ولایت کبری (چوبیسواں باب)

ولایت کبری کے عنوان سےچوبیسویں باب میں  حکمت نمبر 227 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
پھر اگر اس شیرینی کے ساتھ فاعل حقیقی و مختار مطلق اللہ تعالیٰ کا شہود بھی شامل ہو ۔ تو وہ ہمیشہ قائم رہنے والی نعمت ہے۔ اور یہی ولایت کبری ہے۔ جو شخص اس کی پیروی کرتا ہے وہ کبھی معزول نہیں ہوتا ہے۔ جیسا کہ مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اس کی طرف اپنے اس قول میں اشارہ فرمایا ہے:۔
227) إِنْ أَرَدْتَ أَنْ لا تُعْزَلَ فَلاَ تَتَوَلَّ وِلاَيةً لا تَدُومُ لَكَ.
اگر تم معزول ہونا نہیں چاہتے ہو، تو تم ایسی ولایت کے مالک نہ ہو ، جو تمہارے لئے ہمیشہ نہ رہے۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں ۔ جو ولایت ہمیشہ قائم نہیں رہتی ہے۔ وہ ، وہ ولایت ہے، جو فرق کی طرف سے آتی ہے اور وہ مخلوق کی ولایت (حکومت) ہے مثلا سلطنت اور قضا اور سرداری کا تعلق اور ان کے علاوہ وہ تعلقات، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی گردن میں ڈالدیا۔ اور اسی مخلوق کی ولایت میں، مال کی ولایت بھی شامل ہے، جبکہ اس کی وجہ سے اس کی عزت وتعظیم کی جائے ۔ یا نسب کی ولایت جبکه وہ تقوی سے خالی ہو۔ یا علم کی ولایت ، جبکہ وہ عمل سے خالی ہو اور ان کے علاوہ دنیا کی دوسری ولایتیں ۔ کیونکہ بیشک و ہ فنا اور ختم ہو جاتی ہیں۔ پھر اس کے بعد ذلت اور محتاجی آتی ہے۔ اور جو ولایت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ وہ ، وہ ولایت ہے۔ جو جمع کی طرف سے آتی ہے۔
اور وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عزت اور اس کے ساتھ غنا اور اس کی معرفت اور اس کے ماسوی سے غائب ہوتا ہے۔ کیونکہ بلاشبہ یہ ایسی ولایت ہے، جو کبھی ختم نہ ہوگی ۔ اور ایسا شرف ہے ، جوکبھی زائل نہ ہوگا ۔ اور ایسی عزت ہے، جو کبھی فنا نہ ہوگی۔
حکایت – سید نا حضرت عبداللہ بن مبارک جو تبع تابعی تھے اور علما عاملین و زاہدین میں سے تھے ۔ خلیفہ ہارون الرشید کے پاس تشریف لے گئے ۔ جب وہ فوج میں داخل ہوئے ، تو سب فوجی ان کی زیارت کے لئے ٹوٹ پڑے۔ بھیڑ کی وجہ سے بہت بڑا ہنگامہ برپا ہو گیا۔ یہاں تک کہ جوتے پاؤں سے نکل گئے ۔ اور غیرت ختم ہو گئی ۔ ہارون الرشید کی ام ولد (لڑکے کی کنیز ماں ) نے اپنے لکڑی کے محل سے جھانک کر دیکھا۔ جب اس نے آدمیوں کی بھیڑ دیکھی تو پو چھا ۔ یہ بھیٹر کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: ۔ یہ خراسان کے عالم ہیں ۔ اس نے کہا اللہ کی قسم سلطنت اور عزت یہ ہے۔ نہ کہ ہارون کی سلطنت ، جو لوگوں کو کوڑے اور ڈنڈے سے جمع کرتا ہے۔
اور جو ولایت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ وہ اس ولی پر اور اس کی اولاد پر ہمیشہ جاری رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس اس ولی کے مرتبہ اور ولایت کی عظمت کے مطابق وہ ولایت ان میں ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ لہذا جس کی ولایت جتنی بڑی ہوتی ہے، اسی کے مطابق اس کی اولاد اور متبعین میں ہمیشہ باقی رہتی ہے۔
اور بعض تفسیروں کے مطابق اللہ تعالیٰ کی اس آیہ کریمہ کا یہی مفہوم ہے:۔ وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافاً خَافُوا عَلَيْهِمْ اور ان لوگوں کو ڈرنا چاہیئے ، جو اگر اپنے پیچھے کمزور اولاد چھوڑ جائیں تو وہ ان کے لئے خوف کریں۔
یعنی ان لوگوں کو ڈرنا چاہیئے ، جو اپنی اولاد کے لئے ڈرتے ہیں ۔ تو بیشک اللہ تعا لے ان کی حفاظت فرمائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کی اس آیہ کریمہ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے :-
وَ كَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا ان دونوں لڑکوں کا باب صالح تھا۔
ان لڑکوں کا سات پشت او پر کا دادا صالح ولی تھا۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے خزانے کی دادا کی صالحیت اور ولایت کی برکت سے حفاظت فرمائی۔والله تعالیٰ اعلم


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں