بشارتوں کا ظہور (پہلا مراسلہ)

بشارتوں کا ظہور کے عنوان سے پہلے مراسلے کا پانچواں حصہ ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔

جو شخص باقی سے خوش ہوتا ہے اور فانی سے منہ پھیر لیتا ہے اس کے اوپر انوار روشن ہوتے ہیں اور اس کے سامنے اسرار ظاہر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اس کو اپنے اس قول میں بیان فرمایا ہے۔

قدْ أَشْرَقَ نُورُهُ ، وَظَهَرَتْ تَبَا شِيْرُهُ                                             اس کا نور روشن ہو گیا ، اور اس کی بشار تیں ظاہر ہوگئیں  ۔

میں (احمد بن محمد بن  العجیبہ ) کہتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کا نور ترک دنیا اور مولائے حقیقی کی طرف توجہ کی شیرینی سے روشن ہوتا ہے۔ کیونکہ دنیا کی محبت تاریکی ہے لہذا جب وہ قلب سے نکل جاتی ہے اس وقت اس میں نورداخل ہوتا ہے۔ اور یہ نور ۔ زہد کی شیرینی ، اور قناعت کا آرام ، اور رضا کی ٹھنڈک اور تسلیم کی خوش گوار ہوا   ہے

اور بشارتیں ظاہر ہونے کا مفہوم: وہ بشارتیں ہیں جو سائر کو آگے بڑھنے اور وصال کی روح معارف اور جمال کی جنت کی خوشخبری سناتی ہیں۔ اس سے متعلق ایک عارف کےیہ ا شعار ہیں :-

اِذَاهَبَّتُ عَلَيْنَا مِنْ حِمَاكُم                                نُسَيْمَات تُذَكِّرُنَا الْوِصَالَا

جب تمہارے سبزہ زار سے ہمارے او پر خوشگوار ہلکی ہوائیں چلتی ہیں تو وہ ہم کو وصال کی یاددلاتی ہیں۔

مُبَشِّرَةٌ بِاقْبَالِ وَسَعْدٍ وَعِزٍّ دَائِمٍ دَهْرًا طَوِيلًا

وہ ایسے اقبال اور نیک بختی اور عزت کی خوش خبری دیتی ہیں جو ہمیشہ قائم رہنے والی ہے  ۔

مُبَلِّغَةٌ شَذَا تِلْكَ الْمَعَانِي                                     مُذَكِّرَةٌ رُبَاهَا وَالطُّلُولَا

وہ حقیقتوں کی خوشبو ئیں پہنچاتی ہیں اور ان کے اونچے اور بلند مقامات کی یاد دلاتی ہیں  ۔

فَذَ الِكَ خَيْرُ وَقْتٍ بِالْمَعْنِى                               وَأَحْسَنُ مَا تَعَاطَىْ السَّلْسَبِيْلَا

لہذا غم اور تکلیف میں مبتلا عاشق کیلئے یہ سلسبیل کے ملنے سے زیادہ بہتر وقت ہے  ۔

لہذا جب اس کا نور روشن ہوتا ہے اور اس کی بشارتیں ظاہر ہوتی ہیں تو وہ دنیا سے بالکل منہ پھیر تا ہے۔

جیسا کہ مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اس کو اپنے اس قول میں بیان فرمایا ہے:۔

فصَرَفَ عَنْ هذِهِ الدَّارِ مُغْضِبًا ، وَ أَعْرَضَ عَنهُ مُوَليًا

پس اس نے دنیا سے آنکھ بند کر کے منہ پھیر لیا اور پیٹھ پھیر کر اس سے پھر گیا۔

میں (احمد بن محمد بن  العجیبہ ) کہتا ہوں : جب نور روشن ہو جاتا ہے اور بشارتیں ظاہر ہو جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سیر کرنے والا اس دنیا سے بالکل منہ پھیر لیتا ہے اور اپنی بصر اور بصیرت کی آنکھیں اس دنیا کی رونق و زیبائش اور حسن و جمال سے بالکل بند کر لیتا ہے۔

اس کی مثال یہ آیہ کریمہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت رسول کریم ﷺسے فرمایاہے۔

لَا ‌تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعۡنَا بِهٓ أَزۡوَٰجٗا مِّنۡهُمۡ أَى أَصْنَافًا مِنَ الْكُفَّارِ ‌زَهۡرَةَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا لِنَفۡتِنَهُمۡ فِيهِ

آپ اپنی آنکھیں دنیاوی زندگی کی ان آرائشوں اور زینتوں کی طرف نہ بڑھائیے جو ہم نے کافروں کے مختلف گروہوں کو عطا کر رکھا ہے۔ تا کہ ہم اس میں ان کی آزمائش کریں  ۔لہذاوہ اس سے اپنے قلب اور جسم کے ساتھ اس کی طرف سے پیٹھ پھیر کر منہ پھیر لیتا ہے اور اپنے مولائے حقیقی کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔

حضرت شطیبی نے فرمایا ہے ۔ تم یہ جان لو کہ دنیا سے منہ پھیر نا قلب کے ساتھ ہوتا ہے اور جبکہ قلب اس میں لٹکا ہوا ہوتو ہاتھ سے دنیا ز ائل ہونا اور اس کے اسباب کا ختم ہو جانا کچھ مفید نہیں ہوتا ہے۔ لہذا مقصود قلب سے اس کا ختم ہو جانا ہے ہاتھ میں اس کا ہونا اور نہ ہو نا دونوں برابر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان سے فرمایا جن کو اللہ تعالیٰ نے کل زمین کی بادشاہت عطافرمائی تھی۔

هذا عطَاءُ نَا فَامنُنُ أَوْ أَمسِكُ بِغَيْرِ حِسَابٍ

یہ ہماری بے حساب یعنی بے انتہا بخشش ہے، لہذا آپ لوگوں پر احسان کریں یا روکرکھیں۔

اور انہیں کے بارے میں یہ بھی فرمایا ۔

نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ وہ بہترین بندے تھے ، اور بیشک وہ ہماری طرف بہت بڑے ،ر جو ع کرنے والے تھے  ۔

اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کیلئے جن سے دنیا کو بالکل دور رکھا تھا فرمایا ہے ۔

وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُ مَعَهُاور ہم نے ایوب کو ان کے اہل اور انہیں کی طرح لوگ عطا فر مایا ۔

لیکن آخرت سے محبت کی نشانی دنیا سے کنارہ کشی ہے۔ اس کے ترک کرنے کی علامت یہ ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے اس پر وہ خوش نہ ہو اور جو اس سے چھوٹ گیا اس پر نادم نہ ہو اور یہ روح کی فتح  ترک کرنے اور اس کی مخالفت سے ہی ممکن ہے۔

يَا نَفْسُ فِي التَّقْرِيبِ كُلُّ مَذَلَّةٍ                  فَتَجَرَّعِي ذُلِّ الْهَوَى بِهَوَانِ

وَإِذَا حَلَلْتِ بِدَارٍ قَوْمٍ دَارِهِمْ                         فلهم عَلَيْكِ تَعزُّزُ تَعَزُزُ الْأَوْطَانِ

اے جان قرب میں ہر ذلت ہے پس جذبہ ذلت کو ذلت کے ساتھ نگل جا اور جب تو کسی قوم کے گھر ان کے گھر بسائے گا تو ان کی قومیں تجھ پر مضبوط ہوں گی۔

شیخ ابو محمد عبدالقادر الجیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے دنیا کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اسے اپنے دل سے نکال دو اور اسے اپنے ہاتھ میں رکھو کیونکہ یہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: دنیا کو الگ کرنے والا آدمی نہیں جانتا بلکہ وہ آدمی ہے جو اسے پکڑنا جانتا ہے اور اسے تھامے رکھتا ہے۔ شیخ زرروق رحمہ اللہ نے فرمایا: کیونکہ یہ سانپ کی طرح ہے اور مسئلہ سانپ کو مارنے کا نہیں ہے بلکہ اسے  زندہ پکڑنے کا ہے۔

اس لیے کہا گیا ہے ۔ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس سے کوئی کمال صادر ہو تو اس سے کوئی کمال صادر نہیں ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنی خواہش کا بندہ ہے اور اپنے نفس کے فائدے کیلئے عمل کرتا ہے۔ لہذا جب اس سے نفسانی فوائد اور دنیاوی خواہشات ختم ہو جاتی ہیں اس وقت اس کا اراد ہ اللہ تعالیٰ کی طرف درست ہوتا ہے اور اس کا قلب اپنے مولائے حقیقی کی طرف توجہ میں خالص اور تنہا ہو جاتاہے۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں