جھوٹی تمنائیں (باب  نہم)

جھوٹی تمنائیں کے عنوان سے  باب  نہم میں  حکمت نمبر78 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
چونکہ بندے سے مطلوب عبودیت کے وظیفوں کے ساتھ قائم رہنا، اور ربوبیت کی عظمت کی معرفت ہے۔ قلوب نے اس کے حاصل کرنے کا شوق کیا۔ اور اس کے پانے کے لئے حرص کی ۔ اور اس کے لئے اپنی تمناؤں تک پہنچنے کی امید قائم کی۔ پس حضرت مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے رجاء صادق (سچی امید ) اور امنیہ ( جھوٹی تمنا) کی علامت بیان فرمائی:
78) الرَّجَاءُ مَا قَارَنَهُ عَمَلٌ، وَإِلاَّ فَهُوَ أُمْنِيةٌ.
ر جاءدہ ہے۔ جس کے ساتھ عمل ہو۔ ورنہ وہ امنیہ (جھوٹی تمنا ) ہے۔ بعض علماء نے فرمایا ہے:۔ ریاء ۔ ایسی طمع کی جانے والی چیز سے قلب کا تعلق ہے جو آئندہ حاصل ہونے والی ہے۔ اس عمل کے انجام دینے کے ساتھ ، جس کے صلہ میں وہ چیز حاصل ہونے والی ہے۔ اور اسی مفہوم کے قریب واقع ہے، جس کے ساتھ وہ عمل ہو، جو طمع کی جانے والی چیز کے حاصل ہونے کا سبب ہو ۔
امنیہ :۔ وہ خواہش اور تمنا ہے، جس کے ساتھ عمل نہ ہو۔ پس اگر وہ تمنا قطعی اور یقینی ارادہ کے ساتھ ہو، تو وہ تدبیر ہے۔ اور وہ بہت ہی برا ہے۔ اس کو حضرت شیخ زروق رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا ہے۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں : جس شخص نے یہ امید کی کہ وہ ظاہری نعمت جیسے حور و قصور کو حاصل کرے تو اس پر کوشش ، اور طاعت اور نفل نیکیوں کی طرف دوڑ نا واجب ہے۔
حضرت شیخ معروف کرخی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے:۔ بغیر عمل کے جنت طلب کرنا گنا ہوں میں سے ایک گناہ ہے۔ اور بغیر سبب اور ذریعہ کے شفاعت کی امید کرنا دھوکا کی ایک قسم ہے۔ اور بغیر طاعت کے رحمت کی امید کرنا جہالت اور حماقت ہے۔
بیان کیا گیا ہے۔ جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ گناہ کے اصرار کے ساتھ امید درست ہے تو اسی طرح اس کو یہ گمان رکھنا چاہیئے کہ محتاجی کے ساتھ نفع ،اور سمندر سے آگ کا بھڑکنا درست ہے۔ پس جو شخص علوم کے حاصل ہونے ، اورسمجھ کے خزانوں کے کھلنے کی امید کرتا ہو۔ تو اس کے کے پڑھنا پڑھانا، اور محقق اور عالم اہل علم کی مجلس میں بیٹھنا، اور اس کے ساتھ تقویٰ اور ورع سےاپنے کو آراستہ کرنا واجب ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ اور اللہ سے ڈرو تا کہ اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو علم عطا کرے ۔
تو اگر یہ کیا تو وہ سچا طالب ہے اور اپنی امید تک پہنچےور نہ وہ جھوٹا ہے۔ اور جاہل باقی رہے گا۔
بعض محققین نے فرمایا ہے ۔ جو شخص پورے طور پر اپنے کو علم کے حاصل کرنے میں لگا دیتا ہے وہ علم کو پورے طور پر حاصل کر لیتا ہے۔ اور جو پورے طور پر اپنے کوعلم کے حاصل کرنے میں نہیں لگا تا وہ نہ پو را علم حاصل کر سکتا ہے نہ تھوڑا۔
حدیث شریف میں حضرت رسول اکرم ﷺ سے روایت ہے۔
الْعِلْمُ ‌بِالتَّعَلُّمِ، وَالْحِلْمُ بِالتَّحَلُّمِ، وَمَنْ يَتَحَرَّ الْخَيْرَ يُعْطَهُ وَمَنْ يَتَوَقَّ الشَّرَّ يُوقَهُ
علم سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اور علم برداشت کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ جو شخص نیکی طلب کرتا ہے، اس کو نیکی دی جاتی ہے اور جو برائی سے بچتا ہے اس کو بچایا جاتا ہے۔
اور تقویٰ سے ایسی سمجھ پیدا ہوتی ہے جو اصول کے موافق ہوتی ہے اور سینوں کو کھول دیتی ہے، اور عقل کو وسیع کرتی اور جو شخص مقامات کو پانے ، اور منزلوں میں ثابت ہونے ، اورمحبین کے وجد ، اور عارفین کے ذوق کی امید کرتا ہو تو اس کے لئے ایسے مردوں کی صحبت میں جو اہل ستر و حال ہوں، سر کو جھکانا، اور نفس کو ہلاک کرنا، اور وہ لوگ جن اعمال کے بجالانے کی ہدایت اس کو دیں ، ان کو ذلت و محتاجی ، اور عاجزی وانکساری کے ساتھ بجالا نا واجب ہے۔ پھر اگر اس کا یہ گمان ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو نہ پائے گا۔ تو اس کو اپنی طلب میں سچائی پیدا کرنی چاہیئے ۔ جب اس کے اندر کی طلب پیدا ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ ان کو مکمل خوش کر دے گا۔ اور اپنے وقتوں کو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مستغرق رکھنا چاہیئے ۔ اور خاموشی اور عزلت کو اپنے اوپر لازم کرنا چاہیئے اور اپنا گمان اللہ تعالیٰ کے ساتھ ، اور اس کے بندوں کے ساتھ نیک رکھنا چاہیئے تو بے شک اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایسے شخص کو مقرر کرے گا جو اس کی دستگیری کرے گا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
اِنْ يَّعْلَمَ اللهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا يُوتِكُمْ خَيْرًا مِّمَّا أَخِذَ مِنْكُمْ
اگر اللہ تعالیٰ تمہارے قلوب میں بھلائی معلوم کرے گا۔ تو تم کو اس سے زیادہ بھلائی عطا کرے گا۔ جو تم سے لی گئی ہے ۔
قواعد میں فرمایا ہے:۔ کسی چیز کی طلب کا قاعدہ یہ ہے اس کی طرف توجہ اور ارادہ کرنے سے اس کا حاصل کرنا زیادہ قریب ہو جاتا ہے۔ اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ صوفیائے کرام کے علوم کی حقیقتیں عطیہ الہٰی اور خاص بخششیں ہیں۔ عاد تا طلب کرنے والے کو نہیں عطا کی جاتی ہیں۔
پس اس کے قاعدہ اور طریقہ کی رعایت لازمی اور ضروری ہے۔ اور وہ تین ہیں۔
اول جو علم اسے حاصل ہے۔ اپنے امکان کے موافق اس پر عمل کرنا ۔ دوم ہمت کے موافق اللہ تعالیٰ کی طرف پناہ لینا۔
سوم سنت کی اصل کی طرف رجوع ہونے کے وقت حقیقتوں میں غور کرنا ۔ تا کہ سمجھ جاری ہو جائے ، اور غلطی دور ہو جائے ، اور علم وسمجھ کے دروازے کا کھلنا آسان ہو جائے ۔ ہم نے تصوف کس طرح حاصل کیا
حضرت جنید رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے اس قول میں اشارہ فرمایا ہے ہم نے تصوف قیل و قال ، بحث و تکرار سے حاصل نہیں کیا بلکہ در حقیقت ہم نے اس کو فاقہ سے، بیداری سے ، اور اعمال کی پابندی سے حاصل کیا ہے ۔ یا جس طرح فرمایا ہو۔ حدیث شریف میں حضرت نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت ہے:
مَن عَمِلَ بِمَا ‌عَلِمَ ‌أَوْرَثَهُ اللهُ عِلْمَ مَا لَمْ يَعْلَمْ جو شخص اپنے علم پر عمل کرتا ہے جو اس کو حاصل ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسے علم کا وارث بناتا ہے جو اس کو معلوم نہیں ہے۔
حضرت ابوسلیمان دارانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے ۔ جب نفوس گناہوں کے ترک پر یقین کے ساتھ قائم ہو جاتے ہیں تو وہ عالم ملکوت میں سیر کرتے ہیں اور اس کے مالک کی طرف عجیب و غریب علوم کے ساتھ رجوع کرتے ہیں اس کے بغیر کہ کوئی عالم ان کو علم سکھائے ۔ پس جو شخص ان مذکورہ امور کے پانے کی امید کرتا ہے اور ان کے اسباب اور بنیادی اصول کے حاصل کرنے کی ابتداء کرتا ہے تو یہ اس کے مقصد کی کامیابی کی علامت ہے۔ اور اس کی امید سچی ہے۔
اور جو شخص ان امور کی ان کے حاصل کرنے کے اسباب میں کوشش اختیار کئے بغیر خواہش کرتا ہے تو یہ صرف تمنا یعنی دھوکا و حماقت ہے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: اے اللہ کے بندو! ان تمناؤں سے بچو۔ کیونکہ یہ احمقوں کے جنگل ہیں۔ جن میں وہ لذت اور شیرینی محسوس کرتے ہیں۔ لیکن اللہ کی قسم کسی بندے نے تمناؤں کے ذریعے دنیا و آخرت میں کوئی بھلائی نہیں پائی۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں