وقتوں کی قضا ممکن نہیں (بائیسواں باب)

وقتوں کی قضا ممکن نہیں کے عنوان سےبائیسویں باب میں  حکمت نمبر 208 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
حضرت مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اپنے اس قول میں اس پر تنبیہ فرمائی ہے۔
208) حُقُوقٌ فِي الأَوْقَاتِ يُمْكِنُ قَضَاؤُهَا ، وَحُقُوقُ الأَوْقَاتِ لا يُمْكِنُ قَضَاؤُهَا،
وقتوں میں مقرر حقوق کی قضا ممکن ہے۔ لیکن وقتوں کے حقوق کی قضا ممکن نہیں ہے۔ میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں : وقتوں میں مقر ر حقوق :۔ وہ عبادت ہے ، جس کے لئے اللہ تعالیٰ نےمحدود وقت مقرر فرمایا ہے۔ جیسے کہ پنج وقتی نماز فرائض اور سنت ہائےموکدہ اور اسی طرح ز کو ۃ اور روزہ ان دونوں کے لئے سال میں ایک محدود وقت مقرر ہے۔ لہذا اگر ان کا وقت نکل گیا ، تو ان کی قضا ممکن ہے۔ اگر چہ اس شخص کو حد سے نکل جانے والا کہا جائے گا۔ لیکن بعض برائی بعض سےہلکی اورآسان ہے۔ اور بذات خود وقتوں کے حقوق : وہ اللہ تعالیٰ کا مراقبہ یا اس کا مشاہدہ ہے۔ جو ہر شخص کو اس کی وسعت کے مطابق حاصل ہوتا ہے :- لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اسی قدر تکلیف دیتا ہے، جس قدر اس نے اس کو طاقت عطاکی ہے۔
جب ان حقوق کا وقت فوت ہو گیا تو اس کی قضا ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ دوسرے وقت کے لئے بھی ایک مخصوص حق ہے۔ جو اپنے وقت کے علاوہ دوسرے وقت میں ادا نہیں ہو سکتا ہے۔ لہذا ہرلمحہ ( سیکنڈ ) میں تمہارے اوپر واجب ہے، کہ تم اللہ کے لئے عمل کرو ۔ اور اس لمحہ میں اس عمل میں مشغول رہو ۔ جو تم کو اللہ تعالیٰ کے قرب و رضا مندی میں پہنچادے۔ اور مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) کے اس قول کا یہی مفہوم ہے :-
إِذْ مَا مِنْ وَقْتٍ يَرِدُ إِلاَّ وَللهِ عَلَيْكَ فِيهِ حَقٌّ جَدِيدٌ ، وَ أَمْرٌ أَكِيْدٌ ، فَكَيْفَ تَقْضِي فِيْهِ حَقَّ غَيْرِهِ وَأَنْتَ لمْ تَقْضِ حَقَّ اللهِ فِيهِ .
اس لئے کہ جو وقت بھی آتا ہے، اس میں تمہارے اوپر اللہ تعالیٰ کا ایک نیا حق اور تاکیدی حکم واجب ہوتا ہے۔ تو تم اس وقت میں دوسرے وقت کا حق کیسے ادا کرو گے ۔ حالانکہ اس وقت میں اللہ تعالیٰ کے واجب حق کو تم نے ابھی ادا نہیں کیا ہے ؟
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں ۔اے بندو تمہارے اوپر جو وقت یالمحہ آتا ہے۔ اس وقت میں تمہارے او پر اللہ تعالیٰ کا ایک نیا حق واجب ہوتا ہے۔ خواہ وہ ذکر ہو، یا غور و فکر یا مراقبہ یا مشاہد و ظاهری یا باطنی خدمت:- قَدْ عَلِمَ كُلُّ انَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ ہر شخص نے اپنے پینے کے گھاٹ کو پہچان لیا ہے ۔
اور عبودیت میں ثابت ہونے اور ربوبیت کے وظیفوں کے ساتھ قائم ہونے میں سے ایک تا کیدی حکم واجب ہوتا ہے۔ لہذا اگر کسی وقت کے نئے حق یا موکدہ حکم سے تم غافل ہو گئے اور دوسر اوقت آگیا۔ تو تم سے قضا فوت ہوگئی ۔ اور گزرے ہوئے وقت کے لئے تم شرمندہ ہو گئے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک وقت کا حق تم دوسرے وقت میں ادا کرو۔ حالانکہ اس دوسرے وقت کا بھی ایک مخصوص حق ہے۔ اور اس کا ادا کرنا اس وقت میں تمہارے اوپر واجب ہے۔ لہذا تمہارے لئے یہ ممکن نہیں ہے۔ کہ تم ایک وقت کے حق کو دوسرے وقت میں ادا کرو۔ حالانکہ اس دوسرے وقت میں اللہ تعالیٰ کا جو حق ہے ہم نے اس کو ادا نہیں کیا ہے۔ حاصل یہ ہے :۔ ہر وقت کا ایک حق ہے۔ اگر وہ فوت ہو جائے تو اس کی کوئی قضا نہیں ہے۔ اس لئے صوفیائے کرام نے آداب میں بیان کیا ہے ۔
تصوف انفاس کو ضبط کرتا اور جو اس کی حفاظت کرنی ہے۔ انفاس:۔ گھنٹوں کے منٹ اور سیکنڈ کو کہتے ہیں اور ان کا ضبط کرنا ۔ مختلف قسم کی طاعتوں سے ان کو آبا درکھنا ہے۔ لہذا جو شخص گھنٹوں کے حقوق کو ضائع کر دیتا ہے، وہ تصوف کے ادب سے خارج ہوجاتا ہے۔والله تعالى اعلم
حضرت شیخ ابوالعباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے ۔
بندے کے اوقات چار ہیں۔ پانچواں وقت نہیں ہے۔ نعمت ہے یا مصیبت ہے ، یا اطاعت ہے یا معصیت ہے اور ان اوقات میں سے ہر وقت میں اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر ایک حق ہے۔ لہذا نعمت کی حالت میں شکر کرنا ، اور مصیبت کی حالت میں صبر کرنا اور اطاعت کی حالت میں احسان کا مشاہدہ کرنا اور معصیت کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی پناہ لینا ، اس کی طرف رجوع کرنا اور اس سے معافی طلب کرتا ہے۔
اس معنی میں حضرت نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے ۔
مَنْ أُعْطِيَ فَشَكَرَ ، وَابْتُلِيَ فَصَبَرَ ، وَ ظُلِمَ فَغَفَرَ ، وَاذْهَبَ فَاسْتَغْفَرَ ثُمَّ سَكَتَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ، فَقَالُوا: مَالَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ
قال : أُولَئِكَ لَهُمُ الْآمُنُ وَ هُمْ مُهْتَدُونَ
ایسا شخص جس کو عطا کیا گیا، تو اس نے شکر کیا اور مصیبت میں مبتلا کیا گیا تو اس نے صبر کیا اور اس پر ظلم کیا گیا تو اس نے معاف کر دیا اور اس نے گناہ کیا تو استغفار کیا۔ اتنا فرما کر حضرت نبی کریم ﷺ خاموش ہو گئے۔ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا۔
یا رسول اللہ اس کے لئے کیا ہے؟ حضرت ﷺ نے فرمایا ۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے امن ہے۔ اور وہ ہدایت پائے ہوئے ہیں ۔
یعنی قیامت کے دن ان کے لئے امن ہے۔ وہ لوگ دنیا میں ہدایت یافتہ ہیں۔ اور یہ بھی تفسیر کی گئی ہے۔ ان کے لئے دنیا و آخرت میں امن ہے۔ اور وہ لوگ دنیا و آخرت دونوں میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچنے والے ہیں ۔ اور تم یہ جان لو! اوقات کے حقوق کے ساتھ مکمل طریقے پر قائم ہونا ، بشر کے لئے تقریباً ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :-
وَ مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی جیسی قدرو منزلت کرنی چاہیے تھی ویسی نہیں کی ۔
یعنی ان لوگوں نے ، اللہ تعالیٰ کی جیسی عبادت کرنی چاہئے تھی ، ویسی نہیں کی ۔ اور جیسا اس کے پہچاننے کا حق ہے ، ویسا نہیں پہچانا۔ اس لئے اوقات کے حقوق کی قضا ناممکن ہے۔ کیونکہ اس میں سانسوں اور خطرات کی حفاظت لازمی ہے اور جبکہ ان کی حفاظت سے نماز کی حالت میں لوگ عاجز ہو جاتے ہیں، تو وہ ہر وقت کیوں نہ عاجز ہو جائیں گے۔ لیکن کبھی :۔ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جس کو چاہتا ہے۔ خاص کر لیتا ہے۔
بعض عارفین نے فرمایا ہے :۔ بیس سال کا زمانہ گزرا۔ میرے قلب میں اللہ تعالیٰ کے سواکسی شے کا خیال نہیں پیدا ہوا۔
حضرت شیخ ابوالحسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے :-
جو شخص اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے۔ وہ اپنے جسمانی اعضا کو اس چیز میں استعمال کرتا ہے، جو اس کے محبوب کو پسند ہوتی ہے۔ اور اس کے کل اوقات عبادت کے ساتھ محفوظ ہوتے ہیں اور اگر اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان دنیا حائل ہو جائے ۔ تو وہ فورا دنیا کو چھوڑ کر علیحدہ ہو جاتا ہے۔ اور چونکہ عبادت ایسے لوگوں کے ارواح کی غذا ہوتی ہے۔ لہذا اگر وہ عبادت کو چھوڑ دیں تو وہ مر جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہم کو ان سے فیض پہنچائے ۔ آمین


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں