حق کا باطل کو مٹانا (تیئسواں باب)

حق کا باطل کو مٹانا کے عنوان سےتیئسویں باب میں  حکمت نمبر 217 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے وار دالہٰی کے انسان کے عادات کو منہدم کرنے کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا:-
217) الوَارِدُ يَأْتِي مِنْ حَضْرَةِ قَهَّارٍ ، لأَجْلِ ذلِكَ لا يُصَادِمُهُ شَيْءٌ إِلاَّ دَمَغَهُ (بلْ تَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلى البَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ ).
وارد قہار کی بارگاہ سے آتا ہے۔ اس وجہ سے جوشے اس کے مقابلہ میں آتی ہے۔ وہ اس کو کچل کر مٹا دیتا ہے :۔ ہم حق کو باطل سے ٹکراتے ہیں۔ تو حق ، باطل کو کچل دیتا ہے۔ لہذا باطل مٹ جاتا ہے۔ میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں :۔ جو وارد سائرین یا طالبین کے قلوب پر وارد ہوتا ہے۔ وہ بہت طاقت ور ہوتا ہے۔ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اہم پاک قہار کی بارگاہ سے آتا ہے۔ تا کہ وہ اپنی قہریت سے نفس یا قلب میں اغیار میں سے جو کچھ بھی پائے ، ان کو مٹادے ۔ اور ہم نے اس وجہ سے کہا ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ کی بارگا ہیں اس کے اسمائے حسنے کی تعداد کے مطابق ہیں۔ لہذا اللہ تعالیٰ کا اسم پاک تمہارا اس کی قہریت کی بارگاہ سے تجلی کرتا ہے۔ اور اس کا اسم پاک جمیل اس کے جمال کی بارگاہ سے تجلی کرتا ہے ۔ اور اس کا اسم پاک ۔ ” جلیل‘ اس کے جلال کی بارگاہ سے تجلی کرتا ہے۔ اور اس کا اسم پاک رحیم اس کی رحمت کی بارگاہ سے تجلی کرتا ہے۔ اور اس کا اسم پاک حلیم اسکے حلم کی بارگاہ سے تجلی کرتا ہے۔ اور اس کا اسم پاک کریم اس کے کرم کی بارگاہ سے تجلی کرتا ہے۔ اس طرح ہر اسم پاک کی تجلی اس کے موافق بارگاہ سے ظاہر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
وَإِنْ مِنْ شَيْءٍالًا عِنْدَنَا خَزَائنُهُ ) ہرشے کے خزانے ہمارے پاس ہیں
اور اگر وہ وارد جو ابتدائی درجہ والوں کے قلوب پر وارد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسم پاک رحیم یا حلیم یا جمیل کی بارگاہ سے ہوتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت کے سبب ، ممکن نہیں ہے
کہ جو باطل اس کے سامنے آئے ، وہ اس کو مٹادے ۔ اور حضرت مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے باطل یعنی کل ماسوی اللہ کو ایسے جانور سے مشابہت دی ہے، جس کے پاس دماغ ہوتا ہے۔ جب اس کے دماغ پر چوٹ لگتی ہے۔ اور وہ پاش پاش ہو جاتا ہے۔ تو وہ جانور مر جاتا ہے۔ یہی حالت باطل کی ہے :۔ جب اس سے حق ٹکراتا ہے اور اس کا دماغ پاش پاش ہو جاتا ہے، تو وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ اور واردالہٰی خالص ہوتا ہے، تو جب وہ باطل سے ٹکراتا ہے، تو اس کو مٹادیتا ہے۔ اور ہلاک کر دیتا ہے۔
اس لئے مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اس آیہ کریمہ سے استدلال کیا ہے ، جو کفر کے مقابلے میں قرآن کریم کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ کیونکہ یہ حقیقت ہے۔ کہ جب قرآن کریم نازل ہوا تو کفر پاش پاش ہو کر مٹ گیا۔ یہی حال ما سوا کا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے نور کی قہریت کے ساتھ تجلی کرتا ہے۔ تو ما سوی پاش پاش ہو کر فنا ہو جاتا ہے۔
حضرت شیخ ابو العباس رضی اللہ عنہ اسی مفہوم میں یہ اشعار ا کثر پڑھا کرتے تھے ۔
فَلَوْ عَايَنَتْ عَيْنَاكَ يَوْمَ تَزَلْزَلَتْ أَرْضُ النُّفُوسِ وَدُكَّتِ الْأَجْبَالُ
اگر تمہاری آنکھیں ، نفوس کے زمین کے متزلزل ہونے اور عقلوں کے پہاڑوں کے پاش پاش ہونے کا دن دیکھتیں ۔
لرايتَ شَمُسَ الْحَقِّ يَسْطَعُ نُورُهَا عِنْدَ التَزَلْزُلِ وَالرِّجَالُ رِجَالٌ
تو تم حق کے سورج کو نفوس کے زلزلہ کے وقت دیکھتے کہ اس کا نور روشن ہے۔ اور اللہ والے اللہ والے ہی ہیں ۔
یعنی واردالہٰی جب اللہ تعالیٰ کی قہاریت کی بارگاہ سے قوت کے ساتھ وراد ہوتا ہے۔ تو نفوس کے زمین کو منہدم کر دیتا ہے۔ اور عقول کے پہاڑ اس سے پاش پاش ہو جاتے ہیں ۔ اس وقت اس کے سامنے ایسے اسرار کھلتے ہیں۔ جو عقل کی سمجھ سے باہر ہوتے ہیں ۔ اور نقل کی عبارت اس سے عاجز ہوتی ہے۔ لہذا وہ شخص جس پر یہ وارد نازل ہوتا ہے، سراپا حق ہو جاتا ہے۔ وہ جس شے کےمقابل ہوتا ہے، اس کو ختم کر دیتا ہے۔ ہمارے شیخ الشیوخ قطب ابن مشیش رضی اللہ عنہ نے اپنے اس قول میں اس مفہوم کو مراد لیا ہے:۔
مجھ کو باطل پر مارو۔ میں اس کو مٹا دوں گا۔ اس سے مراد یہ لیا ہے۔ کہ وہ ایسا خالص حق ہو جائے ۔ کہ جب اس سے ماسوی پر ضرب لگائی جائے ، تو وہ اس کو مٹادے۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں