گوشہ نشینی کاسفر

محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب الفتح الربانی والفیض الرحمانی‘‘باسٹھ (62 ) مواعظ ،متعدد ملفوظات اور فتوحات کا مجموعہ ہے، یہ خطبہ ان کی فتوحات میں سے ہے۔

احکام شریعت کو لازم پکڑنے کے بعد گوشہ نشینی اختیار کر :

بادشاہوں کی معیت میں رہ کر جب تیرا ارادہ شراب پینے کا ہوتو پہلے ویرانوں اور بیابانوں اور جنگلوں کو لازم پکڑ ، یہاں تک کہ تجھے اپنے نشہ سے ہوش آ جائے تا کہ تو جن بادشاہوں کی معیت چاہتا ہے ان کے بھیدوں کو ظاہر نہ کر دے، لہذا ان کے ہلاک کر ڈالنے سے تو نجات پالے تا کہ وہ تجھے ہلاک نہ کر ڈالیں ۔ اس لئے ان کی معیت میں رہنے سے سفر کر جانا بہتر ہے، یا یوں کہہ لیں ان کا سفر قیام سے بہتر ہے )  یہ د نیاسفر کی سواری بنائی گئی ہے۔ اگر تیرا ارادہ اللہ سے ملنے کا ہے تو دنیا پر سوار ہو جا اور احکام شرعی کے لازم پکڑنے کے بعد گوشہ نشینی اختیار کر لے، اللہ کے دروازے پر پہنچنے کے لئے مدد کی ضرورت ہے، اور ارادہ کرنا کسی شے پر سبب ہے، تو حکم شرع کے ذریعے سے علم کے دروازے پر آئے گا ۔

شرعی حکم دو طرح پر ہے: اوامر ونواہی ، شرع ہمیں جو حکم کرتی ہے اسے ہم قبول کرتے ہیں اور سنتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس وقت ہم پر آفتیں ہیں، اس مقام پر پہنچ کر بندہ اس بات کا حاجت مند ہوتا ہے کہ وہ عالم ہو، تم میں سے کوئی کہہ دیتا ہے کہ اس کے باوجود کہ میں طاعت پر قائم ہوں، پھر بھی آفتوں میں مبتلا ہوں، یہ کیا حال ہے ۔ اسے جواب دیا جائے ( کہ یہ سمجھنے کے لئے ) تو تھوڑے سے علم کا محتاج ہے ، صاحب شرع علم کو ذخیرہ کرتا ہے اور صاحب علم اسے ظاہر کرتا اور خرچ کرتا ہے، شرع زاہدوں کی معیت میں ہے، علم صدیقوں محبوبوں اور انس رکھنے والوں کی معیت میں ہے۔ زہدشریعت کی معیت میں ہے۔ محبت علم کی معیت میں ہے۔

یہ  اس کا شریک ہے اور وہ اس کا وزیر زاہد بننے والا بخار والے کی طرح ہے اور زاہد جیسے کوئی سل کے مرض میں مبتلا ہو،  اور عارف گویا مرنے کے بعد زندہ ہو جانے والا ہے، اس زاہد بننے والے نے خواہشوں کو چھوڑ دیا اور روزہ رکھا، چنانچہ اس کانفس بخار میں مبتلا ہو گیا، اور زاہد نے ہمیشہ کے لئے شہوات کو ترک کر دیا، اس کے مرض نے بڑھ کرسل کو پیدا کر دیا، اس کے اعتبار سے دنیا گو یا مر چکی ہے، وہ سچا زاہد لطف الہٰی کے فراش پراسی حالت میں ٹھہرا ہوا ہوتا ہے، وہیں اس کے زہد کے دروازے پر طرح طرح کے رنگ برنگ کے کھانے اور کھونٹیوں پر مختلف لباس ٹنگے ہوتے ہیں، وہ دنیا سے اپنے مقسوم کے حصوں کو پورا لئے بغیر نہیں لکھتا ۔ کافروں اور نافرمانوں نے دنیا کی طلب میں کوئی خوبی نہیں برتی ،حرام میں پڑگئے،۔

اللہ نے اس بندے کو زندہ کر دیا ، فنا کے بعد پھر اسے دوسری زندگی عطا کر دی ، اس کا گوشت تلاش کیا ، باقی نہ رہا ۔ ہڈیاں ضعیف ہوگئیں، کھال پیلی پڑگئی نفس پگھل گیا ، خواہش معزول ہوگئی نفس پگھل گیا ،طبیعت مغلوب بن گئی ، صرف دل باقی رہا، جس میں روح اور معنی اور معرفت اور توحید جلوہ افروز ہیں، یہاں پر آ کر دل کے سوا کوئی بادشاہ نہیں رہتا، اللہ اس کی نگہداشت فرماتا ہے، اسے مرنے کے بعد زندہ کرتا رہتا ہے، اس کی شہوتیں اور لذتیں معنوی طور پر مری ہوئی رہتی ہیں ۔ یہ موت علم لدنی والی اور موت صدیقی ہے، وہاں کی نعمتیں دکھانے کے بعد اللہ اسے پھر زندہ کر دیتا ہے، جسے وہ اپنے قرب کے دروازے پر مرا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔ اسے کثیر حکمتوں اور بھیدوں اور   بہت لشکروں اور رعایا کا نظارہ کراتا ہے، لہذا جب وہ ملک وملکوت دکھا دیتا ہے اور اسے اپنےبھیدوں سے خبر دار کر دیتا ہے تو اس کے روح اور جسم اور ظاہر وباطن کے درمیان میں مقسوم حصوں کے حاصل کرنے کے لئے جمع کر دیتا ہے، تا کہ وہ اپنے حصے اپنے قبضے میں کر لے ۔ اس سے پہلے اگر اس پر مشرق ومغرب کے اقسام وانواع کی چیزیں پیش کی جاتیں تو ان سے ایک ذرہ بھی نہ لیاء اللہ کی پوشیدہ قدرت اور اس کے باطنی ارادے میں موافقت رہتی ۔ انبیاء کرام اور اولیاء اللہ اور خواص بندے اللہ کی مخلوق میں سے ان بندوں اور ان بندوں کی شہوتوں کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں، ان کے بیچ میں شہوت اور کوئی ارادہ ذرہ برابر باقی نہیں رہتا، یہاں تک کہ ان بندوں کے باطن اللہ کے لئے صاف ہو جاتے ہیں، سنہ پھر اللہ تعالی اس بات کا ارادہ فرماتا ہے کہ یہ بندہ اپنے نصیب کے لکھے حصے پر قبضہ کر لے تو ان میں ان حصوں کے پورا کر لینے کے لئے وجود کی زندگی ایجاد کر دیتا ہے ۔

فیوض غوث یزدانی ترجمہ الفتح الربانی،صفحہ 684،قادری رضوی کتب خانہ گنج بخش لاہور


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں