تیرہواں مراقبہ:نیت مراقبہ اصل روح

نیت مراقبہ اصل روح

 الہی روح من بمقابل روح نبی علیہ السلام آں فیض تجلائے صفات ثمانیہ ثبوتیہ ذاتیہ حقیقیہ خود کہ از روح نبی علیہ السلام بروح نوح علیہ السلام و ابراہیم علیہ السلام رسانیدہ بروح من نیز برسانی بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین

اے اللہ  میرا لطیفہ روح  رسول کریم ﷺ کے لطیفہ روح کے سامنے اس فیض کا منتظر ہے   جو تونے اپنی صفات ثمانیہ ثبوتیہ ذاتیہ حقیقیہ   کی تجلی  نبی کریم ﷺ کے لطیفہ  روح  سے  حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم  کے لطیفہ روح تک پہنچائی عظیم مرشدین گرامی   اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے  میرے لطیفہ روح تک پہنچا

تشریح

جوسا لک ابرہیمی ونوحی ولایت کا حامل ہوتا ہے وہ لطیفہ روح کے تمام کمالات اور درجات حاصل کر لیتا ہے۔ اس کا فقیر اللہ تعالی پر توکل کرتا ہے۔ اور حالات و واقعات کا مقابلہ کرتا ہے نیز نفس اور شیطان سے جہاد کرتے ہوئے اپنے مقصود کی کشتی کو کنارے پر لگا دیتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جذبہ کے تحت نفس اور شیطان لعین کی فریب کاریوں اور مکاریوں سے بچ کر ماسوا اللہ سے منہ موڑ کر یاد خدا میں مشغول رہتا ہے۔ دشمنان اسلام کی لگائی ہوئی آتش اس کے لئے گلزارا برا ہیمی بن جاتی ہے اس مشرب والے میں تو کل اور عشق الہی کے ساتھ صفات ثبوتیہ  الہیہ کا فیض آتا ہے۔ اور وہ اپنی صفات یعنی سننے

، دیکھنے، بولنے اور سوچنے کی صفات میں حق سبحانہ تعالی کی صفات دیکھتا ہے۔ اور انسان کی صفات کو اللہ تعالی کی صفات سے ثابت جانتا ہے۔ اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ میرے صفات کمالیہ کچھ بھی نہیں۔ یہ محض اللہ تعالی کی صفات کی وجہ سے قائم و دائم ہیں۔ یہ ولایت کا دوسرا درجہ ہے۔

اس مراقبہ میں سالک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح عالم ملک و ملکوت کا مشاہدہ کرتا ہے یعنی اسے سیر آفاقی نصیب ہوتی ہے۔

صفات ثبوتیہ الہیہ کی تجلیات کا مظہر روح انسان ہے اس لیے یہاں صفت اعلم تفصیلی و اجمالی سے ان تجلیات کے ورد کا مراقبہ کیا جا تا ہے ۔ تجلیات صفات ثبوتیہ الہیہ کے مظہر کامل بھی آنحضور سید المرسلین ﷺ ہیں اس لیے ان کے واسطے سے فیض حاصل کیا جا تا ہے ۔ اللہ تعالی کی ذات پاک باوجود بے چون و بیچگوں ہونے کے صفات سبعہ یعنی حیات ، علم ،قدرت ، ساعت، بصارت ، کلام ،ارادہ سے متصف اور ثابت ہے ۔ حالانکہ نہ ہمارے جیسی ان کی آنکھیں ہیں اور نہ کان وغیرہ ۔ اسی طرح سالک جب فیضان مراقب لطیفہ روح سے بہرہ ور ہوتا ہے تو اس کو بغیر آنکھ کان وغیرہ کے ان تمام صفات سے متصف کر دیا جا تا ہے اور یہ اللہ تعالی کے پہنچانے کا بڑا ذریعہ ہے۔

جب تک سا لک قلب کا فنا حاصل نہ کرے اس وقت تک اس پر مقام روح کھل نہیں سکتا۔ جب سالک مثالی کیفیات یعنی قلب کو فنا کر کے مقام روح حاصل کرتا ہے تو اس وقت صفات ثبوتیہ الہیہ کی تجلیات کا فیض حاصل کر سکتا ہے ۔ صفات ثبوتیہ الہیہ کی تجلیات کا رنگ سرخ ہے۔ اس مقام میں سالک جمیع صفات کو اپنی ذات اور دیگر مخلوقات سے سلب شدہ اور حق سبحانہ تعالی کا ادراک ہوتا ہے ۔ اس کو مرتبہ فنافی الصفات کہتے ہیں اس لطیفہ کی قربیت و ولایت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واسطہ سے حاصل ہوتی ہے اس لیے اس ولی کو برا نیمی المشرب کہتے ہیں ۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں