پیش کرنا اہل اسلام کا کام نہیں رب عز وجل نے اس آیت میں اس کا تو منہ بھی بند فرما دیا کہ دونوں فریق صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے بھلائی کا وعدہ کر کے ساتھ ہی ارشاد فرمایا
بایں ہمہ میں تم سب سے بھلائی کا وعدہ فرما چکا اور اللہ کو خوب خبر ہے جو کچھ تم کرو گے )
اس کے بعد کوئی بکے اپنا سر کھائے خود جہنم میں جائے علامہ شہاب الدین خفاجی (م ۱1070ھ) نسيم الرياض
شرح شفاء امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں
و من يكون يطعن في معاوية ، فذاك كلب من كلاب الهاوية (نسيم الرياض ج 3 ص4330)
جو حضرت امیر معاویہ رضی الله تعالى عنه پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں سے ایک کتا ہے۔ ”
حضرت امیر معاویہ رضی الله تعالى عنه اجلہ صحابہ کرام رضوان الله تعالى عليهم سے ہیں ، صحیح ترمذی شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اُن کے لیے دعا فرمائی
اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا ‌مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ (سنن الترمذی، باب مناقب معاوية بن ابی سفیان)
الہی اسے راہنما راہ یاب کر اور اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہدایت دے ۔
” اہلسنت کے نزدیک امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خطاء خطائے اجتہادی تھی اجتہاد پر طعن جائز نہیں
خطائے اجتہادی دوقسم ہے مقرر ، منکر
مقرر وہ جس کے صاحب کو اس پر برقرار رکھا جائے گا اور اُس سے تعرض نہ کیا جائے گا۔ جیسے حنفیہ کے نزدیک شافعی المذہب مقتدی کا امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا.
اور منکر وہ جس پر انکار کیا جائے گا جبکہ اُس کے سبب کوئی فتنہ پیدا ہوتا ہو جیسے اجلہ اصحاب جَمَل رضى الله تعالى عنہم کہ قطعی جنتی ہیں ، اور اُن کی خطاء یقینا اجتہادی ، جس میں کسی نام سنیت لینے والے کو محل لب کشائی نہیں ، بایں ہمہ اُس پر انکار لازم تھا ، جیسا امیر المومنین مولى على كرم الله تعالى وجہہ نے کیا ، باقی مشاجرات اصحاب رضی الله تعالى عنہم میں مداخلت حرام ہے ، حدیث میں ہے ۔نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں
يَكُونَ لِأَصْحَابِي بَعْدِي زَلَّةٌ، يَغْفِرُهَا اللَّهَ لَهُمْ بِصُحْبَتِهِمْ، وَسَيَتَأَسَّى بِهِمْ قَوْمٌ بَعْدَهُمْ، ‌يَكُبُّهُمُ اللَّهُ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي النَّارِ (المعجم الأوسط ، باب من اسمه بكر رقم)
قریب ہے کہ میرے اصحاب سے کچھ لغزش ہوگی جسے اللہ بخش دے گا اُس سابقہ کے سبب جو ان کو میری سرکار
میں ہے۔ پھر اُن کے بعد کچھ لوگ آئیں گے جن کو اللہ تعالی ناک کے بل جہنم میں اوندھا کر دے گا۔
یہ وہ ہیں جو ان لغزشوں کے سبب صحابہ پر طعن کریں گے۔
بینک امام حسن مجتبی رضی اللہ تعالی عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت سپر دفرمائی اور اس سے صلح و بندش جنگ مقصود تھی اوریہ صلح و تفویض خلافت ، اللہ و رسول کی پسند سے ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے امام حسن کو گود میں لے کر فرمایا تھا
إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ ‌عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ (صحيح البخاري، كتاب المناقب، باب مناقب الحسن الحسن و الحسين)
بیشک میرا یہ بیٹا سید ہے میں امید کرتا ہوں کہ اللہ اس کے سبب سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے گا۔
امیرمعاویہ رضی الله تعالی عنہ اگر خلافت کے اہل نہ ہوتے امام مجتبی ہرگز انہیں تفویض نہ فرماتے ، نہ اللہ ، و رسول اسے جائز رکھتے۔ واللہ تعالی اعلم ” مختصراً (فتاوی رضویہ:ج 11 ص104)

لفظ باغی و بغاوت

بعض عبارات میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے گروہ کے لیے بغاوت و باغی کا لفظ آیاہے اس کا وہ معنی نہیں ہے جوعرف میں سمجھا جاتا ہے ، بلکہ وہ شریعت مطہرہ کا ایک اصطلاحی لفظ ہے۔ عرف شرع میں بغاوت مطلقاً مقابلہ امام برحق کو کہتے ہیں عناداً ہو خواہ اجتہاداً(بہار شریعت ج1 ص76)
اور مجتہد سے جو ہو وہ عنادا نہیں کیونکہ ” خطائے عنادی یہ مجتہد کی شان نہیں۔ ”
تو حضرت معاویہ کے حضرت مرتضی سے جنگ و مقابلہ پر آنے کو جو بغاوت سے تعبیر کیا گیا اور بغاوت عناد کے معنی میں نہیں ، یعنی اس کی بناء دشمنی دسرکشی نہ تھی، بلکہ خطائے اجتہادی تھی۔
اور امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ مجتہد تھے ، ان کا مجتہد ہونا حضرت سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ تعالی عنهما نے حدیث صحیح بخاری میں بیان فرمایا ہے مجتہد سے صواب و خطاء دونوں صادر ہوتے ہیں۔ خطاء دو قسم سے خطاء عنادی یہ مجتہد کی شان نہیں۔
اور خطائے اجتہادی یہ مجتہد سے ہوتی ہے ، اور اس میں اس پر عند الله اصلا مواخذہ نہیں مگر احکام دنیا میں وہ دوقسم ہے خطائے مقرر کہ اس کے صاحب پر انکار نہ ہوگا ، یہ وہ خطائے اجتہادی ہے جس سے دین میں کوئی فتنہ نہ پیدا ہوتا ہو جیسے ہمارے نزدیک مقتدی کا امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنا۔ دوسری خطائے منکر
یہ وہ خطائے اجتہادی ہے جس کے صاحب پر انکار کیا جائے گا کہ اُس کی خطاء باعث فتنہ ہے
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا حضرت سید نا امیر المؤمنين على مرتضى كرم الله تعالى وجہہ الکریم کے خلاف اس قسم کی خطاء کا تھا ” (بہار شریعت:ج 1 ص 75)
اور اسی تعریف کے اعتبار سے ” گروہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر حسب اصطلاح شرع اطلاق فتہ باغیہ آیا ہے۔ مگر اب کہ باقی بمعنی مفسد و معاند و سرکش ہو گیا اور دشنام سمجھا جاتا ہے اب کسی صحابی پر اس کا اطلاق جائز نہیں (بہار شریعت:ج 1 ص 76)
جیسے لفظ ضعیف
ہے کسی حدیث کے بارے میں یہ سن کر کہ “یہ ضعیف ہے” جاہلوں کا اور ان سے بڑھ کر اجہل غیر مقلدوں کا ذہن ادھر جاتا ہے کہ واقع میں یہ روایت باطل و بے بنیاد ہے جھوٹی ہے گھڑی ہوتی ہے۔ حالانکہ اصطلاح محد ثین میں ضعیف کا یہ معنی نہیں ہے۔
حدیث وفقہ کے جامع محقق علامہ کمال الدین ابن حمام فرماتے ہیں
ليس معنى الضعيف الباطل في نفس الأمر بل لا لم يثبت بالشروط المعتبرة عند اهل الحديث مع تجویز کونه صحیحافی نفس الأمر فيجوز أن يقترن قرينة تحقق وذالک ان الراوی ضعیف اجادفی ھذا المتن المعین فیحکم بہ(فتح القدیر ج 1 ص 463)
ضعیف کے یہ معنی نہیں کہ وہ واقع میں باطل ہے ، بلکہ یہ کہ جو شرطیں اہل حدیث نے اعتبار کیں اُن پر نہ آئی . اس کے ساتھ جائز ہے کہ واقع میں صحیح ہو تو ممکن کہ کوئی ایسا قرینہ ملے جو ثابت کر دے کہ وہ صحیح ہے اور راوی ضعیف نے یہ حدیث خاص اچھے طور پر ادا کی ہے اس وقت با وصف ضعف راوی اس کی صحت کا حکم کر دیا جائے گا۔
مگر عوام کے سامنے ایسی جگہ (جہاں معنی روایت صحیح وقبول ہو) تضعیف سند کا ذکر ابطال معنی کی طرف منجر ہوتا ہے۔ (فتاوی رضویہ ج 27 ص 47)
ایساہی لفظ “باغی” یا ” بغاوت کا اطلاق ہے۔
نصح طالب حق و متارکہ باطل پسند
جسے فکر ہو کہ ایک دن مرنا ہے اور تن تنہا اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہےوہ دیکھے کہ اُس نے کیا عقیدہ رکھا ہے؟ جانتے ہو ؟ اہلسنت کے عقیدے کی شان کیا ہے؟ اہلسنت کا عقیدہ وہ ہے جو صحابہ مہاجرین وانصار واہل بیت نے اپنے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ و عليهم وسلم کے ارشاد سے جانا مانا اُن سے تابعین نے جان کر مانا تابعین سے تبع تابعین ائمہ مجتہدین اولیائے کرام و علمائے ربانیین نے جان کر مانا۔
تو وہ جسے ہم نے بعض اہم اہم کتابوں اور اکابر علمائے ربانیین و بزرگان دین سے پیش کیا وہ صحابہ مہاجرین و انصار و اہل بیت سے حاصل کیا ہوا ہمارے ائمہ اہلسنت پیشوایان شریعت و طریقت کا عقیدہ ہے ، غرض کہ اسلاف اہلسنت سے لے کر آج تک اور آج سے تا قیام قیامت امت مرحومہ اجابت کا عقیدہ ہے۔
اب کسی کو صحابہ واہل بیت اور اُن کے سچے قدم بہ قدم حضرات علماء واولیاء کا ساتھ چھوڑ کر اُن سے منہ موڑ کر اپنے من کو بھا گئے یا کسی ہندی چندی کو پسند آئے کسی تیرہ و تار خیال کے پیچھے چلنے کا نشہ ہے تو وہ جانے
مگر یہ نشہ کب تک؟ یہ تھوڑی دیر کا اندھیرا ہے دم کے دم میں سویرا ہے
بروز حشر شود همچو صبح معلومت که با که باخته عشق در شب دیجور
قیامت کے دن سپیده صبح کی طرح معلوم ہو جائے گا کہ اندھیری گھپ رات میں کس خیال کے پیچھے پڑے ہوئے تھے
کسی بھی صحابی کی شان میں طعن و تشنیع کا حکم

شیخ محقق دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
و با لحمله سب ولعن در ایشان اگر مخالف دلیل قطعی بود کفر است، والا بدعت و فسق بود .(تكميل الايمان ص 97)
خلاصہ یہ کہ صحابہ پر لعن طعن اگر دلیل قطعی کے مخالف ہو تو کفر ہے ، ورنہ بدعت و فسق ہے۔
علامہ تفتازانی فرماتے ہیں
فسبهم والطعن فيهم ان كان مما يخالف الادلة القطعية فكفر و الا فبدعة و فسق.
صحابہ کی شان میں گستاخی کرنے اور اُن پر اعتراض کرنے میں اگر ایسی بات کہی جو دلیل قطعی کے خلاف ہو تو وہ کفر ہے ورنہ بدعت و فسق ہے۔
نیز شفاء شریف میں امام قاضی عیاض مالکی نے حضرت امام مالک کا جو چار ائمہ مجتہدین میں سے ایک ہیں رضی الله تعالى عنهم قول روايت كيا كہ
امام مالک رضی الله تعالیٰ عنہ نے فرمایا جو کسی صحابی کو گالی دے ، حضرت ابو بکر کو یا حضرت عمر کو یا حضرت عثمان کو یا حضرت معاویہ کو یا حضرت عمرو بن عاص کو تو اگر یہ کہے کہ وہ گمراہی پر تھے کفر پر تھے تو اس گالی دینے والے کی سزا قتل ہے۔ اور اگر اس کے سوا جیسی لوگوں میں باہم گالی گلوچ ہوتی ہے ویسی دے تو اسے سخت سزادی جائے۔
تصحيح العقيده في باب امیر معاویہ میں حضرت سید ذی شرف حسین حیدر حسینی قادری برکاتی مارہروی عليه الرحمة والرضوان کا سوال ہے
سوال: اور میری توفیق نہیں ہے مگر اللہ بلند و برتر کی طرف سے۔
حضرت علی مرتضی کے دور خلافت میں جن لوگوں نے آپ سے جنگ کی کیا جمہور محققین اہل سنت و جماعت کے
مذہب مختار میں اُن پر مطلقا کفر کا حکم ہے؟ یا نہیں؟
حضرت طلحہ حضرت زبیر حضرت معاویہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی تعظیم و تکریم کرنا یعنی لفظ رضی الله عنهم وغیرہ کہنا لازم ہے؟ یا طعن و بے ادبی سےیاد کرنا ؟ اور ان کی شان میں طعن و بے ادبی کرنے پر اہلسنت سے خارج ہونا لازم آتا ہے یا نہیں؟
حضرت تاج الفحول علامہ شاه عبد القادر بدایونی قدس سرہ نے جواب دیا
الجواب: جمہور محققین اہلسنت کے مذہب مختار میں جیسا کہ عقائدو حدیث واصول کی کتب معتمدہ سے ثابت ہے حضرت امیر المومنين خاتم الخلفاء الراشدین سے جنگ کرنے والے جو کہ تین گروہ تھے اور فتنہ میں پڑے تھے اُنہیں ہرگز کافر نہیں کہہ سکتے۔
رہا تینوں گروہوں میں فرق تو جنگ جمل والوں کے سربراہ یعنی حضرت طلحہ و حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنهما جو کہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور حضرت ام المومنین صدیقہ جو حضور سید المرسلین صلی الله تعالى عليہ و علیہم کی پاک پیاری زوجہ مطہرہ ہیں ان حضرات کا اصل مقصد جنگ نہ تھا ، صرف مسلمانوں کی اصلاح حال مد نظر تھی ، اسی اثناء میں اچانک جنگ چھڑ گئی۔ اور اس کے باوجود تینوں حضرات نے جنگ سے رجوع فرمایا ، جیسا کہ معتمد روایات سے ثابت ہے۔ تو ان حضرات کا جنگ پر اقدام باوجود یکہ خطائے اجتہادی سے تھا جس پر (گناہ نہیں ہوتا بلکہ) ایک ثواب ملتا ہے لیکن بالآخر جب رجوع فرمالیا تو اب لفظ باغی کا اطلاق بھی حقیقہ صحیح نہیں۔
جنگ صفین والوں کے سربراہ یعنی حضرت معاویہ و حضرت عمرو بن عاص رضی الله تعالى عنهما كہ یہ بھی صحابہ کرام سے ہیں اشتباہ میں پڑے اور اپنی خطاء پر اصرار سے بار بار جنگ و جدال کیے۔
اور اس گروہ نے جنگ جو کچھ کی خطائے اجتہادی سے کی لیکن ان کی خطاء واجب الانکار تھی۔
اور ان پر لفظ باغی کے اطلاق میں اختلاف ہے۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ اپنے اجتہاد امام برحق کے خلاف کھڑے ہوئے
اور اس کے باوجود اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عليه وعليہم وسلم کے صحابی ہونے کا شرف انہیں حاصل ہے ان کی تعظیم لازم ہے ، کیونکہ شرعاً یہ بغاوت وخطاء جو کہ عمد ا ًنہ تھی یعنی اُن کا قصد بغاوت کرنے وخطاء کا نہ تھا ، بلکہ
حمایت حق حفظ دین و اصلاح حال مسلمین کا قصد تھا لہذا اس بغاوت وخطاء سے فسق لازم نہیں ہے۔
رفع عن امتى الخطأ و النسيان (مرقاة المفاتيح ، كتاب الصيد والذبائح )

میری امت سے خطاء اور بھول پر مواخذہ نہیں
اس پر شاہد ہے۔ اور صحابہ کرام کی خطاء معاف ہے ، اور اسے بخش دیا گیا ہے۔
اور یہ حضرات اگر چہ معصوم نہیں ہیں لیکن اپنی خطاء میں معذور ہیں بلکہ بوجہ اجتہاد ان کے لیے اجر و ثواب ہے۔ لہذا اس خطائے اجتہادی کے سبب ان کے ساتھ بے ادبی کرنا اور ان کی تعظیم سے جو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالى عليه وعليهم وسلم کے صحابی ہونے کا شرف رکھتے ہیں باز رہنا یہ اہلسنت سے خارج ہونا ہے۔
اہلسنت کا مذہب بس یہ ہے جو امیر المومنین علی مرتضی نے ارشاد فرمایا
سُئِلَ عَلِىٌّ عَنْ أَهْلِ الْجَمَلِ، فَقالَ: ‌إِخْوَانُنَا ‌بَغَوْا ‌عَلَيْنَا فَقَاتَلْنَاهُمْ (سنن الکبری البیہقی)
حضرت علی سے اہل جمل کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا وہ ہمارے بھائیوں نے ہم سے بغاوت کی ہم نے ان سے لڑائی کی ،
یعنی حضرت معاویہ و عمرو بن عاص ہمارے ہیں ، ہمارے بھائی ہیں ، بس اتنا ہے کہ خطائے اجتہادی سے ہمارے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں
اس سے زیادہ ان حضرات پر طعن جناب مرتضی پر طعن ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل احیاء العلوم يواقيت شرح فقه اكبر مرقاة شرح مشكوة شريف مجمع البحار صواعق محرقہ اورشفاء قاضی عیاض وغیرہ میں دیکھنی چاہیے۔
اور وہ جو شیعہ وسنی کی بعض کتب مناظرہ میں متاخرین کتب تواریخ کی روایات کی بناء پر تصریحات عقائد سلف کے بر خلاف مبهم و مجمل الفاظ بطور تسلیم وتنزل و تجوز و تمحل لکھتے ہیں ان پر اعتقاد کا مدار نہیں رکھا جا سکتا۔
جو (نسبت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور پرنور امیر المومنین مولی المسلمین سیدنا و مولینا علي مرتضى كرم الله تعالى وَجْهَهُ الاسنی سے (ہے) ، کہ
فرق مراتب بے شمار اور حق بدست حیدر کرار ، مگر معاویہ بھی ہمارے سردار ، طعن اُن پر بھی کارفجار
جو معاویہ کی حمایت میں عیاذاً بالله اسد اللہ کے سبقت واولیت و عظمت واکملیت سے آنکھ پھیر لے وہ ناصبی یزیدی ، اور جو علی کی محبت میں معاویہ کی صحابیت و خدمت و نسبت بارگاہ رسالت بھلا دے وہ شیعی زیدی
یہی روش آداب بحمد الله تعالی ہم اہل توسط واعتدال کا ہر جگہ ملحوظ رہتی ہے۔ (فتاوی رضویہ ج 4 ص448)
وَاللَّهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ چلائے۔

کلمہ آخریں

امام قاضی عیاض عليه الرحمة والرضوان شفاء شریف میں فرماتے ہیں
یہ بھی حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہی کی تعظیم اور حضور ہی کے ساتھ وفاء ہے کہ ایمان جو رکھتا ہے وہ صحابہ کی تعظیم کرے ، صحابہ کے ساتھ وفاداری کرے ، صحابہ کا حق پہچانے ، صحابہ کی اقتداء کرے ، صحابہ کی عمدہ تعریف و توصیف کرے ، صحابہ کے جو آپس میں اختلاف ہوئے اُن میں دخل نہ دے ، اور صحابہ کے دشمنوں سے دشمنی رکھے ، تاریخ نگار جاہل راوی اور گمراہ رافضی اور بدعتی جو کسی بھی صحابی کی شان میں جرح قدح کریں اُن کی خبر و روایت پر دھیان نہ دے اور باہمی اختلافات کے بارے میں صحابہ سے جو نقل و روایت ہے اُس کا بہتر معنی ڈھونڈے اور زیادہ سے زیادہ صحیح مطلب نکالے کیونکہ یہی صحابہ کی شان کے لائق ہے اور کسی صحابی کا بے ادبی سے تذکرہ نہ کرے اور کسی صحابی کی کسی بات کو حقیر نہ جانے ، بلکہ ان کی نیکیوں کا فضائل و مراتب کا اور اچھی سیرت و عمدہ اخلاق کا تذکرہ کرے اس کے سوا سے زبان کو روکے جیسا کہ حضور اقدس صلى الله تعالى عليه و آله و صحبه و سلم نے فرمایا ہے کہ جب میرے صحابہ کا تذکرہ ہو تو زبان کو روکو۔
نیز آگے فرمایا
حضرت عبداللہ بن مبارک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں
جو کسی صحابی کی تو ہین کرے وہ گمراہ ہے عقیدہ اہلسنت کا مخالف ہے سلف صالحین کا مخالف ہے۔
ہم اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں نیک بندوں کے عقیدہ پر ثابت قدم رکھے اور روز قیامت انہی کے سائے میں اٹھائے اور زیر لواء الْحَمد جمع فرمائے۔

آمین یا رب العلمین بجاه طه و یسین صلی الله تعالی و بارک وسلم عليه و على آله و اصحابه و حزبه و ابنه الكريم اجمعين و الحمد لله رب العلمين.


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں