فنا ہونے والی عزت (باب  نہم)

فنا ہونے والی عزت کے عنوان سے  باب  نہم میں  حکمت نمبر 86 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزیز ہیں۔ انہوں نے عزیز و غالب اللہ تعالیٰ کی طاقت سے عزت حاصل کی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو عزیز بنا دیا۔ جیسا کہ حضرت مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اس کی طرف اپنے اس قول میں اشارہ فر ما یا ہے۔
86) إذَا أَرَدْتَ أَنْ يَكُونَ لَكَ عِزٌّ لاَ يَفْنَى، فَلاَ تَسْتَعِزَّنّ بِعِزٍ يَفْنَى.
اگر تم چاہتے ہو کہ تمہیں ایسی عزت حاصل ہو جو فنانہ ہو۔ تو تم ایسی عزت کی طلب نہ کرو جوفنا ہوجاتی ہے۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں:۔ جو عزت فنا نہیں ہوتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عزت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اس کے ماسوا سے غنا کے ساتھ عزت حاصل ہوئی ، یا اس شخص کی قربت اور صحبت سے عزت حاصل ہوتی ہے۔ جس کی عزت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ثابت ہو چکی ہو۔ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ عزت، اس کی تعظیم و تکریم اور اس کی ہیبت اور اس کی محبت اور معرفت اور ہرشے میں اور ہر حال میں اس کے ساتھ حسن ادب سے حاصل ہوتی ہے۔ اور اس کے احکام پر راضی ہونے ، اور اسکے جلال و کبریائی کے غلبے کے سامنے جھک جانے اور اس سے شرم و خوف کرنے سے، اور اسکے سامنے ذلت اور عاجزی سے حاصل ہوتی ہے جیسا کہ ایک شاعر کا کلام ہے۔
تَذَلَّلْ لِمَنْ تَهْوَى لِتَكْسَبُ عِزَّةُ فَكُمْ عِزَّةٍ قَدْ نَالَهَا الْمَرُهُ بِالذُّل
تم جس سے محبت کرتے ہو اس کے سامنے ذلت اور عاجزی کے ساتھ جھک جاؤ۔ تا کہ تم عزت حاصل کرو ۔ کیونکہ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔ کہ آدمی اس کے سامنے ذلت دعا جزی اختیار کر کے عزت پاتا ہے۔
إِذَا كَانَ مَنْ تَهْوَى عَزِيزاً وَلَمْ تَكُنْ ذَلِيلاً لَهُ فَاقْرَ السَّلَامَ عَلَى الْوَصْلِ
جب کہ وہ عزیز اور غالب ہے جس سے تم محبت کرتے ہو۔ تو اگر تم اس کے سامنے ذلت اور عاجزی اختیار نہیں کرتے ہو۔ تو وصل پر سلام پڑھو۔ یعنی وصل کا خیال ترک کردو ۔ اور ہم نے اپنے شیخ رضی اللہ سے سنا ہے۔ وہ فرماتے تھے۔
حضرت شیخ ابو الحسن شاذلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے: (والله ما رَایْتُ الْعِزَّإِلَّا فِي الذلِ) اللہ تعالیٰ کی قسم میں نے ذلت ہی میں عزت دیکھی ہے۔
ہمارے شیخ الشیوخ حضرت مولائے عربی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں۔ (وَاللَّهِ مَا رایتُ الذُّلَّ إِلَّا فِي الْفَقْرِ
اللہ کی قسم! میں نےفقر کے سوا کسی شے میں ذلت نہیں دیکھی ۔ یعنی شیخ نے ذلت کی تفسیر فقر سے کی۔ اس لئے کہ انسان کی ذلت فقر کے بغیر ثابت نہیں ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ سب ذلتوں سے بڑی ذلت ہے۔ اس بناء پر کہ فقر سے نفس مردہ ہو جاتا ہے۔ اور اس میں زندگی کی کوئی رگ باقی نہیں رہتی ہے۔ وَاللَّهُ تَعَالٰی أَعْلَمُ ۔
اور اللہ تعالیٰ کی طاعت کے ساتھ عزت کا حاصل ہونا ، یہ ہے:۔ اس کے حکم کی تعمیل کرنی ، اور اس کے منع سے پر ہیز کرنا، اور اس کے ذکر کی کثرت کرنی ، اور اس کی بخشش حاصل کرنے کے لئے اپنی کمائی ہوئی چیزوں کا خرچ کرنا ۔ اور جس شخص کی عزت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ثابت ہو چکی ہے۔ اس کے قرب سے عزت حاصل کرنی۔ یہ ہے: ان کی صحبت اختیار کرے، اور ان کی تعظیم اور خدمت کرے، اور ان کے ساتھ حسن ادب کا لحاظ رکھے۔ اور یہ فی الحقیقت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہی عزت حاصل کرنی ہے۔ اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف وسیلہ ہیں۔
تو جب اس کی عزت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ثابت ہوتی ہے یعنی اس کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ عزت حاصل ہو جاتی ہے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عزت پانے کی وجہ سے ، غیر اللہ کی عزت سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ تو جس شخص کو یہ عزت حاصل ہوئی۔ اور اس پر ثابت اور قائم ہوا۔ تو بے شک اس نے ایسی عزت پائی جو کبھی فنانہ ہوگی۔ اور اس پر، اور اس کی اولاد پر، اور اس کی اولاد کی اولاد پر، قیامت تک جاری رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:مَن كَانَ يُرِيدُ ‌ٱلۡعِزَّةَ فَلِلَّهِ ‌ٱلۡعِزَّةُ جَمِيعًاجو شخص عزت چاہتا ہے۔ تو سب عزت اللہ تعالیٰ کے لئے ہے ۔
اور دوسری جگہ فرمایا: وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُو فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو، اور اس کے رسول کو ، اور مومنین کو دوست رکھتا ہے ۔ تو بے شک اللہ تعالیٰ کی جماعت والے ہی غالب ہونے والے ہیں۔
اور الذین امنو سے مراد ، کامل ایمان والے، اولیاء اللہ ہیں۔
اور تیسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:۔ (واللهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ) اور عزت صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اور اس کے رسول کے لئے ، اور مومنین کے لئے ہے۔ لیکن منافقین نہیں سمجھتے ہیں۔
حضرت سید نا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہ نے فرمایا ہے:مَنْ أَرَادَ الْغِنى بِغَيْرِ مَالِ والكثرَةُ بِغَيْرِ عَشِيرَةٍ، فَلْيَنْتَقِلْ مِنْ ذَلِ الْمَعْصِيَةِ إِلى عِزّ الطَّاعَةِ جو شخص بغیر مال کے غنا چاہتا ہے۔ اور بغیر خاندان کے کثرت چاہتا ہے۔ اس کو نا فرمانی کی ذلت سے اطاعت کی عزت
کی طرف منتقل ہونا چا ہئے۔ تو جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ عزت پا گیا۔ اس کو کوئی شخص ذلیل نہیں کر سکتا ہے۔ اس شخص کے واقعہ پر غور کرو، جس نے خلیفہ ہارون رشید کو نیکی کے لئے ہدایت کی۔ ہارون رشید ان کے اوپر ناراض ہوا۔ اور حکم دیا۔ اس کو بد مزاج خچر کے ساتھ باندھ دو۔ تا کہ وہ اس کو مار ڈالے۔ تو ان کوخچر کے ساتھ باندھا گیا۔ لیکن خچر نے ان کو کچھ نہیں چھیڑا۔ پھر ہارون رشید نے حکم دیا۔ اس کو قید خانہ میں ڈال کر دروازہ بند کر دو ۔ چنانچہ ان کو قید خانہ میں ڈال کر دروازہ بند کر دیا گیا۔ تو لوگوں نے ان کو ایک باغیچہ میں دیکھا۔ تو پھر ان کو پکڑ لائے۔ اور ہارون رشید کے سامنے حاضر کیا۔ ہارون رشید نے ان سے دریافت کیا۔ تم کو قید خانہ سے کس نے نکالا؟ انہوں نے جواب دیا۔ جس نے مجھے باغیچہ میں پہنچایا۔ ہارون رشید نے پوچھا تم کو باغیچہ میں کس نے پہنچایا؟ تو انہوں نے جواب دیا۔ جس نے مجھے قید خانہ سے نکالا۔ تب ہارون رشید نے یہ سمجھ لیا کہ وہ ان کو ذلیل نہیں کر سکتا ہے تو ہارون رشید نے حکم دیا۔ ان کو ایک گھوڑے پر سوار کر کے گشت کراؤ۔ اور ساتھ ساتھ یہ اعلان کرو۔ اے لوگو ! خبر دار ہو جاؤ۔ یہ ایسے بندے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عزت دی ہے ۔ ہارون رشید نے ان کو ذلیل کرنا چاہا مگر نہیں کر سکا۔
مخلوق کے ساتھ عزت حاصل ہو ( مثلا ظالم بادشاہوں، اور ان کے متعلقین کو ، ملازمین،افسروں اور فوجوں کی طاقت اور ظلم کے سبب ) اور جیسے کہ مال، اور مرتبہ، اور سرداری کے باعث عزت حاصل ہو اور ان کے علاوہ ان تمام چیزوں کے ذریعہ عزت حاصل ہو جو ختم اور فنا ہو جانے والی ہیں۔ تو جس شخص نے ان چیزوں کے ساتھ عزت پائی۔ اس کی عزت ختم ہو جاتی ہے ۔ اور اس کی ذلت بر ابر قائم رہتی ہے۔ پس مخلوق کے ساتھ عزت پانے کا نتیجہ نیکی طور پر دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ذلت ہے اور اس شخص کی حالت پر غور کرو۔ جس نے حرم شریف میں تکبر کیا تو اس کے بعد اس کی یہ حالت ہوئی کہ وہ لوگوں سے اپنے خرچ کے لئے سوال کرنے لگا۔
تب اس نے کہا: میں نے ایسی جگہ تکبر کیا جہاں لوگ تواضع کرتے ہیں۔ تو اس نے ایسی جگہ مجھ کو پہنچا دیا جہاں آدمیوں کی بلندی ہوتی ہے۔ یہ دونوں واقعات تنبیہ کے طور پر بیان کئے گئے ہیں ۔ اور جو شخص مخلوق کے ذریعہ عزت حاصل کرتا ہے اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پیش کیا جائے۔ جو حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے سامری کے گوسالہ(بچھڑا) کے بارے میں کہا تھا۔
وَٱنظُرۡ إِلَىٰٓ إِلَٰهِكَ ٱلَّذِي ظَلۡتَ عَلَيۡهِ عَاكِفٗاۖ ‌لَّنُحَرِّقَنَّهُۥ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُۥ فِي ٱلۡيَمِّ نَسۡفًا اور تو اپنے اس معبود کی طرف دیکھ، جس کے سامنے تو نے اعتکاف کیا تھا۔ ہم اس کو جلاتے ہیں ، اور اس کی راکھ کو دریا میں بکھیرے دیتے ہیں ۔
ایک عارف ایک شخص کے پاس پہنچے۔ وہ رور ہا تھا۔ عارف نے دریافت کیا: تم کیوں روتے ہو؟ اس نے جواب دیا:۔ میرے استاد مر گئے ہیں۔ عارف نے فرمایا۔ تم نے اپنا استاد ایسے شخص کو کیوں بنایا جو مر جاتا ہے؟ پھر عارف نے اس کو اپنی ہمت بلند کرنے ، اور اپنی بصیرت کے کھولنے پر آگاہ فرمایا۔ حالانکہ اس کے شیخ اس کے ہدایت پانے سے پہلے ہی انتقال فرما گئے تھے۔ وَاللَّهُ تَعَالٰی أَعْلَمُ ۔
پس اے مرید! اگر تم غیر فانی اور دائمی عزت حاصل کرنا چاہتے ہو۔ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ، اور اللہ تعالیٰ کی طاعت کے ساتھ ، اور اولیاء اللہ کی قربت اور محبت کے ساتھ ، عزت حاصل ہونے کی خواہش کرو۔ اور فانی حقوق کے ذریعہ عزت کی خواہش نہ کرو۔ کیونکہ جو شخص فنا ہونے والی اشیاء کے ساتھ عزت حاصل کرتا ہے۔ اس کی عزت فنا ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
ايبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا کیا لوگ مخلوق کے پاس عزت چاہتے ہیں۔ حالانکہ سب عزت اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ۔ حضرت ابوالعباس مرسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے:۔ اللہ کی قسم! میں نے مخلوق سے ہمت اٹھا لینے ہی میں عزت دیکھی ہے ۔
تم کو معلوم ہونا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیائے عظام کو جو عزت عطا فرماتا ہے۔ اس کا سبب اللہ تعالیٰ سے ان کی محبت ہے۔ تو یہ عزت محبت کا نتیجہ ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں حضرت رسول اللہ ﷺ سے روایت وارد ہے۔ حضرت نے فرمایا ہے:
إِذَا أَحَبَّ اللهُ الْعَبْدَ ‌نَادَى ‌جِبْرِيلَ: إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحْبِبْهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ: إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ) وَفِي رِوَايَةٍ يُلقَى لَهُ الْقُبُولُ فِي الْمَاءِ ، فَيَشْرَبُهُ النَّاسُ، فَيُحِبُّونَهُ جَمِيعًا
جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو محبت کرتا ہے۔ تو حضرت جبریل علیہ السلام کو پکار کر کہتا ہے :۔ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے۔ تم بھی اس سے محبت کرو ۔ پس حضرت جبریل علیہ السلام اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر حضرت جبریل سب آسمانوں میں پکار کر اعلان فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے۔ تم لوگ بھی اس سے محبت کرو۔ تو آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر اس کے لئے زمین میں مقبولیت پیدا کی جاتی ہے ۔ تب اس کوز مین والے بھی محبت کرنے لگتے ہیں۔
اور دوسری روایت میں ہے اس کی مقبولیت پانی میں ڈال دی جاتی ہے اور لوگ اس پانی کو پیتے ہیں تو سب کے سب اس سے محبت کرنے لگتے ہیں یا حضرت علیہ الصلوۃ والسلام نے جس طرح فرمایا ہو اور بندے کے لئے اللہ تعالیٰ کی محبت کا سبب ، دنیا میں اس کا زہد ہے۔
ترمذی شریف کی حدیث میں حضرت رسول کریم ﷺ سے روایت ہے۔ حضرت نے فرمایا ہے:
إِزْهَدُ فِي الدُّنْيَا يُحِبُّكَ اللهُ، وَازْهَدُ فِي مَا فِي أَيْدِي النَّاسِ يُحِبُّكَ النَّاسُ
دنیا میں زہد اختیار کرو۔ اللہ تعالیٰ تم کو محبت کرے گا۔ اور آدمیوں کے مال میں زہد اختیار کرو ۔ آدمی تم کو محبت کریں گئے ۔
تم کو یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ یہ عزت جو اللہ تعالیٰ اپنے اولیائے عظام کو عطا فرماتا ہے۔ وہ ان کی ابتداء میں نہیں عطا کرتا ہے۔ تاکہ مخلوق ان کو اللہ تعالیٰ تک پہنچنے سے روک نہ دے۔ بلکہ ان کے او پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم، اور اس کی امداد یہ ہے کہ مخلوق ان سے ابتدا میں نفرت کرتی ہے۔ یا ان پر غالب کر دی جاتی ہے۔ تا کہ ان کو ذلیل کرے۔ یہاں تک کہ وہ اشیاء کی غلامی سے آزاد ہو جاتے ہیں اور وصول و تسکین میں ثابت و قائم ہو جاتے ہیں۔ تو اب اگر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو ان کی عزت کو ظاہر کر دیتا ہے تا کہ اپنے بندوں کو ان کے وسیلے سے فائدہ پہنچائے ۔ اور اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے ان کے وسیلے سے ہدایت عطا فرمائے۔ اور اگر چاہتا ہے تو ان کو پوشیدہ رکھتا ہے اور ان کی عزت کو خاص کر لیتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس کے پاس حاضر ہو جا ئیں تو اس وقت اس مقام (آخرت یا جنت ) میں ان کی عزت کو پھیلائے گا۔ اور ان کے مرتبے کو ظاہر کرے گا اور اسے فنا نہیں ہونا ہے۔ اور عنقریب اس حقیقت پر اس کے مقام میں بحث آئے گی۔ انشاء اللہ۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں