شواغل اور باطنی مانعات (پچیسواں باب)

شواغل اور باطنی مانعات کے عنوان سے پچیسویں باب میں  حکمت نمبر 261 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
اس کو مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اپنے اس قول میں بیان فرمایا ہے :-
261) الخِذْلاَنُ كُلُّ الخِذْلاَنِ أَنْ تَتَفَرَّغَ مِنَ الشَّوَاغِلِ ، ثَمَّ لا تَتَوَجَّهَ إِلَيْهِ ، وَتَقِلَّ عَوَائِقُكَ ، ثُمَّ لا تَرْحَلَ إِلَيْهِ
بد نصیبی، بلکہ پوری بدنصیبی یہ ہے کہ تم شواغل سے فارغ ہوتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ نہ ہو۔ اور مانعات کے کم ہونے پر بھی تم اللہ تعالیٰ کی طرف سفر نہ کرو۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں :۔ جب تمہارے ظاہری شواغل اور باطنی مانعات کم ہوں ۔ پھر بھی تم اپنے ظاہر میں اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہو ، اور اپنے باطن میں اللہ کی طرف سفر نہیں کرتے ہو۔ تو یہ تمہاری انتہائی بد نصیبی اور محرومی کی علامت ہے۔ کیونکہ اکثر لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے سے ان کے ظاہری مشغولیتوں کی کثرت ہی نے روکا ہے۔ کیونکہ ان کے جسمانی اعضاء رات اور دن اور مہینوں اور برسوں دنیا کی خدمت میں مشغول رہے۔ یہاں تک کہ ان کی پوری قیمتی عمر بیہودہ کاموں اور کوتاہیوں میں گزرگئی۔ لہذانہیں سب سے بڑی بدنصیبی ہے۔
اور آدمیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں ۔ جن کے ظاہری شواغل اس شخص کی وجہ سے کم ہیں جو ان کے کاموں کو انجام دیتا ہے۔ (یعنی خادم یا ملازم ) لیکن ظاہری تعلقات کی زیادتی کی وجہ سے ان کے باطنی تعلقات زیادہ ہو گئے ہیں۔ لہذاوہ تدبیر اور اختیار میں غرق ہیں۔ اور آدمیوں میں سے جن لوگوں سے ان کا تعلق ہے۔ انہیں کے کاموں کی تدبیر اور فکر میں مشغول ہو گئے ہیں۔ خاص کر جاہ و مرتبہ، ریاست و جاگیر ، سیاست و حکومت والوں کے کاموں کی انجام دہی میں لگے ہوئے ہیں۔ لہذا یہ عادت کے اعتبار سے اپنے مولائے حقیقی کی طرف متوجہ ہونے سے بہت دور ہے ۔ مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی سابق عنایت اس کی طرف بڑھے۔ اور اس کو اس کے رب کی رحمت اور رضامندی کی طرف کھینچ لے۔ حاصل یہ ہے کہ کل بھلائیاں شواغل اور تعلقات کے کم کرنے ہی میں ہے۔ لہذا جو شخص ان دونوں سے فارغ ہو گیا۔ وہ بارگاہ الہٰی کی حضوری سے قریب ہو گیا۔
لیکن جس شخص کے شواغل اور تعلقات زیادہ زیادہ ہو گئے۔ اس کا معاملہ بہت دور ہے کیونکہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سیر کرنے کا ارادہ کرتا ہے۔ تو کھینچنے والی اشیاء اس کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں ۔ اور وہ انہیں کے ساتھ مگن ہو کر باقی رہ جاتا ہے۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں