تقوی کی تین اقسام

خاتمہ کے عنوان کا چوتھا حصہ تقوی کی تین اقسام ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔

مقامات کے اعتبار سے تقویٰ کی تین قسمیں ہیں:۔

تقوی کی پہلی قسم : اہل مقام اسلام کا تقویٰ ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے بچنے کیلئے شرعی احکام کی مخالف اشیاء سے جسمانی اعضاء کی حفاظت کرنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس آیت کریمہ میں انہی لوگوں سے خطاب فرمایا ہے:۔

فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُم تم لوگ اللہ تعالیٰ سے اتناڈ ر و جتنی تم طاقت رکھتے ہو

تقویٰ کی دوسری قسم : اہل مقام ایمان کا تقویٰ ہے اور وہ لغزشوں اور وسوسوں سے قلوب کی حفاظت کرنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس آیت کریمہ میں انہیں لوگوں سے خطاب فرمایا ہے:۔

فَاتَّقُونِ يَا وَلِي الْأَلْبَابِ   اے عقل والو! مجھ سے ڈرو   تو جب قلب لغزشوں اور وسوسوں سے پاک ہو جاتا ہے تو صفات ربانی کی حقیقتوں کے شہودسے فیضیاب ہو جاتا ہے۔

تقوی کی تیسری قسم۔ اہل مقام احسان کا تقویٰ ہے اور وہ ماسوی اللہ تعالیٰ سے سر کی حفاظت کرنی ہے کیونکہ جب سر اغیار سے پاک ہو جاتا ہے تو وہ انوار کے شہود سے کامیاب ہو جاتا ہے اور یہی ذات مقدس کی عظمت ہے۔ اور تقویٰ کے مقامات میں سے ہر مقام کیلئے ایسے اسباب ہیں جو ان کے تقویٰ کے سبب بنتے ہیں۔ پس اہل مقام اسلام کے تقویٰ کا سبب – ثواب کی امید اور عذاب کا خوف ہے ۔ لہذا ان کا تقوی خوف ور جا کی بنا پر ہے۔ اور اہل مقام ایمان کے تقوی کا سبب – جلال اور جما ل کا شہودہے۔ لہذا ان کا تقوی ہیبت اور

شرم کی بنا پر ہے۔ اور اہل مقام احسان کے تقوی کا سبب – عظمت اور کمال کا شہود ہے۔ لہذا ان کا تقوی محبت اور تعظیم کی بنا پر ہے۔

اس کے بارے میں ایک عارف کے اشعار ہیں :-

فَكُنْ أَيُّهَا الْعَبْدُ الْمُعَنّٰى اَخَاتُقًى           حَثِیْثُ التُّرَقِّي فِي الْمَعَارِج وَاللَّطْفِ

پس اے مکلف ( تکلیف دئیے گئے) بندے عروج اور لطف میں جلد ترقی کرنے کیلئے تم اہل تقوی ہو جاؤ

وَثِقْ بِلَطِيفِ الصُّنْعِ تَحْظَ بِفَضْلِهِ    وَخَلِّصْ إِلَيْهِ الْقَصْدَ يُغْنِيكَ بِالْعَطْفِ

اور لطیف صنعت والے اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ کرو، تو تم اس کے فضل سے فائدہ حاصل کرد گے اور تم اس کی طرف اپنا ارادہ خالص کر لوتو وہ تم کو خواہشات سے بے نیاز کر دے گا

وَفَوِّضْ وَسَلَّمَ وَارْقِ فِي دَرَجِ الصَّفَا عَلَى الْكَوْنِ تَحْظَ بِالْمَعَارِفِ وَالْعُرْفِ

اور تم اپنے معاملات اللہ تعالیٰ کو سپرد کر دو، اور اس کے سامنے سر تسلیم خم رکھو ، اور صفائی و خلوص کے درجے میں مخلوق سے آگے بڑھو۔ تو تم معارف واسرار سے فیضیاب ہو گے

وَتُدْرِكُ مَا أَمْسَى الْوَرَى عَنْهُ فِي غِنًی وَتَعْرِفُ أَشْيَاء تَجِلُّ عَنِ الْوَصْفِ

اور تم وہ شے پاؤ گے ، جس سے مخلوق غنی ہو جاتی ہے اور تم ان اشیاء کو پہچانو گے جو بیان سے باہر ہیں ۔ اور جو شخص تقوی حاصل کر لیتا ہے اور اس کے انتہائی درجے پر پہنچ جاتا ہے وہ ہمیشہ سرور اورفرحت میں رہتا ہے اور رنج و فکر اس سے دور ہو جاتی ہے۔

حکایت روایت ہے۔ حضرت رابعہ عدو یہ کی ملاقات عتبہ غلام سے ہوئی ۔ اس حال میں کہ وہ نئی قمیص پہنے ہوئے فخر کی چال چل رہا تھا۔ حضرت رابعہ نے اس سے دریافت فرمایا ۔یہ غرور اور اور خود پسندی کی رفتار کیوں ہے۔ جو میں نے اس سے پہلے تم سے صادر ہوتے نہیں دیکھی؟ اس نے جواب دیا :- مجھ سے زیادہ اس حال کا حق کون ہو سکتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ میرا آقا ہو گیا ہے اور میں اس کا غلام ہو گیا ہوں ۔

حکایت

حضرت ذوالنون   نے فرمایا ہے ۔ میں نے ایک بوڑھے شخص کو اس حال میں دیکھا کہ وہ سواروں کے ساتھ پیدل چل رہا ہے اس کے ہاتھ میں قرآن مجید ہے ، وہ اس کو پڑھتا ہے اور اچھلتا  کو دتا اور نا چتا ہے۔ میں نے اس سے دریافت کیا : اے شیخ آپ کیوں ناچ رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا:۔ میں نے اپنے دل میں کہا:- میں کس کا غلام ہوں ؟ اور میں کس کا کلام پڑھ رہا ہوں ؟ اور کس کے گھر جانے کا میں نے ارادہ کیا ہے؟ تو فرحت و سرور سے میرے اندر یہ بے اختیاری حرکت  پیدا ہوئی اور میں بغیر ارادے کے ناچنے لگا۔ پھر مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اپنی دعا میں جو شے طلب کی اس کیلئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احسان اور کرم کو وسیلہ بنایا ، چنانچہ فرمایا –

بِمَنْهِ وَكَرَمِهِ  اپنے احسان اور کرم کےوسیلے سے    یعنی جن چیزوں کا بیان پہلے ہو چکا ہے میں ان کو اللہ تعالیٰ کے احسان و کرم کے وسیلے سے  مانگتا ہوں کسی عمل اور حال کے سبب نہیں ۔ اور یہ سب بندے کا اپنے مولائے حقیقی پر مکمل اعتماد ہے ان حالات میں جن کی طرف اس نے بندے کو رجوع کیا اور وہی بندے کا اس کی ابتداء اور انتہا میں سر پرست ہے۔ یہاں مکتو بات ختم ہوگئے اور اب صرف اللہ کریم وہاب کی مناجات باقی ہے


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں