حدائق الانس از سید محمد حسینی گیسو دراز خواجہ بندہ نواز

حدائق الانس

تصنیف
حضرت قدوة الواصلين والکاملین سید محمد حسینی گیسو دراز بندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

پہلا حدیقہ

النهايت رجوع الى البدايت

(انتہاء ابتداء کی طرف لوٹ آتی ہے )
اس قول کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ ہونے کی گنجائش بھی ہے۔ ایک وہ معنی جو کتاب عوارف ( مصنفہ حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی قدس سرہ العزیز) میں لکھی ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ جو انتہا کو پہنچ جاتا ہے اس کا کام ( فریضہ ) یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ ابتدائے سلوک میں کیا تھا اس میں آ جائے وہی کرنے لگ جائے۔ مطلب یہ کہ جو کچھ عبادت ( بندگی ) ریاضت ( محنت نماز ذکر شغل ) مجاہدہ (نفس کے خلاف کرنا ۔ بلند ارادہ سے کام کرنا ) تخلیہ (خالی کرنا ۔ تنہائی اختیار کرنا ) تملیہ (بھرنا معمور کرنا۔ دو دم کے در میان نظر رکھنا ) تجلیہ ( جلا دینا ۔ چمکانا ) شغل ( دل کا ذکر ۔ مشغلہ ) مراقبہ ( نگہبانی۔ گردن جھکا دینا) کیا کرتا تھا اس میں رہا کرے اپنے خواجہ قدس سرہ سے میں نے یہی بات سنی تھی ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خواجہ قدس سرہ نے عوارف سے روایت فرمائی ہو گی۔ میرا گمان بھی یہی ہے۔ جس کی سند عوارف سے ملتی ہے۔ یہ بہت ہی اچھی بات ہے اس کہنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نقطہ رجوع (مرکز پر لوٹ آنے کا طریقہ ) ایسا ہی ہے۔ کیونکہ پھر سے رجوع ہونے کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ سلوک کے درمیانی زمانے میں ابتدائے زمانے کے جو کام چھوڑ دیا تھا۔ جب انتہا کو پہنچا تو پھر اس ابتدائی زمانے کے کام کی طرف رجوع ہو گیا۔ ایک مطلب اس سے یہ بھی نکلتا ہے کہ ابتداء میں جو کچھ کیا کرتا تھا۔ ابتداء سے انتہا کو پہنچنے تک وہی کرتا رہا ہے کر رہا ہے اس کا پابند رہ کر اسی کی ملازمت یعنی بجا آوری کرتے کرتے انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ یہ توجیہہ مناسب تو ہے لیکن رجوع کے معنی اس کا مطلب کیا ہوا۔ شاید یہ ہو کہ جب پہلے کام پر مستقیم مستدیم( مضبوطی کے ساتھ قائم ہمیشہ استوار ) رہا تو یہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کہ رجوع ہو جاتا۔ ایک بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ پہلے جو کام کیا کرتا تھا وہ اس کام کو اس لئے نہیں چھوڑ دیتا کہ اس کے سامنے اور کام آ گیا ہے۔ بلکہ اس میں ہوتے ہوئے بھی ابتداء سے جو کام کرتا آ رہا ہے اس کو چھوڑ نہیں دیتا۔ اس پر قائم برقرار استقامت کے ساتھ رہتا ہے۔ یہ سمجھ لو کہ وہ ابتدا سے رجوع ہو گیا۔ اس کے ایک معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جب سلوک شروع کیا تھا۔ ہوس۔ آرزو۔ خواہشیں جو کچھ اس کے نفس میں تھے۔ ان سب کو اس نے نکال باہر کیا تھا کیونکہ جو کوئی سلوک میں آ جاتا ہے۔ اس کو لازما ان سب کو نکال دینا باہر کر دینا پڑتا ہے۔ جب انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو از روئے ظاہر اس طرف لوٹ جاتا ہے۔ یہ کہنے سے مقصد یہ ہے کہ ابتدائے حال میں یعنی سلوک شروع کرنے سے پہلے جو مقصد سرّ (راز) اس کے سر میں تھا یا جو مقصد اس کے منشا میں اس کے اندر تھا۔ وہ جب انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو وہی پھر سر اٹھاتا ہے۔ یہ ہو سکتا ہے سروروں کے سر میں سروری ہو۔ اگر کسی میں ابتدائی زمانے میں عورتوں اور باندیوں کی ہوس ہو تو وہ آخر حال میں اسی طرف رجوع ہو جایا کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچیس سال کے ہو جانے کے بعد خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔ جب تک خدیجہ رضی اللہ عنہا زندہ رہیں کوئی عورت یا باندی آپ کے پاس نہ تھی۔ جب عزت و قربت کی دولت کو پہنچ گئے تو آپ کے پاس نو بیبیاں تھیں۔ روایت کرتے ہیں کہ آپ ایک رات میں نو دفعہ ہر حرم کے ساتھ رہے۔ یعنی آپ کا حرم کے ساتھ رہنا اکیاسی مرتبہ ہوا۔ خداوند تعالیٰ نے آپ کے حق میں یہ فرمایا کہ جو عورت بھی آپ کے نکاح میں خود کو بلا تعین مہر دیدے وہ آپ کے لئے روا و جائز ہے۔ یہ صرف آپ ہی کے لئے ہے۔ یہ اس کا ایک بیان ہے آپ ابتدائے حال میں یک سو گوشہ نشین تھے جب آپ کمال کو پہنچ گئے تو یہ اختیار دے دیا گیا ۔ کہتے ہیں کہ ایک صوفی ایسے ملک کا تھا کہ جس ملک کی نسبت مال جمع کرنے محتاط رہنے کی شہرت تھی۔ یہی اس ملک کی خصوصیت بھی تھی۔ اس ملک کے ایک بزرگ کمال کی انتہا کو پہنچ گئے تو ان کے نفس میں وہ احتیاط امساک و طلب موجود پائے گئے ۔ انہوں نے اس قدر مال و دولت جمع کی کہ وہ لاکھوں سے بڑھ گئی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انتہا کو پہنچے ہوئے میں یہ خاصیت ہوتی ہے اس کی بازگشت (واپسی ) یعنی رجوع اس طرف ہوتی ہے۔ جس کی خواہش و طلب سلوک شروع کرتے وقت اس میں تھی۔ اس بیان سے کوئی اس وہم وگمان میں نہ آجائے کہ وہ مواہب و موارد الہیات( اللہ کی عطاؤں، بخششوں، تجلیوں، فیوضات) سے رہ جاتا ہے۔ استغفر الله (پناه چاہتا ہوں، طلب بخشش کرتا ہوں اللہ تعالی سے ) ہرگز ہرگز یہ بات نہیں اللہ تعالیٰ ایسے وہم و گمان سے بچائے۔ ہمارے اس بیان کا خلاصہ و مطلب یہ ہے کہ ایسی خواہشیں اس کو دوری یا جدائی میں نہیں ڈال دیتیں ۔ جس خواہش میں بھی دور ہے۔ جودُھن بھی اسکی ہو جس کسی میں بھی وہ مشغول رہے اس سب کے ہوتے ہوئے بھی وہ کشف و تجلی ہی میں رہتا ہے۔ یہ خیال ہرگز نہ کرنا چاہئے کہ جب رات بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں کے ساتھ مشغول رہے تو خدا سے محجوب رہے پردہ میں آگئے یا غافل ہو گئے۔ قسم اللہ کی یہ بات نہیں۔ بلکہ اس کام میں اس حالت میں بھی تجلی و ظہور و مقصود اور عین عیان میں تھے۔ اگر کوئی مرد سالک عارف سالک ہالک۔ کسی لذت دینے والی یا خواہش کے بڑھانے والی چیز یا کام میں ہو تو وہ اس کی تجلی کو اس چیز یا کام میں بہت ہی کھلی اور بے انتہا ظاہر دیکھا کرتا ہے۔ میں کیا جانوں کہ تم نے اس سے کیا سمجھا۔ اس مرتبہ میں آ جاؤ گے تو خود بخود اس کو جان لو گے۔ اسی قیاس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کہ آپ خیر الناس ( سب انسانوں میں بہترین) ہیں، عارفوں کے لئے آپ کا ذکر طلب خیر و سلامتی ہے۔ افرائت من اتخد اله هواه ( كيا تم نے نہیں دیکھا کہ جس نے اپنی خواہش کو خدا بنا لیا ہے ) ہم جس بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ہماری گفتگو کا جو موضوع ہے اس میں اس حالت میں رہنے والوں کی کم سے کم حالت ما رَائِتَ شَيْئاً إِلَّا وَرَائِتَ الله فيه ( نہیں دیکھی میں نے کوئی چیز مگر دیکھا میں نے اللہ اس میں ) ما رائت شيئاً ( نہیں دیکھی میں نے کوئی چیز )) سالبہ کلی (وہ جملہ ہے جس میں کل کی نفی ہے)۔ الا ورایت الله فيه ( مگر دیکھا میں نے اللہ کو اس میں) موجبہ کلی (وہ جملہ ہے جس میں کل کا اثبات ہے۔ ) ایک معنی اس قول کے یہ بھی ہو سکتے ہیں۔ وہ یہ کہ انسان کے وجود کی ابتداء اس کی پہلی ولادت ( پہلا پیدا ہونا ) ہے۔ جب تک کوئی بالغ نہیں ہوتا وہ شرح کے احکام کا مکلف نہیں ہوتا ۔ اس پر شرع کی تکلیف نہیں اس پر احکام شرع جاری نہیں ہوتے ۔ وہ مرفوع القلم ( مستثنیٰ ہے۔ کسی حکم کا تابع نہیں معانی میں ہے ) اسی طرح جب سالک احوال و مقامات کی انتہا کو پہنچتا ہے تو وہ بھی ویسا ہی ہو جاتا ہے۔ بظاہر اس سے تکالیف ( پابندیاں ) اٹھ جاتی ہیں۔ جیسا کہ وہ ابتدائی حال میں تھا ظاہر ا پھر ویسا ہی ہو جاتا ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں سقطت عنه كلفت التکالیف( اس سے اوامر و نواہی کی بجا آوری اٹھ گئی ) اس سے یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ اعمل ماشئت فانك معفو ( کرو جو تم چاہو کیونکہ تم بخش دیئے گئے ہو ) اس کا لحاظ کرتے ہوئے اور مسئلہ شرع میں بھی اس معنی کرتے جب کہ وہ نہ رہا تو مکلف بھی نہ رہا وہ اس جیسا ہو جاتا ہے کہ جس سے تکالیف شرع اٹھ گئے۔ یعنی وہ غیر مکلف ہو جاتا ہے یہ بہت ہی نازک مسئلہ بار یک بات ہے۔ ہر ایک کے بس کی نہیں۔ ہر ایک کے ساتھ یہ بات نہیں ہوتی نہ کیا کرتے ہیں۔ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ جھوٹے دعویدار نفس کے کہنے پر چلنے والے سے متعلق نہیں کہ یہ بیہودہ بکواس کرتے ہیں۔ جو جی میں آیا کہتے اور کرتے ہیں۔ اس حال و مقام سے وہ بے فیض ہی نہیں بلکہ محروم ہوتے ہوئے یعنی محروم ہونے کے باوجود ) ایسے حضرات کی برابری کرتے ہیں۔ جھوٹے ہیں جھوٹ کہتے نفس کی پھیر میں ہیں۔ نعوذ بالله من شرهم ( پناہ چاہتا ہوں میں پناہ میں آتا ہوں اللہ کی ان کے شر یعنی برائی بدی کرنے اور پہنچانے سے) چنانچہ فرماتے ہیں کہ جو ایسا دعویٰ کرے اس پر عمل کرے۔ ایسے کا مار ڈالنا سو ۱۰۰ کافروں کے مار ڈالنے سے بہت بہتر ہے۔ یہ وہ ہے جس کو اپنے نفس یا اپنے مال کا امین (امانت سے کھنے والا ۔ نگہبان ) نہیں بنایا جا سکتا۔ ایک اور معنی یہ بھی ہیں کہ مبداء معاد ( ابتدا انتہا) س کے لئے ایک ہو جاتا ہے جب وہ انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو جو کچھ اپنے آپ میں دیکھا کرتا تھا وہ مشاہدہ میں دیکھنے لگتا ہے۔
ایک معنی یہ کہ وہ اگر چہ حال کے پہلے مرحلہ میں تھا۔ کام کے درمیانی زمانے میں سلوک کیا ۔ تجلیات و کشوفات (دکھنا اور کھلنا ) اس کے نقد وقت ہو گئے اس پر ہونے لگے وہ ایسا اور اس درجہ میں آگیا کہ اس کے لئے آگے جانے کا راستہ نہ رہا۔ انتہا کی انتہا کو پہنچ گیا۔ ایک ایسے دریا میں ٹھہر گیا کھڑا ہو گیا کہ جس کی تہہ ہے نہ کنارا۔ اپنے آپ کو ایسا عاجز متحیر در مانده ( تنگ آ گیا ہوا۔ حیرت میں آیا ہوا ۔ مجبور – مجبور آیا ہوا)پایا جیسے کہ وہ ابتدائی زمانے میں تھا۔ چنانچہ ایسے ہی کا یہ کہنا ہے کہ۔
هرگز دل من زعلم محروم نشد کم ماند ز اسرار که مفهوم نشد
( میرا دل کبھی علم سے محروم نہ ہوا بہت کم راز رہ گئے جو سمجھ میں نہ آئے)
چونیک نگہ کر دم ازروئے خرد معلوم شد که پیچ معلوم نه شد
(جب میں نے اچھی طرح عقل کے لحاظ سے دیکھا تو یہ مجھ کو معلوم ہوا کہ کچھ بھی معلوم نہ ہوا)
عطار قدس سرہ نے بھی اس طرف بہترین اشارہ کیا ہے ۔
سبحان خالقے کہ صفاتش از کبریا در خاک عجز می فگند عقل انبیا
پاک پروردگار کے صفات کبریائی کے پانے میں انبیاء علیہم السلام کی عقل انتہائی عاجز آگئی )
گر صد ہزار قرن ہمہ خلق کائنات فکرت کنند در صفت غیرت خدا
(اگر لاکھوں برس ساری مخلوق دنیا کی اے اللہ تیری صفت میں فکر کرے)
آخر بعجز معترف آیند کالے الہ دانستہ شد که هیچ ندانسته ایم ما
انتہا میں یہ مان چکے کہ اے اللہ ہم سمجھ گئے کہ ہم نے نہ کچھ سمجھا نہ جانا )
ہمارے خواجہ قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ رب (پروردگار ) کو جانتے ہیں لیکن ربوبیت (پروردگاری) کو پہچانتے تک نہیں۔ یہ قول بعید الغور وقعیر الفہم یعنی یہ مقام بڑی گہرائی کے ساتھ سوچنے سمجھنے نہایت غور و خوض نزاکت باریکی کے ساتھ اپنی فکر و سمجھ کے لڑانے کا ہے۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ سالک سلوک میں آ جاتا ہے ہر نفس و ہر دم ( ہر سانس ہر لمحہ ) میں یہ جانتا ہے کہ ایک عالم سے (ایک مرتبہ و حال سے ) دوسرے عالم میں ایک جہان ( کیفیت) سے دوسرے جہان (حالت) میں جا رہا ہوں۔ جب اس کا کام انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو خود کو وہیں پاتا ہے۔ جہاں کہ وہ ابتدائی کام میں تھا اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ کولہو کا بیل۔ وہ چلتا رہتا ہے۔ سوچتا جاتا ہے کہ اتنے میل چلا ہوں گا۔ جب اس کی اندھیری (آنکھوں پر کی پٹی ) کھولی جاتی ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ وہ اسی جگہ ہے جہاں کہ وہ تھا وہیں وہ اپنے آپ کو کھڑا ہوا پاتا ہے۔ ایک معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ایک وہ ہوتا ہے جس پر تجلیات پے در پے ایک کے بعد ایک مسلسل ) ہوتی رہتی ہیں۔ ایک گھڑی کی بھی اس کو مہلت و فرصت نہیں ملتی ۔ آخرش یہ کہ وہ جان لیتا ہے کہ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس لحاظ سے اور اس بناء پر وہ مطلق و مقید کا قائل ہو کر اجمال و تفصیل میں آ جاتا۔ جزی کلی کہنے لگ جاتا ے کلی طبعی کی مثال ایسی ہے جس کا خارج میں کوئی وجودپایا نہیں جاتاہاں یہ ضرور ہے کہ وہ جزئیات کے ضمن میں موجود پائی جاتی اور ہوتی ہے۔ شیخ محی الدین ابن عربی قاضی عین القضاة ہمدانی رحمۃ اللہ علیہم اور ان کے متبعین اور حکمائے یونانیہ سب کے سب اس میں رہا کئے اور رہ گئے ۔ مرشد محقق متابع سنت رسول الله تابع نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایسے کے پلو میں پڑ جائے تو اس کو وہاں پہنچا دیتا ہے کہ وہ ایک کے سوا نہیں دیکھتا۔ دوبارہ وجودات پر اس کی نظر نہیں پڑتی ۔ ان کو تو دیکھتا ہے نہ جانتا ہے۔ نہ پہچانتا ہے۔ اس مرتبہ میں سچائی حق و حقانیت کے ساتھ ھو هُوَ لَا هُوَ إِلَّا هُوَ (وہ وہ ہے نہیں وہ مگر وہ )عرفائے زمانہ انتہا کو پہنچے ہوئے (احرار ) آزاد اور مشائخ ، محمد حسینی کے افکار پر غور کرو ۔ باریکی کے ساتھ نظر ڈالو۔ سمجھو کہ اس نے کیا کہا ہے۔ ہمارے اس کہے ہوئے کو جو صدق مقال ( سچی بات ) ہے باور نہیں کرتے تو قیامت میں ان کا ہاتھ اور میرا دامن ہوگا۔

دوسرا حدیقہ

دل کے ساتھ اعضاء و جوارح کا ارتباط

اعمال اعضاء و جوارح سے اس کا متاثر ہونا
تم دیکھتے ہو کہ جب کسی درخت کی جڑ میں پانی دیا جاتا ہے تو تازگی نمی اس کے پتوں پھول اور میوے میں ظاہر ہو جاتی ہے۔ پھول کھلتا ہے تو خوشبو پھیل جاتی ہے میوہ پر ہو جاتا بھر جاتا اور پک جاتا ہے تیار ہو جاتا ہے تو با مغز اور مزیدار ہو جاتا ہے۔ پتے تروتازہ ہو جاتے ہیں تو ان میں چمک پیدا ہو جاتی ہے۔ ڈالیاں بڑھ جاتی ہیں تو تنا استوار ہو جاتا ہے اگر درخت کی جڑ میں آگ یا گرم راکھ رکھ دی جائے جس میں آگ کی چنگاریاں ہوں تو درخت پر کچھ اور ہی اثر ہوتا ہے۔ اس پر سے سمجھ لو کہ انسان کی بھی ایسی صورت ہے۔ آنکھ کان۔ زبان ہاتھ پاؤں ۔ دل کے اطراف یعنی حاشیے ہیں۔ جو عمل بھی ان اطراف و جوانب حاشیوں (اعضاء و جوارح) سے کیا جاتا ہے یا سرزد ہوتا ہے۔ اس کا اثر دل میں یا دل پر ضرور پایا جاتا ہے۔ زبان اور کان سے اعمال صالحہ ( نیک کام ) ہوں۔سچی بات کہی جائے یا قرآن شریف کی تلاوت کی جائے۔ دعا تسبیح کی جائے۔ سچی بات اللہ کا کلام بزرگی کی بلند با تیں، صحیح حدیثیں سنی جائیں۔ اس طرح اور جس قدر نیک کام زبان اور کان سے ہو سکتے ہیں یا ہوئے ہوں یا ہاتھ اٹھا کر تکبیر تحریمہ (نماز کی نیت باندھنے کے بعد جو اللہ اکبر کہتے ہیں) سجدہ و رکوع کرتے رہے۔ مسجد، خانہ کعبہ کو جانا ٹھہرا لے صدقہ دیا کرے۔ نماز میں کھڑا رہا کرے۔ رکوع سجدہ کیا کرے۔ چلتے ہوئے مسجد کو جائے ۔ خانہ کعبہ کا سفر کرے۔ علم حاصل کرنے کے لئے کہیں جائے ۔ اسی طرح کی اور نیکیاں جو کچھ ہاتھ پاؤں اعضاء و جوارح سے کی جا سکتی ہیں کرے مثلاً آنکھ اس کی نیکی جو کچھ کہ اس سے نسبت رکھتی ہے یعنی آیات میں سوچ بچار ۔ شہروں اور ملکوں کا دیکھنا۔ یہ سب ایسے ہی ہیں جیسے کہ کسی درخت کی جڑ میں پاک صاف میٹھا پانی دینے سے درخت میں طراوت تازگی نمی آ جاتی ہے۔ اس طرح ان نیک کاموں میں رہنے سے دل میں صفائی ۔ نور جلوہ کا عکس و سایہ۔ چمک دمک آ جانے سے ملکوتی لاہوتی وجودات کے عکس و پر تو کا جب دل عکس پذیر ہو جاتا ہے تو وہ اثر اس کے اطراف و جوانب ہی کا ہوتا ہے۔ جو اس کی اصل میں پہنچتا ہے۔ اگر زبان سے جھوٹ کہے۔ (زبان کو جھوٹ کہنے کی عادی بنادے) کفر کے۔ کلمہ شرک زبان پر لائے کسی نا مشروع ( شرع میں جو جائز نہ ہو) کی طرف ہاتھ بڑھا ڈالے۔ چوری کرے۔ کسی کا مال زبر دستی چھین لے۔ ناحق کسی کا مال ہڑپ کر لے۔ کسی پر بلا وجہ شرعی ہاتھ چلائے زنا میں مبتلا ہو جائے ۔ لونڈے بازی کرے۔ پیدل جا کر کسی بت کی پوجا کرے۔ شراب پینے چوری برے کام کرنے کے لئے نکلے ۔ اسی طرح کی ساری باتیں برائیاں چھوٹے بڑے گناہ جو ہاتھ پاؤں آنکھ وغیرہ سے سرزد ہوتے ہیں۔ ان کا کرنا ایسا ہی ہے جیسے کہ درخت کی جڑ میں جلتی ہوئی آگ یا ایسی راکھ ڈالیں جس میں جلتی ہوئی چنگاریاں ہوں ۔ ہم کہہ چکے ہیں یہ اطراف انسان یعنی اس کے اعضاء و جوارح ایسے ہی ہیں جیسے کہ درخت کے لئے جڑ ہوتی ہے۔ برے عمل نا جائز حرکات سے تاریکی( اندھیری) کدورت ( گندلاہٹ ) غفلت (بھول ) دل پر آنے لگتی ہے۔ جب یہ چھا جاتی ہے تو دل کالا ہوتے ہوتے توے کی طرح ہو جاتا ہے۔ اللہ کی پناہ۔ یہاں یہ خوف پیدا ہو جاتا ہے کہ عاقبت کیسی ہو گی۔ یہ صورت کی حالت تک لے جائے گی۔ دیکھو ہوشیار ہو جاؤ۔ ذرا سوچو۔ ایسی باتوں سے بچے رہو ۔ ایسی چیزوں کو دل میں جگہ نہ دو۔ نافرمانی نہ کرو۔ دل کو خراب و تباہ نہ ہونے دو۔ یہ سچ ہے کہ مومن – فسق (برائی ۔ نا فرمانی کرنے) سے کافر نہیں ہوتا۔ ایمان باقی رہتا ہے۔ ہاں ہاں بات وہی ہے جو تم کہہ رہے ہو ہم جو کہہ آئے ہیں اس پر بھی تو غور کر لو۔ کہ ہم کیا کہہ گئے۔ یاد رکھو درخت کوپانی نہ دیا جائے تو اس کے پتے ڈالیاں جڑ سوکھنے لگتی ہیں تھوڑے عرصہ کے بعد درخت بھی سوکھ جاتا ہے دوبارہ اس کا ہرا ہونا ۔ اس میں تازگی آنے کا امکان ( موقعہ ) کم ہوتا
ہے۔ فاسق کے لئے دو جہت ہوتی ہیں۔ ایک کفر کی۔ ایک ایمان کی۔ اگر ان کو دو دائرے تصور کر لیں ایک کا نام ایمان ۔ دوسرے کا نام کفر ہوا ۔ ایمان کا جو دائرہ ہے۔ اس میں نماز روزہ تلاوت صدقہ حق سننا حق دیکھنا، حق کہنا ہے اور اسی طرح کے اعمال و افعال ہیں ۔ کفر کا جو دائرہ ہے۔ اس میں شراب پینا۔ زنا – لواطت چوری وغیرہ اور اسی طرح کے برے اعمال و افعال ہیں۔ تمہاری جان تمہارے سر کی قسم، تم ہی کہو کہ دوسرا دائرہ جو کفر کا ہے اس میں کفر و شرک کیا جاتا ہے۔ جھوٹ بکی جاتی ہے۔ چوری کا مال دبا لیا جاتا ہے۔ برے افعال و اعمال ہوتے ہیں۔ جو کوئی ایسے دائرہ میں آ جائے ایسے دائرہ میں ہو۔ کیا وہ ایسا ہی مومن ہے۔ جو ایمان کے دائرہ میں ہے اللہ کی پناہ۔ اگر کوئی مؤمن چوری ۔ زنا ۔ لواطت کرنا ۔ شراب پینا چاہے یا جھوٹ کہنا چاہے تو اس کو ایمان کا جو دائرہ ہے اس سے نکل کر کفر کے دائرہ میں آنا پڑے گا۔ ایک دائرہ سے نکل کر دوسرے دائرہ میں پہنچنا ضروری ہو جاتا ہے۔ افسوس افسوس۔ سوچو غور کرو کہ ہم کیا کہہ گئے ۔ یاد رکھو۔ جب کبھی خواہشیں آگے آجائیں بہالے جانے کی فکر میں ہوں تو ایسے وقت میں دلیل کے ساتھ رہو۔ دائرہ ایمان ہی میں رہنے کی کوشش میں لگ جاؤ ان سے بچنے کی فکر میں لگے رہو۔ والسلام

تیسر ا حدیقہ

حق تعالیٰ کی تجلّی

اللہ تعالیٰ شانہ جس کی شان کی انتہا نہیں فرماتا ہے کہ الم ترا الى ربك كيف مد الظل (کیا تم نے نہیں دیکھا اپنے رب کی طرف کہ اس نے سایہ کو کیسا پھیلایا ہے) تم نے دیکھا کہ پردہ ربوبیت (پروردگاری) کے پیچھے سے عروس حضرت کیسے آنکھ مار رہی ہے آنکھیں کھولے ہوئے اس طرف آنکھیں لگائے ہوئے ہونے کےباوجود اپنے آپ کو انجان بنا کر کیف مدظل ( کیسا سایہ کو بڑھا دیا پھیلا دیا) کہہ رہی ہے۔ اس نظارہ میں کھلی ہوئی نظر کچھ نہ کچھ محل فکر ضرور رکھتی ہے۔ یہ تو کہو کہ اس نظارہ میں تمہیں کیا دکھلائی دیا۔ یہ تو کہنا پڑتا ہے کہ سایہ کا وجود آفتاب کے بغیر نہیں ہوتا ۔ جہاں دھوپ نہ ہو۔ آفتاب نہ ہو۔ وہاں سایہ بھی نہیں ہوتا۔ جہاں آفتاب نہیں سایہ بھی نہیں۔ جب آفتاب و سایہ دونوں بھی نہ ہوں نہ پائے جائیں تو لازما ابو الحسن نوری رحمتہ اللہ علیہ کی طرح دوری جدائی ۔ بے طاقتی۔ نارسائی کا رونا۔ رونا پڑتا ہے۔ ہر ایک اپنے وقت کے لحاظ سے اس کی مناسبت سے چلا اٹھتا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ وہ ہے تو میں نہیں ۔ میں ہوں تو وہ نہیں ۔ ہائے رے ہائے ۔ سنائی رحمتہ اللہ علیہ اپنی تعریف اپنی خوبی آپ بیان کر رہے ہیں ان کی اس اپنی آپ بڑائی میں ان کی خود نمائی خود نما ہو رہی ہے۔
بے منست او تا سنائی با من است با سنائی زین قبل در مانده ام
(بے میرے وہ ہے جب تک سنائی میرے ساتھ ہے سنائی سے اس طرح میں عاجز آ گیا ہوں)
یہ سب کچھ کہنے کا مطلب لذت لینے کی قابلیت سے اپنے آپ کو باہر لے آنا ہے۔ جب یہ نکل جائے تو پھر کیا دھرا رکھا ہے کہ جس سے حصہ نصیبہ و مزہ ولذت پاسکیں یا ہاتھ آ سکے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ارنی انظُرُ إِلَيْكَ (مجھ کو دکھلا میں تجھ کو دیکھنا چاہتا ہوں) کہا۔ جواب ملالن ترانی ( تو مجھ کو نہیں دیکھ سکتا ) یہ ملامت کا کوڑا ان کے وجود (ہستی) پر مارا گیا کہ لن ترانی تم کو دیکھو اور تمہارا ہم کو دیکھنا دیکھو۔ یہ ان کے وجود کی نسبت کا جواب تھا کہ وہ ان کے شہود (دیکھنے ) کی روک اور پردہ بنا ہوا تھا۔ تم نے یہ بھی سنا ہو گا کہ ان کے وجود کا پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کی آڑ تھا۔ اس پر ایک لمحہ کے لئے پلک جھپکنے تک بھی تجلی نہ ہوئی کہ وہ جعله دکا ( ریزہ ریزہ) ہو گیا۔ مٹ مٹا گیا۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام پر جو گزری جو کچھ ان کے سامنے آیاوہ ظاہر ہے۔ خر موسیٰ صعقا ( گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہو کر ) یہ بے ہوشی مد ہوشی کی بے خبری ) نہ تھی۔ یہ ان کی نابودگی ( کچھ نہ ہونا ) ان کی بے خویشی (اپنے سے گئی اپنے آپ کو نہ پانا) تھی۔ اپنے آپ سے جانا ۔ جاتے رہنا تھا۔ جب وہ اپنے آپ میں آئے تو انہوں نے عدم امکان وصول ( اس تک پہنچنے کو نہ پہنچنا) جان کر تُبتُ ( تیری طرف رجوع کرتا ہوں ) کہا وہ وہ ہے کہ جس میں نہ تو جدائی ہے نہ ملاپ نہ گمی ہے نہ پانا ۔ ہاں اس قدر محسوس ہوتا ہے کہ ایک تار ہے جس کا ایک سرا مبدا۔ ایک سرا معاد ہے (جس کی ایک ابتدا ایک انتہا ضرور ہے ) دونوں سرے ملا کر وہ پکڑا ہوا ہے۔ ایک میں ایک محو یعنی گم ۔ مٹا ہوا ہے۔ لا حول ولا قوة الا بالله (اللہ کے سوا کسی میں حول و قوت نہیں)۔
سخن کوتاه کن گیسو درازا کجا تو این سخن ہیہات ہیہات
اے گیسو دراز بات کو مختصر کردے تو کہاں یہ بات کہاں ہائے رے ہائے
جاء موسى بلا موسى فلم يبق شئي من موسى (اے موسى موسى کے بغیر کوئی چیز باقی نہ رہی موسیٰ کی موسیٰ میں ) حکماء یہ کہتے ہیں کہ الواحد لا يصدر منه الا الواحد ( ایک سے ایک کے سوا نہیں نکلتا ) اے محمد حسینی تم کیا کہتے ہو۔ میں یہ کہتا ہوں کہ میں نے ایک کو ایک کے اندر ایک ہی دیکھا۔ خرقانی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ راز بہت خوبی کے ساتھ کھولا ہے۔ وحدت کے وجود کا جو لباس ہے اس کے دو ٹکڑے کر کے سینہ تان کر وہ دکھلاتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ انا اقل من ربی بسنتین (میں اپنے رب سے دو سال کا چھوٹا ہوں ) انا (میں) کو حقیقت کی قوت سے گاڑ دیئے ہیں مطلب یہ ہوا کہ جب تم دو کا تحقق ( ہونا ) مٹا دو گے تو اقل (چھوٹے) ہی کو پاؤ گے جب اس کو بھی نکال کر پھینک دو گے تو پاک ہو جاؤ گے۔ یاد رکھو مِن ربی (میرے رب سے ) تعدیہ (حد سے گزرنا فعل لازم کو متعدی کرنا ) ہے۔ بسنتین با لجمع ہے۔ دو سال جمع کے ساتھ ہے ) ما امرنا الا واحدة كلمح بالبصر ( نہیں امر کيا تم نے مگر ایک بار پلک جھپکنے تک ) بات اسی قدر اور یہی ہے کہ ایک میں ایک ہو گئے ہیں۔ لمح بالبصر ( پلک کا جھپکنا ) وہم کے سوا نہیں رہتا۔ اگر واقعہ یہ نہ ہوتا ایسا نہ ہوتا تو آدم علیہ السلام کیسے کیونکر کہاں سے منہ دکھلاتے حوا علیہا السلام کسی رنگ و روپ سے برآمد ہو تیں یہ سب اس کا تلون و تکون (رنگ لینا۔ وجود پانا ) ہی تو تھا کہ آب وگل (مٹی پانی )سے سر اٹھایا بات یہ ہے کہ جب تفصیل اعمال کے ساتھ ایک ہو گئی مل ملا گئی تو مقید مطلق کے ساتھ ایک ہو گیا۔ دریا کا مینڈک دریا میں جا پہنچا۔ مل گیا اگر وہ دریا سے خبر دینا چا ہے تو اس کو دریا سے باہر آنا سر نکالنا پڑتا ہے۔ اس کی فریاد کون سنتا ہے۔ وہ کس کو آواز سناتا ہے۔ وہ دریا میں ہے۔ دریا میں ڈوبا ہوا ہے۔ یہ عجیب بھنور ہے۔ حیرت ہے ایک چکر ہے کہ جس کی نہ انتہا ہے نہ اس کی طرف کوئی راستہ نہ کوئی مفر(بھاگ جانے کی جگہ ) نہ چارہ کار ہے۔
الحمد لله على انني كصفدع يسكن في اليم ان هي فاهت مليت مالحا وان سكنت مانت من الغم
سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے کہ میں اس مینڈک کے جیسا ہوں جو دریا میں رہتا ہے۔ اگر وہ ٹھہرتا ہے تو گل جاتا ہے اور چپ رہتا ہے تو رنج کے مارے مر جاتا ہے۔)
مچھلی سے اگر یہ پوچھا جائے کہ تو کہاں کی ہے۔ کہاں اور کس میں رہتی ہے۔ تیری حیات (زندگی) کس سے ہے۔ تیری واپسی تیرا رجوع کس کے ساتھ ہے۔ تو وہ یہی جواب دے گی کہ میں پانی میں پیدا ہوئی ۔ پانی سے نکلی۔ پانی ہی میں رہتی ہوں، پانی ہی پیا کرتی ہوں۔ میری واپسی میرے لوٹنے کی جگہ پانی ہی ہے۔ قابل غور عجیب بات یہ ہے کہ حوا علیہا السلام آدم علیہ السلام کی طرف نہیں لوٹتیں ۔ آدم علیہ السلام حوا علیہاالسلام کے ساتھ ایک نہیں ہو جاتے ۔
گاه مین او باشم و او من گہے بو العجب کاریست و بس طرفہ رہے
میں کبھی وہ رہتا ہوں وہ کبھی میں یہ عجیب کام اور نادر بات ہے)
وہ میں نہ میں وہ۔ بہر حال میں تو کا کھیل کھیلا جا رہا ہے نعوذ باللہ (اللہ کی پناه) انه الان كما كان ويكون كما كان وه جيسا کہ تھا ویسا ہی ہے ویسا ہی رہے گا) فكن الان كما كنت و تكون (پس) ہو جا اب بھی جیسا کہ تھا اور جیسا کہ چاہے ) اے عزیز اس کوشش میں اس جنجال میں نہ پڑ کہ لوگ تقلید کے حجرہ تقلید کی حد سے باہر آ جائیں ۔ حقیقت اور حقیقت الحق کے میدان میں پہنچ جائیں۔ تقلید ایک باخیر با برکت چیز ہے۔ ایک مضبوط (ضبط سے ) پائیدار شے ہے۔ جو دوسری باتوں سے محفوظ اور بچائے رکھتی ہے۔ خوف و رجا ( ڈر اور امید ) ذوق وشوق (مزہ پانے لطف لینے ) کی چیز ہے۔ جس میں آرام و راحت ہے۔ یہ درد دوا کے ساتھ ہے۔ سوز ساز ( جلنے بجھنے کی حالت ) رکھتی ہے۔ صوفیوں کا نعرہ سوز ( تڑپ کر بلبلانا ۔ جلنا بھننا ) اس سے ہے۔ جو مردان خدا پہاڑوں، غاروں کو اپنے ٹھہرنے کی جگہ بنائے ہوئے ہیں۔ یہ سب تقلید ہی کے مقام میں ہیں خانقاہ تقلید سے کوشش کر کے انہیں باہر لایا جاتا ہے کہ وہ تحقیق کے میدان میں آجائیں لیکن ان میں سے بمشکل ایک ہی ایسا ہوتا ہے جو تحقیق کے شہر میں آ جاتا ہے۔ باقی سب کے سب الحاد ( حق سے گزر جانے ) زندقہ (بے دینی ) میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ خدائے تعالیٰ اس سے بچائے رکھے۔ اس سے بچنا سلوک کے لوازمات سے ہے۔ سلوک میں دل کے خزانے کی طلب میں رہنا۔ عبادات ۔ اذکار کے جواہروں اور موتیوں سے اپنے آپ کو مالا مال کر لینا ہے۔ کوئی نہ کوئی نیک بخت ۔ وہ بھی ہوتا ہے کہ عروس حقیقت جس پر جلوہ فرما ہوتی ہے اس کے باوجود بھی وہ شریعت طریقت کے طریقہ و راستہ کو پوری طور سے لئے ہوئے ہوتا ہے۔ تحقیق کو پہنچا ہوا لاکھوں میں ایک ہوتا ہے باقی سب اپنی خودی خود رائی پر اڑے ہوئے رہتے ہیں۔ الحاد اور اباحت و زندقہ بے دینی اور نا جائز کو اپنے وقت کا سرمایہ بنائے ہوئے بیٹھے رہتے ہیں۔ خبردار ۔ اپنے آپ کو ان سے بچائے رکھو۔ اس میں پھنس کر تباہ نہ ہو جاؤ۔

چوتھا حدیقہ

شریعت طریقت – حقیقت – حق الحقیقت ۔ حقیقت الحق

شریعت انسان کامل کی کہی ہوئی بات کو، طریقت انسان کامل کے کئے ہوئے کام کو ،حقیقت انسان کامل کے ہونے کو ،حقیقت الحق انسان کامل کے بود نابود ہونے نہ ہونے کو کہتے ہیں مثلاً انسان کامل نے ایک بات کہی اس کی بات جو کچھ بھی تھی جس چیز پر شامل مشتمل تھی جس نے اس کے موافق عمل کیا اس نے دولت دیدار پائی ۔ دیکھ لیا۔ جس نے جو کچھ کہا وہ ہو گیا اور جو کچھ نیک بختی پانے کے لئے کیا اس نے اس کو دیکھ لیا۔ اپنی بود (بقا) کو پہنچ گیا ۔ اسی کو اس عبارت میں اس طرح کہا گیا ہے کہ التصوف علم و عمل و موهبة ( تصوف علم و عمل و عطا ہے ) اس کے دیکھنے کے لئے ۔ اس کی خاطر اس کو علم دیا گیا۔ سمجھ کر کام کر لیا تو دولت کو پہنچ گیا ۔ اس پر بخشش کی گئی۔ نعمت عطا ہوئی ۔ وہ اپنے آپ کو کسی کے ساتھ پایا ہوا پایا جیسا کہ ابو یزید (بایزید بسطامی ) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ غصت في بحر الاعمال فوجدت نفسي مربوطة بزنانير فاذا انا هو (اعمال کے دریا میں غوطہ لگایا تو میں نے اپنے آپ کو زناروں میں بندھا ہوا دیکھا ) جب کہ میں کسی میں تھا جب میں نے اپنے آپ کو غور سے دیکھا تو شرک میں پھنسا ہوا پایا یہ پاتے ہی میں ہونے کی طرف پلٹ آیا۔ نعرہ لگایا۔ فاذا انا هو ( جب کہ میں وہ تھا ) اس سے یہ نہ سمجھتا کہ وہ نہ تھا اب وہ ہوا۔ ہمیشہ ہی سے وہ درمیان میں تھا بلکہ وہ ہونا کہ اس کا اپنا ہونا تھا وہ نہیں ہو گیا۔ اس کا ہونا ۔ ہونا ہو گیا۔ وہی وہ تھا وہی وہ ہوا ہونے نہ ہونے ہونے میں کچھ کہنا چاہتا تھا۔ لیکن میرے تجربہ اور دیکھنے میں یہ بات آئی ہے کہ لوگ حقیقت کی باتیں سن جاتے ہیں۔ صدر مجلس بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔ داڑھی پر ہاتھ پھیر کر کچھ کی کچھ باتیں کہنے لگ جاتے ہیں داہنے ہائیں جھولتے ہیں سر ہلانے لگ جاتے ہیں ۔ لوگ ان کی نسبت ایک نیک گمان کر جاتے ہیں۔ وہ اس سے خوش وقت ہو جاتے ہیں۔ حضرت ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے جب اس قسم کی باتیں لوگ کہتے تو آپ ان کو روک دیتے۔ یہ کہتے کہ یہ باتیں سب میں کہنے کی نہیں۔ ہرگز نہ کہنا چاہئے ۔ کیونکہ خواہشات میں رہنے اور ان پر مر مٹنے والے لوگ سن پاتے ہیں تو اس کو اپنی صدارت کی سند بنا لیتے ہیں کہ ہم ایسے ہیں یہ یہ جانتے ہیں۔ یہ یہ بیان کرتے ہیں۔ یہ بات سب کو کہاں میسر آتی ہے۔ ان کے اس کہنے کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ ہم ایسے ہیں ہم ویسے ہیں لا حول ولا قوة الا بالله بہتر تھا کہ میں اس قسم کی باتیں نہ کیا کرتا۔ کیا کیا جائے فلاں ابن فلاں میری باتیں سننے آتے تھے۔ جب سے کہ میں اس ملک میں آ گیا ہوں وہ میرے متعلق اور ہی گمان رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ جانتے تھے کہ ایسا محقق دوسرا نہیں ۔ اے حسینی اپنی زبان روک لے اپنے بیان کو مختصر کر دے ۔ والسلام

پانچواں حدیقہ

عالم مجاز اور عالم حقیقت

یہ عالم مجاز یعنی عالم ظاہر ہے۔ اس کے پرے عالم حقیقت یعنی عالم باطن ہے۔ مجاز ( ظاہر ) مجوزت (ظہورات ) محل جواز حقیقت ( حقیقت کے جاگزیں و جائز ہوئے رواں ہونے کی جگہ ) جسم و جسمانیت کے گزر بسر کی جگہ بلکہ گزرگاہ ( گزرنے کی جگہ گھاٹی) ہے۔ یہاں سے گزرنا گزر جانا پڑتا ہے۔ یہاں سے جانا ضروری ہے۔ ٹھہرنے کی جگہ نہیں ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مجاز وہ ظاہر ہے جو حقیقت کے جواز کی جگہ ہے۔ یہ بات ہے تو مجاز کا حقیقت کے ساتھ کچھ نہ کچھ تعلق ہونا ضروری پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ مجاز ہی میں حقیقت ہاتھ آتی ہے۔ عنایت ہوتی ہے۔ ایسا ہونا لازمی ہو جاتا کہ مجازی ہوتی ہے۔ مثلاً ہم اگر زید شیر ہے کہیں تو اس میں ایسی ہی شجاعت ( دلیری ۔ بہادری) کا ہونا ضروری ہے جیسی کہ شیر میں ہوا کرتی ہے۔ تاکہ زید کو جو شیر کہا گیا وہ ٹھیک و درست ہو جائے اس عالم کو عالم مجاز کہیں تو اس کے سواجو عالم ہے اس کو عالم حقیقت کہنا اور جاننا ہو گا۔ اس سے یہ سمجھ سکتے ہیں۔ نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں کہ اس حقیقت کا کچھ نہ کچھ عکس پر تو اس مجاز میں ہونا ضروری ہے اور ہونا چاہئے ورنہ اس کو مجاز کہنا بے معنی بات ہو گی۔ غور کرو۔ فکر کو کام میں لاؤ۔ سوچو کہ اس جہان میں عالم قدس کا عکس و پر تو کھلے طور سے پوری طرح سے ظاہر ہے یا نہیں۔ اگر تم اس عالم کا راستہ اختیار کر لو اس کے پیچھے پڑ جاؤ تو تم پر اس کا کچھ نہ کچھ عکس و پر تو ضرور پڑ جائے گا کیونکہ ان الله خلق آدم علی صورته (البتہ اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا) اس کا پتہ دیتا ہے۔ خلق آدم على صورة الرحمن ( پیدا کیا آدم کو رحمن کی صورت پر ) اس کا کھلا بیان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رائت ربى ليلة المعراج في احسن صورة دیکھا میں نے اپنے رب کو معراج کی رات میں اچھی صورت میں ) فرما کر اس عالم کی ایک خبر دی وہ یہ کہ ایک صورت مجانی (روشن) مصفا (صاف) منور (نورانی) قابل انعکاس (سایہ قبولنے والی) پیدا کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب جمال قدسی کا حسن سایہ ڈالنے والی نموداری کی شکل کے ساتھ نمودار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آئینہ میں عین و حقیقت کا مشاہدہ کرتے ہی رائت ربی فی احسن صورة ( دیکھا میں نے اپنے رب کو اچھی صورت میں ) فرمایا اور ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ فوضع كفيه على كتفى فوجدت بردها فی قلبی (پس رکھا اس نے اپنے ہاتھوں کو میرے کندھوں پر جس کی ٹھنڈک میں نے اپنے دل میں پائی ) وہ ہتھیلی ہاتھ ایسے تھے اور ہوتے ہیں کہ جس میں نہ بند ہونا ہے نہ کھلنا نہ اس میں گرفت کا ہونا کہا جاسکتا۔ بلکہ وہ اس بات کی حکایت کرتی ہے کہ كلتا يديه يمين الصدقة اولا تقع فی کف الرحمن ( پہلے پہل رحمن کی ہتھیلی میں ڈالی جاتی ہے ) یہ ہاتھ غیب ہی غیب ،عین ہی عین ہیں۔ یہ جو کہتے ہیں کہ مجاز گزر جانے کے معنی میں ہے۔ جاز عنه ( گزر گیا اس سے) بلکہ تجاوز عنه ( بڑھ گیا اس سے ) کا اشارہ بھی اسی طرف ہے تا کہ کوئی عین (حقیقت) کے بجائے عکس ( مجاز )ہی پر قرار نہ لے لے۔ ہاں سچ ہے گزر جانا کام کی شرط ہے ضروری بات ہے۔ اللہ پاک پرے سے پرے ورے سے درے ہے مفهوم و اصلان حقیقت ( حقیقت کو پہنچے ہوؤں کی یافت و فہم سےسمجھی بوجھی ہوئی چیز ) یہی ہے نہ جدائی ہے نہ ملاپ نہ دوری ہے نہ نزد یکی نہ کھونا ہے نہ پانا۔ جو کہا گیا ہے وہ اسی قول کے مطابق ہے ثابت و محقق ہو جاتا ہے۔ والسلام

چھٹا حدیقہ

اللہ کے اخلاق سے سنور جانا اس کے اوصاف سے بن جانا

میرے خواجہ قدس سرہ العزیز حکایت فرماتے تھے کہ شیخ الاسلام خواجہ قطب الدین بختیار اوشی قدس سرہ العزیز سماع سنا کرتے تھے۔ وجد میں آجانے کے بعد خواجہ حمید الدین ناگوری قدس سرہ شیخ ( خواجہ قطب الدین قدس سرہ) کے پاؤں پر گر پڑتے تھے۔ شیخ خادم کو اشارہ کیا کرتے کہ انہیں اٹھا دو ۔ خادم ان کو اٹھا دیا کرتے تھے۔ بندہ نے خدمت خواجہ سے عرض کیا کہ یہ کیا راز ہے۔ قاضی صاحب خواجہ صاحب کے پاؤں پر گرتے ہیں۔ خواجہ صاحب انہیں اٹھاتے نہیں۔ خادم کو اٹھانے کا اشارہ فرماتےہیں۔ جواب میں خواجہ بندگی مخدوم نے یہ مصرعہ پڑھا۔
اینجا نرسد از ورق هر سودائی
( یہاں ہر سودائی کی چھوٹی کشتی نہیں پہنچتی )
میں سمجھ گیا کہ ہر قسم کے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہر ایک میں اس کے سمجھنے کی اہلیت، سمجھداری نہیں ہوتی ہونی بھی نہ چاہئے ہوتی بھی نہیں۔ موقعہ کے لحاظ سے خواجہ بندگی مخدوم نے ٹال دیا۔ انجان ہو گئے۔ ان بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک نادان نے یہ کہا کہ خبر نہ ہوتی ہو گی۔ خبر نہ رکھتے ہوں گے۔ میرے خواجہ بندگی مخدوم نے اس کے کہنے کی طرف التفات نہ کیا۔ تھوڑی دیر تک بطریق مراقبہ تامل فرمایا۔ بات ختم ہو گئی ۔ یہی بات ایک درویش نے ایک بزرگ سے پوچھی اور کہا کہ یہ کیا بھید تھا کہ قاضی صاحب خواجہ صاحب کے پیروں پر گرتے تھے۔ خواجہ صاحب خود نہ اٹھاتے۔ خادم کو اشارہ فرمایا کرتے کہ ان کا سر میرے پاؤں پر سے اٹھا دو۔ اس کا جواب اس بزرگ نے یہ دیا کہ شیخ قطب الدین مقام کبریا میں ہوتے تھے۔ اس کلام میں کئی اشکال ہیں (اس بات میں کئی صورتیں، کئی شکلیں کئی مشکلیں ہیں ) اگر محدث ( نو پیدا۔ جدید ) کہیں تو مخلوق ( پیدا کی ہوئی) کہنا پڑتا ہے۔ اس کو اس طرح سمجھنا پڑتا ہے کہ جب نو پیدا باقی قائم دائم کے ساتھ بقا و قیام پاتا ہے تو اس کے صفات لے لیتا اور اس کے صفات سے متصف ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تخلقوا باخلاق الله (اللہ کے اخلاق سے سنور جاؤ) واتصفوا بصفات الله (اس کے اوصاف سے بن جاؤ اتصاف کرو) جو فرمایا وہ یہی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک صفاتی نام متکبر بھی تو ہے۔ جب کوئی سالک صفت تکبر کبریائی سے متجلی ہو جاتا ہے تو کبر یا اس کے سر پر چھا جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ صفت کبریا سے متصف تمہیں معلوم ہے کہ لوہا سرد ہے سیاہ ہے ( ٹھنڈا اور کالا ہے ) جب آگ میں ڈالا جاتا ہے تو گرما جاتا ہے جب خوب گرم ہو جاتا ہے تو سرخ و گرم ہو کر آگ کے جیسا جب دکھلائی دیتا ہے تو کہتے ہیں کہ ناراً وصفاً حديدا ذاتاً ( بلحاظ صفت آگ اور بلحاظ ذات لوہا) بعض کا معاملہ یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ ناراً ذاتا حديداً وصفاً (بلحاظ ذات آگ اور بلحاظ صفات لوہا) ہو جاتے ہیں۔ اس کہنے کے یہ معنی ہوئے کہ آگ میں ڈال کر اتنا تپاتے گرم کرتے دھونکتے ہیں کہ اس کے تمام ذرات آگ ہو کر ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ آگ کا جو کرہ ہے اس سے مل جاتے ہیں۔ اگر کسی کے ساتھ ایسا ہو تو اس کو وصفاً و ذاتاً کہنا درست و ٹھیک ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ و ہم یہی رہتا ہے کہ لوہا تھا جب حقیقت سے لوٹ آتا ہے تو جیسا کہ پہلے تھا ویسا ہی رہتا اور دکھلائی دیتا ہے۔
اللہ تعالی نے الکبریا ردائی (بڑا پن بڑائی میری چادر ) فرمایا۔ وہ اسی چادر میں مرید کے چہرہ کو ڈھانپ لیتا ہے۔ خالق سبحان ( پاک پیدا کرنے والا ) صورت انسان میں جو محدث (نوپیدا) زائل و فانی ( جاتے رہنے والی اور مٹ جانے والی ) ہے۔ تجلی کبریائی کرتا ہے تو ہر کوئی یہ گمان نہیں کرتا کہ یہ صفت کبریا سے متجلی ہے۔ وہ بادشاہ جو مالک الرقاب گردنوں کا مالک ہے جس کے قبضہ میں لوگوں کی گردنیں ہیں یعنی سب کا مالک ہے۔ وہ اندھیری رات میں مانگنے والوں کے لباس میں مانگنے والوں کا لباس لئے ہوئے لوگوں کے دروازوں پر گھومتا روٹی ٹکڑا مانگتا ہے۔ کیا کوئی گمان کر سکتا ہے یا کسی کے وہم و خیال میں آ سکتا ہے کہ سب کا مالک سارے جہان کا مالک آیا ہوا ہے۔ سب یہی سمجھتے ہیں کہ کوئی ٹکڑ گدا ہے۔ یہ سننے کے بعد تم مانو گے یا نہیں کہ کبریائی اس کی چادر ہوگئی ۔ یہ وہی صورت ہے۔ الشیخ یحی ویمیت ( شیخ جلاتا اور مارتا ہے) جو کہتے ہیں وہ اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس پر زندہ کرنے کی صفت جلوہ کی ہوتی ہے۔ یعنی اللہ کی صفت احیاء و اماتت (زندہ کرنا۔ مار ڈالنا) سے متصف ہو جاتا ہے۔ تو وہ شیخ یحی و یمیت ہو جاتا ہے ان صفات سے متصف ہو جانے سے شیخ جلاتا اور مارتا ہے یہ وہی کرتا ہے جو خدا کرتا ہے۔ یہ صورت وہ ہے جس میں شیخ درمیانی واسطہ (پیچ کی کڑی) سے زیادہ نہیں۔ اچھا یہ تو کہو کہ یہ کسی کا گمان ہو سکتا ہے کہ اس جہان یا اس جہان میں حضرت تقدس و تعالی کا جمال ان آنکھوں سے کوئی دیکھ پاتا ہے۔ اس آنکھ کی پتلی پایہ اور ڈھیلہ سے کہ وہ آنکھ میں ہوتے ہیں اور وہ آنکھ سر میں پیشانی کے نیچے ہوتی ہے۔ اس سے کوئی دیکھتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہی آنکھ اس بصیر و سمیع کے فیض سے فیض لے کر اسی کے فیض سے اس کو دیکھتی ہے۔ آفتاب آنکھ سے کہتا ہے کہ اے آنکھ تجھ کو شرم نہیں آتی۔ تو یہ کہتی ہے کہ میں دیکھ رہی ہوں ۔ تیری یہ قدرت طاقت کہاں کہ تو دیکھ سکے۔ میرے فیض سے مستفیض ( فیض پاکر ۔ فائدہ اٹھا کر ) ہو کر دیکھتی ہے اور یہ کہتی ہے کہ میں دیکھ رہی ہوں ۔ حقیقت میں میرا فیض ہی دیکھتا ہے۔ تو نہیں دیکھتی ۔ مارائی اللہ غیر اللہ (اللہ کے سوا اللہ کو کوئی نہیں دیکھتا) کے معنی یہی ہیں ۔ مسکین بیچارے معتزلی کو یہی دھو کہ ہوا اسی سے وہ حضرت الوہیت کے جمال سے محروم ہو گیا۔ بچارہ مسکین فقیہ کو بھی یہی وہم آگھیرا کہ مٹ جانے والی دنیا میں باقی رہنے والے کا جمال کیسے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں کیسے اور کیونکر دیکھ سکتے ہیں۔ سچ ہے اس کو کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ وہ اپنے آپ کو آپ ہی دیکھتا ہے۔ اس کو اس کے سوا کسی اور نے نہ دیکھا۔ اس نے اپنے آپ کو آپ ہی دیکھا۔ وہ اپنے آپ سے آپ ہی عشق کرتا ہے کسی کے ساتھ مشغول ہی نہیں ہوتا۔ اپنے آپ میں آپ ہی ہے۔ اپنے آپ سے آپ ہی مشغول ہے۔
روایت کرتے ہیں کہ سیدنا امام جعفر الصادق رضی اللہ عنہ نے ایک دن اپنے سب گھر میں رہنے والوں کو جمع کیا جب بیوی بچے لونڈی غلام سب حاضر ہو گئے تو آپ نے سب سے فرمایا کہ میں تم سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔ میں جو پوچھوں اس کا جواب سچ سچ دینا اگر نہ دو گے تو اللہ تعالیٰ کے پاس جواب دہ رہو گے اللہ تعالیٰ کا حق تمہاری گردنوں پر رہے گا۔ سب نے کہا کہ ہم سچ سچ کہیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ تم جو عیب مجھ میں دیکھتے ہو یا جو عیب مجھ میں ہے وہ میرے منہ پر مجھ سے کہہ دو۔ تا کہ میں اس کے دور کرنے کی کوشش کروں۔ سب نے ایک زبان ہو کر آپ کی تعریف و توصیف کی مدح و ثنا میں مبالغہ کیا۔ اس کے بعد عرض کیا ہم آپ میں صرف ایک بات پاتے ہیں۔ جس کے کہنے کی جرات نہیں پاتے کہنے کی مجال نہیں رکھتے۔ اس کو آپ سے کہہ بھی نہیں سکتے ۔ آپ نے فرمایا کہ میں وہی بات سننا چاہتا ہوں ۔ تمہیں کہنا ہوگا۔ تو سب نے یہ کہا کہ بہترین صفات اچھی خوبیاں جو ہو سکتی ہیں ان سب سے آپ آراستہ پیراستہ ہیں البتہ تھوڑا سا کبر (بڑائی۔ میں پن) آپ میں پایا جاتا ہے۔ فرمایا ہاں۔ سچ ہے ٹھیک کہتے ہو۔ ایک زمانہ تھا کہ مجھ میں میرا کبر موجود تھا۔ اب اس کا کبر آ گیا۔ وہ میرے کبر کے بجائے ہو گیا اس کی جگہ لے لیا ہے۔ جو کچھ تم دیکھ رہے ہو۔ وہ میرا نہیں اس کا ہے۔ یہ فرمایا کہ اس کا کبر میرے کبر کی جگہ لے لیا ۔” کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ میرا کبر اس کے کبر سے متصف ہو گیا ۔ جیسا کہ لوہا کہ وہ بلحاظ ذات لوہا ہے اور بلحاظ صفت آگ ہو جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس کا کبر میرے کبر کو جڑ پیڑ سے اکھیڑ کر پھینک دیا۔ جب میں خالی خولی ہو گیا تو خود میرے کبر کی جگہ لے لیا۔” یہی کہ بلحاظ ذات آگ اور بلحاظ صفت لوہا ہے جو کچھ ہم شروع سے کہتے آ رہے ہیں اس کی یہ بھی ایک مثال ہے۔ لوہے کو آگ میں تپاتے ہیں تو اس کی کئی صورتیں، شکلیں ہوتی ہیں بیان کرنے لگ جاؤں تو قصہ طویل ہو جائے گا۔ والسلام

ساتواں حدیقہ

شیخ ، اس کے فرائض واجبات

کوئی شیخ جب کسی کو شیخ بنانا یہ مرتبہ دینا اس رتبہ سے سرفراز کرنا چاہتا ہے تو ایسے شخص کی ساری عبادتیں طاعتیں (خدا کی بندگی فرمانبرداری) حسنات (نیکیاں) ہنات ( محنتیں ۔ ریاضتیں ) زلات (لغزشیں کم حوصلگیوں) کو جانچ لیتا ہے۔ جس قدر اس کے مرید وابستہ معتقد ہوں گے۔ ان کو اور ان کی ساری عبادتوں طاقتوں گنا ہوں اور کوتاہیوں لغزشوں کی بھی جانچ پڑتال کر لیا کرتا ہے کیونکہ ان سب کو شیخ کے اعمال کے پلہ میں تولتے ہیں۔ اگر شیخ کا پلہ بھاری ہو جائے تو اس کو شیخ کا رتبہ دے دیتے ہیں۔ یہ جو کہا گیا کہ کل قیامت میں مریدوں کے گناہوں کو مرشد کے پلو میں باندھ دیں گے وہ یہی بات ہے۔ اس مرتبہ و مقام کے شاہد عادل امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ اور مصدق امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما ہیں۔ امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہم کی تصدیق ہونے کے بعد کہ یہ شیخ شیخ بنائے جانے کا مستحق ولائق ہے۔ علی کرم اللہ وجہ کی گواہی پیش ہوتی ہے تو اجازت ملتی ہے۔ ہمارا یہ ایمان ہے اور ہم سچ جانتے ہیں کہ اس کو مقام شفاعت دیا جائے گا۔
بعض یہ سوال کیا کرتے ہیں کہ طاعت – عبادت ۔ گناہ۔ ذلت وغیرہ جس قدر بھی اعمال ہیں وہ سب اعراض ہیں ان کا وزن کیسے کیا جا سکتا ہے وہ کسی طرح تو لے جا سکتے ہیں۔ تو لنا کیا معنی رکھتا ہے۔ میزان (ترازو) سے کیا مراد ہے وہ کیا چیز ہے۔ یہ ایسی نازک بات ہے جو بیان میں نہیں آسکتی۔ یہ کیا ہے کوئی کہہ نہیں سکتا۔ ہر شخص کا ذہن پہنچ نہیں سکتا۔ ہر شخص کے فہم کی رسائی یہاں تک نہیں ۔ عام طور سے ترازو کے دو پلڑے ہوا کرتے ہیں۔ تین ڈوریوں کے سرے کو ہر پلڑے میں لگا کر ایک ڈنڈی کے بیچوں بیچ ایک سوراخ ہوتا ہے جس کو عین المیز ان (ترازو کے درمیانی بتانے والا حصہ) کہتے ہیں۔ ایسی صورت کی جو چیز ہو۔ اس میں اعراض کا تلنا تول میں آنا کیسے ہو سکتا ہے۔ ان پلڑوں میں ان کا سمانا کیونکر ہو سکتا ہے یہ کیا معنی رکھتا ہے امام محمد غزالی علیہ الرحمتہ کہتے ہیں کہ ایمان کا تولا جانا ایسا ہی ہے لیکن اس میں پلڑے ڈوریاں کیسی لکڑی کیا بات۔ یہ میزان اور ہی ہے۔ اس میزان میں جو چیز تلتی ہے۔ اس کو اس پر سے سمجھ لو جیسے اشعار کی میزان ہوتی ہے۔ شعر کے وزن سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کس بحر کا ہے کس حد تک ٹھیک ہے۔ کہاں اس میں سکتہ ہے ۔ کہاں کیا عیب ہے۔ کہاں بڑھ گیا ہے کہاں گھٹ گیا ہے۔ موزوں ہے یا غیر موزوں وزن میں کون سا لفظ گر گیا ہے۔ اس طرح اعمال کا بھی وزن ہو گا۔ انسانی اعمال ایسی ترازو میں تلیں گے۔ یہ کلام ایسے حکمائے اسلامیہ کا ہے جنہوں نے شیخ محمد بن ناصر کی شاگردی کی ہے۔ حکمت اسلامیہ میں تو پورا اترتا ہے۔ خواجہ محمد غزالی علیہ الرحمتہ کی تصانیف میں سب کچھ ہے۔ اس کو انہوں نے نہایت خوبی سے ثابت کیا ہے۔ اس کو عقل کے مناسب کہہ سکتے ہیں لیکن عقل معاد کے لحاظ سے صحیح نہیں۔ بلکہ اس قدر سمجھ لینا چاہئے کہ جو میزان قائم ہوگی۔ اعمال کے وزن یعنی جانچ اور بدلہ کے لئے ہوگی تاکہ بندے یقین کے ساتھ جان لیں کہ جو کچھ ہمارے ساتھ کیا جا رہا ہے اس کے ہم مستحق ہیں اعمال کے تناسب میں اس کی مناسبت کے لحاظ سے ایسا اس کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ میزان عروض (شعر کے وزن) کی خصوصیت یہ ہے کہ شعر کہنے والا اپنے کہے ہوئے کو وزن کر لیتا ہے۔ کہاں عیب ہے کہاں کمی ہے جان لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے۔ جزئیات کلیات کا اس کو پورا علم ہے۔ اس کو اس کی حاجت و ضرورت ہی نہیں کہ وزن کرنے کے بعد جانے کہ کیا کمی کیا زیادتی ہے۔ لَا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بالله انه عالم بجزئيات وكليات اللہ کے سوا کسی میں حول وقوت نہیں ۔ وہ بڑی چھوٹی کل جز کا جاننے والا ہے ) جس کو جیسا چاہا بنا دیا۔ اپنے ازلی ارادہ کے موافق بنایا اس لحاظ سے حکماء کے کہے ہوئے بیان کئے ہوئے کو علمائے باللہ اہمیت نہیں دیتے مقدار و اندازہ میں نہیں لاتے کہ یہ کوئی وزن نہیں رکھتے انشاء اللہ تعالیٰ اس کو بھی اللہ کی توفیق سے بیان کیا جائے گا ۔ بالله التوفیق (اللہ ہی توفیق دینے والا ہے ) فی الوقت اس بات کو اللہ ہی پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو تم میں کوئی خواب دیکھے اس کو بیان کرے اور تعبیر لیا کرے۔ ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر چیز کی جو نسبت ہے اس سے مطلع ہیں۔ جو باتیں خواب سے متعلق ہیں یا اس سے نسبت رکھتی ہیں۔ ان کا لحاظ کرتے ان کی مناسبت کا خیال رکھتے ہوئے خواب کی تعبیر دی جاتی ہے ایک وہ نسبت جو دوسری نسبتوں میں سے باقی ہے وہ آپ کے معجزہ وکرامات میں ایک شخص خواب میں دیکھتا ہے کہ ایک خوبصورت عورت اس کو مٹھائی یا مصری نیشکر دے رہی ہے۔ تعبیر دینے والا یہ تعبیر دیتا ہے کہ دنیا کی کوئی چیز اس کو ملے گی۔ دنیا اپنا حال بتلا رہی ہے۔ عورت کی صورت کا تمثل لی ہے۔ دوسری بات یہ کہ وہ اپنی حقیقت کے ساتھ ظاہر ہوئی ہے کیونکہ حقیقت میں وہ خوبصورت عورت ہے۔ اگر کسی نے خواب میں یہ دیکھا کہ وہ کچرا کوڑا کھا رہا ہے تو تعبیر دینے والا اس کی یہ تعبیر دیتا ہے کہ وہ دنیا سے ہر طرح کا فائدہ پورے طور سے اٹھائے گا۔ اعمال جس میں تو لے جائیں گے اس میزان کو اس کی صورت و حالت کو تصور میں لے آؤ۔ حق سبحانہ تعالیٰ نے ترازو کی صورت کو اس مثال کے ساتھ جو اس نے ترازو کی صورت کے جیسی ظاہر کیا ہے اعمال اعراض ہیں ان کو صورت کا تمثل دیا گیا (مشابہت دی گئی ) اعمال حسنہ ( نیک کام ) کو ایک خوبصورت نوجوان اچھی صورت والا سانچہ میں ڈھلا ہوا بدن زیبا شکل دی گئی ۔
آن یار گل اندام چنان شست بر دلم کز بہرشست دیگرے جائے دگر نماند
وہ پھول کے جیسے جسم والا میرے دل میں ایسا اس طرح بیٹھ گیا کہ جس میں دوسرے کے لئے بیٹھنے کی کوئی جگہ ہی نہ رہی)
اعمال سیئہ (برے کام) کی صورت بڑی ڈراؤنی بڑے موٹے ہونٹ بہت بری چپٹی ناک بدصورت و بد ہیئت لنگڑی لولی شکل دی گئی۔ ایسا تمثل اس کو دیا گیا۔ نہایت غور انتہائی باریکی سے ان دونوں صورتوں کو ایک ایک پلڑے میں رکھ کر وزن کرنے کے بعد ان میں توازن کیا جاتا ہے۔ بھاری ہلکے کو جان لیا جاتا ہے۔ کون سا ہلکا کون سا بھاری( وزنی) ہے پہچان میں آ جاتا ہے۔ کاغذ کے ٹکڑوں کے ساتھ سونے کے ورق کا توازن کیسے ہو سکتا ہے۔ ایک ساتھ آپس میں برابری کے ساتھ وزن کرنا کیسے ہو سکتا ہے۔ اس مثال سے سمجھ سکتے ہو کہ کون سا بے قیمت کون سا قیمتی’ کون ہلکا اور کون بھاری ہے۔ ہر ایک کا اندازہ و میزان کچھ اور ہی ہے۔ خدائے تعالیٰ بندوں کو ایسی سمجھ ایسا اندازہ عطا فرمائے گا جس سے ہر شخص یہ جان لے گا کہ یہ میرے برے کام اور یہ میرے اچھے کام کی صورت ہے۔ سب اسی طرح یقینی طور سے سمجھ جائیں گے کہ یہ ہمارے اپنے برے کئے ہوئے کی صورت ہے۔ ہر ایک سمجھ جائے گا کہ میں کسی چیز کا
مستحق ہوں ۔ مجھ پر عذاب ہوگا یا مجھ کو نجات ملے گی ثو اب ہاتھ آئے گا۔
ہر ایک یہ جان لے گا کہ میں اس کا مستحق تھا۔ میں جس کا مستحق تھا وہی میرے سامنے آیا ہر شخص یہ بھی سمجھ جائے گا کہ صورت حسنہ اچھے اعمال کی صورت قبیحہ برے اعمال کی صورت ہے۔ سب سمجھ جائیں گے کہ اللہ تعالی صورت حسنہ کو احسن الصور ( سب صورتوں میں سے اچھی صورت ) بنایا۔ یہ اس کی مہربانی و نوازش، اس کا فضل و کرم ہے۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ اعراض ” جو ہر بنا دیئے جائیں گے۔ اس کا مطلب یہی ہے اس کے معنی یہی نکلتے ہیں لیکن وہ اس بات کی حقیقت سے غافل ہیں۔ ہم نے جو کچھ دو مثالوں میں بیان کیا ہے ان میں ایک حقیقت دوسری مجاز کی بنیاد لئے ہوئے ہے اور اس پر مبنی ہے۔ جن قیاسات کی بناء پر جو کچھ ہم نے کہا ہے اس کو سمجھ لو۔ قیمت جان لو عقلمند کے لئے اشارہ کافی ہے۔ اگر حقیقت پر نظر ہو تو سارے وجودات تمثل ہی تمثل ہیں ۔ لا حول ولا قوة الا بالله میں کہاں جا پہنچا۔ رجوع واپسی کی بات ایسے شخص ہی سے کہی جاسکتی ہے جو معارف کی انتہا کو پہنچ گیا ہو۔ اس سے آگے فہم کی رسائی نہیں۔ یہاں ہماری مراد اس قول سے ہے۔ جس کا قول ہے اس کا صاف کھلا ہوا بیان ہے۔ ماثورہ (احادیث میں آئی ہوئی دعائیں) میں ہے کہ ما ابلغ مدحتك ولا احصي ثناء عليك انت كما اثنيت على نفسك ( ہم تیری مدح کر نہیں پاتے تیری ثناء کر نہیں سکتے جو ہمارے اندازہ و شمار سے بالاتر و بے انتہا ہے ہاں وہی جو تو نے اپنی حمد و ثناء آپ کی ہے) کچھ سمجھے کہ یہ کیا ہے۔ ابتداء میں ہم نے جو کہا تھا وہ یہی کہ اعوذ بعفوك من عقابك تيرى معانی درگزر کی پناہ میں آتا ہوں تیرے عذاب تیری پکڑ سے ) ایک فعل سے ایک فعل کی پناہ لے کر اعوذ برضاك من سخطك پناہ میں آتا ہوں تیری خوشنودی رضا مندی کی تیری نا خوشی ناراضی سے ) کہا ایک صفت سے دوسری صفت کے دامن (پلو) میں آ گیا۔ پھر اس مقام سے ترقی کرتے ہوئے ذات میں پہنچ کر اعوذ بك منك ( تیری پناہ میں آتا ہوں تجھ سے ) کہہ دیا۔ ما ابلغ مدحتك الا احصي ثناء عليك انت كما اثنيت على نفسك كوان سب کو۔ اے مسکین اس وقت جانے گا جب اس مرتبہ میں آئے گا۔ میں نے اس مختصر میں جو کچھ بیان کیا ہے اس کو بھی سمجھ لے گا کہ اس میں کیا کیا کھولا گیا ہے یہ بھی جان لے گا کہ جنت دوزخ ثواب عذاب کی صفت کا پوری طرح سے بیان ہو گیا۔ میں نے جو کہا ہے اس کو علماء باللہ ہی جانتے ہیں۔ خدا تعالی تمہیں علم عطا فرمائے ۔۔
تو چه دانی که با تو نگذشت است شب هجران و روز تنہائی
تو کیا جانے کہ تجھ پر بیتی ہی نہیں جدائی کی رات تنہائی کا دن)
معشوق کے ساتھ خلوت (تنہائی) میں کبھی ایک نہ ہوا۔ دوئی ہمیشہ باقی رہی وصال و فراق کا کبھی احساس نہ ہوا۔ تمہیں اس بات کی کیا خبر ۔ اگر اس ماثورہ سے تمہیں آشنائی (وقوف ) مل جائے تو اس کو سمجھ سکو گے ۔ دعائے ماثورہ یہ ہے۔ یا نور یا نور النور يا منور النور يا نور السموت والارض (اے نور اے نور کے نور اے نور کے نورانی کرنے والے آسمانوں و زمین کے نور )
کے بود ما از ما جدا مانده من و تو رفته و خدا مانده
کب ایسا ہوا کہ ہم اپنے آپ سے الگ رہے میں اور تو چلا گیا اور خدا رہ گیا)

آٹھواں حدیقہ

نماز – نیت – عمل

نيت المومن خير من عمله مؤمن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔ ) يا نيت المرء خير من عمله (مرد کی نیت اس کے عمل سے اچھی ہے ) جو کہتے ہیں۔ حدیث شریف سے بھی اس کو اچھا خاصا لگاؤ ہے۔ فرض کر لو کہ کوئی نماز ادا کر
رہا ہے۔ نماز میں ۔ قیام – قرات – رکوع سجدے۔ سب کچھ جیسا کہ ادا کرنا چاہئے کر رہا ہو۔ نماز کی نیت نہ ہو تو فرض ادا ہوتا ہے نہ نقل یعنی کوئی نماز ادا نہ ہوئی ۔ ایسی نماز کسی حساب میں گنتی شمار میں نہیں آتی ۔ ایسی حرکات کرنے والے نے جو کیا فضول بیکار کام کیا جس میں نہ ثواب نہ عذاب ۔ اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ چند لوگ ایک صف میں کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے ہیں۔ ان میں ایک وہ ہو جو رسم و عادت کے لحاظ سے نجات کے لئے پڑھ رہا ہو۔ ایک وہ ہو جو مراتب پر پہنچنے جنت کی نعمتوں کے لئے پڑھ رہا ہو۔ ایک وہ ہو جو اللہ تعالیٰ کے دیدار کے لئے ادا کر رہا ہو۔ ایک وہ ہو کہ صرف اس لئے کہ وہ ہمارا اللہ ہے ہم اس کے بندے ہیں نماز میں ہو۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کی نماز ہر ایک کی نیت کے موافق قبول کرے گا۔ دکھاوے اپنے آپ کو اچھا دکھلا نے لوگوں کی نظر میں آنے کے لئے جو نماز پڑھ رہا ہے اس کے متعلق فقیہ یہ کہتا ہے کہ اس کو نہ ثواب ملتا ہے نہ عذاب ۔ صوفی کہتا ہے کہ وہ خدا کے شرک کرنے والوں میں سے ہے یعنی مشرک ہے۔ اس سے یہ سمجھ میں آ جاتا ہے کہ نیت عمل سے بہتر کیوں ہے اور کیا بات ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ عمل المرء خير من نيته ( مرد کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے) ان کا مطلب یہ ہے کہ نیت ہو عمل نہ ہو تو وہ نیت کس کام کی۔ اب تم ہی سمجھ لو کہ نیت عمل سے بہتر ہے یا نیت سے عمل بہتر ہے۔ مثلاً ایک شخص صاحب نصاب ہو۔( زکوۃ جس پر فرض ہو گئی ہو ) ایک سال گزر گیا ہو۔ اگر وہ زکوۃ کی نیت کئے بغیر تمام مال خدا کے راستہ میں دے دے تو کہتے ہیں کہ اس میں ثواب زیادہ ہے۔ اس کا درجہ بڑھا ہوا ہے۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث کی روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ زينوا القرآن باصواتكم ( قرآن کو اپنی آواز سے زینت دو ) اس فرمانے میں معاملہ بالکل برعکس ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنی آوازوں کو قرآن سے زینت دو۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب کوئی اچھی آواز سے قرآن پڑھتا ہے تو سننے والے کے دل میں زیادہ اثر کرتا ہے۔ رقت پیدا ہوتی ہے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا قرآن پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سننا اور فرمانا کہ تم کو داؤد علیہ السلام کی آل کی بانسری میں سے ایک دی گئی ہے اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا جواب میں یہ عرض کرنا کہ اگر مجھ کو معلوم ہوتا کہ آپ سن رہے ہیں تو میں اس سے بہتر طریقہ اور عمدگی کے ساتھ پڑھتا۔ اب تم ہی کہو کہ قرآن کی زینت آواز سے ہوئی یا آواز کی زینت قرآن سے ہوئی۔ بہر حال اعتبارات مختلف ہیں۔ اس بارہ میں خاموشی ہی بہتر اور اچھا طریقہ ہے۔ والسلام

نواں حدیقہ

دل کے مراتب اور طور

علمائے اہل سنت والجماعت متفق ہیں کہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا سنت موکدہ ہے۔ جماعت میں امام اور مقتدی شامل ہیں۔ امام اور اس کی اقتداء کرنے والے جہاں جمع ہوں نماز ادا کریں وہ جماعت کہلاتی ہے۔ ایک کا دوسرے کے ساتھ سب کا ایک جگہ جمع ہو جانا جماعت کا حکم رکھتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جماعت دو کا ایک ہو جانا تین کا ایک ہو جانا ہے۔ تین ہوں تو جماعت ہوتی ہے جن کا پہلا اگلا ایک ہوتا ہے۔ میرے خواجہ قدس سرہ العزیز نے فرمایا کہ اگر کوئی اسی سال میں ایک نماز جماعت میں آئے بغیر ادا کیا تو صوفیا اس کو گندہ کہتے ہیں۔ جب کوئی کسی شیخ کا مرید اس کے حلقہ میں آ جاتا ہے تو اس کو شیخ پہلی نصیحت یہ کرتا ہے کہ نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا۔ اس کو لازم و ضروری سمجھنا۔ بعض علماء جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کو واجب کہتے ہیں۔ سنت اور واجب میں ایک رشتہ داری ہے جس کو بھائی چارہ بھی کہتے ہیں۔ میرے استاد مولانا عماد الدین تبریزی رحمتہ اللہ علیہ واجبات کو مکلمات کہا کرتے تھے۔ بعض علماء جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا فرض کہتے ہیں۔ اركعوا مع الراکعین کی آیت سے سند و دلیل لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے معنی نماز پڑھو نماز پڑھنے والوں کے ساتھ اس کو حدیث شریف سے ثابت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ لوٹ جا نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ اس کے متعلق مشہور روایتیں ہیں۔ یہ حدیث کافی شہرت رکھتی ہے۔ یہ بھی سن لو کہ موجودات ( موالید ) کی وضع قطع شکل و صورت قسم قسم کی ہے ہر نوع کا ایک موجود حیوان – نبات – جماد) اپنے طور سے تسبیح و نماز میں ہے۔ اللہ تعالی نے کسی کو سر نیچا کیا ہوا کسی کو سر او پر کیا ہوا پیدا کیا۔ حیوان – نبات – پرند ۔ ان سب کی تسبیح ان کی نوع کے لحاظ سے ہے وہ اپنی اپنی تسبیح کیا کرتے ہیں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ان من شئی يسبح بحمدہ ( کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تسبیح و تعریف نہ کرتی ہو ) اس کے معنی یہ کرتے ہیں کہ ہر ایک کا تسبیح کرنا۔ صانع – علیم ۔ قدیم – حکیم ( بنانے والا ۔ جاننے والا ۔ قدامت والا ۔ حکمت والا) کے وجود کی دلیل ہے۔ جس کی سب تسبیح کرتے ہیں۔ ہر ایک کی تسبیح ایک قسم کی ہے ہر ایک اپنی اپنی خاص مخصوص تسبیح کیا کرتا ہے۔ اہل کشف و عیاں (اہل اللہ ) نے یقین کے ساتھ اس کی خبر دی ہے۔ علی مرتضی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ اور اس چیونٹی کی حکایت جو آپ کے نعلین کے چمڑے سے زخمی ہو چکی تھی، کتابوں میں لکھی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ سبحانہ فرماتا ہے کہ وسخرنا مع داؤد الجبال يسبحن (ہم نے پہاڑ کو داؤد کے حکم میں کر دیا اور وہ تسبیح کرتے ہیں ) کنا فاعلين ہم ہی کرنے والے ہیں اس کے با انصاف گواہ ہیں) بحمدہ جو ضمیر (اسم اشارہ) ہے وہ اللہ کی طرف راجع ہوتی (لوٹتی) ہے اگر شئی (چیز) کے ساتھ راجع ہے۔ کہیں بھی تو ہو سکتا ۔ کیونکہ وما من موجود الاوله ( نہیں ہے کوئی موجود مگر اسی کے لئے ) یعنی جس مرتبہ میں بھی جو کوئی ہے اس کی ایک نسبت اپنی طرف اور ایک نسبت اپنے پروردگار کی طرف ہوتی ہے۔ لہذا جب توجہ پروردگار کی طرف ہو تو وہ وجہ اور نسبت جو کسی چیز میں ہے وہ بھی تو پروردگار ہی سے نسبت رکھتی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی ہی طرف لوٹتی ہے۔ جس کے معنی یہ ہوئے کہ کوئی چیز ایسی نہیں جو اپنی خاص و مختص تسبیح نہ کرتی ہو۔ لا حول ولا قوة الا بالله. میں کہاں جا پہنچا۔ اب ہم اس گفتگو میں آ جاتے ہیں جو ہم کر رہے تھے۔ ایک مخلوق ایسی بھی ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالی کی عبادت لوٹتے پوٹتے چت لیٹے ہوئے کیا کرتی ہے۔ انسان ہی وہ مخلوق ہے جو سیدھا کھڑے ہو کر جھک کر زمین پر سر رکھ کر بیٹھ کر لیٹ کر ہر طرح سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتا ہے۔ اس کی ایک مخلوق ایسی بھی ہے جو سر نیچا کئے ہوئے اس کی عبادت میں مشغول ہے- ومنهم من يمشى على اربع. ان میں سے وہ جو چار پاؤں پر چلتے ہیں ) یعنی چوپایہ۔ اس کی ایک مخلوق وہ بھی ہے جو پیٹ کے بل گھستے رینگتے ہوئے چلتی ہے جس کی نسبت ومنهم من يمشى على بطنه وه جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں) جیسے کہ سانپ وغیرہ سارے اقسام وانواع کی مخلوق کے لئے ایک طرح سے ادائی مقرر ہے۔ ایک انسان ہی وہ ہے کہ وہ ہر قسم و ہر نوع کی عبادت میں رہتا ہے۔ مثلاً اگر کھڑا ہوا ہے تو کھڑے ہوئے بھی عبادت میں ہے جس کو قیام کہتے ہیں۔ جھکا ہوا ہے تو جھک کر بھی عبادت میں ہے جس کو رکوع کہتے ہیں۔ یہ چوپایوں کی عبادت کی صورت ہے۔ اگر پیشانی اور منہ کے بل چلنے والوں کی عبادت کی صورت ہے کہ وہ سر جھکائے ہوئے اللہ تعالی کی عبادت کرتے ہیں۔ غور کر لو کہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے کیا معنی ہوئے۔ یہی کہ اللہ ہی کے ہو جانا ۔ اللہ ہی کے لئے اللہ کی عبادت کرنا ۔ ارکان میں برابری کو فرض کہا گیا حق و حقیقت کی حقیقتا یہی نماز ہے۔ نماز کا جماعت کے ساتھ ادا ہونا یہی ہے۔ غور سے سنو انسان ایک جسم ایک دل۔ ایک روح ایک سر (روح الروح) اور ایک انتہائی باطن رکھتا ہے جس کو خفی کہتے ہیں۔ یہ پانچوں ایک ہی خانہ میں قرار لیتے ٹھہرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد ( ملاپ ) کی صورت رکھتے ہیں۔ دل خفی میں اس طرح جمع ہو جاتا ہے جیسا کہ قطرہ دریا میں۔ ایک کے دوسرے کے ساتھ اتحاد کی یہی مثال ہے۔
اے عزیز نماز جماعت کے ساتھ ۔ حق کی قسم ۔ رب العزت کی معرفت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ ہے۔ اللہ ہی کے لئے ادا کی جاتی ہے۔ اللہ ہی اللہ نماز میں ہوتا ہے۔ انا من اهوى من اهوئی (میں ہی ہوں میرے سوا کون ہے ) کہا گیا۔ والسلام

دسواں حدیقہ

دل اور اس کی کیفیت

قرآن کی تفسیر کرنے والے دین کے علماء و حکماء سب اس میں ایک رائے ہیں۔ سب کا اتفاق اس پر ہے کہ اللسان ترجمان القلب (زبان دل کی ترجمان ہے) جو دل میں ہوتا ہے وہ کہتی ہے دل کی ترجمانی کرتی ہے۔ یہ نظر یہ کلام باری تعالی و تقدس کے ساتھ کسی طرح سے بھی ٹھیک و درست ربط نہیں پاتا۔ کیسے پا سکتا ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ وہ لوگ کہتے ہیں اپنی زبانوں سے۔ ان کے دلوں میں کچھ نہیں۔ وہ آیت یہ ہے يقولون بالسنتهم ما ليس في قلوبھم بہت ساروں سے جنہیں علمی گفتگو نازک بار یک باتوں سے واقف و باخبر ہونے کا دعوی تھا میں نے اس بارہ میں سوال کیا۔ جواب خاموشی تھی۔ ان کا چپ رہنا۔ گھبرائی ہوئی پریشان صورت لئے ہوئے تھا۔ چونکہ ہمارا مقصد تحقیق کے ساتھ بیان کرنا سمجھانا ہے اس لئے ہم تھوڑی سی تمہید و تفہیم کے ساتھ بیان کریں گے۔ سنو ۔ دل کے سات طور بتلائے گئے ہیں ایک کو قلب (دل) دوسرے کو فواد ( گہرائی دل) تیسرے کو خفاف ( دل کی ستھرائی) چوتھے کو جاش ( دل کی تو ڑموڑ ) پانچویں کو خلد ( دل کی دائمی ) چھٹے کو ہاجہ (دل کا تحرک) ساتویں کو جمال (دل کا ابھار ) کہتے ہیں۔ ان ہی ساتوں کے اور بھی نام ہیں۔ جو بھی ہیں وہ دل کے طور کے نام ہیں۔
بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی کے دل میں جو کچھ ہوتا ہے وہ زبان سے نہیں کہتا بلکہ اور ہی کہہ جاتا ہے۔ اس کے کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے دل کے پردوں میں ایک پردہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے زبان سے کچھ اور کہہ جاتا ہے۔ دل میں جو ہے وہ نہیں کہتا۔ کلام اللہ کا حافظ قرآن پڑھتا جاتا ہے اور اس کا دل قسم قسم کی باتیں اس سے کرتا جاتا ہے۔ حکایتوں کا بیان ان سات پردوں میں سے ایک پردہ میں ضرور ہے۔ عاشق مبتلا جس پر محبت غلبہ پا جاتی، وہ چوتھے درجہ میں ہوتا ہے۔ حق کے سوا دوسرے کی محبت چوتھے پردہ تک ہے اللہ کی محبت جب دل کی گہرائیوں میں آ جاتی ہے گھر کر جاتی ہے تو اللہ کے سوا جو کچھ ہیں ان کا گزر اس تنہائی میں نہیں ہونے پاتا۔ اگر حافظ قرآن اس طرح پڑھے کہ جو کچھ وہ زبان سے ادا کر رہا ہے پڑھ رہا ہے۔ اس کا دل بھی وہی کہتا جائے تو بہت جلد قرآن کے اسرار و رموز اس پر کھل جائیں۔ یائے حروف اس کی مراد کے موافق اس کے ہاتھ آ جائے۔ لطیف زمانہ ( کم وقت ) میں الم سے والناس تک حرفاً حرفاً حروف و مخارج کے ساتھ بغیر کسی غلطی یا سہو یا لغزش کے تلاوت قرآن ہاتھ آ جائے۔ یہ بات نادریہ معنی ایسی اچھوتی ہے کہ علمائے باللہ کو ان کے جگر پانی پانی ہونے خون تھوکنے کے بعد ہاتھ آتی ہے۔ وہ بہت ہی نیک بخت ہے جس کی بغل میں یہ عروس از لی ( ہمیشہ کی دلہن ) آ جائے ۔ سنائی رحمتہ اللہ علیہ اسی طرف
اشارہ کر رہے ہیں۔
عروس حضرت قرآن نقاب انکه براندازد که دار الملک ایمان را مجرد بیند از غوغا
حضرت قرآن اپنا راز اس وقت کھولتا ہے جب کہ ایمان کےدار السلطنت کو گڑبڑے پاک صاف دیکھتا ہے) اس مقام اس مرتبہ میں یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ قرآن مخلوق ہے یا غیر مخلوق اللہ تعالی اپنے کلام نفسی سے ازلاً وابداً کلام میں ہے وہ اسی طرح سے گفتگو میں ہے کہ خاموشی چپ ہونا اس کے لائق و سزاوار نہیں ۔ حدوث (نو پیدا) زوال ( گھٹ جانا ) اور جمع کلام میں اس کا کلام جمع کرنا چاہیں تو وہ عربی میں ہو یا عبرانی میں، قرآن میں ہو یا توریت و زبور و انجیل میں یہ سب ایک ہی حرف ہے۔ اگر کوئی طئے حروف کو پہنچ گیا۔ اس کی صفت سے متصف ہو گیا تو اس کا کلام اس کی گفتار ویسی نہیں ہوتی ۔ مثلاً اللہ تعالیٰ شانه بسم اللہ فرماتا ہے تو پورا فرماتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ پہلے باء پھر سین پھر میم وغیرہ۔ جنہوں نے اس کا کلام اس ترتیب سے سنا ہے اگر ان کے قصے بیان کئے جائیں تو کئی جلد میں ختم ہو جائیں اور بات پوری نہ ہو۔ اس بارے میں جو کچھ کہا جا سکتا ہے وہ یہ کہ وہ ایک حرف ہی ہے اگر اس کو تحریر وتقریر میں لایا جائے تو ایک کتب خانہ بھی کافی نہ ہو۔
بعض محققین نے کلام ليس يحرف ولا صوت ولا غير حرف و صوت ( یہ وہ کلام ہے کہ نہ تو حرف کے ساتھ ہے نہ آواز کے ساتھ نہ غیر حرف نہ غیر آواز
سخن کوتاه کن گیسو درازا چو میدانی که محرم در جہاں نیست
اے گیسو دراز بات ختم کرو جب تم یہ جانتے ہو کہ دنیا میں کوئی رازدار نہیں)
یہاں لفظ و حرف بیان نہیں۔ اشارے رمز کنا یہ پلک مارنے اور اشارہ چشم کے سوا کچھ نہیں۔ کوئی چارہ ہی نہیں۔ کچھ کہنے میں آ نہیں سکتا کچھ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ مالک مرشدوں پیروں کے سہارے کھڑا ہوا ہے۔ یہ جاہل عالم نا بالغ بوڑھے سپید سر سپید داڑھی والے بچے اندھیرے میں ہیں۔ اس کو سمجھ نہیں سکتے۔ اس لئے تم اپنی زبان روک لو۔۔
مرد معنی را طلب آر این میان اہل صورت را نباشد اعتبار
ان میں سے باطن کے مرد کو ڈھونڈ نکال ظاہر کے لوگوں کا کوئی اعتبار نہیں)

گیارہواں حدیقہ

محبت حق ازلیت ابدیت

سب کاموں سے زیادہ اہم کام ساری بزرگیوں میں بڑی بزرگی اللہ تعالی کی محبت ہے۔ تعالى الله عن الزوال والانصرام (اللہ تعالی پاک برتر ہے گھٹنے پورے ہو جانے سے ) جب کوئی سمجھدار تعلیم یافتہ علم و حکمت کا ذائقہ پایا ہوا سو چتا ہے کہ اپنی عمر (زندگی) کو کس کام میں لگائے کس کی طلب میں صرف کرے۔ زندگی کا مقصد و مطلب کیا ہونا چاہئے تو وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ کسی سے محبت پیدا کرنی چاہئے ۔ جب غور و فکر کرتا ہے تو سب کو نزول وزوال میں دیکھتا ہے۔ محبت کے اسباب و لوازم قسم قسم کے پاتا ہے۔ گم ہونے مٹ جانے اتر جانے گھٹنے کے چکر میں دیکھتا ہے۔ ہر چیز کو فنا کے پھیر میں پاتا ہے تو آخرش اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ سب سے بہترین چیز سارے مطالب و مقاصد میں اعلیٰ ترین مقصد و مطلب پروردگار تعالی و تقدس کی عبادت ہے اس کو بھی عدم یعنی “غیب کے پردہ”” نہیں“ ہی کے بھنور میں چھپی ہوئی پاتا ہے۔
فرض کرو کہ کوئی للہ فی اللہ( اللہ کے واسطے اللہ کے لئے ) نماز کہ بہترین نیک کام ہے۔ اس کو پورے شرائط و ارکان کے ساتھ ادا کرے۔ اگر اس کو خداوند تعالی نے قبول کیا تو اس کی جزا (بدلہ ) دے گا۔ اس لحاظ سے نماز خیال ہی کے پھیر میں پڑ جاتی ہے کہ وہی جگہ انعام و اکرام کی ہے عبادت بندگی محنت مشقت برداشت کی جگہ نہیں وہاں آرام ہی آرام ہے اگر کوئی نماز پڑھنے لگ جاتا ہے اس کو اس پر استقامت مل جاتی ہے تو وہ لذیذ ترین پسندیدہ ترین چیزوں میں ایک چیز ہو جاتی ہے۔ اصل حقیقت یہ کہ اس کی نماز اس کے ہاتھ سے جاتی رہتی ہے۔ یعنی اس کی نماز خدا کی نماز نہ رہی بلکہ اس کی پسندیده مرغوب چیز ہو گئی۔ عبادت میں مزہ ملنے گا۔ معبود سے جس کی عبادت کیا کرتا تھا اس کا خیال نہ رہا۔ ذریعہ و زینہ ہی کی ہوا و فضا میں مگن ہو گیا۔ اس پر سے قیاس ہو سکتا ہے کہ جو کچھ ہے وہ جہل ہی ہے۔ دولت ۔ مرتبہ۔ قوت عیش سے فائدہ اٹھانا۔ آرام پانا خیال بازی ہی خیال بازی ہے۔ نماز جو حسنہ اور عین حسنہ ہے اس کا یہ حال یہ صورت ہے تو مال مرتبہ جاہ و عزت طاقت زور راحت و آرام وغیرہ کس شمار و قطار میں آئیں گے۔ ان کے علاوہ اور چیزوں کی نسبت کیا کہا جا سکتا ہے اس سے صرف یہ سمجھ میں آتا اگر کوئی چیز ہے تو اللہ کی محبت ہےاللہ کی محبت ایسی محبت ہے جو ازل ابد کے صفات رکھتی ہے۔ ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گی۔ اس کے ساتھ محبت کرنا ازلی و ابدی کے ساتھ ہو جانا ہے۔ اس لئے ہر سمجھدار تعلیم یافتہ سب سے منہ موڑ کر سب کی طرف پیٹھ پھیر کر اللہ تعالی کی محبت کی طرف رخ کرتا ہے۔ حکیم سنائی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں۔
گرت نزہت ہمی باید بصحراے قناعت شو که آنجا باغ در باغ است خان در خان و وادر وا
اگر خوشی چاہتا ہے تو قناعت کے میدان مرتبہ میں آجا کہ وہاں باغ میں باغ گھر میں گھر اور کھلے میں کھلا)
در از زحمت همی ترسی ز نا اہلاں ببر صحبت که از دام زبون گیران بعزلت رستہ شد عنقا
اور اگر خرابیوں سے ڈرتا ہے تونااہلوں کی صحبت چھوڑ کیونکہ برے شکاریوں کے جال سے بچنے کے لئے عنقا کنارہ کرلیا

مرا بارے بحمد اللہ ز راہ ہمت و حکمت بسوئے خطہ وحدت برد عقل از خط اشیاء
مجھ کو اللہ کا شکر ہمت و حکمت کے راستے سے وحدت کے مرتبہ میں۔ کثرت کے مرتبہ سے عقل لے پہنچی)
حکیم سنائی رحمتہ اللہ علیہ یہ فرما رہے ہیں کہ میری حکمت و ہمت کا تقاضا یہ ہوا کہ میں خداوند تعالیٰ سبحانہ کے سوا کسی کا طالب نہ رہوں ۔ اس کی طلب اس کی محبت میں اس کے لئے اپنی عمر صرف کر دوں ۔ سمجھو کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں۔ ہماری بات ذہن نشین کر لو ۔ نہایت سمجھداری پورے اہتمام کے ساتھ سب سے اونچے مرتبہ میں منقش و مثبت ( بٹھا لو۔ ثابت کر لو۔ محبت سے بھرا ہوا طالب مرمٹا ہوا عاشق اس کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ جو اس کا ہو گیا اس کے دل میں اللہ کی طرف سے القا ہونے لگتا ہے۔ قد وسی سبوحی کا طالب وہ ہوتا ہے جس کا وجود سارے وجودات سے بالکل الگ اور ساری نسبت و اضافت سے پرے ہو وہ کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ استاد فقیہ واعظ مفسر ۔ محدث – ناصح – سب ہی اللہ تعالی سے محبت رکھنے والے۔ طالب مولی کو نصیحت کیا کرتے ہیں کہ یا ابن نساء الحيض ابن التراب ورب الارباب و ابن الماء والطين من حديث رب العالمین (اے حیض آنے والی عورت کے بیٹے۔ کہاں مٹی پانی اور کہاں سارے جہان کا پروردگار ) تم کیا تمہاری ہستی کیا۔ تم کو دیکھو۔ اس بات کو دیکھو۔ عبودیت ( بندگی) کے دائرہ ہی میں مضبوطی کے ساتھ رہ کر امیدوار رہو گے تو تمہیں نجات مل جائے گی۔ اگر تمہیں بڑا مرتبہ مل جائے ۔ جنت میں جانا نصیب ہو جائے تو اس کو ذلك فضل الله يوتيه من يشاء (یہ ہے اللہ کا فضل وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے ) سمجھ لو جب عاشق سالک ان حضرات سے یہ سنتا ہے تو بیچارہ مسکین سوچ میں پڑ جاتا ہے۔ چپکے چپکے سوچنے لگ جاتا ہے یہی سوچ لگ جاتی ہے کہ نصیحت کرنے والوں نے نصیحت کے کرنے کا جو حق تھا اس کو اچھی طرح سے ادا کیا۔ معجول ( بنایا گیا ہوا) محمول (بوجھ لادا گیا ہوا تجھ کو اللہ تعالیٰ سے کیا نسبت استغفر اللہ ( پناہ مانگتا ہوں اللہ کی ) اس سے محبت کیسے ہو سکتی ہے۔ محبت کے لئے ہم جنس (ایک ہی قسم کے ) ہونا لازمی و ضروری ہے۔ شرط اہم یہی ہے۔ جب یہ نہیں تو
دلا دامن فراهم کن کجا ما و کجا ایشان
(اے دل دامن سمیٹ لے ہم کہاں وہ کہاں )
اپنے آپ میں کہنے لگتا ہے کہ دل کو اس سے لوٹا لا۔ نماز روزتلاوت ہی میں اپنے آپ کو لگائے رکھے۔ پھر وہ جب اپنے آپ میں غور کرتا ہے تو اپنے دل کو اس کی محبت میں مشغول اس میں پھنسا ہوا پاتا ہے تو تنگ آ کر رونے لگتا ہے۔ چیخنے چلانے تڑپنے بلبلانے لگ جاتا ہے۔ اپنے ساتھی راز دار سے یہ کہتا ہے۔
دل را ز عشق چند علامت کنم که ہیچ این بت پرست کہنہ مسلمان نمی شود
دل کو عشق کے بارے میں جتنا بھی برا بھلا کہوں نہیں مانتا یہ بت کا پراناپجاری مسلمان ہی نہیں ہوتا)
یہ رباعی بھی اس کے حسب حال ہو جاتی ہے۔۔
صوفی شوم و فرقه کنم فیروزه دردی سازم ز درد تو ہر روزه
(صوفی ہو جاؤں خرقہ نیلا کروں تیرے درد کی رٹ ہر روز کرنے لگوں )
زنبیلے بدست دیوانه دہم تا از در تو درد کند در یوزه
(دیوانے کے ہاتھ میں جھولی دے دوں تاکہ تیرے دروازہ سے درد کی بھیک مانگے )
میرے خواجہ قدس سرہ نے ” تا از در تو در د کند در یوزه کی کئی دفعہ تکر ار فرمائی اور فرمایا تا از در تو درد کند دریوزه مشتاق مبتلا گرفتار اس شعر کو بار بار اپنے آپ میں دہرایا کرتا ہے۔
محمد راز حال او چه پرسی گرفتارم گرفتارم گرفتار
محمد سے اس کا حال کیا پوچھتے ہو گرفتار ہوں گرفتار ہوں گرفتار )
محمد حسینی اپنے آپ سے کہا کرتا تھا کہ ہاں ہاں وہ عزیز بزرگوار میں ہی ہوں۔ والسلام

بارہواں حدیقہ

ارادت و طلب

جب کسی طالب سے پوچھا جائے کہ تم نے اہل تصوف کا راستہ ان کا طریقہ ان کی ارادت کیوں اختیار کی۔ ان کے کہنے میں ان کے زیر حکم کیوں آگئے ۔ اپنی جان جہاں (سب کچھ) اور اپنے آپ کو ان کے پاؤں کے تلے کی خاک کیوں بنا لیا۔ اس کے جواب میں ممکن ہے کہ وہ اپنے راز دار دوست سے یہ کہے کہ حق تعالیٰ کی محبت میرے دل میں القاء ہوئی ( ڈالی گئی) حق کے جمال و کمال کے دیدار کا ولولہ میرے دل میں پیدا ہو گیا۔ میں حیران و سراسیمہ (پریشان و متعجب ) رہ گیا۔ بہتیرا چاہا کہ دل کو اس سے لوٹا لاؤں لیکن وہ اس سے باز نہ آیا ۔ فقہاء محد ثین، مفسرین سے پوچھا تو وہ سب کے سب انگلی دانتوں میں داب لئے ۔ سب نے یہی کہا کہ خبردار ایسی بات زبان پر نہ لانا۔ جب قیامت ہو گی سب جنت میں پہنچ جائیں گے جنت کی ساری نعمتیں پوری ہو جائیں گی تو یہ دولت نصیب ہوگی۔ اللہ تعالی کے جمال لایزال کا مشاہدہ یعنی دیدار اس کا دیکھنا وہاں نصیب ہو گا۔ حقیقی بات یہی ہے۔ برخلاف اس کے تم اللہ تعالیٰ کو اس دنیا میں اور فی الوقت طلب کر رہے ہو یہ محال ہے دنیا میں میسر نہیں ہو سکتی۔ تو بہ کرو استغفار کرتے رہو۔ دنیا میں اس سے ملنے اس کے دیکھنے کے خطرہ کو دل سے نکال باہر کرو معذرت چاہو۔ معافی مانگو۔ یہ سب کچھ سننے کے باوجود وہ اپنے آپ کو اس بات پر نہ لا سکا۔ فقہاء محد ثین، مفسرین کی تعلیم یہی تھی کہ تم کہاں وہ کہاں تو بہ تو بہ اس کے باوجود بھی میں خود کو اسی کا خواہاں اس کا چاہنے والا اس کے لئے اپنے دل کو بے چین مضطرب پایا۔ یہ شعر میرے حسب حال ہو گیا ۔
دل را ز عشق چند ملامت کنم که ہیچ ایں بت پرست کہنہ مسلمان نمی شود

دل کو عشق کے بارے میں چاہے کتنا ہی برا بھلا کیوں یہ پرانا بت کا پوجنے والا مسلمان نہیں ہوتا )
حیرت ایسے بھنور میں لائی کہ جس کا آگا پیچھا نہ تھا میں اس میں گھر گیا تھا۔ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے اسی چکر میں تھا کہ ایکا ایک میں نے یہ سنا کہ صوفیاء کا گروہ ہی ایسا گروہ ہے جو اس کا پتہ دیتا ہے۔ یہ ان ہی کے معاملات ہیں وہ اسی قسم کی باتیں کیا کرتے ہیں۔ اس کا دعوی رکھتے ہیں۔ ہر وقت یہ دو شعر پڑھا کرتے ہیں۔
انا نکه ریاضت کش و سجاده نشینند باید که خدا را نمایند و بینند
(وہ جو محنتیں اٹھاتے ہیں مصلی پر بیٹھتے ہیں انہیں لازم ہے کہ وہ خدا کو دکھلائیں دیکھیں)
ور خود نه نمایند نه نمینند به تحقیق از اہل سماوات کے ماجوج زمینند
اپنے میں نہیں دکھلاتے نہ دیکھتے ہیں آسمان والے زمین کے فسادی ہیں)
جیسے ہی یہ سنا۔ ان کی بارگاہ عالیہ کی طرف سر کے بل چلتا ہوا پہنچا۔ ان کے آستانہ پر اپنی پیشانی رکھی۔ ان کی دہلیز چومی ۔ ان کے قدموں میں خود کو ڈال دیا۔ ان کا ہو گیا تو میرے کانوں میں یہ آواز آئی کہ ان میں کا ایک لَيْسَ فِی جهبتی سو الله نہیں ہے میرے شاید میں اللہ کے سوائے) اور ایک انا الحق ( میں حق ہوں) اور ایک سبحانی ما اعظم شانی( میں سبحان (پاک) ہوں میری کیسی بڑی شان ہے) میرے دل نے گواہی دی میں نے اپنے آپ سے کہا کہ یہ بات کسی سے اس وقت تک ظاہر نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کے دیدار سے نصیبہ نہ پائے۔ بہر حال میں اپنے آپ کو ان کے پاس لے آیا۔ ان کے قدموں سے مشرف کرا کے ان کی سلک میں منسلک ہو گیا ۔ جو تعلیم کی اس کے آثار علامات کھلے اور ظاہر دیکھا۔ اہل تصوف کا راستہ اختیار کرنے کی یہی وجہ ہوئی ۔ شیخ رحمتہ اللہ علیہ نے خود مجھ سے فرمایا ۔ ارشاد کیا۔ ہدایت پانے والے کے لئے ہزاروں ایثار ہیں ۔ لا حول ولا قوة الا بالله توبه تو به یه محض عقلمندوں کی نہیں طالبوں سمجھداروں کی راہ ہے۔ یہ بڑی قوت ہے۔ ایسی ایسی ہے۔ والسلام


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں