التشوف الی حقائق التصوف

التشوف الی حقائق التصوف امراض القلوب

کتاب “التشوف الی حقائق التصوف” کی تیسری فصل کا عنوان “تصوف کی فرضیت” (الفصل الثالث فی فرضیۃ التصوف) ہے، جس میں شیخ القرآن والتفسیر استاذ العلماء پیر طریقت رہبر شریعت حضرت علامہ مولانا محمد حمید جان سیفی نے امراض القلوب کو تفصیلاً بیان کیا ہے

امراض القلوب (قلوب کے امراض) قلب کی مثال ایک آئینہ کی ہے اور علومِ حقائق کی مثال ان اشکال کی طرح ہے جو آئینے میں نظر آتے ہیں۔ آئینے میں شکل

کا آنا تیسری بات ہے۔ اس سلسلے میں وضاحت طلب بات یہ ہے کہ اشکال اگر موجود ہوں تو یہ اشکال آئینہ میں کیوں نہیں آتے؟ تو جان لو کہ اشکال کے آئینہ میں نہ آنے کی پانچ وجوہات ہیں:

آئینہ میں خود کوئی عیب ہے یعنی ٹیڑھا ہے اور گولا بنا ہوا ہے۔

آئینہ اپنی جگہ درست ہے مگر اس پر زنگ لگا ہوا ہے۔

آئینہ اپنی جگہ دھرا ہوا ہے اور اشکال اس کے پشت کی جانب واقع ہیں۔

شکل اور آئینہ کے درمیان کوئی حجاب حائل ہے۔

آئینہ ایسی سمت میں ہے کہ شکل کا رخ اس طرف نہیں ہے یا اشکال ایسی سمت میں ہیں کہ آئینہ کا رخ اس طرف نہیں ہے۔

بالکل قلب کے اندر اسی طرح استعداد موجود ہے کہ اس میں تمام امور کے متعلق حق جلوہ گر ہو، اگر ایسا نہیں ہوتا تو ان پانچ اسباب میں سے کوئی نہ کوئی سبب ضرور موجود ہے: یا تو قلب میں کوئی خرابی ہے جیسے بچوں اور مجنون کا قلب، یا اس پر گناہ اور معاصی کا زنگ چڑھا ہوا ہے جو کثرتِ شہوات کی وجہ سے چڑھتا رہتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ‘طبع’ یا ‘ران’ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اس کی عقل جاتی رہتی ہے، اس لیے کہ عقل کا کام ہے قلب کو جلا دینا اور روشن کر دینا، اگر وہ گناہ سے متحرر رہتا تو قلب کی روشنی اور چمک بڑھتی رہتی۔ یا اس کی توجہ صحیح نہیں ہے، وہ ترتیبِ طاعت میں لگا ہوا ہے حالانکہ اسے خلیل اللہ (حضرت ابراہیم علیہ السلام) کی طرح تمام تر توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف کر دینی چاہیے یا پھر قلب اور حق کے مابین کوئی حجاب ہے مثلاً شہوت کا کوئی حصہ باقی رہ گیا ہے۔

یا عقیدہ کا کوئی فساد باقی تھا جو بچپن میں تھا اور اس کا اثر بعد میں رہ گیا ہو۔ پھر پانچواں سبب یہ ہو سکتا ہے کہ اس کو وہ طریقہ ہی نہیں معلوم جس سے حق کی صورت قلب کے آئینہ میں دکھائی دے۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ اسے جو کچھ حاصل نہیں اس پر ایمانِ کلی حاصل ہو مثلاً ایمان بالغیب کلی طور پر موجود ہو جب تک اس طرح کا ایمان نہ ہوگا وہ ایک ایسی چیز کو کیسے حاصل کرے گا جس کے وجود کی اس کو خبر نہیں ہے۔ ایسی حالت میں غفلت مانع ہوتی ہے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر بنی آدم کے قلوب میں شیطان چکر نہ لگاتے تو یہ لوگ آسمانوں کے عالمِ ملکوت کو دیکھتے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کہاں ہے، آسمانوں میں یا زمین میں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایمان دار بندوں کے قلوب میں۔

ایک اور حدیث میں حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے لئے زمینوں اور آسمانوں میں وسعت نہیں ہے البتہ میرے مومن بندوں کے قلوب میں میرے لئے وسعت ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میرے قلب نے میرے پروردگار کو دیکھ لیا کیونکہ انہوں نے اپنے قلب کا تزکیہ کر لیا تھا۔ قرآن مجید میں ارشاد پاک ہے: “قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰہَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰہَا” (سورہ الشمس: 9-10) یعنی وہ کامیاب ہوا جس نے اسے صاف رکھا اور ناکام رہا جس نے اسے آلودہ کر دیا۔ قلبِ انسانی علوم کا اکتساب کرتا ہے اس میں ایک درجہ علماء کا ہے وہ مقدمات کی ترتیب سے نتائج کو پہنچتے ہیں اور دلائل سے مدلول کو حاصل کرتے ہیں۔ دوسرا مرتبہ علوم کا ہے یہ طریقہ کشف ہے اس کے لئے ارادہ الہی ضروری ہے جیسا کہ انبیاء علیہم السلام کے لئے ہوتا ہے۔

جیسے قرآن مجید میں ارشاد پاک ہے: “وَكَذٰلِكَ نُرِیْ اِبْرٰہِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ” (سورہ الانعام: 75) یعنی اسی طرح ہم دکھاتے ہیں ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمینوں کے ملکوتی احوال۔ ہمارے رسول اکرم ﷺ نے دعا کی کہ: “اے پروردگار مجھے تمام چیزیں جیسی وہ فی الحقیقت ہیں دکھا دے”۔ اس دعا کے بعد بغیر کسی دلیل و برہان اور مقدمہِ منطقیہ کے حضور ﷺ پر حقائقِ اشیاء منکشف ہونے لگیں، تو معلوم ہوا کہ حصولِ علم بطریقِ دلیل و برہان ہو اور ترتیبِ مقدمات سے حاصل کیا جائے تو یہ طریقہ علماء کا ہے اور اگر ان کے بغیر ہو تو یہ طریقہ صوفیاء کا ہے، اس میں حصولِ علم بذریعہ کشف ہوتا ہے۔ اس کے دو طریقے ہیں: ایک طریقہ الہام ہے یعنی ایک بات دل میں ڈال دی گئی جیسی حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ روح القدس نے یہ بات میرے دل میں پھونک دی ہے کہ۔۔۔

جس سے چاہو محبت کرو تم کو بہرحال اسے چھوڑنا پڑے گا اور جیسے چاہو عمل کرو اس کا ویسا ہی بدلہ مل کر رہے گا، جیسے چاہو زندگی گزارو مگر تم بہرحال مرو گے۔ ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ حقیقتِ اشیاء کا انکشاف ہو جائے اور وہ فرشتہ بھی دکھائی دے جو اس پر متعین ہوتا ہے اور اسی طرح قلب علم کا استفادہ کرے۔ تمہیں معلوم ہے کہ قلب ایک صیقل شدہ آئینہ ہے اور یہ بھی جانتے ہو کہ سارے حقائقِ اشیاء لوحِ محفوظ میں ہیں، تو جب حجاب درمیان سے اٹھ جاتا ہے اور آئینہ قلب لوحِ محفوظ کے سامنے آجاتا ہے اس وقت حقائق قلب پر منکشف ہو جاتے ہیں۔ کبھی یہ حجاب عالمِ خواب میں اٹھ جاتا ہے اور کبھی حالتِ بیداری میں؛ یہی احوال صوفیاء کے ہوتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بغیر کسی سبب اور وجہ کے لطفِ خداوندی کا جھونکا اس حجاب کو ہٹا دیتا ہے اور بندہ کے قلب پر غیب کے عجائب و غرائب کا کچھ حصہ منکشف ہو جاتا ہے۔

نیز علماء نے لکھا ہے کہ موت سے یہ حجاب بالکل اٹھ جاتا ہے جیسے حضور ﷺ کا فرمان ہے: “اَلنَّاسُ نِيَامٌ اِذَا مَاتُوْا اِنْتَبَہُوْا” (لوگ سو رہے ہیں جب مریں گے تو جاگ اٹھیں گے)۔ صوفیاء کا تزکیہ قلب بھی موت کے قریب قریب ہے، وہ علوم کا درس نہیں دیتے بلکہ قلب کی صفائی کرتے ہیں تا کہ بندے کی ساری توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہو جائے، اس کے بعد معاملہ اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں کہ ان کے قلب پر کیا انوار و معارف کا انکشاف ہوتا ہے اسے خدا ہی جانتا ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام اور صوفیاء کرام نے نہ تو درس لیا اور نہ کسی مدرسہ میں تعلیم حاصل کی، ان کا حال تو یہ ہے کہ انہیں غیبی خزانہ مل گیا اور انہوں نے جھولیاں بھر لیں۔ (شفاء القلوب ص 290)۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں