گناہ توبہ میں رکاوٹ نہیں (اکیسواں باب)

گناہ توبہ میں رکاوٹ نہیں کے عنوان سےاکیسویں باب میں  حکمت نمبر 197 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اس کو اپنے اس قول میں بیان فرمایا:-
197) مَنِ اسْتَغْرَبَ أَنْ يُنْقِذَهُ اللهُ مِنْ شَهْوَتِهِ ، وَأَنْ يُخْرِجَهُ مِنْ وُجُودِ غَفْلَتِهِ فَقَدْ اسْتَعْجَزَ القُدْرَةَ الإِلَهِيَّةَ ( وَكان اللهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ مُقْتَدِراً )
جو شخص اس بات کو تعجب خیز سمجھتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس کی شہوت سے نجات دے اور اس کو اس کی غفلت سے باہر نکالے ۔ وہ یقینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کو عاجز سمجھتا ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر مقتدر ہے
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں :۔ اس میں کچھ شک نہیں ہے ، کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی شے عا جز و مغلوب نہیں کر سکتی ہے۔ اس کا حکم سب پر غالب ہے۔ اور بندوں کے قلوب اس کے قبضے میں ہیں۔ وہ جس طرح اور جہاں کہیں چاہتا ہے۔ ان کے قلوب کو پھیرتا ، اور بدلتا ہے۔ لہذا جو شخص غفلت میں منہمک اور خواہش کے سمندر میں ڈوبا ہوا ہے وہ اس کو حیرت انگیز نہ سمجھے کہ اللہ تعالی اس کو غفلت سے نکال دے اور اس کو خواہش کے سمندر سے نجات دے۔ کیونکہ ایسا سمجھنا، اس کے ایمان میں نقص کی دلیل ہے۔ اور یہ تعجب خیز اور حیرت انگیز کیسے ہو سکتا ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔
وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْ مُقْتَدِرًا بیشک اللہ تعالیٰ ہرشے پر قدرت رکھتا ہے۔
اور تم بھی انہیں میں سے ایک شے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے گنہ گاروں کے حق میں فرمایا ہے :-
يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا
اے میرے گناہگار بندو ! تم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نامید نہ ہوا ۔ بیشک اللہ تعالیٰ سب گناہوں کو بخش دے گا ۔
اور دوسری جگہ فرمایا ۔ فَمَن تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَ أَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ جس شخص نے گناہ کرنے کے بعد توبہ کیا اور اپنی اصلاح کرلی ۔ تو بے شک اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا۔
ان کے علاوہ بہت کی آیات کریمہ ہیں۔ جو گناہوں کی بخشش کی دلیل ہیں۔ اور حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے ۔
وَلَوْ بَلَغَتْ خَطَايَاكَ ‌عَنَانَ ‌السَّمَاءِ ، ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي لَغَفَرْتُ لَكَ اگر تم نے اس قدر گناہ کیا ہے ۔ کہ تمہارے گناہ آسمان کی بلندی پر پہنچ گئے ہیں۔ پھر تم نے تو بہ کیا۔ تو ضرور اللہ تعالیٰ تمہاری تو بہ قبول فرمائے گا ۔
اوران متقدمین اولیائے عظام سے سبق حاصل کرنا چاہیئے ۔ جو پہلے اہل غفلت و عصیان میں سے تھے۔ پھر بعد میں اہل مشاہدہ وعیان میں شامل ہو گئے۔ پہلے چور تھے ۔ پھر خواص میں سے ہو گئے ۔ مثلاً حضرت ابراہیم بن ادھم اور حضرت فضیل بن عیاض اور حضرت ابو یعزی اور بہت سے حضرات جن کی حد اور شمار دشوار ہے۔ حضرت قشیری رضی اللہ عنہ نے اپنے رسالہ کی ابتدا میں ان حضرات میں سے کچھ لوگوں کا ذکر کیا ہے۔ اور انہوں نے ان حضرات کا بیان اس لئے پہلے کیا ہے۔ تا کہ گناہگاروں کی امید میں تقویت ہو۔
اور اس شخص کے واقعہ سے نصیحت حاصل کرنی چاہیئے ، جس نے ننانوے اشخاص کو قتل کیا۔ پھر اس نے ایک راہب سے تو بہ کے بارے میں دریافت کیا :۔ راہب نے اس کو جواب دیا نہ تمہارے لئے تو بہ کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ سن کر اس نے راہب کو بھی قتل کر کے ایک سو پورا کر دیا ۔ پھر اس نے ایک عالم سے دریافت کیا: – عالم نے تو بہ کی طرف اس کی رہنمائی کی اور اس کو ایک گاؤں میں جانے کا حکم دیا ۔ جس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے لوگ رہتے تھے ۔ اس نے وہاں جانے کے لئے سفر کیا۔ لیکن وہ راستے ہی میں وفات پا گیا۔ بعد میں اس کو رحمت کے فرشتے لے گئے ۔ یہ واقعہ بخاری شریف میں بہت تفصیل سے ایک لمبی حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔
اس طرح اس شخص کا واقعہ ہے جو پہلے چور تھا۔ پھر اس نے ایک عابد سے دریافت کیا ۔ کیا میرے لئے تو بہ کی کوئی صورت ہے؟ عابد نے اس سے مذاق کیا اور ایک سوکھی ہوئی شاخ اس دے کر کہا : اس سوکھی ہوئی شاخ کو لو ۔ جب یہ شاخ تمہارے ہاتھ میں سبز ہو جائے تو سمجھ لینا کہ تمہاری تو بہ قبول ہوگئی۔ اس نے اس سوکھی شاخ کو عابد سے خلوص نیت کے ساتھ لیا۔ اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے لگا۔ وہ اس شاخ کو برابر دیکھتا رہتا تھا۔ بالآخر ایک روز وہ سوکھی شاخ نرم اور سرسبز ہوگئی۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں۔ میں نے بہت سے لوگوں کو غفلت اور ترک نماز میں ڈوبے ہوئے پایا۔ وہ لوگ دین کی مشہور باتوں میں سے بھی کچھ نہیں جانتے تھے ۔ نہ زیادہ نہ کم۔ پھر خصوصیت کے طریقے سے ان کے واقف ہونے کا ذکر کیا۔ پھر ان کی حالت میں انقلاب ہوا اور وہ خواص عارفین ہو گئے ۔ اور میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا۔ جو گناہوں میں منہمک ، نافرمانیوں اور لوگوں پر ظلم کرنےمیں غرق تھے۔ لیکن آخر میں وو بڑے صالحین میں سے ہو گئے ۔
اور میں نے سبقہ کی سرحد پر عیسائیوں کو دیکھا۔ وہ ذکر کے حلقہ کے پیچھے حاضر ہوئے ، ان کے اندر کشش پیدا ہوئی۔ وہ لوگ ہمارے ساتھ چلے ، یہاں تک کہ ہم اس سرحد سے باہر چلے آئے ، جو ہمارے اور ان کے درمیان ہے۔ اور اگر ان لوگوں کو ہمارے ساتھ رہنے کی آسانی میسر ہو جاتی ہووہ لوگ جلد مسلمان ہو جاتے ۔
اور ہمارے ایک بر ادر طریقت اپنے نفس کے غفلت سے نکل جانے پر تعجب سے فرمایا کرتے تھے ۔ یہ بد بخت غلاموں کے بازار کا دفع کرنے والا ۔ لہذا جس شخص کے پاس جوشے بھی ہو ، اس کو نکالنا چاہیئے ۔ پھر اس کے بعد میں نے ان کو ننگے سر ننگے پاؤں مجذوبیت کی حالت میں دیکھا اور اب وہ خواص اولیا ئے کرام میں سے ہیں۔
اور ایسا اتفاق اکثر اس شخص کو ہوتا ہے ، جو ایسے عارفین کاملین کی صحبت سے فیض یاب ہو جاتا ہے، جن کے پاس اکسیر (کیمیا) ہے اور ایسے عارفین ہر زمانہ میں موجود ہوتے ہیں اور یہ بات بہت مشہور ہے۔ اس کے لئے کسی دلیل کی حاجت نہیں ہے۔ جس شخص کو شک ہو ، وہ اس کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔ لہذا اس شخص پر بہت ہی تعجب ہے ، جو آفتاب کے نکلنے کے بعد اس کی روشنی سے اور چاند کے ظاہر ہونے کے بعد اس کی روشنی سے انکار کرتا ہے۔ لیکن ان کا حال ویساہی ہے ، جیسا کہ قصیدہ بردہ کے مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) علامہ بوصیری رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
قَدْ تنْكَرَ الْعَيْنُ ضَوَّةَ الشَّمْسِ مِنْ رَمَدٍ وَيُنْكِرُ الْفَمُ طَعْمَ الْمَاءِ مِنْ سَقَم
آشوب چشم کی وجہ سے، آنکھ سورج کی روشنی کا انکار کرتی ہے۔ اور بیماری کی وجہ سے منہ پانی کےمزے کا انکار کرتا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔
وَ مَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبِيلاً اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ گمراہ کر دیتا ہے ۔ پھر تم اس کے لئے گمراہی سے نکلنے اور ہدایت پانے کا کوئی راستہ ہرگز نہ پاؤ گے ۔
اور اس سے زیادہ تعجب اس شخص: جو تربیت کرنے والے شیخ کے موجود ہونے سے انکار کرتا ہے۔ اور اہل خصوصیت کے ختم ہو جانے کا اقرار کرتا ہے۔
فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَ لكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ حقیقت یہ ہے کہ ظاہری آنکھیں اندھی نہیں ہوتی ہیں بلکہ وہ قلوب جو سینوں کے اندر ہیں اندھے ہو جاتے ہے۔ یعنی مطلوب اہل خصوصیت کے راستے کو دیکھنے سے اندھے ہو جاتے ہیں۔ وہ صرف عوام کے راستے کو دیکھتے ہیں۔ جیسا کہ چمگا دڑ کا حال ہے۔ وہ صرف رات کی تاریکی میں دیکھتا ہے۔ دن کی روشنی میں اس کو کچھ نہیں دکھائی دیتا ہے۔ لہذاوہ معذور ہے ۔ کیونکہ اس کے پاس وہ روشنی ہی نہیں ہے ، جو تیز نظر رکھنے والوں کے پاس ہے۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ پہلے اپنے بندے پر خواہشات میں مشغولیت کو غالب کر دیتا ہے۔ اور غفلتوں کے قید خانے میں اس کو مقید کر دیتا ہے۔ پھر بعد میں اس کو تو بہ اور غفلت سے ہوشیاری کی توفیق عطا کر کے اس پر احسان فرماتا ہے اور اس کو اپنے احباب کے ساتھ اپنی بارگاہ قدس کے مقامات میں داخل فرماتا ہے۔ تا کہ وہ اس احسان کی قدرو منزات پہچانے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر کیا ہے۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں