باطنی ریاء کی علامات (سترھواں باب)

باطنی ریاء کی علامات کے عنوان سے سترھویں باب میں  حکمت نمبر 161 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
باطنی ریاء کی علامات میں سے :۔ بندے کی یہ خواہش اور تمنا ہے ، کہ لوگ اس کی خصوصیت سے واقف وآگاہ ہوں ۔ جیسا کہ مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اس کی طرف اپنے اس قول میں اشارہ فرمایا
161) اسْتِشْرَافُكَ أَنْ يَعْلَمَ الْخَلْقُ بِخُصُوصِيَّتِكَ دَلِيلٌ عَلَى عَدَمِ صِدْقِكَ فِى عُبُودِيَّتِكَ.
تمہاری یہ خواہش کہ مخلوق تمہاری خصوصیت سے آگاہ ہو ۔ اس بات کی دلیل ہے کہ تم اپنی عبودیت میں سچے نہیں ہو۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں : – اے فقیر ! جب اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کی خصوصیت میں سے کسی خصوصیت کے ساتھ تم کو خاص کرے ( یعنی کوئی خصوصیت تم کو عطا کرے ) جیسے زہد، یا ورع ، یا توکل، یا رضا، یا تسلیم، یا محبت ، یا قلبی یقین ، یا معرفت یا تمہارے ہاتھ سے کوئی ظاہری یا باطنی کرامت ظاہر کرے۔ یا تمہاری فکر کسبی یا لدنی حکمتیں یا بخششیں حاصل کرے۔ پھر تمہاری خواہش یہ ہو کہ لوگ تمہاری اس خصوصیت سے آگاہ ہوں، جو اللہ تعالیٰ نے تم کو عطا فرمایا ہے۔ تو یہ تمہارے باطن میں پوشیدہ ریاء کے موجود ہونے کی دلیل ہے اور اپنی عبودیت میں تمہارے سچا نہ ہونے کی دلیل ہے۔ بلکہ تم اپنی عبوریت میں جھوٹے ہو۔ اس لئے اگر تم اپنی عبودیت میں سچے ہوتے تو تم اللہ تعالیٰ کے علم کو کافی سمجھتے اور اپنے لئے اس کی حفاظت اور نگرانی پر قناعت کرتے اور اس کے مشاہدے میں اس کے ماسوا کے مشاہدے سے بے نیاز ہوتے ۔
لہذا فقیر کے اوپر واجب ہے کہ جب اس کو اللہ تعالیٰ کسی خصوصیت سے مخصوص کرے ۔ تو وہ اس کو چھپائے اور اپنے اندر اس کے موجود ہونے سے انکار کرے اور اس کو اپنے شیخ کے سوا کسی پر ظاہر نہ کرے ۔ کیونکہ اگر وہ اس کو ظاہر کرے گا ۔ تو وہ خطرے میں مبتلا ہو گا۔ اس لئے کہ ظاہر کرنا ، کبھی بیان کے طور پر ہوتا ہے اور کبھی فخر اور بڑائی کے طور پر ہوتا ہے۔ اور چھپانے ہی میں سلامتی ہے۔ وہ جاہل ہے اور حضرت مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) کا یہ قول پہلے گزر چکا ہے ۔ جس شخص کو تم ہر سوال کا جواب دینےولا اور اپنے ہر مشاہدے کا ظاہر کرنے والا اور اپنی ہر معلوم کا بیان کرنے والا ، دیکھو تو سمجھ لو کہ وہ جاہل ہے۔
ہمارے شیخ الشیوخ حضرت مجذوب رضی اللہ عنہ نے اس مفہوم کے بارے میں یہ اشعار فرمایا ہے۔
احْفُرْ لِسِرِّكْ وَدُكَ في الأَرْضِ سَبْعِينَ قَامَا
تم اپنے راز کوزمین میں سترگز گہرا گڑھا کھود کر دفن کرد
وَخَلَّ الخَلَائِقَ يَشْكُوا إلى يَوْمِ القِيَامَا
اور مخلوقات کو چھوڑ دو ۔ وہ قیامت تک شکایت کرتے رہیں۔
اور ہمارے برادران طریقت میں بعض ایسے تھے ۔ کہ جب ان سے دریافت کیا جاتا تھا۔آپ لوگوں نے اس طریقت کے راستے میں کیا پایا اور کیا مزہ چکھا ؟
تو وہ فرمایا کرتے تھے : ۔ ہم نے اس میں سردی اور فاقہ پایا ہے۔
ہمارے شیخ الشیوخ رضی اللہ عنہ اس جواب کو پسند فرماتے تھے ۔ اور ان کی تعریف کرتے تھے۔ کیونکہ یہ جواب ان کے اخلاص کی صداقت کی دلیل ہے۔ اور ہمارے اور ان لوگوں کے شیوخ رضی اللہ عنہم اپنے باطنی حالت کی حفاظت کے لئے ہمیشہ اپنے ظاہر میں خراب کا استعمال کیا کرتے ۔۔ اور اسی وجہ سے پوشیدہ عمل کو ظاہری عمل پر ستر درجہ زیادہ فضیلت دی گئی ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے۔
اور حضرت سید نا عیسی علیہ السلام نے فرمایا ہے :- جس روز تم میں سے کسی شخص نے روزہ رکھا ہو ۔ تو اس کو چاہیئے کہ اپنی ڈاڑھی میں تیل لگائے ۔ اور ہونٹوں پر بھی لگا دے۔ تا کہ جب وہ لوگوں کے سامنے جائے تو لوگ اسے دیکھ کر یہ سمجھیں کہ یہ روزہ دار نہیں ہے اور جب کسی شخص کو کچھ دے تو اپنے دائیں ہاتھ سے اس طرح دینا چاہیئے کہ بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو ۔ اور جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اس کو چاہیئے ۔ کہ اپنے دروازے کو بند کر دے۔ کیونکہ مدح و ثنا بھی اللہ تعالیٰ اس طرح تقسیم کرتا ہے۔ جس طرح روزی تقسیم کرتا ہے۔
حضرت شیخ ابوعبد الله قرشی رضی اللہ عنہ نے فرماتے :۔ جو شخص اپنے افعال و اقوال میں اللہ تعالیٰ کے سننے اور دیکھنے پر قناعت نہیں کرتا۔ اس کے اندر ریا کا داخل ہونا لازمی اور ضروری ہے۔
اور بعض عارفین نے فرمایا ہے – بندہ ہر گز مخلص نہیں ہو سکتا ہے۔ جب تک وہ غیر معروف نماز میں رہنا پسند نہ کرے۔
اس بنا پر طریقت کے راستے میں اپنی قدرومنزلت کو گھٹانا شرط ہے۔ لیکن اگر بندہ ، معرفت اور وحدانیت کے مشاہدے میں ثابت اور قائم ہو جائے ۔ تو اس کے لئے ، اپنے اعمال سے واحدانیت کی خبر دینا، اور اپنے احوال کی خوبیوں کو ظاہر کرنا غیر اللہ کی نفی کرنے اور شکر کے واجب کو ادا کرنے کی بنا پر جائز ہے۔
بعض عارفین سلف ( پہلے زمانے والے) کا معمول تھا :- جب صبح ہوتی تو وہ بیان کرتے تھے۔ میں نے اتنی رکعتیں نماز پڑھی ہے اور اتنی سورتیں قرآن مجید تلاوت کی ہے۔ جب ان سے یہ کہا جاتا :- کیا آپ ریاء سے نہیں ڈرتے ہیں؟ تو وہ فرماتے تھے :۔ تمہارے حال پر افسوس ہے۔ یایہ کہ :۔ تم نے بہت خوب کہا۔ کیا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے جو غیر اللہ کے فعل کے ساتھ ریاء کرتا ہے۔ حاصل یہ ہے :۔ جو شخص اپنے نفس سے فنا ہو گیا اور اپنے رب کے شہود میں ثابت اور قائم ہو گیا۔ اس کے متعلق کچھ کلام نہیں ہے۔
اور عارفین نے فرمایا ہے :۔ جو شخص گمنامی کو پسند کرتا ہے۔ وہ گمنامی کا بندہ ہے۔ اور جوشخص مشہور ہونا پسند کرتا ہے۔ وہ شہرت کا بندہ ہے۔ اور جو شخص وہی چاہتا ہے۔ جو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے۔ وہ فی الحقیقت اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں