اللہ تعالی کی عنایت کا سبب (اٹھارھواں باب)

اللہ تعالی کی عنایت کا سبب کے عنوان سے اٹھارھویں باب میں  حکمت نمبر 169 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
اس حقیقت کی طرف کہ تمہاری دعا اللہ تعالیٰ کی عطا کا سبب نہیں ہے۔ جو شے تمہاری رہنمائی کرتی ہے وہ تمہارے ظاہر ہونے سے پہلے اللہ تعالی کی خاص عنایت کا تمہارے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ جیسا کہ مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اس کی طرف اپنے اس قول میں اشارہ فرمایا ہے:۔
169) عِنَايَتُهُ فِيكَ لاَ لِشَىْءٍ مِنْكَ وَأَيْنَ كُنْتَ حِينَ وَاجَهَتْكَ عِنَايَتُهُ وَقَابَلَتْكَ رِعَايَتُهُ ؛ لَمْ يَكُنْ فِى أَزَلِهِ إِخْلاَصُ أَعْمَالٍ وَلاَ وُجُودُ أَحْوَالٍ ، بَلْ لَمْ يَكُنْ هُنَاكَ إِلاَّ مَحْضَ الإِفْضَالِ وَعَظِيمَ النَّوالِ .
تمہارے اوپر اللہ تعالی کی عنایت تمہاری طرف سے ہونے والی کسی شے کے سبب نہیں ہے ۔ اور اس وقت تم کہاں تھے جب ازل میں اللہ تعالی کی عنایت تمہاری طرف متوجہ ہوئی اور اس کی نگرانی اور حفاظت تمہارے سامنے آئی ؟ اس کے ازل میں نہ اعمال کا اخلاص تھا ، نہ احوال کا وجود تھا ۔ بلکہ وہاں صرف اللہ تعالیٰ کے فضل اور بخشش کے سوا کچھ نہ تھا۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں:۔ خبریں اور نقلیں جس شے کے لئے متواتر وارد ہوئی ہیں اور منقول اور معقول جس بات پر متفق ہیں وہ یہ ہے کہ جواللہ تعالیٰ نے چاہا وہ ہوا اور جو نہیں چاہاوہ نہیں ہوا۔ اور اللہ تعالی کی مشیت قدیم ہے۔ کیونکہ وہ اس کا خاص ارادہ ہے اور اس کا ارادہ اس کے علم کے موافق ہے۔ اور اس کا علم قدیم ہے۔ لہذا جو کچھ عالم شہادت میں ظاہر ہوتا ہے وہ صرف وہی ہے جو اللہ تعالی نے عالم غیب میں مقدر کر دیا ہے ، ‌وَجَفَّتِ ‌الأقْلَامُ ‌وَطُوِيَتِ ‌الصُّحُفُ قلم خشک ہو گئے اور صحیفے لپیٹ دئے گئے ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:- مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فِيٓ أَنفُسِكُمۡ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مِّن قَبۡلِ أَن ‌نَّبۡرَأَهَآزمین میں اور تمہارے اوپر جو مصیبت بھی پہنچتی ہے وہ اس کے ظاہر ہونے سے پہلے کتاب میں لکھی ہوئی ہے ۔
لہذا نیک بختی اور بدبختی ، دونوں کا فیصلہ قضا و قدر میں پہلے ہی ہو چکا ہے۔ پس نیک بخت وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں نیک بخت ہوا اور بد بخت وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں بد بخت ہوا۔ اور مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) کا یہ قول پہلے گزر چکا ہے۔ تمہارے ہر سانس لینے کے برابر وقت میں تمہارے لئے ایک فیصلہ مقدر ہو چکا ہے۔
لہذا اے انسان ! جب تم کو یہ معلوم ہو گیا تو تم اللہ تعالی کے سابق علم کو کافی سمجھو۔ اور اپنی لاحق (بعد میں ہونے والی ) دعا سے باز رہو۔ اور تمہاری دعا صرف عبودیت کے ظاہر کرنے اور ربوبیت کے ادب کو قائم کرنے کے لئے ہو ۔ کیونکہ تمہارے وجود سے پہلے تمہارے اوپر اللہ تعالی کی عنایت تمہاری طرف سے صادر ہونے والی کسی طاعت یا عمل کے سبب نہ تھی ۔ جس کی بنا پر تم اسکی عنایت اور احسان کے مستحق تھے اور اس وقت تم کہاں تھے۔ جبکہ اس کے ازل میں اس کی عنایت تمہاری طرف متوجہ ہوئی اور تمہاری طرف بڑھی اور تم کو حفاظت اور ہدایت والوں کے زمرے میں لکھ دیا ؟ پھر جب اس نے اقرار لینے کے دن تم کو بات کرنے کی طاقت عطا کی تو تم نے اس کے رب ہونے کا اقرار کیا۔
اور اس وقت تم کہاں تھے۔ جبکہ اس کی نگرانی اور حفاظت تمہارے شامل حال تھی ۔ حالانکہ تم پیٹ کے اندھیرے میں تھے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنی روزی خون کی رگ سے پہنچائی ۔ اور اس عارضی چند روزہ جگہ یعنی ماں کے پیٹ میں تمہاری حفاظت فرمائی۔ یہاں تک کہ تمہارے اعضا سخت اور ہاتھ پاؤں مضبوط ہو گئے؟ پھر تم کو نرمی اور مہربانی سے پیٹ سے نکال کر عالم وجود میں لایا۔ اور اپنی روزی تم کو آسانی سے پہنچائی ۔
ازل میں جب اس کی عنایت تمہاری طرف متوجہ ہوئی اور ماں کے شکم میں جب اس کی حفاظت تمہارے ساتھ تھی ، اس وقت نہ اعمال کا اخلاص تھا ، نہ احوال کا وجو دتھا۔ جن کی وجہ سے تم عنایت اور حفاظت کے مستحق تھے ۔ بلکہ اس وقت صرف اللہ تعالی کا فضل و کرم تھا۔ حضرت واسطی رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ قسمتیں تقسیم کر دی گئیں۔ اورصفتیں مقدر کردی گئیں ۔ تو حرکات ومعاملات سے دو کیسے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ایک شاعر نے کہا ہے ۔۔
فَلَا عَمَلُ مِنّى إِلَيْهِ اكْتَسَبْتُهُ سِوَى محض فضل لا بِشَيْءٍ يُعلل
پس میری جانب سے اللہ تعالی کی طرف کوئی عمل نہیں ہے جو میں نے کیا ہو، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے جس کا سبب کوئی بھی نہیں ہے۔
اور دوسرے شاعر نے فرمایا ہے:۔
وَكُنتُ قَدِيمًا أَطْلُبُ الْوَصْل مِنْهُمْ فَلَمَّا آتَانِى الْعِلْمُ وَارتَفَعُ الْجَهْلُ
میں بہت زمانے سے ان کا اصل طلب کرتا تھا۔ لیکن جب مجھ کو علم حاصل ہوا اور جہالت دور ہوئی۔
علمتُ بِأَنَّ الْعَبْدَ لاطَلَبَ لَهُ فَإِنْ قُرِبُوا فَضْلَّ وَإِنْ بُعِدُوا عَدْلٌ
تو میں نے جان لیا کہ بندے کے لئے کوئی طلب نہیں۔ لہذ اگر قریب کر لئے جائیں تو فضل وکرم ہے۔ اور اگر دور کردیئے جائیں تو عدل و انصاف ہے۔
وَإِن أَظْهَرُوا لَمْ يُظْهَرُوا غَيْرَ وَصْفِهِمْ وَإِن سَتَرُوا فَالسَّترُ مِنْ أَجَلِهِمْ يَحْلُو
اور اگر وہ ظاہر کر دیئے جائیں۔ تو اس کے وصف کے ساتھ ظاہر کئے جائیں گے اور اگر چھپائے جائیں تو ان کی وجہ سے چھپنا شیریں ہو جاتا ہے۔
اور دوسرے شاعر نے فرمایا ہے۔
قَدْ كُنْتُ أَحْسِبُ أَنْ وَصَلَكَ يُشْتَرَى بِنَفَائِسِ الْأَمْوَال وَالأَرْیَاحِ
میں سمجھتا تھا کہ تمہار اوصل بہترین مالوں اورفا ئدں سے خریدا جا سکتا ہے۔
وَظَنَنتُ جَهْلًا أَنْ حُبَّكَ هَينٌ تُفْنى عَلَيْهِ كَرَائِمُ الأَرْوَاحِ
اور میں نادانی سے یہ گمان کرتا تھا کہ تمہاری محبت آسان ہے۔ مگر اس پر قیمتی جانیں قربان کر دی جاتی ہیں۔
حَتَّى رَأَيْتُكَ تَجْتَبى وَتَخصُّ مَنْ تختاره بِلطَائِفِ الإِمْنَاح
یہاں تک کہ میں نے تجھ کو دیکھا کہ تو جس کو چاہتا ہے اس کو اپنے لطف و کرم سے چن لیتا ہے اور خاص کر لیتا ہے۔
فَعَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تُنَالُ بِحِيلَةٍ فَلَوَيْتُ رَأْسِي تَحْتَ طَيِّ جَنَاجِي
پس میں نے جان لیا کہ تم کسی تدبیر سے نہ ملو گے تو میں نے تدبیر سے ہاتھ سمیٹ لیا اور منہ پھیر لیا
وَجَعَلْتُ في عُشُ الْغَرَامِ إِقَامَتِي فيه غُدُوِّى دَائِمَا وَرَوَاحِى
اور محبت کے آشیانے میں میں نے اپنے ٹھہر نے کی جگہ بنائی۔ اور ہمیشہ صبح و شام اسی میں رہتا ہوں۔
اس وجہ سے عارف کا قلب خوف اور امید کی طرف متوجہ نہیں ہوتا ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ کے دیدار کے سوا کوئی حاجت باقی نہیں رہتی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ولایت ، عنایت الہی کا راز ہے جو تد بیر اور طلب سے حاصل نہیں ہوتی لیکن اللہ تعالی کی عنایت جس کے شامل حال ہوتی ہے اس کے لئے اس کا مقصد آسان ہو جاتا ہے۔
حضرت ذوالنون مصری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا ۔ آپ نے اپنے رب کو کس کے ذریعے پہچانا؟ انہوں نے جواب دیا۔ میں نے اپنے رب کو اپنے رب کے ذریعے پہچانا۔
اگرمیرا رب نہ ہوتا تو میں اپنے رب کو نہ پہچان سکتا۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں