دوسرا مراقبہ :نیت مراقبہ وقوف روح

نیت مراقبہ وقوف روح

 فیض می آید از ذات بیچون بلطیفہ روحی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین

ذات باری تعالیٰ  کی طرف سے عظیم مرشدین گرامی   اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے  میرے لطیفہ روح  میں فیض  آتا ہے۔

تشریح

یہ مراقبہ وقوف روح (ﷲ تعالیٰ کے سامنے حضورِ روح کی ایسی کیفیت کہ روح سراسر اللہ کی طرف متوجہ ہو ) ہے  دوسرا مراقبہ یہ ہے کہ اپنے شیخ کے حکم کے مطابق جتنے دنوں کی لئے  ارشاد ہو اتنے دن کو مخصوص کرے

*مراقبہ لطیفہِ روح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لطیفہِ روح کے بالمقابل تصور کرکے خیال کی زبان سے التجا کرے کہ الہی ان صفات ثبوتیہ کے تجلیات کا فیض جو تو نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لطیفہِ روح سے حضرت نوح و حضرت ابراھیم علیہ السلام کے لطفیہِ روح میں ڈالا ھے بحرمت پیرانِ کبار ناچیز کے لطیفہِ روح میں القاء فرما۔

  صفات ثبوتیہ الہیہ کی تجلیات کا مظہر روح انسانی ہے۔ اس لئے یہاں صفت العلم تفصیلی واجمالی سے (اس طرح کہ با عتبار برزخیت صفت العلم تفصیلی واجمالی سے جو حضرت نوح علیہ السلام کا رب ہے اور صفت العلم تفصیلی سے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا رب ہے) ان تجلیات کے وارد کا مراقبہ کرایا جاتا ہے۔ تجلیات صفات ثبو تیہ الہیہ کے مظہر کامل بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ لیکن باعتبار

ظہور حضرت نوح و حضرت ابراہیم علیہما السلام اس کے مظہر ہیں اس لئے ان کے واسطے سے فیض حاصل کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی ذات باوجود بے چوں وبے چگوں ہونے کے صفات سبعہ یعنی حیات  علم قدرت ، سماعت ، بصارت – کلام . ارادہ سے متصف اور ثابت ہے حالانکہ ہمارے جیسی ان کی آنکھیں ہیں اور نہ کان وغیره . اسی طرح سالک جب  فیضان مراقبہ لطیفہ روح سے بہرہ ور ہوتا ہے تو اس کو بغیر آنکھ کان وغیرہ کے  ان سب صفات سے متصف کر دیا جاتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے پہچانتے کا بڑا ذریعہ ہے۔

حب تک سالک مقام مثالی کو فنا نہ کرے یعنی قلب کا فنا حاصل نہ کرے) اس وقت تک اس پر مقام روح کھل نہیں سکتا جس وقت سالک مثالی کیفیات کو فنا کر کے مقام روح حاصل کرتا ہے تو اس وقت صفات ثبوتیہ الہیہ کی تجلیات کا فیض حاصل کرسکتا ہے صفات ثبوتیہ الہیہ کی تجلیات کا رنگ سرخ ہے۔ اس مقام میں سالک جمیع صفات کو اپنی ذات اور دیگر مخلوقات سے مسلوب اور حضرت حق سبحانہ تعالی سے منسوب پاتا ہے اور کائنات کے ذرہ ذرہ میں اُسے صفات حق سبحانہ تعالے کا ادراک ہوتا ہے اس کو مرتبۂ فنافی الصفات کہتے ہیں اس لطیفہ کی قریبیت و ولایت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واسطہ سے حاصل ہوتی ہے اس لئے اس ولی کو ابراہیمی المشرب کہتے ہیں

یہ روح اللہ تعالی کے ان لطائف میں سے ہیں جو ہمارے جسم میں موجود ہیں جنہیں ہم لطائف عالم امر کہتے ہیں یہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کا دوسرا سبق ہے
روح کی پروازکو عوام کی زبان میں سانس کی لڑی کہا جاتا ہے یہ ظاہری نشانی روح نہیں ہے بلکہ روح کے آثار ہیں۔
اس کی قدر و شان یہ ہے کہ روزقیامت روح ملائکہ کی صف میں کھڑی ہو گا انسانوں حیوانوں کی الگ الگ صفیں ہوں گی فرشتوں کی صف میں اس روح کا کھڑا ہونا اس کی عظمت کی دلیل ہے وہ لطیفہ ہے اسے علم عمل کے لفظ کن سے اللہ تعالی نے پیدا فرمایا

اس مراقبہ کے وقت سالک اپنے لطیفۂ روح کو آنحضرت سرور عالم ﷺ کے لطیفہ روح کے سامنے تصور کرکے بزبان خیال بارگاہ الٰہی میں یہ عرض کرے ”یا الٰہی ان صفات ثبوتیہ یعنی علم قدرت، سمع، بصر و ارادہ وغیرہ کی تجلیات کا فیض جو تونے آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفۂ روح سے حضرت نوح علیہ السلام کے لطیفہ روح اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لطیفہ روح میں مرحمت فرمایا تھا، حضرات پیران کبار کے طفیل میرے لطیفہ روح میں القا فرما۔“

اس مراقبہ میں سالک دائرہ امکان( عالم امر جو لفظ کن سے وجود میں آیا عالم خلق جو بتدریج مراحل سے  سے بنا کے مجموعے کودائرہ امکان کہتے ہیں) پیران کبار طریق نقشبندیہ نے دائرہ امکان کی اس طرح توضیح فرمائی ہے کہ اذکار الہی سے کل لطائف منور ہو جانے کے بعد ان سب لطائف کے انوار ایک ساتھ مجتمع ہو کر ایک دائرہ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جس کو اصطلاح صوفیہ میں دائرہ امکان کہا جاتا ہے۔ اد دائرہ امکان میں سب سے پہلے جانب بالا ایک کشش محسوس ہوتی ہے۔ اس کے اس  قلب پر واردات ہوتے ہیں جو سالک کو فنا و معدوم کر دیتے ہیں 


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں