اجابۃ الغوث

اجابۃ الغوث

فقیہ امت ، شیخ طریقت والحقیقت عارف باللہ ، محمد امین  المعروف  علامہ ابن عابدین صاحب فتاوی  شامی رحمہ الله نے ایک رسالہ نام ” اِجَابَۃُ الْغَوث ِبِبَيَانِ حَال ِالنُقَبَاءِ وَالنُجَبَاءِ وَالْاَبْدَالِ وَالْاَوْتَادِ وَالْغَوْثِ “تحریر فرمایا ہے، جو ان کے مجموعہ رسائل ابن عابد ین ج 2 کا حصہ ہے، اس کی اہمیت کے پیش نظر تصوف سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے اس رسالہ کا مکمل ترجمہ تحریر کیا جاتا ہے۔

‌بِسم الله الرَّحْمَن الرَّحِيم

الحمد الله الذي شرَّف هذه الأمة المحمدية بانواع التشريف ، وشرع لها شرعا رضينا و حكما مبينا وكلفها باسهل تكليف ، وجعل منها عِبَادً اعُبَّادًا بادروا الى امتثال أوامره و اجتناب نواهيه حتى اماتوا انفسهم واغرقوها في بحار حياة التوحيد والتنزيه، وجعل منها او تادًا ونقباء واقطابا وابدالًا واخیارًا و اوتادًا وانجابًا فرحم بهم عباده الضعفاء والبس بعضهم جلباب الستر والخفاء وجرَّدهم عن الكدورات البشرية واغرقهم في بحار الأحدية واشهدهم اسرار اسمائه وصفاته، وجعل قلوبهم مشكاة لاشعة تجلياته، والصلاة والسلام على من الكل مقتبس من نبراس انواره وملتمس من فیض عرفانه و اسراره و مغترف من بحار شرعه وهداه ومقتطف من ثمار جوده و جدواه وعلى اله واصحابه الذين لهم الغابة القصوى في هذا الشان، والخيول المضمرة بين الفرسان في السابق إلى هذا الميدان.

ترجمہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں، جس نے اس امت محمدیہ کو مختلف انواع کی شرافتوں اور خوبیوں سے سرفراز فرمایا، اور جس نے اس امت کے لئے مضبوط شریعت اور واضح احکامات مقرر فرمائے، اور جن احکامات کا اس امت کو مکلف اور ذمہ داربنا یا اس میں سہولتیں رکھیں، اور پھر اس امت میں ایسے ایسے بندے پیدا فرمائے جنہوں نے حق تعالی شانہ کے اوامر کی بجا آوری اور ممنوعات سے اجتناب میں نہ صرف یہ کہ سبقت کی بلکہ اپنے آپ کو حیات تو حیدی اور تنزیہی کے سمندروں میں فنا کر دیا اور اپنے نفوس کو مر دہ کر دیا، پھر اس امت میں سے بعض کو اوتاد بنایا اور بعض کو نقباء اور بعض کو اقطاب بنایا ، اور بعض کو ابدال ، اور بعض کو اخیار میں سے بنایا اور بعض کو اوتاد اور نجباء بنا یا، (یہ اولیاء اللہ کے مقامات مناصب اور عہدے ہیں)پھر ان با کمال بندوں کو ذریعہ بنا کر ضعفاء پر رحم فرمایا، اور بعض بندے ایسے بھی بنائے جن پرستاری کی چادر اوڑھا دی (یعنی ان کو مکتومین میں سے بنایا ) اور ان کو کدورات بشریہ سے پاک صاف کیا، اور ان کو وحدانیت و توحید کے سمندروں کا غوطہ ور بنایا ، اور ان پر اپنے اسماء وصفات کے راز ہائے سربستہ منکشف فرمائے ، اور ان کے  دلوں کو اپنی تجلیات کی شعاعوں کا مشکاۃ ( چراغ ) بنایا۔ اور صلاۃ وسلام ہو اس ذات پر جس کے انوار کی شعاعوں سے سب ہی روشنی حاصل کرنے والے ہیں، اور جس کے اسرار و معرفت کے فیوض سے مستفید ہونے کے لئے ساری مخلوق طلب گار ہے، اور جس کی ہدایت و شریعت مبارکہ کے دریاؤں سے سب چلو بھرنے والے ہیں ، اور جس کے باغہائے جود و کرم سے سب ہی خوشہ چین ہیں، اور اس کی آل و اصحاب پر بھی صلاۃ وسلام نازل ہو جن کو مشکاۃ نبوت سے اکتساب فیض میں سب سے بڑی شان حاصل ہے ، اور جو اس میدان مقابلہ کے درجہ  اول کے چھپے رستم ہیں۔

اما بعد:یہ بند ہ  جو گناہوں کے مرض کا قیدی اور اس پر وردگار کی صفت عفو و در گزر سے پر امید ہے جس کا نام محمد امین ہے اور جو کہ ابن عابدین کی کنیت سے مشہور ہے، اللہ تعالی اس کے گناہوں کو معاف فرمائے اور اس کے عیوب پر پردہ ڈالے ، عرض گزار ہے کہ میں نے بعض معزز حضرات کی خواہش پر ایک رسالہ کی تالیف کا کام شروع کیا، جو رسالہ ” قطب “ (قطب اولیاء اللہ  میں ایک عہدہ و منصب کا مقتدر ولی ہوتا ہے)کے بارے میں ہے، جو ہر زمانہ اور ہر وقت میں پائے جاتے ہیں اور اس میں میں نے ابدال، نقیبوں اور نجیبوں کے بیان کا وعدہ کیا تھا اور میں نے اس رسالہ کو مرتب کرنے کی طرف جلدی کی ، ان بلند ہستیوں کی طرف سے اجازت لینے کے بعد اور ان پاکیز و ارواح کو ایصال ثواب کرنے کے بعد۔

امید ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ان کی خوشبوؤں کے ساتھ معطر فرمائیں گے اور ہم پر ان کی عظیم برکات کا فیض فرما ئیں گے۔ میں نے اس رسالہ میں ہر اس بات کو جمع کیا ہے جس پر میں معتبر ائمہ کرام کے کلام میں سے مطلع ہوا ہوں ، اور اس پر میں نے دسترس حاصل کرنے کے لئے منجھے ہوئے  حضرات کی کتابوں سے استفادہ کیا ہے۔ جو رسالہ میں نے تالیف کیا ہے اسے میں نے چارابواب اور ایک خاتمہ پر مرتب کیا ہے اور اس کا نام ” اجابۃ الغوث ببيان حال النقبا والنجبا والابدال والاوتاد والغوث “رکھا ہے، میں نے ان بزرگ ہستیوں کے لئے ایک نسخہ لکھا، اور ان کی طرف روانہ کر دیا، پھر میں نے ایسی چیزیں جو اس مقام کے موزوں تھیں اور اہل فہم ان کے ذکر کو مستحسن سمجھتے ہیں بیمار کی شفاء طلب کرنے کی خاطر، ان کا الحاق اس رسالہ کے ساتھہ پسند کیا ، اور اس رسالہ کا نام اور ترتیب باقی رہنے دی البتہ تھوڑا بہت تبدیلی کی ہے اور میں نے مدد طلب کی پروردگار سے جو قریب اور مجیب الدعوات ہے۔

پہلا باب

( اقطاب ، ابدال ، او تا د، نجباء اور نقباء کے بارے میں )

پہلا باب اقطاب، ابدال، اوتاد، نجباء، اور نقباء کے بیان اور ان کی صفات اور ان کی   تعداد اور ان کی رہائش گاہوں کے بارے میں ہے۔

(1) اقطاب

اقطاب قطب کی جمع ہے، جیسے اقفال قفل کی جمع ہے اور صوفیاء کی اصطلاح میں باطنی خلیفہ(نائب الہی) کو قطب کہا جاتا ہے اور وہ اپنے اہل زمانہ کا سردار ہوتا ہے اور اسے قطب اس   لئے کہا جاتا ہے کہ اس کی ذات تمام مقامات و احوال کی حامل اور جامع ہوتی ہے اور تما م مقامات و احوال اس کے ارد گرد گھومتے ہیں اور”  قطب “ عربی میں ، قطب الرحی الحديدة التي تدور عليها (یعنی لوہے کی چکی کے درمیان میں جو محور یا کیل ہوتی ہے جس کے اطراف پر چکی کے پاٹ گھومتے رہتے ہیں ) کو کہتے ہیں ، یہ اس سے ماخوذ ہے۔

سیدی  شیخ شرف الدین عمر بن الفارض رحمہ اللہ کے رسالہ ” تائیہ “کی شرح جو شیخ عبدالرزاق قاشانی رحمہ اللہ نے لکھی ہے اس میں ہے کہ :

قطب قوم (صوفیاء)کی اصطلاح میں(روحانیت و تقدس کے اعتبار سے) کامل ترین انسان کو کہتے ہیں جو فردیت (انفرادیت)کے مقام پر فائز ہوں اس پر مخلوق کے احوال گردش کرتے ہوں ۔ (اس دائرے کا مرکز اور متصرف جہاں کو کہتے ہیں)اور وہ (پہلا) قطب یا تو صرف عالم” شہادۃ “ میں بسنے والی مخلوقات کا قطب ہوتا ہے، اور اس کی وفات کے وقت ” ابدال“ میں سے جو ”  قطب “کے مرتبہ کے زیادہ قریب ہوتا ہے وہ  بدل اس کا خلیفہ بنتا ہے پس اس وقت وہ اس کا قائم مقام ہوتا ہے اور وہ بدل ، ابدال میں سب سے زیادہ کامل ہوتا ہے۔ اور یاوہ (دوسرا)  قطب عالم غیب اور عالم شہادۃ ( دونوں عالموں ) میں بسنے والی تمام مخلوقات کا  قطب ہوتا ہے ۔

اور ابدال میں سے کوئی خلیفہ نہیں بنتا، اور اس کا مخلوق میں سے کوئی قائم مقام نہیں ہوتا، اور وہ یکے بعد دیگرے آنے والے عالم شہادت (ظاہری)کے قطبوں کا قطب ہے نہ اس سے پہلے کوئی قطب آیا ہے، اور نہ اس کے بعد کوئی قطب آئے گا ، اس قطب الاقطاب سے پہلے کوئی قطب نہیں ہوتا اور نہ اس کی جگہ اس کے بعد کوئی قطب ہوگا ، اور یہ قطب حضرت محمد مصطفی ﷺ کی روح مبارک ہے جس کی شان یہ ہے کہ ” لَوْلَاکَ لَمَاخَلَقْتُ الْاَفْلَاک “  اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ فرماتا

یعنی اس کامل مقام پر آپ کا کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا ، اگر چہ اس مقام سے نیچے درجے کا خلیفہ ہو سکتا ہے جیسے کہ خلفاء راشدین کے نیچے کے درجہ کے اعتبار سے خلیفہ ہونے میں کوئی ٹکراؤ نہیں ( یعنی آپ ﷺ کے اس مقام قطبیت پر اس سے کچھ اثر نہیں پڑتا کیونکہ آپ کی قطبیت اس مرتبہ کی ہے جو خلفائے راشدین کے درجہ سے بہت اعلیٰ وافضل ہے ) جیسا کہ ابھی ذکر آتا ہے۔

اور عارف با اللہ سید محی الدین ابن عربی نے اپنی بعض تصانیف میں فرمایا کہ یہ بات یاد رکھو کہ (اہل فن)قطب کا لفظ استعمال کرنے میں بھی تو سع سے کام لیتے ہوئے ، ہر اس شخص  کوجس پر مقامات میں سے کسی مقام پر  تصرف رکھتا ہو قطب کہہ دیتے ہیں ، جو اپنے زمانے کے ہم جنسوں پر منفرد و ممتاز  رکھتاہو، اور کبھی ایک شہر کے اعتبار سے بھی آدمی کو اُس شہر کا قطب کہا جاتا ہے اور کبھی جماعت کے اعتبار سے بھی شیخ الجماعت کو بھی قطب الجماعت کہا جاتا ہے، لیکن اقطاب اصطلاح کے اعتبار سے جبکہ اس کی اضافت کسی اور چیز کی طرف نہ کی جائے اور مطلق بولا جائے وہ ایک ہی ہوتا ہے، اور وہی غوث بھی کہلاتا ہے، اور وہ اپنے زمانے کا سید الجماعت(اولیاء کا سردار) ہوتا ہے، اور ان میں سے بعض قطب خلافت باطنی کے ساتھ خلافت ظاہری کے بھی جامع ہوتے ہیں، اور خلافت باطنی کے ساتھ خلافت ظاہر ہ کا پایا جانا بھی ممکن ہے جس طرح کہ خلافت باطنی ممکن ہے، جیسا کہ خلفائے راشدین حضرت ابوبکر، عمر، عثمان و علی رضی اللہ عنہم ہیں ، کہ وہ خلافت باطنی کے ساتھ خلافت ظاہری کے بھی حامل تھے۔

کچھ قطب ایسے بھی ہوتے ہیں جو صرف خلافت باطنی کے حامل ہوتے ہیں جیسے کہ اکثر اقطاب جہاں ہوتے ہیں ( کہ صرف خلافت باطنی کے حامل ہوتے ہیں )

اور ابن حجر کے ” فتاوی حدیثیہ   “میں ہے یہ رجال الغیب ہوتے ہیں ان کا یہ نام اس لئے رکھا گیا ہے کہ اکثر لوگ انہیں نہیں جانتے ، اس کا سردار ایسی قطب وغوث جامع شخصیت ہوتی ہے جسے چاروں آفاق میں گردش کرنے والا بنا دیا جاتا ہے ، اور وہ دنیا کے ارکان (ستون) ہیں جس طرح سیارہ آسمان کے افق میں گردش کرتا ہے ، اور ان کے احوال کو اللہ تعالیٰ خواص اور عوام سے پوشیدہ رکھتا ہے ، ہاں اس کی یہ عجیب بات ہوتی ہے کہ وہ عالم کو جاہل، بے وقوف کو سمجھدار اور اسباب چھوڑنے والے کو اسباب اختیار کرنے والا اور دور کونز دیک اور نرم طبیعت والے کو سخت اور پر امن کو پُر خطر نظر آتا اور محسوس ہوتا ہے،(فیض رسانی عام اور یکساں ہوتی ہے) اور اس کا مقام اولیائے کرام میں ایسا ہوتا ہے جیسے نقطہ دائرہ کے لئے ہوتا ہے ، وہ سب کا مرکز ہوتا ہے، اس سے سارے عالم کی اصلاح کا تعلق ہوتا ہے ( انتہی )

اور ملاعلی قاری رحمہ اللہ اپنی کتاب ”المعدن العدني في اويس القرني “ میں فرماتے ہیں کہ میرا گمان یہ ہے کہ حضور ﷺ کے زمانے میں ابدال کے قطب یعنی قطب الا بدال حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ تھے ( انتہی )

اور شیخ المشائخ شہاب احمد المنينی ”   الخصائص النبویہ“ کی منظوم شرح میں فرماتے ہیں کہ:

صوفیاء میں سے علامہ تونسی رحمہ اللہ کی تحقیق یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد سب سے پہلے جو قطب بنا وہ آپ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں ، علامہ شیخ شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کے لئے سلف میں ( کوئی تائید ) نہیں دیکھی البتہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد سب سے پہلے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ قطب بنے ہیں ۔ اور جب قطب کا انتقال ہو جاتا ہے، تو دوا ماموں میں سے کوئی ایک امام اس کی جگہ خلیفہ بنتا ہے، کیونکہ یہ دو امام دوو زیروں کے قائم مقام ہوتے ہیں، ایک ان میں سے عالم ملکوت کے مشاہدہ تک محدود ہوتا ہے ، اور دوسرا عالم ملک کے مشاہدہ پر ، اور جس امام کی نظر عالم ملکوت پر ہوتی ہے وہ دوسرے امام سے زیادہ بلند مقام و مرتبہ پر ہوتا ہے ( انتہی )

(2) ابدال

(علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابدال بدل کی جمع ہے ابدال اولیا ئے کرام کی اس جماعت کو کہتے ہیں جن کا بدل اللہ تعالی پیدا کرتا رہتا ہے۔ دنیا ان کے وجود سے کبھی خالی نہیں ہوتی۔ ایک کی وفات ہوتی ہے اور دوسرا اس کی جگہ آجاتا ہے۔ تبادلہ کے اس غیر منقطع سلسلہ کی بناء پر انہیں ابدال کہا جاتا ہے۔ کفایة المعتقد للیافعی میں ہے کہ ابدال کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ان ہی کا کوئی چلا جاتا ہے تو اس کی جگہ ایک روحانی ہستی لے لیتی ہے ( الحاوی للفتاوی ج2 ص  291)

ابدال ہمزہ کے زبر کے ساتھ جمع بدل کی ہے، انہیں ابدال اس وجہ سے بولا جاتا ہے کہ احادیث میں مذکور ہے کہ ”  كلمامات رَجُلٌ ابْدَلَ اللهُ مَكَانَهُ رَجُلاً “ ترجمہ: جب کسی مرد (صالح) کا انتقال ہوتا ہے تو اللہ تعالی اس کی جگہ دوسرے مرد (صالح) کو بدلے میں مقرر فرما دیتے ہیں اور انہیں اس وجہ سے بھی بدل کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے برے اخلاق بدل دیئے ہیں اور اپنے نفوس کو مرضات الہیہ (اللہ کی پسند )کے موافق ڈھال لیتے ہیں، یہاں تک کہ ان کے اخلاق حسنہ ان کے اعمال کی زینت بن چکے ہیں اور یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ انبیاء کے خلیفہ ہیں جیسا کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے کلام میں عنقریب آتا ہے، یا اس وجہ سے ( بھی انہیں بدل کہا جاتا ہے ) جو حضرت علامہ شیخ شہاب المنینی نے عارف بالله ابن عربی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے ، فرماتے ہیں کہ: جب کوئی بدل ایک جگہ سے چلا جاتا ہے تو وہاں اپنی جگہ ایک حقیقت روحانیہ کو چھوڑ جاتا ہے، اور اس علاقہ والوں کی ارواح اس کے پاس اس علاقہ میں جمع ہوتی ہیں جہاں سے یہ ولی کوچ کر گیا ہے ، پس اگر اس علاقہ کے لوگوں کا اس ( غائب ) شخص کی طرف اشتیاق بڑھ جائے تو یہ حقیقت روحانیہ جسے یہ شخص اس علاقہ میں اپنے بدل کے طور پر چھوڑ گیا تھا ، وہ ان سے باتیں کرتی ہیں اور وہ اس سے باتیں کرتے ہیں، حالانکہ وہ ولی وہاں سے غائب ہوتا ہے اور کبھی یہ صورت بدل کے علاوہ دوسرے کے ساتھ بھی ہوتی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ بدل جب کوچ کرتا ہے تو اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ میں اپنا قائم مقام چھوڑ کر جارہا ہوں لیکن غیر بدل کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ میں اپنا قائم مقام چھوڑ کر جارہا ہوں یا نہیں ، اگر چہ وہ اپنا قائم مقام چھوڑ جاتا ہے ، انتہی

علامہ قاشانی رحمہ اللہ کی کتاب شرح التائیہ میں یہ ہے کہ: ابدال سے مراد اہل محبت ، اور اہل کشف اور اہل مشاہدہ اور حضور ﷺ کی ایک جماعت ہے، جو لوگوں کو اللہ تعالی کی توحید اور اس کی تابعداری کی طرف بلاتی ہیں ، ان کے وجود کی وجہ سے بندوں اور شہروں کا وجود ہے اور ان کی وجہ سے مصیبت اور فساد کو لوگوں سے ٹال دیا جاتا ہے، جیسا کہ حدیث قدسی میں وارد ہوا ہے کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ جب میرے بندے پر میرے ساتھ مشغولیت غالب ہو جاتی ہے تو میں اپنے ذکر میں اس کا فکر اور لذت پیدا کرتا ہوں اور جب میں اس کا فکر اور لذت اپنے فکر میں کرتا ہوں تو وہ مجھ سے محبت کرنے لگتا ہے اور میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور اپنے اور اس کے درمیان حائل پرد ہ اٹھادیتا ہوں اور جب لوگ مجھ سے غافل ہوتے ہیں تو یہ غافل نہیں ہوتا ، ان کا کلام انبیاء کے کلام کی طرح ہوتا ہے، اور یہی لوگ سچے ابدال ہیں۔ یہ ایسے افراد  ہیں کہ جب میں زمین والوں کو سزا یا  عذاب دینے  کا ارادہ کرتا ہوں تو میں انہیں اس میں یاد کرتا ہوں پھر ان کی وجہ سے دوسروں سے عذاب پھیر دیتا ہوں ۔

اور ابدال کل چالیس مرد ہوتے ہیں ان میں سے ہر ایک کا مخصوص مرتبہ ہوتا ہے، پہلے درجہ کے ابدا ل  صالحین کےسب سے اونچے مرتبے پر ہوتے ہیں اور ابدال کا سب سے اونچا مرتبہ قطب کے ابتدائی مرتبہ کے موافق ہوتا ہے، جب بھی ان میں ے کسی ایک کا انتقال ہوتا ہے تو اللہ تعالی اس کی جگہ  اس شخص کو بناتے ہیں جو اس کے ماتحتوں میں سے اس ( مرحوم ) بدل کے قریب ہوتا ہے، اور تبدیلی تمام ماتحت  ابدال میں ظاہر ہوتی ہے ہر ماتحت بدل ایک مرتبہ اوپر ترقی کرتا ہے ، اس وقت ابدال کے ابتدائی درجہ میں صالحین کا سب سے اونچے مرتبہ والا داخل ہوتا ہے اور وہ ابدال کے درجے میں داخل کر دیا جاتا ہے ۔

اور ان کی یہ تعداد ہمیشہ کامل رہتی ہے ، یہاں تک کہ جب قیامت آئی ہوگی تو سب کو وفات دے دی جائے گی، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے (انتہی )

اور امام غزالی رحمہ اللہ کی کتاب ”  احیاء علوم الدین   “میں کتاب ذم الاکبر والعجب میں حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ایک کلام منقول ہے کہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی کے کچھ بندے ہوتے ہیں جن کو ابدال کہا جاتا ہے جو  انبیاء کے خلیفہ ہوتے ہیں، یہی زمین کے اوتاد ہوتے ہیں ، جب نبوۃ کا سلسلہ حضور خاتم النبین ﷺ پر منتہی ہو گیا تو اللہ تعالی نے امت محمدی میں سے ایک قوم کو ان کی بدل پر رکھ دیا ، دو اور لوگوں سے کثرت صوم اور صلاۃ یا شکل وصورت کے اعتبار سے خاص امتیاز نہیں رکھتے ، ہاں،کمال ورع اور حسن نیت اور تمام مسلمانوں سے اپنے دل کو صاف رکھنے اور تمام مسلمانوں کے ساتھ نصیحت وخیر خواہی میں مضبوط تر اور انتہائی تواضع میں خاص امتیاز رکھتے ہیں، یہ ایسی قوم ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے خالص فرمالیا اور انہیں چن لیا ہے ، اور وہ چالیس صدیق ہوتے ہیں جن میں سے تیس مرد ہوتے ہیں، ان کے دلوں میں ابراہیم خلیل اللہ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام جیسا یقین ہوتا ہے ، ان میں سے کوئی اس وقت تک انتقال نہیں کرتا جب تک اللہ تعالیٰ اس کا خلیفہ پیدا نہیں فرما دیتا، اور میرے بھائی یہ یا در کھو کہ وہ کسی پر لعنت نہیں کرتے کسی کو تکلیف نہیں پہنچاتے، کسی کی تحقیر نہیں کرتے کسی پر بڑائی نہیں جتاتے کسی سے حسد نہیں کرتے ، کسی کی دنیا پر حرص نہیں کرتے ، خیر کے معاملہ میں سب سے اچھے اور سب سے نرم خو اور طبیعت کے وہ سخی ہوتے ہیں ، ان کی علامت سخاوت ہے اور ان کی خصلت میں بشاشت ہوتی ہے اور ان کی صفت سلامتی ہے، آج خشیت کل غفلت والی کیفیت میں نہیں ہوتے ، اپنی ظاہری حالت میں یکساں ہوتے ہیں ، اپنے اور اپنے رب کے درمیان مگن رہتے ہیں، تند و تیز ہوائیں اور تیز رفتار گھوڑے ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے، ان کے قلوب اللہ رب العزت کے شوق لقاء میں اڑتے ہیں اور سابق بالخیرات رہتے ہیں”   أُولَٰئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ “( یہی ہیں حزب اللہ اور سن لو حزب اللہ ہی کامیاب ہونگے ) راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے عرض کیا میں نے آج تک اس طرح کا بیان آپ سے نہیں سنا تھا، مجھ سے ارشاد فرمایئے کہ میں کیسے ان تک پہنچ سکتا ہوں ، فرمایا تمہارے اور ان حالات والوں میں کافی مسافت ہے، البتہ اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ تم دنیا سے نفرت کرنے لگو جب دنیا سے نفرت کرو گے تو آخرت کی طرف یقیناًرغبت کرو گے اور پھر آخرت کی محبت کی بقدر دنیا سے زہداختیار کرو گے، اور پھر اس کی بقدر تم خودہی دیکھو گے وہ چیز جو تمہیں نفع دے گی، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی حسن طلب کو دیکھتے ہیں تو اس پر مراد کی بارش فرما دیتے ہیں اور اس کو اپنی حفاظت کی چادر میں چھپا لیتے ہیں اور بھتیجے اس بات کو یاد رکھو کہ یہ اللہ تعالی کی نازل کی ہوئی کتاب میں ہے”  إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ “ (بے شک الله تعالی پر ہیز گاروں کے ساتھ ہیں اور ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو نیکو کار ہیں ) ۔

یحی ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ہم نے اس بات میں غور و فکر کیا تو معلوم ہوا کہ اللہ کی محبت اور اس کی رضا حاصل کرنے میں جو لذت ہے و ولذت کسی میں نہیں ہے (انتہی )

فائد ہ ( ابدال کے لیے چار مجاہدات )

عارف باللہ حضرت ان عربی رحمہ اللہ اپنی کتاب ”  حلیۃ الابدال “میں فرماتے ہیں کہ میرے ایک ساتھی نے بتایا کہ میں ایک رات اپنے مصلے پر بیٹھا تھا اور میں نے اپنا وظیفہ عمل کر لیا تھا اور اپنا سر دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھے ہوئے ذکر میں مشغول تھا، اچانک میں نے ایک شخص کی آہٹ محسوس کی اس نے میرے نیچے سے مصلی کھینچا اور اس کو بچھا کر بیٹھ گیا یا یوں فرمایا کہ وہ نماز پڑھنے لگا اور حال یہ تھا کہ میرا د رواز و بند تھا، مجھے بڑی گھبراہٹ ہوئی تو مجھ سے کہنے لگا کہ جو اللہ تعالیٰ سے اُنس حاصل کرنا چاہتا ہے دو گھبرایا نہیں کرتا ، پھر میں نے آواز نکالنے کی ہمت کی ، میں نے عرض کیا اے میرے سردار ابدال کس چیز سے ابدال بنا کرتے ہیں، تو اس نے جواب میں فرمایا کہ ان چار باتوں جن کو ابو طالب نے اپنی کتاب ” قوت القلوب  “میں ذکر فرمایا ہے، یعنی (1) خاموشی (2) تنہائی (3) بھوک (4)بیداری ( یہی چار چیزیں صوفیاء کرام کے نزدیک جسمانی مجاہدے کے ارکان اربعہ کہلاتے ہیں ) پھر وہ بزرگ چلے گئے اور مجھے پتہ نہیں چلا کہ وہ کیسے داخل ہوئے اور نہ ہی پتہ چلا کہ وہ گئے کیسے؟ جبکہ میر ادر واز ہ بند  ہی تھا (انتہی )

محی الدین ابن عربی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ  شخص ابدالوں میں سے ”معاذ بن اشرس “تھے اور جن چار ہاتوں کا انہوں نے ذکر فرمایا وہ اس مبارک طریق کی بنیاد اور ستون ہیں، اور جس شخص نے اس میں قدم نہ رکھا ہواور اس میں رسوخ اور پختگی نہ پیدا کیا ہو تو وہ اللہ تعالی کے راستے سے دور حیران و سرگرداں ہے اور اسی سلسلہ میں میں نے یہ شعر کہے ہیں :

یا من اراد ا منازل الابدال      من غير قصد منه للاعمال

لا تطمعن بها فلست من اهلها                                         ان لم تزاحمهم على الاحوال

و اصمت بقلبك واعتزل عن كل من                 يدنيك من غير الحبيب الوالي

و ادا سهرت وجعت نلت مقامهم                                وصحبتهم في الحل والترحال

بيت الولاية قسمت اركانه                ساداتنافيه من الابدال

ما بين صمت و اعتزل دائم             والجوع والسهر النزيه العالي

ترجمہ اشعار ) اے وہ شخص جو ابدال کے مرتبوں پر پہنچنا چاہتا ہے اور اعمال کا اہتمام نہیں کرتا تو اس طمع میں مت رہو کیونکہ تم اس کے اہل نہیں ( بن سکتے ) حالات چاہے کیسے ہی ہوں جب تک ہر حال میں تم ان کی طرح کے اعمال پر جم نہ جاؤ، اگر احوال کی مزاحمت کے باوجود اعمال پر جم نہیں سکتے ۔ اپنے دل کو خاموش کرو اور ہر اس شخص سے دور بھا گو جو آپ کو حبیب اور ولی سے ہٹا کر کسی اور سے قریب کرے۔ جب تم جا گو گے اور بھو کے رہو گے اور سفر و حضر میں ان کے ہم نشین بنو گے تب ان کے مقام کو پاؤ گے۔ ولایت کے مکان کو اکا بر ابدال نے خاموشی اور عزلت گزینی اور شب بیداری اور بھوک کے ستونوں پر بتایا ہے (انتہی )

اس مضمون کو شہاب امنینی نے اپنی منظوم شرح ” الخصائص“ میں ذکر فرمایا ہے ۔

(3) اوتاد

”او تا د“و تدکی جمع ہے”  ت “کے زبر اور زیر دونوں طرح کی لغت ہے۔ ابن عربی رحمہ اللہ نے اپنے بعض مؤلفات میں فرمایا ہے کہ ان کو کبھی ” جبال“ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فر مایا أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهْدًا والْجِبَالَ أَوْتَادًا ،(کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایااور پہاڑوں کو میخیں (نہیں بنایا)   ؟) اس لئے ان کی حیثیت عالم میں ایسی ہے جیسے جبال کی حیثیت زمین میں، کیونکہ زمین میدان کا ٹھہراؤ پہاڑوں سے ہے۔

شیخ شہاب المنینی نے مناوی سے نقل فرمایا ہے کہ اوتاد ہر زمانہ میں چار ہوتے ہیں نہ کم ہوتے ہیں نہ زیادہ، ایک سے اللہ تعالی مشرق کی حفاظت فرماتے ہیں، اور ایک سے مغرب کی ایک سے جنوب کی اور ایک سے شمال کی ، ابن عربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں چاروں اوتادوں میں سے ہر ایک کے لئے بیت اللہ کا ایک رکن مقرر ہے، اور ہر ایک کسی نہ کسی نبی کے قلب کے قریب ہوتا ہے، اور جو حضرت آدم علیہ السلام کے قلب کے قریب ہوتا ہے اس کے لئے رکن شامی ہے، اور جو ابراہیم علیہ السلام کے قلب کے قریب ہوتا ہے اس کے لئے رکن عراقی ہے، اور جو حضرت عیسی علیہ السلام کے قلب کے قریب ہوتا ہے اس کے لئے رکن یمانی ہے، اور جو آنحضرت ﷺ کے قلب کے قریب ہوتا ہے اس کے لئے حجر اسود والا رکن ہے ( ابن عربی فرماتے ہیں ) و هولنا بحمد الله تعالیٰ (یعنی یہ حجر اسود والا رکن ہمارے لئے ہے بحمد اللہ تعالی ) انتہی ۔

(4)نجباء

”   نجیب “کی جمع ہے اور کبھی کبھی خلاف قیاس ”   انجاب “بھی بولا جاتا ہے، ابدال اور اقطاب کی مناسبت سے انجاب کہہ دیتے ہیں، اور قاعدے کے موافق تو جمع”   نجباء “ہے، جیسے کریم کی جمع کرما ء ہے، سیدی عارف بالله ابن عربی رحمہ اللہ نے اپنی بعض تصانیف میں فتوحات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ اولیاء میں سے بعض نجباء ہوتے ہیں، اور وہ ہر زمانہ میں آٹھ ہوتے ہیں نہ کم نہ زیادہ ، اور وہ آٹھ صفات کے علم والے ہوتے ہیں ، سات تو مشہور ہیں ( یعنی حیاة، علم، ارادہ، قدرت ، سمع، بصر ، کلام ) اور آٹھویں صفت ادر اک ہے، ان کا مقام کرسی ہوتا ہے ، وہاں سے ہٹتے نہیں، ستاروں  کی سیر و حرکت کے علم میں یہ بڑے ماہر ہوتے ہیں ، اس مرتبہ کے علماء یہاں اس کا جو طریقہ معلوم ہے انہیں کشف و اطلاع کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے، انتہی

(5) نقباء

”  نقباء “نقیب کی جمع ہے، صحاح میں ہے کہ نقیب عریف کو کہتے ہیں جو قوم کا نگران اور ذمہ دار ہوتا ہے، عارف باللہ ابن عربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جونو ویں آسمان کے علم کے حامل ہوتے ہیں، اور نجباء افلاک ثمانیہ کے جو کہ نو ویں آسمان کے نیچے ہے، ان افلاک کے علم کے حامل ہوتے ہیں، ایک اور جگہ پر ابن عربی فرماتے ہیں کہ اولیاء کی ایک قسم ہے جو نقباء کہلاتے ہیں یہ بارہ ہوتے ہیں ہر زمانہ میں نہ کم نہ زیادہ ، فلک کے برجوں کی تعداد کے برابر، ہر نقیب ایک برج کی خاصیات کا عالم ہوتا ہے اسی طرح وہ ان اسرا رو تاثیرات کا بھی عالم ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر ودیعت فرمائی ہیں، اسی طرح وہ کواکب وسیا رات اور ثوابت کی حرکت کا بھی واقف کار ہوتا ہے، اس لئے کہ ثوابت کے لئے بھی حرکت و قطع ہوتی ہے بروج میں جس کا ظہور ہزاروں سال میں ہوتا ہے، اہل رصد اس کا مشاہدہ نہیں کر سکتے ،اور یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ان نقباء ہی کے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ نے نازل کردہ شریعتوں کے علوم رکھے ہیں اور نفوس کے مخفی امور اور نفوس کے مکر وخداع اور چال بازیوں و مکاریوں کی معرفت کا استخراج بھی انہیں کے ہاتھوں کے ذریعہ فرماتے ہیں، ابلیس ان کے نزدیک ظاہر ہوتا ہے ابلیس کے بارے میں یہ وہ جانتے ہیں جو خود میں بھی اپنے بارے میں نہیں جانتا (انتہی )

(6) افراد

اور ایک قسم اولیاء کی وہ ہوتی ہے جن کا نام ” الافراد“ ہوتا ہے ، ابن عربی رحمہ اللہ نے ان کا تذہ کرہ اپنی بعض کتابوں میں فرمایا ہے، اور فرمایا کہ ان کی نظیر فرشتوں میں سے اہمیت والی ارواح ہیں یعنی وہ الکروبیوں ہیں جو حضور حق پر معتکف ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں کچھ پتہ نہیں بس جس چیز کی انہیں معرفت حاصل ہے اس کے مشاہدہ میں رہتے ہیں۔ ان کا اپنا کوئی علم نہیں ہوتا، اور ان کو ان کے علاوہ دوسرانہیں جانتا ہے ان کا مقام صدیقیت اور نبوت کے درمیان ہوتا ہے (انتہی)

فصل (تعداد اور ان کی جائے سکونت )

یہ فصل اہل تکوین کی تعداد او ران کی جائے سکونت کے بیان میں۔

شیخ برہان ابراہیم القائی نے اپنی بڑی منظوم شرح الموسوم ” العمدة المريد لجوهرة التو حید“ میں ابن تلمسانی کی ”شفاء“کے حواشی سے بیان فرمایا ہے کہ خطیب نے تاریخ بغداد میں کتانی رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل فرمایا ہے، جس میں اس کی صراحت ہے کہ ” نقباء“ تین سو ہوتے ہیں  ” نجباء “ستر ہوتے ہیں اور ” ابدال“ چالیس اور ” اخیار “سات ہوتے ہیں۔اور عمد جن کو ” اوتاد“ بھی کہتے ہیں یہ چار ہوتے ہیں اور”  غوث “ایک ہوتا ہے۔

نقباء کا مسکن مغرب ہے اور نجباء کا مسکن مصر ہے، اور ابدال کا مسکن شام ہے اور اخیار زمین میں سیاحت کرتے رہتے ہیں (چلتے پھرتے رہتے ہیں) اور عمد زمین کے چاروں کونوں میں ہوتے ہیں، اور غوث کا مسکن مکہ ہے ، جب مخلوق کی کوئی حاجت در پیش ہو تو نقباء اللہ تعالی سے عاجزی کے ساتھ دعا میں مشغول ہو جاتے ہیں، اس سے  بعد نجباء اس کے بعد ابدال اس کے بعد اخیار اور پھر ان سب کے بعد آخر میں عمد ۔ یا تو کسی ایک فریق کی دعا قبول کر لی جاتی ہے اور یا سب  کی مشترکہ، اور اگر پھر بھی قبول نہ ہو تو غوث بھی دعا میں مشغول ہوتا ہے ، اس کا سوال پورا ہونے سے پہلے اس کی  دعا قبول کر لی جاتی ہے (انتہی )

حضرت ذوالنون مصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نقباء تین سو ، نجباء ستر ، بدلاء چالیس، اخیار سات ، عمد چار ، اور غوث ایک ہوتا ہے۔ ابو بکر المطوعی نے ایک ایسے صاحب سے جنہوں نے حضرت خضر کو دیکھا ہے اور ان سے بات کی ہے ان سے نقل فرمایا ہے حضرت خضر نے ان سے فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺو صال فرما گئے تو زمین رونے لگی اور عرض کیا الہی میں اس حالت کو پہنچ گئی کہ اب قیامت تک کوئی نبی میری پشت پر نہیں چلے گا ، تو اللہ تعالی نے وحی بھیجی کہ میں تیری پشت پر اس امت کے ایسے افراد پیدا کرتا رہوں گا جن کے دل انبیاء علیہم الصلا ۃ والسلام کے جیسے ہونگے ، اور قیامت تک کبھی تجھے خالی نہیں چھوڑونگا، زمین کہنے لگی وہ کتنے ہونگے ؟ ارشاد فرمایا کہ تین سو اولیا ء ستر نجباء ، چالیس اوتاد، دس نقباء ، سات عرفاء ، تین مختارون ، ایک غوث۔ جب غوث کا انتقال ہوتا ہے تو تین میں سے ایک اس کا قائم مقام کر دیا جاتا ہے، اور سات میں سے ایک تین کی جگہ بھرتی کر دیا جاتا ہے، اور دس والوں میں سے ایک کو سات والوں کی طرف اور چالیس میں سے ایک دس والوں کی طرف اور ستر میں سے ایک چالیس والوں کی طرف اور تین سو میں سے ایک ستر والوں کی طرف اور پوری مخلوق میں سے ایک کو ان تین سو میں بھرتی کر دیا جاتا ہے ، اسی طرح یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا ( انتہی)

( علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ) میں عرض کرتا ہوں کہ یہاں جو تعداد مذکور ہے اس میں اور ماسبق میں جو تعداد مذکور ہوئی دونوں میں کچھ فرق ہے، اور ہو سکتا ہے جس نے  اکثر کا ذکر فرمایا اس نے سب کا تذکرہ فرمادیا، اور جس نے تعداد کم ذکر کی انہوں نے ان میں جو اہم اور رئیس یا بقیہ میں جو راسخ القدم ہوتے ہیں ان کا ذکر فرما دیا ہو جیسا کہ آگے  آئے گا۔ واللہ اعلم ۔

اس کے جواب میں بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے جو کہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعداد صحیح طور پر متعین نہیں ، اور بعضوں نے اس کے علاوہ اور بھی جواب دیئےہیں خوب اچھی طرح سمجھ لو۔

دوسرا باب

 (  اولیائے کرام کے وجود اور ان کے فضائل )

دوسرا باب اہل تکوین کے وجود اور ان کے فضائل کے سلسلہ میں جوا حادیث وارد ہوئی  ہیں ان کے بیان میں ہے۔ اپنی منظوم شرح میں حافظ ابن حجر نے الفتاوی الحدیثیہ میں اور شہاب الدین احمد المنینی اپنی  منظوم شرح میں علامہ سیوطی کے حوالہ سے اور امام مناوی نے اور اسی طرح ملاملی قاری نے ” المعدن العدني في اویس القرنی میں ذکر فرمایا ہے ۔ ان میں سے ایک یہ ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اہل شام کو برا نہ کہو کیونکہ اہل شام میں ابدال ہوتے ہیں، اس کو طبرانی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔

اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی سے مرفو عا ایک روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ ان کے مظالم کی برائی کرو اور ایک روایت میں ہے ” لا تَعْموا فَإِن فِيهِمُ الْإِبْدَالُ عموميت کے ساتھ سب کو برا نہ کہو، کیونکہ ان میں ابدال ہوتے ہیں، اور ایک روایت میں ہے کہ ابدال شام میں اور نجباء، کوفہ میں ہوتے ہیں، ایک اور روایت میں ہے کہ سن لو اوتاداہل کوفہ میں سے اور ابدال اہل شام میں سے ہوتے ہیں، اور ایک روایت میں ہے کہ نجباء مصر میں اخیار عراق والوں میں سے قطب یمن میں اور ابدال شام میں ہوتے ہیں اور  وہ تھوڑے ہیں۔

(علامه شامی کہتے ہیں ) میں کہتا ہوں کہ اس روایت میں یہ ہے کہ نجباء مصر میں ہوتے ہیں اور سابق میں یہ گذرا کہ وہ کوفہ میں ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ کسی ایک جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں، کبھی کوفہ میں ہوتے ہیں تو کبھی مصر میں ، واللہ اعلم ۔

(قال الزرقاني في شرح المواهب والمراد بالعمد بضمتين الأوتاد وبالغوث القطب المفرد الجامع المراد يكون الإبدال مسكنهم الشام أكثرهم فلا يخالف ما ورد أن ثمانية عشر بالعراق ان صح ثم مراد ان محل اقامتهم بها فلا ينافي تصرفهم في الأرض كلها كشف الخفاء ومزيل الالباس الجزء)

امام احمد رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرمایا کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابدال ملکِ شام میں ہوتے ہیں اور وہ چالیس آدمی ہوتے ہیں ، انہیں کے سبب سے بارشیں برسائی جاتی ہیں، اور انہیں کے سبب سے دشمن کے مقابلہ میں مدد کی جاتی ہے، اور اہل شام سے ان ہی کی برکت سے عذاب ہٹایا جاتا ہے ( علامہ شامی فرماتے ہیں ) میں کہتا ہوں کہ شہاب المنینی کی شرح میں ہے کہ اس روایت میں جو قید ہے کہ اہل شام سے عذاب ان کی برکت سے دفع کیا جاتا ہے یہ ان احادیث کے منافی نہیں ہے جن میں عذاب کے دفع میں اطلاق ہے اور ملک شام کی قید مذکور نہیں کیونکہ ظاہر ہے کہ جو ان کے پڑوسی ہیں ان پر ان کی برکت زیادہ عام ہے، اگر چہ ان کی برکت سب کو عام ہے (انتہی  )

ابن ابی الدنیا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت کی تخریج فرمائی ہے کہ میں  نے رسول اللہ ﷺ سے ابدال کے بارے میں سوال کیا ، اس میں ہے کہ وہ ساٹھ افراد ہوتے ہیں میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! اس کا وصف بیان  فرمائیے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ لَيْسُوا ‌بِالْمُتَنَطِّعِينَ، وَلَا بِالْمُبْتَدِعِينَ، وَلَا بِالْمُتَنَعِّمِينَ کہ نہ وہ غالی ہوتے ہیں اور نہ بدعتی ہوتے ہیں اور نہ زیادہ چرب  لسان ہوتے ہیں جس مرتبہ پر بھی وہ پہنچتے ہیں وہ کثرت صلاۃ وصوم اور کثرت تلاوت  کی وجہ سے نہیں پہنچتے ، بلکہ نفوس کی سخاوت اور قلوب کی سلامتی اور ائمہ کے ساتھ نصیحت کرنے کی وجہ سے پہنچتے ہیں۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابدال چالیس مرد ہوتے ہیں جن میں سے بائیس ملک شام میں اور اٹھارہ عراق میں ہوتے ہیں جب ان میں سے کسی کا انتقال ہو جاتا ہے تو اللہ تعالی دوسرے کو اس کی جگہ مقرر فرما دیتا ہے، جب قیامت قریب ہو گی تب سب وفات دیئے جائیں گے، اور اس وقت قیامت آجائے گی ، اس کو حکیم ترمذی نے روایت کیا۔

اور ایک روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ مرفوعا روایت فرماتے ہیں کہ ابدال چالیس مرد اور چالیس عور تیں ہیں جب ان میں سے کسی مرد کا انتقال ہوتا ہے تو کوئی د و سر امر د اس کی جگہ مقرر کر دیا جاتا ہے ، اور کسی عورت کا انتقال ہوتا ہے تو کوئی عورت اس کی جگہ مقرر کر دی جاتی ہے، اس کو دیلمی نے تخریج کیا ہے مسند الفردوس میں۔

اور ایک اور روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہے کہ میری امت کے بدلاء جنت میں کثرت صوم کثرت صلاۃ کی بناء پر داخل نہیں ہوں گے بلکہ سینوں کی سلامتی اور نفوس کی سخاوت کی وجہ سے داخل کئے جائیں گے ، اس کو ابن عدی نے روایت کیا ہے۔ اور خلال نے بھی اس کو بیان کیا ہے اس میں اتنا اضافہ ہے مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی و خیر خواہی کی بناء پر جنت میں داخل ہوں گے ۔

اور ایک دوسری روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سند حسن کے ساتھ مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فر ما یاز میں خالی نہیں رہے گی چالیس آدمیوں سے جو خلیل الرحمن کے مشابہ ہونگے، انہی کی برکت سے بارش ہوگی ، اور انہیں کی برکت سے دشمن کے مقابلے پر مدد کی جائے گی، جب ان میں سے کسی کا انتقال ہو جاتا ہے تو اللہ تعالی اس کا بدل مقرر فرما دیتا ہے ، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ   حضرت حسن ان میں سے ہیں۔

اور ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بعد زمین کبھی بھی خالی نہیں ہوتی ایسے سات افراد سے کہ ان کی برکت سے اللہ تعالیٰ اہل زمین میں سے بلاء و مصیبت کو دور فرماتے ہیں ۔

اور ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا خیار امتی ( میری امت کے بہترین افراد ) ہر زمانہ میں پانچ سو ہوتے ہیں ابدال میں چالیس ہوتے ہیں، نہ تو وہ بہترین افراد پانچ سو سے کم ہوتے ہیں اور نہ وہ ابدال چالیس سے کم ، جب بھی ان میں سے کوئی وفات پا جاتا ہے، تو ان پانچ سو میں سے وہ چالیس میں بھرتی کر دیئے جاتے ہیں صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ان کے خصوصی اعمال کیا ہیں انہیں بیان فرمائیے ، تو آپ نے فرمایا کہ جو ظلم کرے اس کو معاف کر دیتے ہیں اور جو ان کے ساتھ برائی کرتا ہے یہ اس کے ساتھ احسان کرتے ہیں، اور جو کچھ اللہ تعالیٰ ، انہیں مرحمت فرماتا ہے اس میں سے لوگوں کی مدد کرتے ہیں، اس کی ابونعیم وغیرہ نے تخریج کی ہے۔

اور ایک روایت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ ہر زمانہ میں میری امت  میں سے سابقون ہوتے ہیں، اس کو ابو نعیم نے حلیہ میں اور حکیم ترمذی نے روایت کیا۔

اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں تین سو خاص افراد ہوتے ہیں جن کے دل آدم علیہ السلام کے دل پر ہوتے ہیں اور چالیس ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے دل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قلب پر ہوتے ہیں اور پانچ ایسے ہوتے ہیں جن کے دل حضرت جبرئیل علیہ السلام کے دل پر ہوتے ہیں، اور تین ایسے ہوتے ہیں جن کے دل میکائیل علیہ السلام کے قلب پر ہوتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں ایک ایسا ہوتا ہے کہ جس کا دل  اسرافیل علیہ السلام کے قلب پر ہوتا ہے ، جب کوئی ایک وفات پاتا ہے تو تین میں سے  ایک کو اس کی جگہ لایا جاتا ہے، اور جب تین میں سے کوئی وفات پاتا ہے تو اللہ تعالیٰ پانچ میں سے ایک کو تین میں داخل فرماتے ہیں، اور جب پانچ میں سے کوئی گذر جاتا ہے تو سات میں سے ایک کو اس کی جگہ لایا جاتا ہے، اور جب سات میں سے کوئی انتقال کرتا ہے تو چالیس میں سے ایک کو اس کی جگہ لایا جاتا ہے، اور جب چالیس میں سے کوئی گذر جاتا ہے تو عام مخلوق میں سے ایک کو ان تین سو میں داخل کر دیا جاتا ہے ، اللہ تعالی ان کے سبب سے زندگی دیتے ہیں موت دیتے ہیں، اور ان کی وجہ سے غلے اگتے ہیں ، اور بلائیں دور ہوتی ہیں ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے عرض کیا گیا کہ ان کی وجہ سے موت وحیات دینے کا کیا مطلب ہے؟ تو فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے امت کی کثرت کی دعا کرتے ہیں تو زیادہ کئے جاتے ہیں اور ظالم لوگوں پر بددعا کرتے ہیں تو وہ لوگ ہلاک کئے جاتے ہیں، وہ بارش کی دعا کرتے ہیں تو بارش ہوتی ہے، اور اللہ تعالی سے سوال کرتے ہیں تو کھیت اور باغ اگتے ہیں، اور مخلوق کے حق میں دعا کرتے ہیں تو اللہ تعالی مخلوق سے بلاؤں کو دفع فرماتے ہیں اس کو ابنِ عساکر نے روایت کیا۔

بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس روایت میں آپ ﷺ نے اس بات کا تذکرہ نہیں فرمایا کہ کوئی آپ کے قلب پر بھی ہوتا ہے ،اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے عالم خلق اور عالم امر میں آپ کے قلب مبارک سے زیادہ کوئی باعزت اور اشرف اورزیادہ لطف والا نہیں پیدا فرمایا،سارے انبیاء اور ملائکہ اور اولیاء کے قلوب حضور ﷺ کے قلب کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کواکب سورج کے مقابلے میں، اور شاید یہ اس لئے کہ آپ ﷺ جمیع  صفات میں مظہرحق ہیں ،اور دیگر حضرات بعض صفات میں مظہر ہیں اللہ تعالیٰ کی تجلیات کی صورتوں میں اللہ تعالیٰ کے تکوینی اُمور پر ۔

( علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ) میں کہتا ہوں کہ اس کا مقتضی یہ ہے کہ اگر آپ ﷺ نے اپنے قلب پر ہونا کسی کا نہیں فرمایا تو یہ سوچنے کی بات ہے جو ابن عربی نے فرمائی ہے جو پیچھے اوتاد کے بارے میں گفتگو کے ضمن میں گذری ، کہ اوتاد میں سے ایک قلب محمدی پر ہوتا ہے، اور پھر اس مقام کو اپنی طرف منسوب فرمایا ہے ، اصل بات یہ ہے کہ ان موصوف قدس اللہ سرہ ونفعنا بہ ان کا مقام اتنا عالی ہے کہ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے، جیسا ہے کہ اس کو ہر وہ شخص جس کی بصیرت کی آنکھیں اللہ نے کھول دیں، اور اس کے باطن کو مرض حسد سے پاک رکھا، اس سے یہ بات مخفی نہیں ، جب بطریق کشف اللہ تعالی نے ان پر ان کے مرتبہ کو منکشف فرمایا، تو بات یہ تھی کہ بعض وہ تھے جو قلب ابراہیم علیہ السلام پر تھے، اور ان سے برتر علوم ومعارف میں اور کوئی نہیں سوائے آنحضرت ﷺ کے تو اپنے اقران میں اپنے مرتبے کے سب سے آگے ہونے کو بیان کرنے کے لئے شیخ نے یہ تعبیر استعمال فرمائی کہ وہ قلب محمد ﷺ پر ہیں، اگر چہ حقیقت کے اعتبار سے من کل الوجہ قلب محمد پر نہیں ہیں، پھر ایک دوسری بات یہ بھی ہے کہ کسی ولی کا قلب نبی یا قلب فرشتہ پر ہونے کا یہ مفہوم ہوتا ہے جیسا کہ خود شیخ رحمہ اللہ نے اپنی بعض کتابوں میں ذکر فرمایا ہے۔ ( کسی بزرگ کا کشف یا وارد حجت قطعی نہیں ہوتا اگر کوئی قلب محمدی پر ہوتا تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہوتے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہوتے جن کے بارے میں ان کے فضائل احادیث سے ثابت ہیں حضور اکرم ﷺنے کا قلب مبارک جو کچھ اپنے اندر سمائے ہوئے تھا کسی اور کے قلب میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہو سکتا، جیسا کہ حدیث میں ہے علماء امتى كانبیاء بنی اسرائیل دوسرے انبیاء کے قلب کا حوالہ خود حضور ﷺ نے فرمایا لیکن اپنے قلب کی نفی کر ناخود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ نا ممکن ہے۔)

کہ علوم الہیہ کا قلوب پر فیضان ہوتا ہے، تو انبیاء و ملائکہ کے قلوب پر جو وارادات ہوتے ہیں یہ حضرات جن کو کسی نبی یا ولی کے قلب کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ اسی طرح کے علوم و معارف اور اسی طرح کے واردات سے مشرف کئے جاتے ہیں۔ اور اسی مضمون کو بعض مرتبہ یوں بھی تعبیر کرتے ہیں کہ فلاں ولی فلاں نبی کے قدم پر ہے، دونوں تعبیرات ایک ہی مفہوم میں ہیں (انتہی )

تنبیہ

 ( ابدال و اقطاب وغیرہ کی احادیث کی اسنادی حیثیت پر کلام )

شیخ شہاب المنینی فرماتے ہیں کہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے ابدال کے بارے میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں ان پر طعن فرمایا ہے، اور ان پر وضع کا حکم لگایا ہے۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے ان کا تعاقب فرمایا ہے کہ ابدال کے متعلق روایات صحیح ہیں، بلکہ اس بارے میں طویل کلام فرماتے ہوئے فرمایا کہ معنوی اعتبار سے ابدال کے وجود پر روایات حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں ، اس لئے ابدال کے وجود کا حکم علم ضروری کے طور پر صحت ویقین کے ساتھ ثابت ہے (انتہی)

علامہ سخاوی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ابدال کی روایات مختلف الفاظ سے وارد ہیں سب ضعیف ہیں پھر ان احادیث کا تذکرہ فرما کرفرمایا کہ سب سے زیادہ صحیح روایت اس باب میں وہ ہے جو امام احمد رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت فرمائی ہے کہ”اَ لْأَبْدَالُ يَكُونُونَ بِالشَّامِ، وَهُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا، كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ ‌أَبْدَلَ ‌اللهُ ‌مَكَانَهُ رَجُلًا، يُسْقَى بِهِمُ الْغَيْثُ، وَيُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلَى الْأَعْدَاءِ، وَيُصْرَفُ عَنْ أَهْلِ الشَّامِ بِهِمِ الْعَذَابُ “ (شام میں چالیس آدمی ابدال کے مرتبہ سے شرف یاب ہوں گے، ان میں سے جب ایک فوت ہوگا، تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے کو لے آئے گا، ان کی وساطت سے بارش طلب کی جائے گی اور دشمن کے مقابلہ میں ان کے ذریعے مدد حاصل کی جائے گی اور ان کے سبب اہل شام سے عذاب ٹلیں گے)اس روایت کے بعد علامہ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں سوائے شریح بن عبید کے، اور وہ بھی ثقہ ہیں(انتہی  )

ان کے شیخ ابن حجر رحمہ اللہ اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں کہ ابدال کا ذکر متعد دروایات میں آیا ہے بعض ان میں صحیح ہیں اور بعض صحیح نہیں ہیں ، اور قطب کا ذکر بعض آثار میں ہے، البتہ غوث جو صوفیاء کے یہاں انکے مخصوص معنوں میں مشہور ہے وہ روایات میں مذکور نہیں اور بعض روایات میں ہے کہ ابدال کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ ان کی اولاد نہیں ہوتی ، اور وہ کسی پر لعنت نہیں کرتے (انتہی  )

لیکن یہ بات پہلے آچکی ہے اور آگے بھی مذکور ہو گی حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کے کلام کے حوالہ سے کہ قطب کی تفسیر غوث سے کی گئی ہے تو یہ اس کے ثبوت کے لئے کافی ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ایک معنی میں ہیں اس کو یا درکھو، اور غالباً  حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے جو عدم ثبوت کا ذکر فرمایا ہے اس کی مراد یہ ہے کہ احادیث     صحیحہ میں اس کا ورود نہیں ( عدم ورود الگ شئی ہے اور عدم وجود یا عدم ثبوت الگ شئی ہے، عدم ورود سے عدم وجود یا عدم ثبوت لازم نہیں آتا ) اس کے ثبوت کے لئے یہ کافی ہے کہ اس کے تذکرے اہلِ طریق اور قلوب طاہرہ کے درمیان ثابت و معروف ہیں، واللہ اعلم (انتہی )

اور فتاوی حدیثیہ میں اخیر کی حدیث کو امام یافعی سے اختصار اور معمولی سے تغیر کے ساتھ نقل کیا گیا ہے اس کے بعد امام یافعی کے حوالے سے فرماتے ہیں بعض عارفین کا فرمانا ہے وہ واحد جس کا ذکر حدیث میں ہے وہ قطب ہے اور اسی کو غوث اور فرد کہتے ہیں، پھر یہ فرمایا کہ یہ حدیث جوذ کر فرمائی ہے وہ صحیح ہے اور اس میں کئی فوائد چھپے ہوئے  ہیں۔ ان میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ اعداد یہ اصطلاحی میں کہ بعض مراتب کے اعتبار سے ایک عدد ہے جس کو انہوں نے ابدال ، نقباء، نجباء اوتاد وغیرہ سے تعبیر کیا ہے اور حدیث میں بعض دوسرے مراتب کے اعتبار سے ایک عدد ہے ، یہ وجہ ہے روایات میں فرق کی اور سب متفق ہیں ان اعداد کے وجود پر۔ اور اس حدیث کا ایک فائدہ یہ بھی نکلتا ہے کہ ملائکہ انبیاء سے افضل ہیں(انسان کے اشرف المخلوقات اور انبیائے کرام کے اس جنس اشرف المخلوقات میں افضل و برتر ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ انبیا ءعلیہم السلام ملائکہ سے افضل ہیں ممکن ہے کہ مذکورہ بالا حدیث میں یہ افضلیت جزئی اور کسی خاص جہت سے مراد ہو۔)

اور اہل سنت والجماعت کے کلام سے باستثناء بعض پتہ چلتا ہے کہ انبیا ء افضل ہیں ملائکہ سے۔  ایک فائدہ یہ ہے کہ میکائیل افضل ہیں جبرئیل سے ، جبکہ مشہور اس کے برخلاف ہے، اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے اسرافیل ان میں افضل ہیں اور میکائیل بہ نسبت اسرافیل کے تو یہ سب کے یہاں مسلم ہے البتہ جبرئیل کی نسبت اختلاف ہے اور دلائل دونوں طرف ہیں، جیسے کہا گیا ہے کہ جبرئیل افضل ہیں ، ان کے صاحب السر اور انبیاء ورسل کے پیغام رساں اور ان کی خدمت و تربیت پر قائم ہونے کی وجہ سے، بعضوں نے کہا   ہے کہ اسرافیل افضل ہیں کیونکہ وہ تو ساری مخلوق کے لئے صاحب السر ہیں، کیونکہ لوح محفوظ ان کی پیشانی میں ہے جن پر کوئی مطلع نہیں اور جبرئیل اور ان کے علاوہ وہ سب جو کچھ بھی لوح محفوظ سے لیتے ہیں وہ اسرافیل ہی سے لیتے ہیں پھر وہ صاحب صور ہیں جو اپنے منہ میں لیے ہوئے منتظر حکم ہیں تاکہ اس میں نفخ کریں اور ساری مخلوق ختم ہو، الامن استثنى الله تعالى

امام یافعی فرماتے ہیں اس بات کو جاننا چاہئے کہ یہ حدیث محد ثین معتمد علیہم میں سے کسی نے بیان کی ہے وہ میں نے نہیں دیکھا لیکن بہت سی احادیث میں ایسے مضامین آئے ہیں جو اس حدیث میں موجود بہت سی باتوں کی تائید کرتے ہیں پھر ان احادیث کا تذکر و فر مایا پھر اسی اثناء میں فرمایا کہ دونوں حدیثوں میں کوئی مخالفت نہیں، یعنی سابق والی ابونعیم کی روایت اور امام احمد والی روایات میں کوئی منافات نہیں جو ابدال کی تعداد کے بارے میں مختلف ہیں ، اس لئے کہ ” بدل ” کا لفظ جس کی جمع ابدال ہے اس کے اطلاقات الگ الگ ہیں اس کو کئی موقعوں پر بولا جاتا ہے ، جیسا کہ آگے آنے والی حدیث سے بھی معلوم ہو گا ان کی علامتوں اور صفات کے فرق میں ، اور یہ کہ وہ کبھی چالیس ہوتے ہیں اور کبھی تیس لیکن اس روایت پر اثر پڑتا ہے جس میں چالیس سے کم یا زیادہ نہ ہونے کی صراحت ہے (انتہی )

اور اس کی تائید سابقہ کلام سے بھی ہوتی ہے، اس سلسلہ میں امام یافعی نے ایک واقعہ  بعض مشائخ کا ذکر فرمایا ہے، فرماتے ہیں کہ میرے ساتھ اس موضوع پر اپنے بعض  مشائخ کے ساتھ ایک عجیب بات پیش آئی، وہ یہ کہ میں نے اسی جماعت کے بعض  حضرات کی گود میں پرورش پائی جو احتیاط برتتے ہیں اور کسی پر ملامت کرنے سے گریزکرتے ہیں ان کی باتیں میرے دل میں بیٹھی ہوتی تھیں، کیونکہ اس زمانہ میں تو میرا دل  بالکل خالی تھا، جس کے ساتھ نشست و برخاست کی ، وہ جم گئی پھر جب میں علوم ظاہرہ میں مشغول تھا اس وقت میری عمر چودہ برس تھی اور میں مختصر شیخ ابو شجاع پڑھ رہا تھا شیخ   قطب ابو عبد اللہ سے ، اس زمانہ میں شیخ محمد جوینی جامع ازھر مصر کے معلم تھے، میں نے ان کی صحبت ایک مدت تک اختیار کر لی تو ایک دن اس موضوع پر گفتگو چل پڑی جس میں نجباء، نقباء ، ابدال وغیرہ جو گذر چکے ہیں اس پر شیخ نے شدت سے انکار فرمایا اور فرمانے لگے کہ یہ سب کچھ نہیں ، اس کی کچھ حقیقت نہیں اور حضور ﷺ سے اس بارے میں کچھ ثابت نہیں، میں نے عرض کیا جبکہ موجودین میں سب سے چھوٹا میں تھا یہ تو بالکل حق ہے اور اس میں کوئی شک نہیں اس لئے کہ اولیاء اللہ نے اس کی خبر دی ہے اور معاذ اللہ وہ جھوٹے تو نہیں اور اس کو امام یافعی نے ایسے صاحب کے بارے میں فرمایا تھا جن کے پاس علوم ظاہرہ و باطنہ دونوں جمع تھے اس پر شیخ اور زیادہ مخالفت کرنے لگے، میرے لئے سکوت کے علاوہ کوئی گنجائش نہ تھی، میں خاموش ہو گیا ، میں نے سوچا اس سلسلہ میں میری مدد شیخ الاسلام امام الفقہاء والعارفین ابویحی زکریا انصاری ہی فرما سکتے ہیں ، میری عادت یہ تھی کہ میں شیخ محمد جوینی کو جن کی بینائی کمزور ہوگئی تھی جہاں انہیں جانا ہوا کرتا لے کر جایا کرتا تھا، ایک مرتبہ میں شیخ الاسلام کی مجلس میں شیخ محمد جوینی کو لے جانے لگا، جب ہم ان کے گھر کے قریب پہنچے تو میں نے شیخ جو ینی سےعرض کیا اگر ہم شیخ الاسلام کے سامنے یہ قطب وغیرہ کے مسئلہ کا تذکرہ کریں تو اس میں کیا حرج ہے دیکھتے ہیں کہ وہ اس بارے میں کیا ارشادفرماتے ہیں، چنانچہ جب ہم وہاں پہنچے تو شیخ الاسلام نے جوینی کا استقبال فرمایا اور ان کا خوب اکرام فرمایا اور ان سے دعا کی درخواست کرتے رہے پھر میرے لئے بھی دعا ئیں دیں ان میں سے ایک یہ بھی دی “اللهم فقهه في الدين ” (یا اللہ! اس کو دین کی سمجھ عطا فرمائیے ) اور مجھے یہ د عابہت دیا کرتے تھے۔ جب ہم شیخ کی زیارت سے فارغ ہوئے اور شیخ جوینی نے واپسی کا ارادہ فرمایا تو میں نے شیخ الاسلام سے عرض کیا کہ حضرت یہ قطب ، اوتاد، نجباء، ابدال وغیرہ جس کو صوفیائے کرام بیان فرماتے ہیں آیا اس کی کوئی حقیقت ہے؟ فرمانے لگے صاحبزادے اللہ کی قسم یہ صحیح ہے ، میں نے عرض کیا حضرت! شیخ اور میں نے شیخ جوینی کی طرف اشارہ کیا اس کو نہیں مانتے اور سختی سے ردفرماتے ہیں ، یہ سن کر شیخ الاسلام شیخ محمد جوینی سے فرمانے لگے ” هكذا يا شيخ محمد شیخ محمد یہ ایک حقیقت ہے اور اس کو بار یا ر فرمانے لگے یہاں تک کہ شیخ محمد کہنے لگے ” آمنت بذلک و صدقت به وقد نسبت “ اس پر شیخ نے فرمایا تمہارے بارے میں میرا یہی گمان ہے کہ تم مان جاؤ گے اے شیخ محمد، پھر ہم وہاں سے چل پڑے اور شیخ محمد جو ینی نے مجھ سے کسی قسم کا مواخذہ نہیں فرمایا (انتہی )

اور شیخ عثمان عجلونی کی کتاب ” الاجوبة المحققة عن الاسئلة المفرقة میں سیرت حلبیہ کے حوالے سے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی روایت منقول ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تین باتیں جس میں ہوں وہ ابدالوں میں سے ہوگا جن سے دنیا قائم ہے الرضاء بالله الصبر عن محارم الله والغضب في ذات الله ” الله تعالی کی رضا اور اللہ تعالیٰ کی محرمات سے بچنا اور اللہ تعالی کی ذات کے لئے غصہ )

ابو نعیم کی حلیۃ الاولیاء میں ہے کہ جو شخص دس مرتبہ “اللهم أَصْلِحُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ اللَّهُمَّ فرج الكرب عن أمة محمد اللهم ارحم أُمَّةً مُحَمَّدٍ ” کہے گا اس کا مرتبہ ابدال میں لکھا جائے گا (انتہی )

شبر املسی نے مواہب کے حاشیہ میں اس کا یہ مطلب لکھا ہے وہ وصف کے اعتبار سے ان کے مثل ہے اور قیامت کے دن اُن کا مصاحب بنا کر محشور کیا جائے گا ، یہ مطلب نہیں کہ وہ حقیقت میں ابدال میں سے ہو جاتا ہے، تو اب یہ بات اس کے منافی نہیں ہے کہ جو پڑھے گا وہ ابدال ہو جائے گا اگر چہ کہ اس کی بہت اولاد ہو ( انتہی )

( یہ بھی ایک علامت مشہور ہے کہ وہ صاحب اولاد نہیں ہوتے )

تیسرا باب

 ( غوث اور اقطاب کے بعض احوال )

تیسر ا باب غوث اور قطب کے بعض احوال پر گفتگو کے بیان میں ہے، نفعنا اللہ تعالیٰ بہ۔ یہ بات پہلے گذری ہے کہ قطب کا مسکن مکہ ہوتا ہے یایمن ہوتا ہے ظاہر یہ ہے کہ یہ بعض اوقات کے اعتبار سے فرمایا گیا ہے یا غالب اوقات کے اعتبار سے فرمایا گیا ہے، اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ امام عبدالوہاب شعرانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ” الجواہر والدرر“ میں اپنے شیخ عارف ربانی سید علی الخواص رحمہ اللہ کے بارے میں نقل فرمایا ہے کہ میں نے اپنے شیخ سے عرض کیا کہ قطب غوث کیا ہمیشہ مکہ مکرمہ میں مقیم ہوتا ہے جیسا کہ عموماً کہا جاتا ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ قطب کا دل تو ہمیشہ حضرت حق کے طواف میں ہوتا ہے کبھی اس سے وہ خارج نہیں ہوتا جیسا کہ عام لوگ بیت اللہ کے طواف میں ہوتے ہیں ، وہ ہر جہت میں ہر جہت سے حضرت حق کا مشاہدہ کرتا ہے جیسا کہ بیت اللہ کے اطراف کے لوگ ہمیشہ طواف میں مشغول رہتے ہيں ولله المثل الأعلى .

اس لئے کہ وہ حق تعالی سے ان تمام آفات اور انعامات کا جو مخلوق پر فائض ہوتی رہتی ہے ( تعلق ) وصول کرتا رہتا ہے ، اس لئے اس کے سر میں بھی ہمیشہ ایک قسم کی گرانی رہتی ہے وارادات کے وزن و از حام سے ، البتہ قطب کا جسم مکہ یا غیر مکہ کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ جہاں اللہ تعالی چاہتے ہیں وہاں رہتا ہے (اور جہاں اللہ تعالی چاہتے ہیں پیدا ہوتے ہیں)  (وقيل أن البعوث مسكنه اليمن والأصح ان اقامته لا تختص بمكة ولا بغيرها بل هو جوال وقلبه طواف في حضرة الحق تعالى وتقدس لا يخرج من حضرته ابدا ويشهده في كل جهة ومن كل جهة انتهى كشف الخفا ومزيل الالباس الجزء الأول، ص ۲۸۰۲۷)

اور یہ بھی میں نے شیخ کو فرماتے ہوئے سنا ہے تمام شہروں میں کامل ترین شہر بلد حرم یعنی مکہ ہے اور تمام گھروں میں کامل ترین گھر بیت الحرام ہے اور تمام مخلوق میں کامل ترین  مخلوق ہر زمانے میں قطب ہے، تو بلد اس کے جسم کی نظیر ہے اور بیت اس کے قلب کی نظیر ہے اور اس سے مخلوقات استعدادوں کے موافق امدادات الہیہ متفرع ہوتے رہتے ہیں ، اگر چہ اکثر امدادات مکہ مکرمہ میں نازل ہوتے ہیں جیسا کہ حق تعالی شانہ نے فرمایا (يُجبى اليه ثمرتُ كُلِّ شَيْءٍ ( خاص طور پر جو احرام باندھ کر دور دراز سےحاضر ہوتے ہیں۔

اس لئے کہ امدادات الہیہ کسی بندے پر اسی وقت نازل ہوتی ہیں جب اس کی نظر اپنی حسنات سے ہٹ جاتی ہے اور وہ اپنے کو فقیر محض پاتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( انما  الصَّدَقَتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسْكِينِ ) اس لئے حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو شخص حج کرے اور رفث اور فسوق نہ کرے تو اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسا کہ وہ اس دن گناہوں سے پاک تھا جب وہ اپنی ماں سے پیدا ہوا تھا، گویا اس کو یہاں ایک نئی ولادت نصیب ہوتی ہے اور بسا اوقات بعض لوگوں کی نیکیاں اس مقام مقدس کے اعتبار سے مثل گناہوں کے ہوتی ہیں، میں نے شیخ سے پوچھا کیا کوئی ولی قطب کے   اخلاق کا احاطہ کر سکتا ہے؟ تو فرمانے لگے بہت کم ولی اللہ قطب کو پہچان پاتے ہیں چہ  جائیکہ کوئی اس کے اخلاق کا احاطہ کر سکے ، بلکہ بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ قطب اور غوث یہ دیکھنے والے کی استعداد کے اعتبار سے نظر آتے ہیں (انتہی  )

اور فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شیخ سے یہ بھی پوچھا کہ کیا قطب کی کوئی مدت متعین ہوتی ہے اور کیا اس کو اپنے عہدہ سے معزول کیا جا سکتا ہے یا وہ موت سے ہی معزول ہوتا ہے، تو شیخ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ قطب کا حال اس معاملہ ( مدت ) میں دیگر اولیاء کی طرح ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں رہتا ہے اور معزول بھی ہو سکتا ہے اور میں جو بات کہتا ہوں ( و ساعده الوجود ) کہ قطبیت کے لئے کوئی مدت متعین نہیں ہے اور جب کسی کو یہ عہدہ دیا جاتا ہے تو پھر معزول نہیں ہوتا جب تک موت نہ آ جائے، کیونکہ اس کے حق میں خروج عن العدل صحیح نہیں کہ عزل کی نوبت آئے۔

فرمایا اس کی وضاحت یہ ہے کہ فروع اصول کے تابع ہوتے ہیں قطبیت کبری پر حضور ﷺ کا اپنی مدت رسالت یعنی 23 سال تک جلوہ رہا، اور پوری امت متفق ہے کہ آپ کے بعد سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اور آپ حضور کی خلافت پر دو سال چند ماہ ر ہے اور وہ اس امت کے سب سے پہلے قطب ہیں ، ایسے ہی حضرت عمر و عثمان و علی رضی اللہ عنہم کی مدت خلافت ہے اور ان کے بعد ظہور مہدی رحمہ اللہ تک سلسلہ جاری رہے گا اور حضرت مہدی علیہ الرحمۃ خلفاء محمد یین میں سے آخری قطب ہیں اس کے بعد قطب وقت خلیفة اللہ فی الارض حضرت عیسی علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔ اور چالیس سال خلافت پر متمکن رہیں گے جیسا کہ وارد ہوا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ قطبیت کی کوئی مدت متعین نہیں ہے ، اگر چہ کہ قطبیت قطب پر پہاڑوں کی طرح ثقیل ہوتی ہے کیونکہ کوئی بلاء آسمان اور زمین سے نازل نہیں ہوتی مگر پہلے قطب پر اترتی ہے پھر آگے جاتی ہے، اسی لئے اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ دائمی سر درد میں مبتلا رہتا ہے یہاں تک کہ ایسا لگتا ہے گویا کہ کوئی اسے دن رات مار رہا ہے۔

فرمایا کہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ شیخ ابو النجا سالم جو شہر”  فوہ  “ میں مدفون ہیں کہ وہ قطبیت پر چالیس سال قائم رہے پھر انتقال فرمایا اور یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ وہ اس مقام پر دس دن رہے، اور شیخ ابو مدين المغربی کے بارے میں بھی اسی طرح منقول ہے، پھر میں نے اپنے شیخ سے دریافت کیا کہ کیا قطب کے لئے ضروری ہے کہ وہ اہلِ بیت میں سے ہو، جیسا کہ بعضوں نے فرمایا ہے، تو فرمایا کہ نہیں اسکی کوئی شرط نہیں وہ ایک وہبی امر ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہتے ہیں مرحمت فرماتے ہیں تو قطب اشراف نسب  میں بھی ہوتے ہیں اور ان کے غیر میں بھی ( انتہی  )

فصل ( قطب کی پہچان )

مذکور ہ تفصیلات سے یہ معلوم ہو گیا کہ قطب اکثر لوگوں سے چھپے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کو کوئی کوئی ہی پہچانتا ہے، اور یہ شاید اس لئے بھی ہو کہ وارادات کی عظمت کا جو بوجھ دہ اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں اس کا عام مخلوق تحمل نہیں کر سکتی اور جوہیبت اور وقار کا لباس اللہ تعالی انہیں پہناتا ہے اس کی وجہ سے شاید مخلوق ان کی رؤیت کا تحمل نہیں کر سکتی ۔ چنانچہ امام شعرانی رحمہ اللہ نے اپنی مذکورہ کتاب میں اس بات کی صراحت فرمائی ہے، چنانچہ فرماتے ہیں کہ ہمارے شیخ نے فرمایا کہ اکثر اولیاء نہ ان کے پاس جمع ہو سکتے ہیں اور نہ پہچان سکتے ہیں چہ جائیکہ دیگر لوگ، کیونکہ ان کی شان اخفاء ہے اور اگر کسی مخلص کے لئے ظاہر ہو جائیں تو وہ ان کے چہرے کے سامنے اپنا سر نہیں اٹھا سکتا الا یہ کہ وہ اس کا اہل ہو۔

چنانچہ ایک مرتبہ ایک شخص حضور ﷺ کے سامنے لایا گیا وہ آپ کی ہیبت سے تھر تھرانے لگا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سکون سے رہو میں تو قریش کی ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھا لیا کرتی تھی ، یہ حال ہے اس شخص کا جس نے سرکار دو عالم کو دیکھا حالانکہ آپ ﷺ ساری مخلوق میں سب سے زیادہ تو اضع اختیار فرمانے والے تھے، اور قطب بالیقین آپ کا نائب ہوتا ہے زمین میں ۔

( علامہ شامی فرماتے ہیں ) میں کہتا ہوں کہ سید شریف شیخ شرف الدین جو کہ مصر کے ایک ممتاز اور صالح علماء میں سے ہیں انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے شیخ عثمان الخطاب نے بیان فرمایا کہ جب وہ اپنے شیخ ابو بکر الدقد وی کے ہمراہ حج کے لئے تشریف لے گئے تو انہوں نے ( شیخ عثمان نے ) اپنے شیخ سے فرمائش کی کہ ان کو قطب سے ملوائیے مکہ مکرمہ میں تو شیخ نے فرمایا کہ عثمان تم ان کے دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے تو انہوں نے کہا کہ نہیں ضرور ملائیے ، اور اپنے شیخ کو مقام ابراہیم اور زمزم کے درمیان قسم دی کہ  آپ کو ملانا ہوگا اور کہنے لگے کہ یہاں سے اٹھنا نہیں ہے جب تک کہ وہ تشریف نہ لے آئیں تو ہوا یوں کہ شیخ عثمان کا سروزنی ہونے لگا اور بوجہ ثقل کے نیچے کی طرف جھکتا چلا گیا، یہاں تک کہ ان کی داڑھی ان کی رانوں میں چلی گئی، قطب آگئے اور بیٹھ گئے، اور شیخ ابو بکر کے ساتھ کافی دیر تک بیٹھے بات کرتے رہے پھر اس کے بعد قطب نے شیخ سے فرمایا کہ عثمان کے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہو کیونکہ اگر وہ زندہ رہا تو رجال اللہ میں سے بنے گا، جب قطب صاحب تشریف لے جانے لگے تو سورۃ فاتحہ اور سورہ قریش پڑھی اور تشریف لے گئے جب شیخ ابو بکر نے ان کو رخصت کیا اور واپس آئے تو شیخ عثمان کی گردن بہت دیر تک دباتے رہے تا کہ ان کی بات سن سکیں پھر فرمایا کہ عثمان تمہارا یہ حال صرف ان کا کلام سننے سے ہو گیا اگر تم قطب صاحب کو دیکھ لیتے تو تمہارا کیا حال ہوتا ، اس وقت سے شیخ عثمان جب کسی شخص سے ملاقات کرتے تو جدائی کے وقت سورہ فاتحہ اور سورہ قریش ضرور تلاوت کرتے قطب صاحب کی عادت شریفہ سے استبراک کرتے ہوئے ، علامہ شعرانی کا کلام یہاں ختم ہوا۔

علامہ شیخ محمد شوبری رحمہ اللہ نے ایک سوال کے جواب میں جو اس بارے میں ان سے کیا گیا تھا فر مایا کہ امام یافعی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ” کفایة المعتقد “ میں بعض عارفین کا کلام نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ غیرت کی وجہ سے قطب کے احوال جو کہ وہی غوث بھی کہلاتا ہے خواص اور عوام سب سے چھپاتے ہیں، البتہ یہ بات ہے کہ وہ عالم کو جاہل معلوم ہوتے ہیں اور بے وقوف کو سمجھدار معلوم ہوتے ہیں ، تارک الدنیا کو آخذ الدنیا معلوم ہوتے ہیں، دور کو نزدیک آسان کو مشکل مطمئن کو ڈر والے نظر آتے ہیں، اور اوتاد کے احوال خواص پر مکشوف ہوتے ہیں اور ابدال کے احوال خواص اور عارفین پر مکشوف ہوتے ہیں اور نجباء اور نقباء کے احوال خواص وعوام سے مستور ہوتے ہیں، البتہ آپس میں ایک دوسرے کے لئے مکشوف ہوتے ہیں۔ اور صالحین کے احوال خواص و عوام سب کو معلوم ہوتے ہیں (لِيَقْضِيَ اللهُ أَمْرًا كَانَ مفعولا ) ( انتہی)

چوتھا باب

( قطب پر نازل ہونے والے احوال )

چوتھا باب قطب پر جس چیز کا نزول ہوتا ہے اس کے بیان میں اور یہ کہ جو چیز اس پر واردہوتی ہے تو اس میں وہ تصرف کس طرح کرتے ہیں؟ علامہ شعرانی رحمہ اللہ نے” جو ہر “اور”  درد “میں فرمایا ہے کہ میں نے اپنے شیخ سے عرض کیا کیا قطب پر وہ بلا نازل ہوتی ہے جو مخلوق پر نازل ہونے والی ہے پھر وہاں سے پھیلتی ہے جیسا کہ نعمتیں اور امداد اس پر نازل ہوتی ہیں یا پھر فیض پہنچانے کا حکم نعمتوں کے ساتھ خاص ہے؟ تو شیخ نے فرمایا کہ ہاں اس پر سب بلائیں بھی نازل ہوتی ہیں جواہل زمین پر نازل ہونے والی ہوں جب کوئی بلیت نازل ہوتی ہے تو قطب انتہائی خوف اور قبول کے ساتھ اس کو لیتا ہے پھر انتظار کرتا ہے کہ اللہ تعالی لوح محفوظ میں جو کچھ محو واثبات میں ہے اس میں سے کیا ظاہر فرماتے ہیں اور کس کو چھوڑتے ہیں اگر محو و تبدیل نظام ہو تو اللہ تعالی کا قضا نافذ ہوتا ہے، اور اہل تسکیک کے واسطہ سے جو کہ وہ ان کے خدام میں سے ہوتے ہیں ان کے اوپر کو گذار کر قطب کی طرف سے اس کو چلتا کر دیتے ہیں ، اور خدام ماتحتین کو پتہ بھی نہیں چلتا، اور اگر اس بلیہ کا اثبات لوح محفوظ سے ظاہر ہوتا ہے اور یہ کہ وہ جو ہونے والی نہیں تو پھر قطب اس کو اپنے سے نسبتہ جو قریب ہیں اور مدد بھی جو قریب ہے اس کے حوالہ کرتا ہے اور وہ دونوں امامین ہیں وہ اس کا تحمل کرتے ہیں پھر اس کو دفع کرتے ہیں چاروں اوتاد کی طرف اور اسی طرح سلسلہ آگے چلتا ہے پھر بھی وہ مصیبت نہیں ٹلتی، تو عامہ مومنین میں سے جو عارفین ہوتے ہیں ان کے افراد پر اس کو متفرق کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالی اس مصیبت کو ان کے تحمل کی وجہ سے دفع فرما دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات بعض آدمی اپنے اندر ایک ضیق اور تنگی محسوس کرتے ہیں اور اس کا سبب معلوم نہیں ہوتا ، اور کبھی ایسی بے چینی ہوتی ہے کہ نیند نہیں آتی اور بعض مرتبہ غفلت ہو جاتی ہے اور بعض مرتبہ ایسی خاموشی طاری ہو جاتی ہے کہ ایک حرف نہیں بولا جاتا یہ سب اس مصیبت کی وجہ سے ہوتی ہے جو ان پر تقسیم کر دی گئی ، اور اگر تقسیم نہ کی جائے تو جن پر وہ بلا نازل ہوتی وہ ایک چشم زدن میں ختم ہو جا ئیں اسی لئے اللہ تعالی نے فرمایا ( وَلَوْلا دفع الله النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ ولكن اللهَ ذُو فَضْلِ عَلَى الْعَالَمِينَ)

خاتمہ

(اولیائے کرام اور ان کی کرامات کا ثبوت )

جب ہم قطب وغوث کے سلسلہ کی گفتگو یہاں تک لے آتے ہیں ( أَعَادَ اللهُ تَعَالیٰ علينا من بركاته ولَمحْنا بلمحة مَنْ لَمُحَاته ) اور ان کے عجیب و غریب حالات کا بیان کر دیا ہے جو کہ خلاف عادت ہے اور عمل خارق ہے جو کہ خاص اسی شخص کے لئے ممکن ہے جس کے اوپر اللہ کا خاص فضل ہو۔

تو اب بیان کی سواری اور انٹیوں کی لگام کچھ کرامتوں اور خوارق عادات امور کی طرف پھیرتے ہیں کہ پہلے ولی کا بیان کرتے ہیں جس کے ہاتھوں کرامات ظاہر ہوتی ہیں۔

تو ہم کہتے ہیں کہ سیدنا الامام ابوالقاسم عبد الکریم ابن ہوازن القشیری نے اپنے رسالہ میں فرمایا ہے کہ اگر پوچھا جائے کہ ولی کے کیا معنی ہیں؟ تو اس سے کہا جائے گا کہ  دوباتوں کا احتمال ہے ایک فعیل کے وزن پر جو فاعل کا مبالغہ ہے علیم اور قدیر کے وزن  پر تو اس صورت میں ولی کے معنی یہ ہونگے ” وہ شخص جس کی اطاعت مسلسل ہو بغیر معصیت کے تخلل کے “

اور یہ بھی ممکن ہے ولی فعیل کے وزن پر ہو جو مفعول کے معنی میں آتا ہے جیسے قتیل  مقتول کے اور جریح مجروح کے معنی میں آتا ہے تو معنی یہ ہونگے  کہ  ولی وہ شخص  ہے کہ حق تعالی اس کی حفاظت اور حراست ایسی دائمی فرماتے ہوں کہ اس کو گناہوں کی رسوائی  لاحق نہ ہو اور اس کو طاعات کی مدام توفیق عطا فرماتے ہوں ، جیسے فرمایا ( وَهُوَ يَتَوَلى الصالحين ) (انتہی )

اس کلام کا نتیجہ یہ ہے کہ ولی کا محفوظ ہونا ضروری ہے جیسے کہ نبی کا معصوم ہونا ضروری  ہے۔اور ولی کے معصوم ہونے کےمعنی  یہ ہیں کہ اگر وہ خطا وزلل میں پڑبھی جائیگا تو توبہ کا  الہام ہوگا اور وہ تائب ہو جائے گا ، جیسا کہ رسالہ میں اس کی تصریح موجود ہے، چنانچہ اسی میں یہ مذکور ہے کہ حضرت جنید رحمہ اللہ سے عرض کیا گیا کہ کیا عارف زنا کر سکتا ہے تو تھوڑی دیر آپ نے سر جھکا یا پھر اپنا سر اٹھایا اور فرمایا ( وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مقدورا ) اسی میں یہ بھی ہے اگر یہ سوال ہو کہ ولی پر اس کے صحو کے اوقات میں کیا چیز  غالب ہوتی ہے تو کہا جائے گا کہ وہ حقوق اللہ کی ادائیگی میں صادق ہوگا ۔ پھر مخلوق پر رفق اور شفقت کرے گا اپنے تمام احوال میں پھر وہ ساری مخلوق ہی پر اپنی رحمت نچھاور کرے گا اور اس کے ساتھ دوام تحمل اس کا شعار ہوتا ہے اور اس کے ساتھ اللہ تعالی سے ان پر احسان کی درخواست کرتا رہتا ہے بغیر مخلوق کی جانب سے مطالبہ کے اور مخلوق کی نجات کے لئے اپنی ہمت صرف کرتا ہوگا مخلوق سے انتقام نہیں لے گا ، ان سے کینہ نہیں رکھے گا ان سے کوئی طمع نہیں وابستہ کرے گا ، ان کے بارے میں اپنی زبان گندی نہیں کرے گا اور ان کی برائیوں میں شرکت سے اپنے کو محفوظ رکھے گا، اور دنیا ہو یا آخرت دونوں میں کسی کو اپناخصیم نہیں بنائے گا۔

جب ولی کی تعریف اور اوصاف سامنے آگئے تو اب ہم عرض کرتے ہیں کہ کرامت اس بات کا نام ہے کہ ایک ایسا آدمی جس کا اعتقاد صحیح ہو اور وہ اعمال صالحہ کا پابند ہو اور کسی (آخری نبی ) نبی کی اتباع کا التزام کرتا ہو اور نبوت کا دعوی نہ کرتا ہو اس کے ہاتھ پر کسی ایسی بات کا ظاہر ہونا جو کہ خلاف عادت ہو کر امت کہلاتی ہے۔

مدعی نبوت نہ ہونے کی قید معجزہ سے الگ کرنے کے لئے ہے اور اعتقاد صحیح اور عمل  صالح کی قید اس لئے لگائی گئی ہے تا کہ استدراج سے الگ ہو جائے جو کہ غیر مومن کے ساتھ ہوتا ہے، اسی طرح بعض مرتبہ کذابین کی تکذیب کے لئے بھی بعض خوارق پیش آجاتے ہیں، ان سے کرامت کی تعریف کو الگ کرنے کے لئے ایمان و عمل صالح کی قید لگائی گئی ہے تکذیب کذابین کی صورت یہ ہوتی ہے جیسے کہ مسیلمہ کذاب کے بارے میں منقول ہے کہ اس نے ایک امور کے لئے دعا کی کہ اس کی آنکھ صحیح ہو جائے تو اس کی دوسری آنکھ بھی جاتی رہی، اس نے ایک مرتبہ ایک کنویں میں اپنا تھوک ڈالا تاکہ اس کی حلاوت میں اضافہ ہو جائے تو پانی انتہائی کڑ وا ہو گیا ، اس نے ایک یتیم کےسر پرہاتھ پھیرا تو وہ یتیم گنجا ہو گیا، اس کا نام ” اهانۃ “ ہوتا ہے، جیسا کہ بعض ولیوں کےذریعہ عام مسلمانوں کے ہاتھ پر کوئی خرق عادت پیش آئے تاکہ مسلمان مصیبت اور مکروہ سے نجات پا جائیں تو اس کا نام ” معو نۃ“ ہوتا ہے ۔

اس تقریر سے معلوم ہوا کہ خوارق چار قسم کے ہوتے ہیں ، معجز ہ، کرامت، اھانۃ، معونۃ بعضوں نے اس پر اکتفاء کیا ہے ( اور ایک قسم تصرف کی ہوتی ہے جو مشق وغیرہ سے حاصل ہوتی ہے جو مسمر ائز سے صادر ہوتی ہے ) اور بعض حضرات نے اس میں ارہاص کا اضافہ کیا ہے، ارہاص کا مطلب ہوتا ہے دعوی نبوت سے پہلے جو خوارق نبی کے ساتھ پیش آتے ہیں جیسے پتھروں کا سلام کرنا، بادلوں کا سایہ فگن ہونا وغیرہ جو  حضور کے ساتھ نبوت کے عطا کئے جانے سے پہلے پیش آئے۔ اور استدراج فاسق کے ہاتھ پر خوارق کا ظہور ہے جو اس کے دعوی کے موافق ہوتا ہے پھر اس کی دو صورتیں ہیں ایک بغیر کسی سبب کے جیسے فرعون کے کہنے پر جادو اور شعبدہ کا ظہور ہونا، اور دوسرے سبب کے ساتھ جیسے سانپوں کا کھا جانا سانپ اس کو ڈستے تھے مگر وہ متاثر نہ ہوتا تھا۔

پھر یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جو خارق عادت بات عارف کے ہاتھ پر ظاہر ہوتی ہے اس کی دو جہتیں ہوتی ہیں ایک جہت سے وہ کرامت ہے دوسری جہت سے وہ معجزہ    ہے، کرامت عارف اور ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہونے کے اعتبار سے ہے اور معجزہ حضورﷺ کی نسبت سے ہے کہ آپ کے امتی ہونے کی وجہ سے یہ کرامت ہے جو نبی کا معجزہ ہے کیونکہ وہ آپ کی تصدیق اور آپ کی اطاعت کی وجہ سے ہیں تو ولی بنا ہے ورنہ وہ ولی نہ ہوتا تو حضو رﷺ کی طرف نسبت کرتے ہوئے معجزہ ہے چاہے وہ خود حضور اکرم ﷺ کے دست مبارک سے ظاہر ہو یا ان کے کسی امتی کے ذریعہ سے ظاہر ہوں اور ولی کی طرف نسبت کرتے ہوئے صرف کرامت ہوگی کیونکہ ولی کی طرف سے نبوت کا دعوی نہیں ہوتا اور نبی کے لئے بھی ضروری ہوتا ہے کہ اس کو نبی ہونے کا علم ہو اور خرق عادت کے اظہار کا اراد ہ بھی ہو اور جس معجزہ کا وہ اختیار کر رہا ہے اس کا حکم قطعی ہوتا ہے اور اس کا ظہور ضروری ہوتا ہے، مگر یہ سب چیزیں ولی کے لئے ضروری  نہیں جیسا کہ محققین نے فرمایا ہے ( اور بعض مرتبہ اولیاء سے بغیر ارادہ اور بغیر علم خوارق صادر ہو جاتے ہیں )

اور اس کی طرف امام قشیری نے اپنے رسالہ میں اشارہ کیا ہے ، پھر فرمایا کہ حضرت یزید بسطامی رحمہ اللہ سے اس مسئلہ میں دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ اس کی مثال یہ ہے

کہ ایک مشکیزہ شہد سے بھرا ہو اور اس میں سے ایک قطرہ شہد ٹپک جائے تو تمام اولیاء کو جو میسر ہوتا ہے وہ ایسا ہے جیسے قطرہ اور مشکیز ہ میں جو کچھ ہے اس کی مثال وہ ہے جو حضور ﷺ کو حاصل ہے (انتہی )

اس بحث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کرامت میں وہ سب ہو سکتا ہے جو نبی سے معجزے کے طور پر ہو سکتا ہے جیسے سمندر کا پھٹنا ، عصا کا اژدھے سے بدل جانا، مردہ کازندہونا وغیر ہ لیکن بعض حضرات نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ پھر اس صورت میں معجز ہ اور کرامت میں امتیاز نہیں رہتا ۔

برہان اللقانی کی ” عمدۃ المرید “ میں ہے کہ شیخ سعد امام نے ان باتوں کی تردید میں فرمایا ہے۔ یہ جو بعضوں نے مخالفت کی وہ صحیح نہیں صحیح یہی ہے کہ تمام خوارق کا ظہور ولی سے ممکن ہے جہاں تک معجزہ اور کرامت میں امتیاز کا تعلق ہے وہ نبوت کا دعویٰ ہے، اگر کوئی ولی نبوت کا دعویٰ کرے گا تو وہ ولی کہاں رہے گا وہ عدو اللہ ہو جائے گا پھر وہ کرامت کا مستحق نہیں رہے گا بلکہ لعنت اور اہانت کا مستحق ہو جائے گا (انتہی )

پھر یہی مضمون امام نووی رحمہ اللہ سے بھی منقول ہے کہ انہوں نے ان بعض لوگوں کی تغلیط کی ہے جو کرامت و معجزہ میں امتیاز کے قائل ہیں اور فرمایا کہ درست بات یہ  ہے کہ ولی سے بھی قلب اعیان و غیر و جیسی چیزیں صادر ہو سکتی ہیں اور امام نسفی رحمہ اللہ نے بھی یہی بات فرمائی ہے چنانچہ شارح وھبانیہ نے اس کو منظوم کیا ہے

واثباتها في كل ما كان خارقا    عن النسفى النجم يروى وينصر

تتمه

( کرامات اولیا ء حق ہیں )

رسالہ میں مذکور ہے کہ ولی کے لئے کرامت کا ٹھہراؤ نہیں ہوتا بلکہ کبھی جب یقین کی قوۃ اور بصیرت کی زیادتی کا کوئی موقعہ ہوتا ہے تو اس وقت اللہ تعالیٰ کی جانب سے اور اللہ ہی کے فعل سے اس کا ظہور ہو جاتا ہے جس سے لوگ اس بزرگ کے عقائد اور اعمال کی صحت پر استدلال کرتے ہیں تو ولی کی کرامتوں کے امکان کو تسلیم کرنا ضروری ہے ( وقوع ہر ایک کے لئے ضروری نہیں ) جمہور اہلِ معرفت یہی رائے رکھتے ہیں ۔ بزرگوں کی کرامات اور خوارق کے اتنے واقعات ہیں اور اس کثرت سے تو اتراًثابت ہیں کہ اس کی وجہ سے یہ علم اتنا قوی ہے کہ اس میں شک کی گنجائش نہیں ہے جو شخص بزرگوں کے درمیان رہتا ہے اور ان صادق القول والحال بزرگوں کے اتنے قصے اولیاء  کی کرامات و خوارق کے سننے میں آتے ہیں کہ کسی قسم کا شبہ باقی نہیں رہتا اور قرآن کریم میں خود کتنے ہی واقعات کا ذکر ہے جیسے ایک جگہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے صاحب کے قصہ میں مذکور ہے ( انا اتیک بهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طرفک ) حالانکہ وہ نبی نہیں تھے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اثر صحیح سند سے ثابت ہے کہ خطبہ کے دوران جمعہ کے دن فرمایا ”  يا سارية الجبل“ اور اسی وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آواز حضرت ساریہ تک پہنچ گئی اور انہوں نے اسی وقت پہاڑ کے دامن میں چھپے دشمن سے اپنا بچاؤ کیا۔ پھر قرآن کریم میں اولیاء کی کرامات کے سلسلہ میں مزید شہادتوں کو بیان کرتے ہوئے فرمایا اللہ تعالی نے حضرت مریم علیہا السلام کے واقعہ میں فرمایا اور یہ سب جانتے ہیں کہ مریم نبی اور رسول نہیں تھیں ، بلکہ ولیہ تھیں ( كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا المحراب، وجد عندها رِزْقًا ) وہ پوچھتے ہیں (انی لک ھذا ) وہ فرماتی مين ( هو من عند الله ( اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام سے فرمایا ( وهزي اليك بجذع النخلة تسقط عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا ) اور یہ رطب کا زمانہ نہیں تھا۔ ایسے ہی اصحاب کہف کا قصہ اور وہ عجائب جوان کے ساتھ پیش آئے وغیرہ۔ اور انہی کرامتوں میں سے ذوالقرنین کا قصہ بھی ہے کہ اللہ تعالی نے ان کو وہ تمکین عطا فرمائی جو دوسروں کو نہیں۔ اور انہیں کرامتوں میں سے حضرت خضر علیہ السلام کے ہاتھ پر دیوار کا درست کرنا بھی ہے ، اور اس کے علاوہ بہت سے عجائب جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مخفی تھے، یہ سارے ہی کام ایسے تھے جو کہ عادت کے خلاف ہیں جو حضرت خضر کے ساتھ مخصوص تھے، دراں حالیکہ حضرت خضر نبی نہیں ہیں بلکہ ولی ( صاحب تکوین ) ہیں۔

پھر آ ثار و اخبار اور حکایات عجیبہ جو صحابہ اور تابعین اور ائمہ معتبرین سے ثابت ہیں ، ان کو شیخ نے بڑی تفصیل سے بیان فرمایا ہے جن کے انکار کرنے کی کوئی طاقت نہیں رکھتا ، اگر ہم ان سب کا ذکر کرنے لگیں تو بات دور نکل جائے گی۔ فسبحان الملك المعبود الذي تفرد في الوجود بافاضة الخير و الجود

جس پر چاہتے ہیں اپنے عطایا کی بارش برساتے ہیں اور اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہتے ہیں خاص فرماتے ہیں،

اللہ تعالی سے ہماری دعا ہے کہ ان اولیاء کی محبت کے ساتھ ہمیں موت دے اور ان کی شراب محبت سے ہمیں بھی سیراب فرمائے اور ان کی برکات ظاہرہ  ہم پر بھی بار بار لوٹائے ، اور ان کی انفاس طاہرہ سے ہم کو نفع پہنچائے ، اور ان کے لباس فاخرہ ہمیں پہنائے ، اور دنیا و آخرت دونوں میں ہمیں ان کی جماعت میں شامل فرمائے ، بے شک آپ اکرم الاکرمین اور ارحم الراحمین ہیں۔

وصلى الله تعالى على سيدنا و سندنا محمد خير المقربين وعلى آله واصحابه واتباعه واحزابه الى يوم الدين.

(1) اللہ بزرگ وبرتر کی بارگاہ میں اقطاب سے توسل اختیار کرو۔ اور عقل پر فتوحات کے دروازے کو کھٹکھٹاتے رہو ۔

(2) اور سادات ابدال نجباء اور سادات او تا دا اور انجاب سے توسل اختیار کرو۔

(3)  ایسے ہی اخیار اور نقبا سے توسل کرو۔ پانی کے قطروں اور ریت کے ذروں ایسے ہی انکے بقدر خیر پاؤ گے۔

(4) یہ حضرات لوگوں کے لئے ہر مصیبت و پریشانی سے بچاؤ کا سامان ہیں ۔ انہی کے ذریعہ مصیبت و نقصان اور بیماری سے بچا جاتا ہے۔

(5) یہ دو لوگ ہیں جو بلند مقامات پر فائز ہوئے ۔ اور ایسے مرتبے حاصل کئے جن وہ کو پیمائش سے نہیں ناپا جا سکتا ۔

(6) جو حالت ان کے لئے تجویز ہوئی اس کے لئے انہوں نے اپنے نفوس کو راضی کر لیا۔ بغیر کسی ذلت اور انکسار اور مشقت کے۔

(7) تو پھر انہیں ایسی عزت نصیب ہوئی جو کسی اور کو نصیب نہ ہوئی ۔ اور یہ دولت انہیں اپنے مولی کے حضور اور اطاعت سے حاصل ہوئی۔

(8) تم بھی ان کی محبت میں پورے شعور کے ساتھ آگے بڑھتے رہو ۔ اور ان کی سیرت اختیار کرنے میں خوب کوشش کرو۔

(9) ہمیشہ ان کا دامن تھامے رہو۔ اور جھوٹوں اور بہتان طرازوں اور شکیوں کی  باتوں پر دھیان نہ دو۔

(10) اور اس طرح دعا کرو کہ اے وہ ذات جس کے قبضہ میں سب کچھ ہے۔ اور  جس سے بغیر مانگے خیر کی بارش ہوتی ہے۔

(11) میں آپ سے اس انتخاب کی ہوئی ذات کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں ۔ جو سب  عا بدون ، نا سکوں کی سردار ہے۔

(12) جن کا اسم گرامی محمد ہے جو سب سے بہتر عنصر ہیں۔ تمام اشرف آباء اور اطہر اصلاب کے

(13) اور ان معزز آل کے واسطے سے مانگتا ہوں ۔ جو تمام نقائص سے پاک اور آپ کے اشرف اصحاب میں سے ہیں۔ (14) اللہ میں سب سے بڑے صدیق کے واسطہ سے۔ ایسے ہی الفاروق عمر بن الخطاب کے واسطے سے۔

(15) عثمان ذوالنورین او اور حیدر کرار اسد اللہ الغالب کے واسطے سے۔

(16) اویس قرنی کے واسطے سے جو اپنے زمانہ میں چھپے رہے۔ جو بغیر کسی حجاب کے امام  الفضل ہوئے۔

(17) اس طرح مجتہدین اور ان کے شاگردہ اور کے اتباع اہل علم اور طلبہ علم کے واسطہ سے

(18) پھر اس زمانہ کا جو قطب مدار ہے اور ۔ اس کی جماعت کے واسطے سے جو اس  کا ئنات نعمت کدہ کے امام ہیں۔

(19) میرے رب مدد فرمائیے میری مددفرمائیے ۔ اور مجھے ہر رنج اور غم اور تعب سے نجات مرحمت فرمائیے۔

(20) میرے ضعف پر رحم فرمائیے۔ میری ذلت دور کیجئے میرے گناہ معاف فرمائے جنہوں نے مجھے تباہ کر دیا ہے۔

(21) اور ان کی شفاعت میرے حق میں قبول فرمائیے ۔ جس دن سوائے آپ کے عفو کے نہ مال کام آئے گا نہ دوست و احباب۔

(22) ہمیشہ مجھے تقویٰ کے راستے پر چلا ئے ۔ مہربانی فرما کر اور اسباب آساں فرما کر۔

(23) جو میری آپ سے امید ہے اس کو پورا فرمائیے ۔ اور فضل فرما کر میرےگناہوں کو معاف بھی کیجئے اور ستاری فرمائیے۔

(24)  اسی طرح میرے شیوخ اور ساتھی اور والدین ۔ اور میرے انصار واعوان سب کے حق میں یہ دعا قبول فرمائیے ۔

وصل وسلم يا الهى مباركا         على المصطفى خير الورى مراحقاب

و آل و اصحاب و حزب به اقتدو ا فهم خير اصحاب و آل و احزاب

علامہ شامی رحمہ اللہ کے رسالے کا ترجمہ مکمل ہوا ۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف مذکور کو جزائے خیر عطا فرمائیں اور ہماری اس ادنی کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائیں ،اور سب مسلمانوں کے لئے اس کو دنیاو آخرت کی صلاح وفلاح کا ذریعہ بنائیں ۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں