توحید شہودی و وجودی مکتوب نمبر43دفتر اول

 اس بیان میں کہ توحید دوقسم  کی ہے۔ شہودی اور وجودی اور وہ جو ضروری ہے توحید شہودی ہے جس سے فنامتعلق ہے اور تو حید شہودی عقل و شرع کے ساتھ مخالفت نہیں رکھتی برخلاف توحید وجودی کے اور ان مشائخ کے اقوال کی جوتو حید و جودی میں نظر کرنے والے ہیں تو حید شہودی کی طرف تاویل کرنی چاہیئے تا کہ مخالفت کی گنجائش نہ رہے اور توحید شہودی مرتبہ عین الیقین میں سے ہے۔ جو حیرت کا مقام ہے اور جب اس مقام سے گزر کر حق الیقین تک پہنچتے ہیں تو اس قسم کے احوال و اقوال سے کنارہ کرتے ہیں اور اس مضمون کے مناسب سوالوں اور جوابوں اور روشن مثالوں کے بیان میں۔ سرداری کی پناہ والے، شرافت کے مرتبہ والے شیخ فرید کی طرف لکھا ہے۔

سلمكم الله تعالی و سبحانه وعصمکم عما يصحکم وصانکم عما شانکم اللہ تعالی آپ کو سلامت رکھے اور اس چیز سے بچائے جو آپ کو عیب لگائے اور محفوظ رکھے۔ آپ کو اس چیز سے جو آپ کو دھبہ لگائے وہ توحید جواثنائے راہ میں اس بزرگ گروہ(صوفیاء) کو حاصل ہوتی ہے۔ دوقسم  پر ہے توحید شہودی اورتوحید و جودی۔

توحیدشہودی   ایک کو دیکھنا ہے یعنی  ایک کے سوا سالک کو کچھ  مشہود نہیں ہوتا اور توحید وجودی ۔ ایک موجود کو جاننا اور اس کے غیر کو نابودسمجھنا اور غیر کو معلوم جاننے کے باوجود اس ایک  کا مضر اور جلوہ خیال کرنا ہے۔ پس تو حید وجودی علم الیقین (یقین کے تین درجوں میں سے پہلا درجہ  معتبر ذرائع اور معتبر دلائل سے کسی چیز کا یقین کے ساتھ علم ہونا ظاہر شریعت پر عمل ہونا علم الیقین ہے اللہ تعالیٰ کی ایسی نشانیوں کا مشاہدہ کرنا  جو اس کی قدرت پر دلالت کریں)کی قسم سے ہے اور توحیدشہودی(ایک ذات کودیکھنا) عین الیقین (یقین کے تین درجوں میں سے   دوسرا درجہ ہے معتبر ذرائع کے بعد خود بھی مشاہدہ کر لینا  اس لئے یہ درجہ پہلے سے بہت قوی ہوتا ہے ظاہر شریعت  پر عمل کے ساتھ اخلاص اور محبت کا پیدا ہونا عین الیقین ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مشاہدہ کرنے کے بعد حضور کا حاصل ہونا ) کی قسم سے۔ توحید شہودی اس راہ کی ضروریات سے ہے کیونکہ فنا اس توحید کے بغیر ثابت نہیں ہوتی اور مرتبہ عین الیقین اس کے سوا میسر نہیں ہوتا کیونکہ اس میں ایک کو غلبہ کے ساتھ  دیکھنا اس کے ماسوا کے نہ دیکھنے سے مستلزم ہے۔ برخلاف توحید وجودی کے کہ وہ ایسی نہیں ہے یعنی ضروری نہیں ہے کیونکہ علم ایقین بھی  بغیر اس معرفت کے حاصل  ہے کیونکہ علم ایقین اس کے ماسوا کی نفی کو مستلزم نہیں ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس ایک کے علم کا غلبہ اس کے ماسوا کے علم کی نفی مستلزم ہے۔ مثلا ایک شخص کو آفتاب کے وجود کاعلم حاصل ہوگیا تو اس یقین کا غلبہ اس بات کو مستلزم نہیں ہے کہ ستاروں کو اس وقت نیست و نابود جانے لیکن جب آفتاب کو دیکھے گا اس وقت ستاروں کو دیکھے گا اور آفتاب کے سوا اس کو کچھ نظر نہ آئے گا اور اس وقت بھی جبکہ ستاروں کونہیں دیکھتا وہ جانتا ہے کہ ستارے موجود ہیں لیکن چھپے ہوئے ہیں اور سورج کی روشنی میں مغلوب ہیں اور یہ شخص ان لوگوں کے ساتھ جو اس وقت میں ستاروں کے وجود کی نفی کرتے ہیں انکار کے مقام میں ہے اور جانتا ہے کہ یہ معرفت صحیح نہیں ہے۔ پس توحید وجودی کہ جس میں ماسوائے ذات حق کی نفی ہے۔ عقل و شرع کے ساتھ مخالف ہے۔ برخلاف توحیدشہودی(ایک ذات کودیکھنا)  کے کہ ایک کے دیکھنے میں کچھ مخالفت نہیں ہے۔ مثلا آفتاب کے طلوع ہونے کے وقت ستاروں کی نفی کرنا اور ان کو معدوم سمجھنا خلاف واقع ہے لیکن ستاروں کو اس وقت نہ دیکھنا کچھ مخالف نہیں ہے بلکہ وہ نہ دیکھنا بھی آفتاب کی روشنی کے غلبہ اور دیکھنے والے کی کمزوری کے باعث ہے۔ اگر دیکھنے والے کی آنکھ اسی آفتاب کی روشنی سے روشن ہو جائے اور قوت پیدا کرے تو ستاروں کو آفتاب سے جداد یکھے گا اور یہ دیکھناحق الیقین میں سے ہے۔

پس بعض مشائخ کے اقوال جو بظاہر شریعت  حقہ کے مخالف نظر آتے ہیں اور بعض لوگ ان کو توحیدو جودی پر حمل کرتے ہیں۔

مثل منصور حلاج رحمتہ الله علیہ کاانا الحق کہنا اور بایزید بسطامی علیہ رحمت کا سبحانی ما اعظم شانی پکارنا وغیرہ وغیرہ۔

بہتر اور مناسب یہ ہے کہ ان اقوال کو تو حید شہودی پرمحمول کیا جائے اور مخالفت کو دور کیا جاۓ جب ماسوائے  حق ان کی نظر سے مخفی ہوگیا تو غلبہ حال کے وقت ا س قسم کے الفاظ ان  سے سرزد ہوئے اورحق کے سوا اس کے غیر کو ثابت نہ کیا اورا نا الحق کے معنی یہ ہیں کہ حق ہے اور میں نہیں ہوں جب وہ اپنے آپ کونہیں دیکھتا تو اثبات نہیں کرتا، نہ یہ کہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے اور اس کو حق کہتا ہے کہ یہ خود کفر ہے۔ اس جگہ کوئی یہ نہ کہے کہ اثبات نہ کر نانفی تک پہنچا دیتا ہے اور وہ بعینہ توحید وجودی(ایک ذات کو موجود جاننا) ہے کیونکہ ہم کہتے ہیں کے اثبات کے نہ کرنے سے نفی لازم نہیں آتی بلکہ اس مقام میں حیرت ہے۔ احکام سب کے سب ساقط ہوئے ہیں اورسبحانی میں بھی حق تعالی کی تنزیہ ہے نہ اس کی اپنی تنز یہ کہ وہ بالکل اپنی نظر سے دور ہو چکا ہوا ہے اور کوئی حکم اس کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا اس قسم کی با تیں  مقام عین الیقین میں جو مقام حیرت(یہ طریقت کا انتہائی مقام ہے جس کا مطلب انکشافِ حقیقت پر حیران ہوجانا ہے)  ہے بعض لوگوں سے ظاہر ہوتی ہیں جب اس مقام سے ترقی کر کے حق الیقین تک پہنچتے ہیں تو اس قسم کی باتوں سے کنارہ کرتے ہیں اور حد اعتدال سے تجاوز نہیں کرتے اس زمانہ میں اس گروہ میں سے بہت لوگ جو اپنے آپ کو صوفیوں کے لباس میں ظاہر کرتے ہیں۔ توحید وجودی کو شائع کیا ہوا ہے اور اس کے سوا کچھ کمال نہیں جانتے اور علم الیقین ہی کو کمال سمجھ کرعین الیقین سے رکے ہوئے ہیں۔ مشائخ کے اس قسم کے اقوال کی اپنے خیالی معنوں کے مطابق تاویل کرتے ہیں اور انہی خیالی معنوں کو اپنے زمانہ کا مقتدا بنایا ہوا ہے اور اپنے کھوٹے بازار کو ان خیالی باتوں سے رواج دیا ہے اور اگر کوئی یہ کہے کہ متقدمین مشائخ میں سے بعض کی عادتوں میں بھی ایسے الفاظ واقع ہیں جس سے صاف طور پر توحید وجودی ثابت ہوتی ہے تو وہ اس بات پرمحمول ہیں کہ ابتدا میں علم الیقین کے مقام میں ان سے اس قسم کے الفاظ سرزد ہوئے ہیں اور آخر کار ان کو اس مقام سے گزار کر عین الیقین تک لے گئے ہیں اس بات سے کوئی یہ نہ کہے کہ توحید و جودی(ایک ذات کو موجود جاننا) والے بھی جیسا کہ ایک جانتے ہیں ایک ہی دیکھتے ہیں پس عین الیقین سے ان کو بھی حصہ حاصل ہے ۔

کیونکہ ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کو توحید و جودی والوں نے توحیدشہودی(ایک ذات کودیکھنا)  کی مثالی صورت کو دیکھا ہے نہ یہ کہ توحید شہود ی سے نقل ہوئے ہیں اور توحید شہود ی کو اپنی اس صورت مثالی کے ساتھ در حقیقت کچھ مناسبت نہیں ہے کیونکہ اس توحید کے حل ہونے کے وقت حیرت ہے اور اس مقام میں کسی امر کے ساتھ کم نہیں ہے اور اس توحید و جودی والا توحید شہود ی کی مثالی صورت (کسی شے اور اس کی مثالی صورت میں بہت فرق ہے)کے مشاہدہ کرنے کے باوجودبھی علم الیقین والوں میں سے ہے کیونکہ ماسوائے اللہ کے وجودی نفی کرتا ہے اور نینی منقول علم الیقین کے احکام میں سے ایک علم ہے اور حیرت اور علم ایک  دوسرے کے ساتھ جمع نہیں ہوئے۔

پس ثابت ہوا ۔ توحید وجودی و الا عین الیقین سے کچھ حصہ نہیں رکھتا۔ ہاں توحید شہود ی والے کو مقام حیرت(یہ طریقت کا انتہائی مقام ہے جس کا مطلب انکشافِ حقیقت پر حیران ہوجانا ہے)  کے بعد اگر ترقی واقع ہو جاۓ تو مقام معرفت میں جوحق الیقین ہے لے جاتے ہیں اور اس مقام میں علم و حیرت دونوں جمع ہو جاتے ہیں اور وہ علم جو حیرت کے بغیر اور حیرت سے پہلے ہے وہ علم ایقین ہے۔

یہ جواب اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ مثلا کسی شخص نے مقام بادشاہت کے ساتھ مناسبت ہونے کی وجہ سے خواب میں اپنے آپ کو بادشاہ دیکھا اور بادشاہت کے لوازم اپنے آپ میں معلوم کئے تو معلوم ہے کہ وہ بادشاہ نہیں ہوا ہے بلکہ بادشاہت کی مثالی صورت کو اپنے آپ میں دیکھا ہے اور حقیقت میں بادشاہت کو اس مثالی صورت کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں ہے ہاں اس شہود(مشاہدہ)  سے اگر چہ صورت مثالی میں ہو اتنا معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص اس مثالی صورت کی حقیقت کے متحقق ہونے کی استعداد رکھتا ہے ۔ اگر ریاضت و مجاہدہ سے اس کی حالت اچھی ہو جائے اور خدائے تعالی کی عنایت اس کے شامل حال ہو جائے تو اس مقام تک پہنچ جاتا ہے لیکن قوت سےفعل تک بہت فرق ہے۔

بہت لوہے آئینہ بننے کی قابلیت رکھتے ہیں مگر جب تک آئینہ نہ بن جائیں تب تک بادشاہوں کے ہاتھ میں نہیں پہنچتے اور بادشاہوں کا جمال حاصل نہیں کر سکتے ۔ اوہو۔ میں کہاں جاپڑا۔ مگر میں کہتا ہوں کہ ان پوشیده علوم کے لکھنے کا باعث یہ ہے کہ اکثر اس زمانہ میں بعض لوگوں نے تقلید سے اور بعضوں نے مجدد علم سے اور بعضوں نے اجمالی طور پر علم اور ذوق کے ملنے سے اور بعضوں نے الحاد اور زندقہ سے اس توحید و جودی(ایک ذات کو موجود جاننا) کا دامن ہاتھ میں لیا ہوا ہے اور سب کچھ حق سے جانتے ہیں بلکہ حق ہی جانتے ہیں اور اپنی گردنوں کوشرعی تکلیف کی رسی سے بالکل نکالتے جانتے ہیں اور احکام شرعیہ کے بجا لانے میں سستی کرتے ہیں اور اس معاملہ پر بڑے خوش و خرم ہیں اور اگر امور شریعہ کے بجالانے کا اقرار بھی کریں تو اپنے آپ کو طفیلی جانتے ہیں اور اصلی مقصودشریعت  کے سوا کچھ اور خیال کرتے ہیں ۔ حاشا وكلاء ہرگز ہرگز ایسا نہیں ہے ایسے برے اعتقاد سے اللہ کی پناہ طریقت اور شریعت  ایک دوسرے کی عین ہیں اور بال بھران کے درمیان فرق نہیں ہے ۔ فرق صرف اجمال اور تفصیل اور استدلال اور کشف کا ہے جو کچھ  شریعت  کے مخالف ہے مردود ہے۔ کل حقيقة ردته الشريعة فهوز ندقة اور جس حقیقت کو شریعت  نے رد کردیا وہ زندقہ ہے۔

شریعت  کو اپنی جگہ پر قائم رکھ کر حقیقت کو طلب کرنا بہادروں کا کام ہے۔ رزقنا الله سبحانه و ايا كم الإستقامة على متابعة سيد البشر عليه و على أله الصلوة والثيمات والتحيات ظاهر او باطنا اللہ تعالی ہم کو اور آپ کو ظاہر باطن میں حضرت سید البشر ﷺکی متابعت پر استقامت عطا فرمائے۔ (آمین)

معرفت کی پناہ والے ہمارے قبلہ گاہ حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ کچھ مدت توحید وجودی والوں کا مشرب رکھتے تھے اور اپنے رسالوں اور خطوں میں بھی اس کو ظاہر فرماتے تھے

لیکن آخرکاری تعالی نے اپنی کمال عنایت سے اس مقام سے ترقی عطا فرما کر شاہراہ میں ڈالا اور اس معرفت کی تنگی سےخلاصی بخشی۔

میاں عبدالحق جو حضرت قدس سرہ کے مخلص یاروں میں سے ہیں بیان کرتے ہیں کہ مرض موت سے ایک ہفتہ پہلے حضرت قدس سرہ نے فرمایا کہ مجھے عین الیقین سے معلوم ہو گیا کہ توحید وجودی ایک تنگ کوچہ ہے اور شاہراہ اور ہے اس سے پہلے بھی جانتا تو تھا مگر اب ایک قسم کایقین حاصل ہوا ہے اوریہ فقیر بھی کچھ مدت حضرت قدس سرہ کی درگاہ میں اسی توحید کا مشرب رکھتا تھا اور اس طریق کی تائید میں مقدمات کشفیہ بہت ظاہر ہوئے تھے لیکن خدائے تعالی کی عنایت نے اس مقام سے گزار کر اس مقام کے ساتھ جو اللہ تعالی نے چاہا مشرف فرمایا ہے اس سے زیادہ لکھنا طول کلامی ہے۔

میاں شیخ زکریا اپنے پرگنہ (ضلع کا ایک حصہ)سے بار بار لکھتے ہیں اور آپ کی خدمت عالیہ میں بہت نیاز مندی ظاہر کرتے ہیں اور معاملہ کروڑی گری یعنی  تحصیلداری سے ڈرتے ہیں اور عالم اسباب میں آپ کی مقدس بارگاہ سے التجار کھتے ہیں اور بظاہر آپ کی توجہ عالی کے سوا اور کوئی جائے پناہ نہیں رکھتے ۔ آپ کی عنایت کے امیدوار ہیں کہ جس طرح آگے آپ نے ان کی نوازش کی ہے اب بھی دستگیری فرمائیں اور حادثوں کی بھیڑیوں سے محفوظ رکھیں اور کمال ادب کے باعث آپ کی خدمت میں عرض نہیں کر سکتے فقیر کی طرف رجوع کر کے اپنا احوال ظاہر کرتے ہیں ۔ امید ہے کہ آپ ان کا سوال قبول کریں گے۔ 

مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول صفحہ155 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں