التشوف الی حقائق التصوف

التشوف الی حقائق التصوف قلب کے احوال

کتاب “التشوف الی حقائق التصوف” کے المقصد الثانی میں قلب کے احوال پر دلائل پر ایک عنوان قائم کیا ہے، جس میں شیخ القرآن والتفسیر استاذ العلماء پیر طریقت رہبر شریعت حضرت علامہ مولانا محمد حمید جان سیفی نے قلب کے احوال پر دلائل کو تفصیلاً بیان کیا ہے

قلب کے احوال پر دلائل

الدلیل الاول (پہلی دلیل)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَ لَمَّا یَدۡخُلِ الۡاِیۡمَانُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ

“دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، آپ کہہ دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یہ کہو کہ ہم اسلام لائے اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا” (الحجرات: 14)۔

ابو الفداء ابن کثیر کے مطابق اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے دلوں میں ابھی ایمان کی حقیقت اور اس کی حلاوت راسخ نہیں ہوئی تھی۔

ابن کثیر ج 7 ص 372۔

الدلیل الثانی (دوسری دلیل)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ

“تاکہ وہ اسے ڈرائے جو زندہ ہے اور کافروں پر (عذاب کی) بات ثابت ہو جائے” (یس: 70)۔

ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہاں “زندہ” سے مراد وہ شخص ہے جس کا دل زندہ ہو اور وہ بصیرت و نور رکھتا ہو۔

ابن کثیر ج 6 ص 592۔

الدلیل الثالث (تیسری دلیل)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ

“تاکہ وہ اسے ڈرائے جو زندہ ہے اور کافروں پر (عذاب کی) بات ثابت ہو جائے” (یس: 70)۔

امام طبریؒ اسی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ “زندہ” وہ ہے جو اللہ کے احکام اور کلام کو سمجھنے والا ہو اور عقل و فہم رکھتا ہو۔

تفسیر الطبری ج 9 ص 281۔

الدلیل الرابع (چوتھی دلیل)

ارشادِ ربانی ہے: “

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ (طہ: 25)۔

(موسیٰ علیہ السلام نے) عرض کی: اے میرے رب! میرا سینہ میرے لیے کھول دے”

امام فخر الدین رازی فرماتے ہیں کہ مومن کا دل کرامات کا مرکز ہے، اس کی زندگی ایمان سے ہے اور موت کفر سے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا “کیا وہ جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی” (الانعام: 122)، یہاں زندگی سے مراد ایمان کے ذریعے دل کا زندہ ہونا ہے۔

تفسیرالکبیر ج 22 ص 38۔

الدلیل الخامس (پانچویں دلیل)

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰى وَ لٰـكِنْ لِّیَطْمَىٕنَّ قَلْبِیْؕ

“اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کی: اے میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے… (اللہ نے فرمایا کیا تجھے یقین نہیں؟) عرض کی: کیوں نہیں، لیکن تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے” (البقرة: 260)۔

علامہ رازی کے مطابق ابراہیم علیہ السلام نے دل کی اس زندگی اور اطمینان کا سوال کیا جو غفلت کے پردے ہٹنے سے حاصل ہوتی ہے، کیونکہ ذکرِ الٰہی سے دل زندہ اور غفلت سے مردہ ہو جاتا ہے۔

تفسیرالکبیر ج 7 ص 35۔

الدلیل السادس (چھٹی دلیل)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُۚ-وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًاوَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ

وہ جسے چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے اور جسے حکمت مل گئی اسے بہت بڑی خیر مل گئی” (البقرة: 269)۔

علامہ سیوطیؒ نے حضرت ابو امامہؓ سے روایت نقل کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ علماء کی مجلس میں بیٹھا کرو اور حکماء کا کلام سنو، کیونکہ اللہ تعالیٰ مردہ دل کو حکمت کے نور سے ویسے ہی زندگی بخشتا ہے جیسے بارش سے زمین کو۔

الدر المنثور ج 2 ص 7۔

الدلیل السابع (ساتویں دلیل)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ

“بے شک اس میں اس کے لیے نصیحت ہے جس کے پاس (زندہ) دل ہو یا وہ کان لگائے اور متوجہ ہو” (ق: 37)۔

علامہ بغویؒ کے مطابق یہاں دل سے مراد وہ قلب ہے جو حاضر ہو اور حقائق کو قبول کرنے کے لیے بیدار ہو، نہ کہ غافل۔

معالم التنزیل ج 7 ص 364۔

الدلیل الثامن (آٹھویں دلیل)

ارشادِ الٰہی ہے:

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِۚ

اور کافروں کو جہاں پاؤ مارو اور انہیں نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا اور فتنہ قتل سے بھی زیادہ سخت ہے” (البقرة: 191)۔

امام قشیریؒ فرماتے ہیں کہ یہاں فتنہ سے مراد وہ حجابات اور آزمائشیں ہیں جو دل پر پڑتے ہیں۔ دل کی روحانی زندگی کا فوت ہونا جسمانی موت سے کہیں زیادہ سخت ہے، کیونکہ دل کی بقا صرف اللہ کی پہچان سے ہے۔

القشیری ج 1 ص 182۔

الدلیل التاسع (نویں دلیل)

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْۚ-ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ

“تم اللہ کا انکار کیسے کرتے ہو حالانکہ تم مردہ تھے تو اس نے تمہیں زندگی بخشی…” (البقرة: 28)۔

تفسیر مظہری میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی فرماتے ہیں کہ انسانی وجود دس لطائف کا مجموعہ ہے، جن میں سے پانچ (قلب، روح، سر، خفی، اخفیٰ) عالمِ امر سے ہیں۔ صوفیاء ان لطائف کی بیداری کے ذریعے باطنی حیات حاصل کرتے ہیں۔

المظہری ج 1 ص 43۔

الدلیل العاشر (دسویں دلیل)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ٘-وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠

بے شک جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے برابر ہے کہ آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے… (البقرة: 6-7)۔

امام ابن عجیبہؒ فرماتے ہیں کہ جو لوگ باطنی تربیت اور ربوبیت کے مشاہدے کا انکار کرتے ہیں، ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے اور وہ حقائق کے مشاہدے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس عارفین کے دلوں کی آنکھیں روشن ہوتی ہیں اور وہ ان روحانی جہانوں کا مشاہدہ کرتے ہیں جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔

البحر المديد ج 1 ص 46۔

الدلیل الحادی عشر (گیارہویں دلیل)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾ (البقرہ: 30)۔

“اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں ایک نائب بنانے والا ہوں، تو انہوں نے کہا: کیا تو اس میں اسے (نائب) بنائے گا جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا، حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں؟ اللہ نے فرمایا: میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے”۔

امام ابن عجیبہؒ فرماتے ہیں کہ اس انسان میں جو روح موجود ہے، وہ اس ‘روحِ اعظم’ کا ایک حصہ ہے جو اجسام میں حقائقِ الٰہیہ کے ظہور کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اسے اپنا نائب بنائے تاکہ وہ کائنات میں تدبیر و تصرف کرے، جبکہ ملائکہ نے اپنی بشری حالت کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

البحر المديد ج 1 ص 62-63۔

الدلیل الثانی عشر (بارہویں دلیل)

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ﴾ (البقرہ: 34)۔

“اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے ہو گیا”۔ امام ابن عجیبہؒ کے مطابق جب انسانی روح کی صفائی مکمل ہو جاتی ہے، تو کائنات کی ہر چیز اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہو جاتی ہے اور وہ اللہ کی دی ہوئی بصیرت سے کائنات کا مشاہدہ کرتا ہے۔ ابلیس کا انکار دراصل تکبر کی وجہ سے مشاہدہِ ربوبیت سے محرومی کی علامت ہے۔

البحر المديد ج 1 ص 63۔

الدلیل الثالث عشر (تیرہویں دلیل)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ (البقرہ: 35)۔

“اور ہم نے فرمایا: اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور اس میں سے جہاں سے چاہو جی بھر کر کھاؤ، اور اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم حد سے بڑھنے والوں میں سے ہو جاؤ گے”۔

تفسیر میں بیان کیا گیا ہے کہ جب روح کی تہذیب مکمل ہوتی ہے تو اسے ‘جنتِ معارف’ (معرفت کی جنت) میں داخلہ نصیب ہوتا ہے۔ وہاں وہ اسرارِ الٰہی کے پھلوں سے لطف اندوز ہوتی ہے۔ ممنوعہ درخت کے قریب نہ جانے سے مراد غیر اللہ کی طرف توجہ اور غفلت سے بچنا ہے، جو روحانی زندگی کے لیے زہرِ قاتل ہے۔

البحر المديد ج 1 ص 66-67۔

الدلیل الرابع عشر (چودہویں دلیل)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۚ﴾ (الانعام: 122)۔

“کیا وہ جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے (ایمان کے ذریعے) زندگی بخشی اور اس کے لیے ایک نور بنا دیا جس کی روشنی میں وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے، اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں گھرا ہوا ہو؟”۔ امام ابو العباسؒ فرماتے ہیں کہ روح ابتدا میں علمِ الٰہی کی فطرت پر ہوتی ہے، پھر مادی کثافتوں میں آکر اس پر غفلت کی موت طاری ہو جاتی ہے۔ صوفیاء اس مردہ روح کو ذکر، توبہ، زہد اور ریاضت کے ذریعے حیاتِ نو بخشتے ہیں، یہاں تک کہ اسے مشاہدہِ الٰہی کی ابدی زندگی حاصل ہو جاتی ہے۔

البحر المديد ج 2 ص 313۔

الدلیل الخامس عشر (پندرہویں دلیل)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلَا آبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِن شَيْءٍ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ حَتَّىٰ ذَاقُوا بَأْسَنَا ۗ قُلْ هَلْ عِندَكُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنَا إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إِلَّا تَخْرُصُونَ﴾ (الانعام: 148)۔

“مشرک لوگ کہیں گے: اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا… آپ کہیے: کیا تمہارے پاس کوئی (قطعی) علم ہے جسے تم ہمارے سامنے لا سکو؟”۔

امام ابن عجیبہؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو دو چیزوں کا مکلف بنایا ہے: شریعت اور حقیقت۔ شریعت کا تعلق ظاہری بندگی سے ہے اور حقیقت کا تعلق باطنی مشاہدے (نورِ بصیرت) سے ہے۔ انسانی دل میں دو آنکھیں ہیں؛ ایک حکمت (شریعت) دیکھتی ہے اور دوسری قدرت (حقیقت) کا مشاہدہ کرتی ہے۔ جو

صرف ایک کو لیتا ہے وہ گمراہ ہے اور کامل وہ ہے جو دونوں کو جمع کرے۔

البحر المديد ج 2 ص 333۔

الدلیل السادس عشر (سولہویں دلیل)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَقَدْ جَاءَكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يَصْدِفُونَ﴾ (الانعام: 157)۔

“بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل، ہدایت اور رحمت آ چکی ہے۔ سو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑ لے؟ ہم عنقریب ان لوگوں کو جو ہماری آیات سے منہ موڑتے ہیں، ان کے منہ موڑنے کے سبب برا عذاب دیں گے”۔

ترجمہ و تشریح: علامہ ابن عجیبہؒ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد قرآنِ عظیم کے ساتھ وابستگی اور اس کے معانی میں تدبر کے ذریعے دلوں کی زندگی اور روحوں کی بیداری ہے۔ جو شخص قرآن کے ظاہری احکام پر عمل کرتا ہے وہ ہدایت پر ہے اور جو اس کے باطنی اسرار (حقیقت) کا مشاہدہ کرتا ہے وہ رحمتِ الٰہی کا خاص مستحق ہے۔

البحر المديد ج 2 ص 338۔

الدلیل السابع عشر (سترہویں دلیل)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ﴾ (الاعراف: 54)۔

“بے شک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا”۔

ترجمہ و تشریح: امام ابو العباسؒ کے مطابق ان چھ دنوں سے مراد اللہ کی چھ صفات (علم، قدرت، ارادہ، سمع، بصر، کلام) کا ظہور ہے۔ جب یہ انوار ظاہر ہوتے ہیں تو انسانی وجود ایک بے روح جسم کی طرح ہوتا ہے یہاں تک کہ ساتویں صفت یعنی “حیات” کا ظہور ہو۔ صوفیاء کے نزدیک قلب کی اصل زندگی اللہ کے انوارِ صفات کے مشاہدے سے وابستہ ہے۔

البحر المديد ج 2 ص 372۔

الدلیل الثامن عشر (اٹھارہویں دلیل)

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ حَتَّىٰ إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَأَنزَلْنَا بِهِ الْمَاءَ فَأَخْرَجْنَا بِهِ مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ ۚكَذَٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتَىٰ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴾ (الاعراف: 57)۔

“اور وہی ہے جو اپنی رحمت (بارش) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں تو ہم انہیں کسی مردہ شہر کی طرف ہانک دیتے ہیں، پھر ہم اس سے پانی برساتے ہیں اور اس کے ذریعے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو نکالیں گے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو”۔

ترجمہ و تشریح: یہاں “ہواؤں” سے مراد الٰہی الہامات اور “بادلوں” سے مراد وہ علوم ہیں جو لدنی (باطنی) طور پر نازل ہوتے ہیں۔ جیسے بارش مردہ زمین کو زندگی بخشتی ہے، ویسے ہی معرفت کا یہ پانی مردہ دلوں کو حیاتِ نو عطا کرتا ہے جس سے اخلاقِ حسنہ کے پھل پیدا ہوتے ہیں۔

البحر المديد ج 2 ص 375۔

الدلیل التاسع عشر (انیسویں دلیل)

ارشادِ ربانی ہے:

﴿أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰ ۚ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ﴾ (الرعد: 19)۔

“کیا وہ شخص جو یہ جانتا ہے کہ جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا وہ حق ہے، اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھا ہے؟ نصیحت تو صرف عقل والے ہی قبول کرتے ہیں”۔

ترجمہ و تشریح: جس شخص کے دل کا آئینہ کدورتوں اور غفلتوں سے پاک ہو جاتا ہے، اس پر اللہ کی پہچان کے اسرار کھل جاتے ہیں۔ وہ بصیرت کی آنکھ سے حقائق کا مشاہدہ کرتا ہے، جبکہ غافل شخص حق کے انوار کو دیکھنے سے اندھا رہتا ہے۔

البحر المديد ج 3 ص 366۔

الدلیل العشرون (بیسویں دلیل)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ﴾ (الحج: 46)۔

“کیا انہوں نے زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی کہ ان کے دل ایسے ہوتے جن سے وہ سمجھ سکتے یا کان ایسے ہوتے جن سے وہ سن سکتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں”۔

ترجمہ و تشریح: امام ابو العباسؒ فرماتے ہیں کہ انسانی عقل میں کوئی نقص نہیں ہوتا بلکہ خواہشات کی پیروی اور غفلت دل کو اندھا کر دیتی ہے۔ انسان کی چار آنکھیں ہیں: دو سر میں (ظاہری) اور دو دل میں (باطنی)۔ اگر دل کی آنکھیں کھل جائیں تو وہ روحانی مشاہدات کرتی ہیں، ورنہ انسان چوپایوں کی طرح صرف مادی دنیا تک محدود رہتا ہے۔ اس مقام پر منصور حلاج کے یہ اشعار بھی نقل کیے گئے ہیں: “عارفین کے دلوں کی آنکھیں ہوتی ہیں جو وہ دیکھتی ہیں جو عام دیکھنے والے نہیں دیکھ پاتے”۔

البحر المديد ج 5 ص 231۔

الدلیل الحادی وعشرون (اکیسویں دلیل)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ﴾ (الملک: 2)۔

“(وہی اللہ ہے) جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے عمل کے لحاظ سے کون زیادہ اچھا ہے، اور وہ غالب (اور) بخشنے والا ہے”۔

ترجمہ و تشریح: امام ابو العباس احمد بن محمدؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بعض دلوں اور روحوں میں (جہالت کی) موت پیدا کی تو وہ مردہ، جاہل اور ذلیل ہو گئیں، اور بعض میں (معرفت کی) زندگی پیدا کی تو وہ زندہ، عارف اور معزز ہو گئیں، تاکہ اللہ تعالیٰ یہ آزمائے کہ کون اس کی طرف پوری توجہ کے ساتھ مائل ہوتا ہے اور کون اس سے اعراض کرتا ہے۔

البحر المديد ج 8 ص 101۔

الدلیل الثانی وعشرون (بائیسویں دلیل)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ﴾ (الحج: 46)۔

“کیا انہوں نے زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی کہ ان کے دل (ایسے) ہوتے جن سے وہ سمجھ سکتے یا کان (ایسے) ہوتے جن سے وہ سن سکتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں”۔

ترجمہ و تشریح: ابو المظفر منصور بن محمدؒ فرماتے ہیں کہ ظاہری آنکھیں صرف مادی اشیاء کو دیکھتی ہیں، جبکہ اصل بصارت دل کی ہے جس سے حقائق اور عبرتوں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ جو شخص دین کے معاملے میں بصیرت نہیں رکھتا، وہی اصل میں اندھا ہے۔ ح

تفسير السمعانی ج 3 ص 225۔

الدلیل الثالث وعشرون (تیسویں دلیل)

ارشادِ ربانی ہے:

أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا…﴾ (الحج: 46)۔

۔ ترجمہ و تشریح: شمس الدین محمد بن احمد خطیب شربینیؒ فرماتے ہیں کہ دلوں کا اندھا ہونا درحقیقت بصارت کے اصلی مقام سے محرومی ہے۔ اگر دل کا نور ختم ہو جائے تو انسان حقیقت کو نہیں دیکھ سکتا، اگرچہ اس کی ظاہری آنکھیں سلامت ہوں۔

السراج المنير ج 2 ص 557۔

الدلیل الرابع وعشرون (چوبیسویں دلیل)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً…﴾ (البقرة: 30)۔

“اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں ایک نائب (خلیفہ) بنانے والا ہوں”۔

ترجمہ و تشریح: قاضی ثناء اللہ پانی پتی مظہریؒ فرماتے ہیں کہ انسان دس لطائف (لطائفِ عشرہ) کا مجموعہ ہے جن میں سے پانچ عالمِ خلق سے اور پانچ عالمِ امر سے ہیں۔ انسان کو اس خلافت اور امانت کا حامل بنایا گیا جس سے آسمان و زمین نے اپنی کثافت کی وجہ سے انکار کر دیا تھا۔ انسان کی اصل زندگی ان لطائف کی بیداری میں ہے۔

المظہری ج 1 ص 50۔

الدلیل الخامس وعشرون (پچیسویں دلیل)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ…﴾ (البقرة: 102)۔

“اور وہ چیز جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اتاری گئی، اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو صرف ایک آزمائش ہیں، سو تو کفر نہ کر۔ پس لوگ ان دونوں سے وہ چیز سیکھتے تھے جس سے مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیں”۔

ترجمہ و تشریح: علامہ آلوسیؒ کے مطابق یہاں ‘ملکین’ سے مراد دل اور روح بھی ہو سکتے ہیں۔ جب نفسِ امارہ ان کے درمیان کدورت پیدا کرتا ہے تو روحانی نظام بگڑ جاتا ہے۔ کامل انسان وہ ہے جس کے دل اور روح میں اللہ کی محبت کی وجہ سے کامل ہم آہنگی ہو اور وہ مشاہدہِ حق کے لائق بن جائے۔

المظہری ج 1 ص 110۔

الدلیل السادس وعشرون (چھبیسویں دلیل)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا﴾ (النساء: 31)۔

“اگر تم ان بڑے گناہوں (کبیرہ) سے بچتے رہو جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہاری (چھوٹی) برائیاں تم سے دور کر دیں گے اور تمہیں عزت والی جگہ میں داخل کریں گے”۔

ترجمہ و تشریح: قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ فرماتے ہیں کہ تمام معاصی کی بنیاد دل کی قساوت (سختی) ہے جو غفلتِ الٰہی سے پیدا ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ” (خبردار! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ سنور جائے تو پورا جسم سنور جاتا ہے اور جب وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے، سن لو وہ دل ہے)۔ دل کی صفائی صرف اللہ کے ذکر اور خواہشاتِ نفسانی سے بچنے سے ممکن ہے۔

المظہری ج 2 ص 92۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں