کتاب “التشوف الی حقائق التصوف” کی تیسری فصل کا عنوان “تصوف کی فرضیت” (الفصل الثالث فی فرضیۃ التصوف) ہے، جس میں شیخ القرآن والتفسیر استاذ العلماء پیر طریقت رہبر شریعت حضرت علامہ مولانا محمد حمید جان سیفی نے لفظ “قلب کے معنی اور اس کےمتعلق تحقیق کو تفصیلاً بیان کیا ہے
المقصد الثانی: اتحاد الخيار من الطوائف على حياة اللطائف
(دوسرا مقصد: لطائف کی زندگی پر مختلف گروہوں کے بہترین لوگوں کا اتفاق)
حمد و صلوٰۃ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس کے لطف سے اعمال درست ہوتے ہیں اور اس کے کرم سے وجود پاتے ہیں۔ اس کی مشیت کے مطابق امیدیں بر آتی ہیں اور اس کے ارادے سے احوال تبدیل ہوتے ہیں۔ وہی دائمی بقا والا ہے جس کے لیے نہ زوال ہے اور نہ ہی وہ کسی چیز میں حلول کرتا ہے۔ وہ غیب و شہادت کا جاننے والا، بلند و برتر، عرش اور معارج والا ہے۔ ہم اس کی حمد کرتے ہیں اس کی بے شمار نعمتوں، فضیلتوں اور احسانات پر۔ اور ہم درود و سلام بھیجتے ہیں اس کے رسول، نبی، برگزیدہ، خلیل، ولی اور محبوب سیدنا ابوالقاسم محمد بن عبداللہ (ﷺ) پر، جو بلند شرف، راسخ علم، بلند مرتبہ اور کمال والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کے مقرب فرشتوں، انبیاء، مرسلین اور ان کی پاکیزہ عترت پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔ حمد و صلوٰۃ کے بعد، بندہ فقیر محمد حمید جان حنفی سیفی عرض کرتا ہے کہ اللہ کی توفیق سے میں نے ارادہ کیا کہ ایک ایسی کتاب جمع کروں جس میں قلب، روح، سر، خفی اور اخفیٰ کی زندگی کا اثبات ہو تاکہ مریدین کو نفع پہنچے۔ میں اللہ تعالیٰ سے اس کی تکمیل کی توفیق مانگتا ہوں اور اس کتاب کا نام “اتحاد الخيار من الطوائف علی حیاۃ اللطائف” رکھا ہے۔
قلب کے متعلق تحقیق لفظِ قلب دو معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے:
ایک تو صنوبر کی شکل کا گوشت کا لوتھڑا جو انسانی سینہ میں بائیں طرف ہے۔ یہ لوتھڑا اندر سے خالی ہوتا ہے اور اس میں سیاہی مائل خون ہوتا ہے اور یہیں سے روحِ طبعی پیدا ہوتی ہے۔ گوشت کا یہ ٹکڑا بالکل اسی شکل میں جانوروں کے سینے میں بھی ہوتا ہے اور مرنے کے بعد بھی موجود رہتا ہے۔
دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ روحانی اور ربانی لطیفہ ہے جسے اس گوشت کے لوتھڑے سے خاص تعلق ہوتا ہے۔ یہ لطیفہ ربانی حق تعالیٰ کی جانب سے مرکزِ علم ہوتا ہے، اس کے ذریعے ایسی چیزوں کا ادراک ہوتا ہے جن کا ادراک خیال و وہم کے ذریعے نہیں ہو سکتا۔ حقیقتِ انسان یہی لطیفہ ربانی ہے اور اسی کو مخاطب کیا جاتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: “اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰی لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ” (بے شک اس میں عبرت ہے اس کے لیے جس کے پاس دل ہو) (سورہ ق: 37)۔ اس آیت میں اگر قلب سے مراد گوشت کا لوتھڑا لیا جائے تو بات درست نہیں بنتی کیونکہ یہ ٹکڑا تو جانوروں اور (مردہ) انسانوں میں بھی موجود ہوتا ہے، تو معلوم ہوا کہ اس سے مراد لطیفہ ربانی ہے۔ اس لطیفہ کا اس صنوبر نما گوشت کے ٹکڑے سے بہت ہی باریک اور نازک تعلق ہے جسے بیان نہیں کیا جا سکتا بلکہ مشاہدہ اور محسوس کیا جا سکتا ہے۔ لطیفہ ربانی ایک بادشاہ ہے جس کا گھر اور مسکن یہی گوشت کا لوتھڑا ہے۔ قلب کے لشکر: قلب کے اختیار میں دو قسم کے لشکر ہیں: ایک وہ جن کو ہم دیکھ سکتے ہیں جیسے ہاتھ، پاؤں، آنکھ وغیرہ۔
اور دوسرے قسم کے لشکر وہ ہیں جنہیں بصیرت سے دیکھا جا سکتا ہے جیسے ارادہ اور وہ صفات جن کا تذکرہ احادیث میں آیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: جب قلب درست ہو جاتا ہے تو سارا بدن درست ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: “كَلَّا بَلْ ۜ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ” (ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے)۔ یہ قلبِ انسانی کی کیفیت کا ذکر ہے۔ دل ایک آئینے کی طرح صاف ہوتا ہے لیکن جب اس پر زنگ لگ جائے اور یہ حد سے بڑھ جائے تو اس پر کوئی عکس دکھائی نہیں دیتا، اس کیفیت کو ‘طبع’ (مہر لگنا) کہتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: دلوں کو اسی طرح زنگ لگتا ہے جس طرح لوہے کو لگتا ہے۔ لوگوں نے اسے دور کرنے کا طریقہ دریافت کیا۔
تو آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا: ذکرِ موت (موت کو یاد کرنا)، تلاوتِ قرآن اور اللہ کا ذکر کرنا۔ انہی صفات کی بنا پر قلب کی کچھ اقسام بنتی ہیں:
قلب اجرد: یہ مومن کا قلب ہے، اس میں ایک چراغ ہوتا ہے جس سے قلب روشن ہوتا ہے۔
قلب اسود: یہ سرنگوں (الٹا) دل ہے، یہ کافر کا قلب ہے۔
قلب اغلف: یہ غلاف میں لپٹا ہوا دل ہے، یہ منافق کا قلب ہے۔
قلب مصفح: اس قلب میں ایمان بھی ہوتا ہے اور نفاق بھی۔ ایمان کی مثال شاداب پودے کی طرح ہے۔
جسے صاف پانی اپنی طرف کھینچتا ہے اور نفاق کی مثال ناسور کی ہے جو خون اور ریم جمع کرتا ہے۔ ان دونوں مادوں میں سے جو غالب آ جائے، اسی کا حکم لگایا جاتا ہے۔ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: “اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۤئِفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا هُمْ مُّبْصِرُوْنَ” (بے شک وہ لوگ جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، جب شیطان ان پر حملہ کرتا ہے تو وہ اللہ کو یاد کرتے ہیں اور فوراً انہیں بصیرت حاصل ہو جاتی ہے) (سورہ اعراف: 201)۔ احادیث میں وارد ہے کہ قلب کو بینائی حاصل ہو جاتی ہے اور اس کی صفائی ذکر سے ہوتی ہے۔ تقویٰ ذکر کا دروازہ ہے اور ذکر کشف کا دروازہ ہے، اور کشف بہت بڑی سعادت اور کامیابی ہے۔







