پچیسویں مجلس

محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب ”الفتح الربانی والفیض الرحمانی‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے پچیسویں مجلس کا خطبہ جس کا عنوان المجلس الخامس والعشرون فی الزہد فی الدنیا ‘‘ ہے۔

   منعقدہ 19ذی الحج 545بمقام مدرسہ قادریہ

زاہدوں جیسا لباس پہننے سے زہد حاصل نہیں ہوتا:

حضرت عیسی علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب کوئی خوشبو آپ کے ناک میں پہنچتی تھی تو آپ اپنی ناک بند کر لیتے اور فرماتے: یہ بھی دنیا ہی سے ہے ۔ اپنے اقوال وافعال میں زہد کا دعوی کرنے والو! یہ تم پر تہمت ہے، زاہدوں جیسا لباس تو پہن لیا جبکہ تمہارے باطن دنیا کی رغبت اور حسرت سے پر ہیں۔ اگر تم یہ کپڑے اتارڈ الواور تمہارے دلوں میں جو رغبت ہے،اسے ظاہر کرو تو تمہارے لئے اچھا ہو، اور ایسا کرنا تمہیں نفاق سے دور لے جا تا ۔ جو شخص اپنے زہد میں سچا ہے، اس کا نصیب اسے ملتا ہے، اسے حاصل کر کے اپنے ظاہر کو اس سے آراستہ کرتا ہے، اس حال میں اس کا دل دنیاوی زہد اور اس کے سوا دوسری چیزوں سے بے رغبتی سے بھرا ہوا ہوتا ہے، اس لئے ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی  ﷺ حضرت عیسی علیہ السلام اور تمام دوسرے انبیاء کرام سے زیادہ زاہد تھےسوائے اس کےکہ آپ  ﷺ نے ارشادفرمایا: إِنَّمَا ‌حُبِّبَ ‌إِلَيَّ مِنْ ‌دُنْيَاكُمُ النِّسَاءُ، وَالطِّيبُ، وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ تین چیز یں تمہاری دنیا سے میری محبوب بنائی گئیں: خوشبو عورتیں،  میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں کی گئی۔“ یہ  چیز یں باوجود آپ  ﷺ کی بے رغبتی کے ( ان چیزوں میں اور دوسری چیزوں میں آپ کی محبوب بنائی گئیں۔ کیونکہ یہ آپ کے نصیب میں پہلے ہی علم الہی میں مقرر ہو چکا تھا، آپ  ﷺ ان کو اتباع امر کے لئے حاصل کرتے تھے۔ اور امر کا بجالا نا اطاعت و عبادت ہے، جو شخص اس صفت پر اپنا نصیب حاصل کرے، عبادت ہی میں ہے، اگر چہ ساری دنیا سے نفع حاصل کرنے والا ہی کیوں نہ ہو۔

 اے جہالت کے قدموں پر زاہد بننے والو! سنو اور تصدیق کرو، جھٹلاؤ نہیں ،اس زہد کو یکھوتا کہ اپنی جہالت کی بنا پر تقدیر کا رد نہ کرنے لگو ۔جوشخص علم سے جاہل ہے اور اپنی رائے کے ساتھ بے پرواہ ہو رہا ہے، اور اپنے نفس اور حرص اور شیطان کے کلام کوقبول کرتا ہے، وہ ابلیس کا بندہ اور اس کا تابعدار ہے۔اس لئے ابلیس کو اپنا پیر بنا رکھا ہے، اے جاہلو! اے منافقوا –

کس چیز نے تمہارے دل سیاہ کر دیئے ہیں ، اور کس چیز نے تمہاری ہوا گندی کر دی اور تمہاری زبان درازی اور لہجے کی سختی کتنی بڑھ گئی ہے، جن فضول باتوں میں تم مبتلا ہو، ان سب سے تو بہ کرو، اللہ اور اس کے خاص بندوں میں طعن نہ کرو، جو اللہ کو دوست رکھتے ہیں اور اللہ ان کو دوست رکھتا ہے، اور ان پر دنیا میں جو نصیب لکھ دیا گیا ہے، اسے حاصل کرنے پر ۔ ان پر اعتراض نہ کرو، کیونکہ وہ امر سے حاصل کرتے ہیں اپنے خواہش سے نہیں ، اولیاء اللہ کے پاس محبت الہی اور اس کا شوق ہے، ماسوی اللہ سے بے رغبتی ہے، اور ظاہر باطن سب سے منہ پھیر کر بے قرار ہیں ۔ لیکن نصیب لکھنے والے نے ازل سے ان کا نصیب لکھ دیا ہے جن کا کھانا ان کے لئے ضروری ہو گیا ہے۔ ان کے لئے دنیا میں قیام ، دنیا کی رہائش اور دنیاوی چیزوں کا استعمال اورجھٹلانے والوں کو دیکھنا بہت ہی سخت مصیبت ہے۔ ظاہری نیت کو چھوڑ کر باطن میں مشغول ہو:

اے بیٹا! جب تک تو اپنے نفس اور خواہشوں کے گھیرے میں ہے ،خلقت سے کلام کرنا چھوڑ دے، بولنے سے مرجا کیونکہ اللہ تعالی تم سے جب کسی امر کا ارادہ کرے گا تو تمہیں اس کے لئے تیار کر دے گا، جب چاہے گا تجھے زندگی بخش دے گا اور تجھے ثابت قدم کر دے گا اور تجھے کلام کرنے کے لائق بنا دے گا ، اس صورت میں وہی ظاہر کرنے والا ہے تو نہیں ، تو اپنی جان اور کلام اور سب احوال اس کی قدر کے سپرد کر دے اور اس کے عمل میں مشغول ہو، تو عمل بغیر کلام، اخلاص بغیر ریاء -توحید بغیر شرک گمنامی بغیر ذکر خلوت اخیر جلوت، باطن بغیر ظاہر ہو جا۔ ظاہری نیت کو چھوڑ کر باطن میں مشغول ہو تو اللہ تعالی کو مخاطب کرتا ہے، اورإِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (ہم تیری،   ہی عبادت کرتے ہیں اور تیری ہی مدد چاہتے ہیں ۔ میں تو اس کی طرف اشارہ کرتا ہے، یہ حاضر کے لئے خطاب ہے ۔ گویا تو کہتا ہے:

اے میرے نزدیک! اے مجھے جاننے والے!،اے مجھ سے قریب! اے میرے اوپر گواہ!، اپنی نمازوں اور دیگر حالات میں اسے اس نیت اور اس صفت سے مخاطب کرو۔ اس لئے رسول اکرم  ﷺ نےارشاد فرمایا: أَنْ ‌تَعْبُدَ ‌اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ’’اللہ کی عبادت کرو گویا کرتم اسے دیکھتے ہو، اگر تم اسے نہیں دیکھتے ، وہ توتجھے دیکھتا ہے۔

 رب کی پہچان کے لئے رزق حلال ضروری ہے:

بیٹا ! رزق حلال سے اپنے دل کی صفائی کرو،تو بے شک اپنے رب کو پہچان لو گے۔ اپنے لقمے ،اپنے کپڑے اور اپنے دل کو صاف کر دتو صفائی والے ہو جاؤ گے، تصوف لفظ صفا سے نکلا ہے، نہ کہ صوف کے پہننے والے سے ، سچا صوفی جو اپنے دعوی تصوف میں صادق ہوتا ہے، وہ اپنے دل کو ماسوا اللہ سے صاف کر لیتا ہے، یہ بات لباس بدلنے سے ، اور چہرے زرد کرنے سے اور میل کچیل جمع کرنے اور نیک لوگوں کی حکایتیں بیان کرنے سے ، اورتسبیح و تہلیل میں انگلیاں ہلانے سے حاصل نہیں ہوتی ہے ۔ اس کا حصول طلب صادق اور دنیا سے بے رغبتی اور خلقت کو دل سے نکال دینے اور اسے ماسوی اللہ سے خالی کر کے ہوتا ہے ۔

ایک اہل اللہ سے روایت ہے، انہوں نے ارشادفرمایا: بعض راتوں میں میں نے سوال کیا: ”اے اللہ ! جو چیز میرے لئے نفع بخش ہے، اور مجھے نقصان نہ دے، اس سے محروم نہ کر ‘‘۔ اس کو بار بار دہرا تارہا، پھر میں سو گیا اور خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا مجھے کہتا ہے: جوبھی عمل تیرے لئے نفع بخش ہے اسے کئے جا، اور جو نقصان دہ ہے، اسے نہ کر ‘‘ اپنی نسبتوں کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صحیح  کرو، جس کی تابعداری صحیح  ہوئی اس کی نسبت صحیح  ہوئی اورتمہارا یہ کہنا کہ میں آپ کی امت سے ہوں ، تابعداری کے بغیر کچھ نفع نہ دے گا۔ جب تم رسول الله ﷺکے اقوال وافعال میں تابعداری کرو گے تو دار آخرت میں آپ  ﷺ کی صحبت میں رہوگے۔ کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ ارشاد  نہیں سنا

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ ‌فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا  اور رسول اللہ جو چیز تمہیں عنایت فرمائیں، لے لو، اور جس چیز سے منع کر میں رک جاؤ۔“جس چیز کے کرنے کا حکم ہے اسے بجالاؤ، اور جس چیز سے منع کیا ہے منع ہو جاؤ ، اس صورت میں اپنے دلوں کے ساتھ دنیا میں قریب ہو جاؤ گے، اور آخرت میں اپنے نفسوں اور جسموں کے ساتھ قریب ہوگے۔ اے زاہدو! اپنے نفسوں اور خواہشوں سے زہد کر کے اپنی رائے پر ضد کئے بیٹھے ہو، اسے مستقل سمجھتے ہو، تابعداری کرو اور ان مشائخ و عارفان الہی کی صحبت اختیار کرو جو عالمان باعمل ہیں، اور نصیحت کے لئے خلقت کی طرف توجہ رکھتے ہیں، وہ اپنے دلوں سے دنیا کی طمع کو زائل کر چکے ہیں ، اور اپنے دلوں کو تم سے پھیر کر اللہ کی طرف متوجہ ہو گئے ۔ و ہ خود بھی اللہ ہی پر توجہ کرنے والے ہیں، اور غیر سے نفرت رکھتے ہیں۔

 خوف اور امید کی کشمکش اور سلامتی :

بیٹا! اپنی ہستی کے مٹ جانے سے پیشتر اپنے دل کے ساتھ رب کی طرف رجوع کر، تو تو صالحین کے حالات میں اور ان کے تذکره اور ان کی تمنا پر قناعت کر بیٹھا ہے، اور تیری مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی شخص پانی کومٹھی میں لے کر اپنا ہاتھ کھولے تو کچھ بھی نہ پائے ، ایسانہ بن۔ تجھ پرافسوس ہے کہ تو سمجھتا نہیں ) آرزوتو حماقت کا جنگل ہے، رسول اللہ  ﷺ نے ارشادفرمایا: إياك والتمنى فإنه وادى الحمق  ’’اپنے آپ کو آ رزو سے بچاؤ کیونکہ وہ حماقت کا جنگل ہے ۔‘‘ شریروں کے کام کرتے ہو اور بھلائی والوں کے درجات کی آرزو رکھتے ہو، جس کی امید خوف پر غالب آئی وہ بے ین بنا اور جس کا خوف امید پر غالب آ یا ، وہ مایوس ہوا، سلامتی ،خوف اور امید کے درمیان ہے ۔ رسول کریم ﷺ نے ارشادفرمایا:

لو وزن حرف المؤمن ورجاله لاعتدلا ”اگر ایمان والے کا خوف اور امید تو لے جائیں تو دونوں برابر اتر یں گئے ۔“ ایک ولی اللہ نے ارشادفرمایا کہ میں نے حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کو وصال کے بعد خواب میں دیکھا۔ میں نےعر ض کیا کہ اللہ تعالی نے آپ کے ساتھ کیا برتا ؤ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے ایک قدم پل صراط پر رکھا، دوسرا جنت میں۔ اللہ کا آپ پر سلام ہو، آپ فقیہ اور زاہداور پرہیز گار تھے، آپ نے علم پڑھا اور اس پر عمل کیا، علم کا حق عمل سے پورا کیا ، اور عمل کا حق اخلاص سے ادا کیا ۔ اور اللہ نے ان کا حق اپنی رضا کی صورت میں ادا کیا، جوان کا مقصود تھا ،ر سول اکرم  ﷺ کی تابع داری کے باعث آپ کی خوشنودی نصیب ہوئی۔ اسی لئے حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے آپ  ﷺ کی متابعت کی ، ان پر اور تمام صالحین پر اور ہم سب پر بھی اللہ کی رحمت نازل ہو ۔ جوشخص رسول اللہ  ﷺ کی اتباع نہ کرے اور شریعت کو ایک ہاتھ میں اور قرآن مجید کو دوسرے ہاتھ میں نہ پکڑے، اور ان کے طریقے سے اللہ کی طرف نہ پہنچے تو خود بھی گمراہ اور ہلاک ہو گا ، اور دوسروں کو بھی گمراہ اور ہلاک کرے (خود بہکا ہے اور دوسرے کو بہکاتا ہے )۔ قرآن وحدیث دونوں حق تعالی کی طرف راستے ہیں ۔ قرآن مجید اللہ کا پتہ دیتا ہے اور سنت رسول اللہﷺکی طرف راستہ دکھاتی ہے۔

دعا یہی ہے اللهم باعد بيننا وبين نفوسنا ‌رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ الہی ہم میں اور ہمارے نفسوں میں دوری ڈال دے اور ہم کو دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور دوزخ کے عذاب سے بچائے رکھ۔ آمین!

فیوض یزدانی ترجمہ الفتح الربانی،صفحہ 182،مدینہ پبلشنگ کمپنی ایم اے جناح روڈ کراچی

الفتح الربانی والفیض الرحمانی صفحہ 108دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں