عبادتوں کی بنیاد(مناجات 14)

یہ چودھویں دعا ہے کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ کی جوتالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔

چودھویں مناجات

  اِلٰهِىْ كَم مِّنْ طَاعَةٍ بَنَيْتُهَا وَحَالَةٍ شَيَّدُتُهَا، هَدَمَ إِعْتِمَادِي عَلَيْهَا عَدْلِكَ بَلْ اَقَالَنِي مِنْهَا فَضْلُكَ
اے میرے اللہ ! بہت سی عبادتوں کی میں نے بنیاد رکھی۔ اور بہت سی حالتوں کو میں نے مضبوط کیا۔ مگر تیرے عدل نے ان پر میرے اعتماد کو منہدم کر دیا۔ بلکہ تیرے فضل نے مجھ کو ان سےبے زار کر دیا۔
بندے کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنی کسی طاعت کی طرف نظر کرےاگر چہ وہ بہت بڑی ہو۔ اور نہ یہ مناسب ہے، کہ وہ اپنے کسی حال کو بہتر کہے اگر چہ وہ بہت بہتر ہو۔ کیونکہ پر کھنے والا بصیر ہے، اور محافظ پوشید گیوں سے خبیر ( باخبر ) ہے۔
پس بہت سی عبادتیں ایسی ہیں جو اپنے کرنے والے کی نظر میں پہاڑوں کی طرح بڑی معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہوتی ہیں اور بہت سے احوال ایسے ہیں جو صاحب احوال کے نزدیک خالص اور صاف ہوتے ہیں۔ لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مدخول ہوتے ہیں۔
کوئی کبیرہ، کبیرہ نہیں ہے۔ اگر اس کا فضل تمہارے سامنے آئے۔ اور کوئی صغیرہ ،صغیرہ نہیں ہے اگر اس کا عدل تمہارے سامنے آئے۔ لہذا جس شخص کے سامنے اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ آئے اس کے سب کبیرہ صغیرہ ہو جاتے ہیں۔ اور جس شخص کے سامنے وہ اپنے انصاف کے ساتھ آئے اس کے سب صغیر ہ کبیر ہ ہوجاتے ہیں۔
بہت سی عبادتوں کی میں نے بنیاد رکھی۔ یعنی میں نے بہت کی عباد تیں کیں۔ لیکن تیرے انصاف کی طرف میری نظر نے ان پر میرے اعتماد کو منہدم کردیا۔ لہذا جب میں نے تیرے انصاف کی طرف دیکھا تو میرے اعمال ختم ہو گئے ۔ اور میرے احوال نیست و نابود ہو گئے ۔ اور بہت سی حالتوں کو میں نے مضبوط اور بلند کیا۔ لیکن جب میں نے تیرے انصاف اور تیری سخت جرح پر غور کیا۔ تو وہ حالتیں منہدم اور فنا ہو گئیں۔ بلکہ تیرے فضل اور تیری ہدایت اور تیری توفیق نے مجھ کو ان سے اس طرح بے زار کر دیا کہ ان کی نسبت مجھ سے ختم ہوگئی۔ لہذا میرے پاس نہ کوئی عبادت باقی رہی نہ کوئی حال باقی رہا۔ بلکہ وہ اللہ فاعل ومختار بزرگ و برتر کی طرف لوٹ گیا۔
لہذا بندے پر واجب ہے کہ وہ اپنے علم اور عمل اور حال اور نفس اور روح اور اختیار اور قوت سے نکل جائے ۔ اور اپنے آقائے حقیقی کے سامنے محتاج ہو کر باقی رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔
عَبْدًا مَمْلُوكًا لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ خریدا ہوا غلام جوکسی شے پر اختیار نہیں رکھتا ہے۔
ایک عارف نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی قسم فنا کے سمندر میں اس شخص نے غوطہ لگا یا جس نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ انْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةِ بے شک اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو جنت کے بدلے میں خرید لیا ہے
و ہ شخص حقائق کے سمندر میں کیسے غوطہ لگا سکتا ہے، جس پر علم اور عمل آمیزش اور کھوٹ سے پاک اور خالص نہ ہو۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کے صراف محمدی ﷺ کسوٹی لئے ہوئے ساحل پر موجود ہیں۔ وہ اس شخص کو واپس کر دیتے ہیں جو مخلص نہیں ہوتا ہے؟ اور اخلاص، ہے کہاں؟یہ اس شخص کے لئے ہے جو سمندر کے ساحل تک پہنچ گیا۔ پھر اس شخص کے ساتھ کیا سلوک ہو گا۔ جو اس کا انکار کرتا ہے۔ اور تصدیق نہیں کرتا ہے۔ یا اس کی طرف بغیر استقامت کے احکام سے منحرف ہو کر سفر کرتا ہے؟
جیسا کہ ایک عارف نے ان اشعار میں بیان فرمایا ہے
لَيْسَ مَنْ بَاتَ قَرِيراً عَيْنُهُ مِثْلَ مَنْ أَصْبَحَ قَفُرًا دَارِسا
جس شخص نے رات اس حال میں گزاری کہ اس کی آنکھ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے ٹھنڈی تھی ۔ وہ اس شخص کی طرح نہیں ہے جس نے ختم ہونے والی محتا جی کی حالت میں صبح کی۔
لَيْسَ مَنْ أُكْرِمَ بِالْوَصْلِ كَمَنْ ظَلَّ يَهْدِي بِلَعَلَّ وَعَسٰى
جس شخص کو وصل کی عزت عطافرمائی گئی۔ وہ اس شخص کی طرح نہیں ہے جو شاید اورممکن کے ساتھ ہدایت پاتا ہو۔
لَيْسَ مَنْ اُلْبِسَ اَثْوَابُ التُّقَى مِثْلَ مَنْ اُلْبِسَ ثَوْبَاً دَنِسَا
جس شخص کو تقویٰ کے لباس پہنائے گئے۔ وہ اس شخص کی طرح نہیں ہے جس کو نجس کپڑا پہنایاگیا۔
لَيْسَ مَنْ سِیْرَبِهِ مِثْلَ الَّذِي بَاتَ يَرْعَى الْحِمَى مُبْتَئِسَا
جس شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سیر کرائی گئی۔ وہ اس شخص کی طرح نہیں ہے جس نے رنجیدہ ہو کرچراگاہ کی حفاظت کرتے ہوئے رات گزاری۔
لَيْسَ مَنْ شَاهَدَ صُبحاً وَاضِحاً مِثْلَ مَنْ شَاهَدَ لَيْلًا غَلِسًا
جس شخص نے روشن صبح کا مشاہدہ کیا۔ وہ اس شخص کی طرح نہیں ہے جس نے اندھیری رات کا مشاہدہ کیا ۔
لَيْسَ مَنْ بُوَّىءَ رَوْضَاتِ الْحِمَى مِثْلَ مَنْ أُسْكِنَ قَفْراً يَا بِسَا
جو شخص سبزہ زار باغوں میں ٹھہر ایا گیا۔ وہ اس شخص کی طرح نہیں ہے جو خشک روٹی کھا کر رہا۔
لَيْسَ مَنْ أَشْبَهَ غُصْنًا یَا نِعًا مِثْلَ مَنْ أَشْبَهَ عُوداً يَا بِسَا
جو شخص پختہ پھل لگے ہوئے شاخ کے مشابہ ہے۔ وہ اس شخص کی طرح نہیں ہے جو خشک لکڑی کے مشابہ ہے ۔ اور عمل پر عدم اعتماد سے عمل کا ترک لازم نہیں ہوتا ہے ۔ بلکہ بندے پر یہ واجب ہے کہ وہ عمل پرمداومت کرے۔ لیکن اس پر اعتماد نہ کرے۔ اور اگر وہ بالفعل عمل پر مداومت نہ کر سکے تو محبت اور ارادے کے ساتھ عمل پر مداومت کرے۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں