محبت کی مشغولیت (پہلا مراسلہ)

محبت کی مشغولیت کے عنوان سے پہلے مراسلے کا دوسرا حصہ ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔

جیسا کہ مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اس کو اپنے اس قول میں بیان فرمایا ہے۔

وَالْمُشْتَغِلُ بِهِ هُوَ الَّذِى أَحْبَبْتَهُ وَسَارَعْتَ إِلَيهِ ، وَالْمُشْتَغِلُ عَنْهُ هُوَ الْمَؤَثَرُ   عَلَیْہِ

وہ شے جس کے ساتھ تم مشغول رہتے ہو ، وہی ہے جس سے تم محبت کرتے ہو اور اس کی طرف دوڑتے ہو، اور وہ ہی جس سے تم غافل ہوتے ہو ، وہی ہے جس پر تم اپنے محبوب کی محبت کوترجیح دیتے ہو  ۔

میں (احمد بن محمد بن  العجیبہ ) کہتا ہوں :۔ مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) کی عبارت میں الف لام (ال ) دونوں جگہ موصول ہے۔ یعنی وہ شے جس کے ساتھ تم ہمہ وقت مشغول رہتے ہو اور جس کی طرف تم ہمہ تن متوجہ رہتے ہو وہی محبوب حقیقی ہے، جس کی طرف تم دوڑتے ہو ۔ اور تمہارے سب اشغال سے بہتر شغل اسی محبوب کا ذکر ہے ۔ لیکن ایک ذکر اور ایک ارادہ چاہیئے ، جوتم کو تمہاری   مراد یعنی تمہارے محبوب تک پہنچا دے۔ اور وہ ھی جس سے تم غافل یعنی غائب رہتے ہو وہی ہے جس کو تم نے چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو اس پر ترجیح دی۔

حاصل یہ ہے:۔ جس کے ساتھ تم مشغول ہوتے ہو اور جس کا تم ارادہ کرتے ہو وہ وہی ہے جس سے تم محبت کرتے ہو اور اس کی طرف پہنچنے میں تم جلدی کرتے ہو اور جس سے تم غائب رہتے ہو، وہ وہی ہے، جس کو تم نے چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو اس پر ترجیح دی ہے۔ تو یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو تمہارے مقصود یعنی محبوب تک پہنچادے۔

إِنَّ اللهَ يَرْزُقُ كُلَّ عَبْدٍ ‌عَلَى ‌قَدْرِ ‌هِمَّتِهِ بیشک اللہ تعالیٰ بندے کو اس کی ہمت کے مطابق روزی عطا فرماتا ہے   ۔

(یعنی اللہ تعالیٰ بندے کو عبادت کی توفیق اس کی ہمت کے مطابق عطا فرماتا ہے ) اس کے متعلق ایک عارف کے یہ اشعار ہیں ۔

إِذَا الْعَبْدُ الْقَى بَيْنَ عَيْنَيْهِ عَزْمَهُ         وَأَعْرَضَ عَنْ كُلَّ الشَّوَاغِلِ جَانِبًا

جب بندہ اپنے ارادے کو اپنے سامنے رکھتا ہے اور تمام شواغل سے منہ پھیر کر کنارہ کش ہو جاتا ہے  ۔

فَقَدْ زَالَ عَنْهُ العَارُ بِالْعَزْمِ جَالِبا عَلَيْهِ قَضَاءُ اللَّهِ مَا كَانَ جَالِبًا

تو اس کے ارادے کے سب غیب اس سے اور ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قضا جو چاہتی ہے اس کے اوپر جاری کرتی ہے  ۔

بیان کیا گیا ہے۔ صادق کی علامت یہ ہے کہ وہ انتہا کے بغیر کبھی راضی نہیں ہوتا ہے۔ باوجود یکہ انتہا بھی حاصل نہیں ہوتی ہے۔ حضرت فضیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس شخص کو تم دیکھو کہ اس کا کلام حکمت ہے اور اس کی خاموشی نظر ہے اور اس کی نظر نصیحت ہے تو تم لوگ اس سے بدگمانی نہ کرو کیونکہ اس نے اپنی عمر عبادت میں گزاری ہے اور اس کا سلوک ہمیشہ بڑھ رہا ہے اور جس شخص کو تم دیکھو کہ وہ یہی امید میں رکھتا، اور بد اعمالی کرتا ہے تو تم سمجھ لو کہ اس کا مرض سخت اور مہلک ہے۔

اور سب سے بڑی شےجس سے مرید غافل ہوتا اور اس سے غائب ہوتا ہے وہ دنیا کی محبت ہے کیونکہ وہ زہر قاتل ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سیر ، دنیا کی محبت سے قلوب کی صفائی کے بغیر ممکن نہیں ہے اگر چہ اس کی محبت کا کچھ اثر باقی رہے اور دنیا کی محبت تھوڑی بھی بہت ہے۔

روایت ہے:۔ کہ ایک مرید ایک رات اپنی عبادت کیلئے کھڑا ہوا تو اس نے اپنے قلب کو حاضر نہیں پایا اس نے اپنے دل میں کہا جب صبح ہوگی تو میں اس شیطانی وسوسے کی شکایت شیخ سے کروں گا تو شیطان نے شیخ کے سامنے آ کر کہا آپ کا فلاں مرید آپ سے میری شکایت کرنے کا ارادہ کر رہا ہے۔ حالانکہ میں نے اس کے اوپر کچھ ظلم نہیں کیا ہے، دنیا میرا باغیچہ ہے اور میں اس کا محافظ ہوں۔ لہذا جو شخص میری کوئی چیز لے گا تو میں اس کو اس وقت تک ہرگز نہ چھوڑوں گا جب تک وہ میری اس چیز کو نہ چھوڑ دے جو اس نے لی ہے۔ جب صبح ہوئی تو مرید شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ شیخ نے اس سے فرمایا ابلیس میرے پاس آکر تمہاری شکایت کر رہا تھا تم نے اس کی کونسی چیز لے لی ہے؟ مرید نے کہا یا حضرت میرا کپڑا پھٹ گیا ہے اس لیے مجھ کو سوئی کی خواہش ہوئی تاکہ میں اس میں پیوند لگاؤں لہذا رات بھر میں سوئی ہی کی فکر میں مبتلا رہا۔ شیخ نے فرمایا تم کپڑا ہی اتار کر اس کو دیدو اور اپنے نفس سے کہہ دو کہ موت اس سے زیادہ قریب ہے لہذا اس نے کپڑا اتار کر پھینک دیا تب اس نے اپنے قلب کو حاضر پایا۔

اس کے متعلق ایک عارف کے ہی اشعار ہیں

لا تَحْقِرَنَّ ضَعِيفًاعِنْدَ رُؤيَتِهِ                     إِنَّ الْبَعُوْضَة َتَدْمِي مُقْلَةَ الْاَسَدِ

تم کسی کمزور کو دیکھ کراس کو حقیر نہ سمجھو، کیونکہ بیشک مچھر شیر کی آنکھ زخمی کر کے خون نکال دیتاہے۔

وَللشَّرَارَةِ حَقْرٌ حَيْن تَنظُرُهَا                            وَرُبَّمَا أَضْرَمَتْ نَارًا عَلَى بَلَدٍ

اور تم لوگ آگ کی ایک چنگاری کو دیکھ کر اس کو حقیرسمجھتے ہو ، لیکن اکثر اوقات وہ ایک شہر کوآگ سے جلا ڈالتی ہے  ۔

پھر وہ ذات اقدس جس کے ساتھ تم مشغول ہوتے ہو اور اس کی طرف پہنچنے میں تم جلدی کرتے ہو۔ وہ بھی تم کو چاہتا ہے اور تمہاری طرف پہنچنے میں جلدی کرتا ہے اور اگر تم اس کی طرف ایک بالشت قریب ہوتے ہوتو وہ تمہاری طرف ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے۔

جیسا کہ مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اس کو اپنے اس قول میں بیان فرمایا ہے۔

وَمَنْ أَيْقَنَ أَنَّ اللَّهَ يَطْلُبُه ُصَدَقَ الطَّلَبَ إِلَيْهِ

جس نے یہ یقین کر لیا کہ اللہ تعالیٰ اس کو چاہتا ہے وہ اس کی طرف توجہ اور اس کی طلب کوصادق کر لیتا ہے  ۔

میں (احمد بن محمد بن  العجیبہ ) کہتا ہوں ۔ یقین قالب کا ایسا سکون اور اطمینان ہے کہ اس میں کوئی گھبراہٹ اور پریشانی نہ باقی رہے اور نہ کسی معاملے میں کوئی شک باقی رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا بندے کو چاہنا کئی وجہوں سےہے۔

ایک وجہ یہ یہ ہے کہ بندے کو اس لیے چاہتا ہے کہ وہ عبودیت کے حقوق ، اور ربوبیت کے وظائف کے ساتھ قائم رہتا ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ بندے کو اپنی طرف متوجہ ہونے اور اپنے ماسوا سے نفرت کرنے کے سبب چاہتا ہے۔

تیسری وجہ ۔ یہ ہے کہ وہ بندے کو اپنی بارگاہ میں ادب اور محبت کے ساتھ بیٹھے رہنے کے سبب  چاہتا ہےلہذا  جو شخص یہ یقین کر لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو ان وجوہ سے چاہتا ہے تو وہ اس کی طلب کو سچاکر لیتا ہے۔ اور صدق طلب معنی طلب کی سچائی – قلب اور جسم کو مطلوب کیلئے ایسا تنہا کر لیتا ہے کہ اس کی کوئی توجہ اس کے غیر کی طرف باقی  نہ ر ہے۔ لہذا وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا سہارا نہ لے اور اس کے سوا کسی پر بھروسہ نہ کرے۔

جیسا کہ اس کی طرف مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اپنے اس قول میں اشارہ فرمایا ہے۔

وَمَنْ عَلِمَ اَنَّ الْاَمْرَ كُلَّهُ بِيَدِهِ اِنْجَمَعَ بِالتَّوَكُلِ عَلَيْهِ

اور جس شخص نے یہ جان لیا یہ سب امور اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ وہ اس پر توکل کے ساتھ جمع رہتا ہے یعنی ثابت قدمی سے قائم رہتا ہے۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں