باسٹھویں مجلس

محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب ”الفتح الربانی والفیض الرحمانی‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے باسٹھویں مجلس کا خطبہ جس کا عنوان المجلس الثانی والستون فی التوحید ‘‘ ہے۔

منعقده٫/30جب 546ھ بروز جمعہ بوقت صبح  بمقام مدرسہ معمورہ

توحید میں استقامت اور زہد کا کٹھن سفر

اللہ کی توحید کواتناراسخ کر کہ تیرے دل میں مخلوق کا ایک ذرہ بھی باقی نہ ر ہے، نہ ایک گھر دکھائی دے نہ کثیر گھر – توحید سب کو قتل اور ملیامیٹ کر دیتی ہے مکمل دوا اللہ کی توحید میں ہے اور دنیا کے سانپ سے بھاگ اور اس سے منہ پھیر لے ۔ تاوقتیکہ کوئی سپیرا آ جائے اور دانت اکھاڑ کر اس کا زہر نکال دے ، اور تجھے اس کے قریب کر کے اس کا ہنر بھی سکھا دے اور پھر تیرے سپرد کر دے، تجھے اس میں کچھ اذیت باقی نہ رہے گی ، تو اسے الٹ پلٹ کرے گا اور اسے تیرے ڈسنے پر قدرت نہ  رہے گی۔

جب تو اللہ کو محبوب بنا لے گا اور وہ تجھے محبوب بنا لے گا، تو دنیا اور خواہشات ، اور لذات اور نفس اور حرص اور شریروں کی  شرارت سے تیری کفایت کرے گا، چنانچہ دنیا سے اپنا نصیب بغیر کسی ضرر اور بغیر کدورت کے حاصل کرتا رہے گا ، اے بغیر گواہ کے مدعی! باوجود شرک کے توحید کا دعوی کب تک کرے گا ، کیا تجھ میں اتنی ہمت ہے کہ تو میرے ساتھ رات کو نکلے اور خوف ناک جگہوں کی طرف چلے، میں بغیر ہتھیار کے ہوں اور تو پوری طرح مسلح ہو، پھر دیکھ کہ میں گھبراتا ہوں یا کہ تو گھبراتا ہے ۔ اور دوسرے کے کپڑوں میں تو چھپتا ہے یا کہ میں ، – تیری پرورش نفاق میں ہوئی ہے جبکہ میں ایمان میں پلا ہوں

تم دنیا کے پیچھے ہواور دنیا اللہ والوں کے پیچھے

اے لوگو! تم دنیا کے پیچھے دوڑ رہے ہوتا کہ تمہیں کچھ دے دے، اور دنیا اللہ والوں کے پیچھے دوڑتی ہے تا کہ وہ انہیں کچھ دے، ان کے سامنے سر جھکائے کھڑی رہتی ہے، تو اپنے نفس کو توحید کی تلوار سے مار ڈال اور اسے توفیق کا خود پہنا دے۔ اس کے لئے مجاہدے کا نیزہ ، تقوے کی ڈھال اور یقین کی تلوار پکڑے، کبھی نیزہ مار کبھی تلوار چلا متواتر اسی طرح کرتا رہ تا کہ نفس تیرے سامنے زیر ہو جائے اور تو اس پر سوار ہو کر لگام تھام لے، اور اس پر خشکی وتری کا سفر کرے ۔ اس وقت جولوگ اپنے نفسوں کے خلاصی نہیں پاسکے، اللہ تعالی ان میں تیرے ساتھ فخر کرے ۔ کے گا۔

جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اور اس پر غلبہ پالیا نفس اس کی سواری بن جاتا ہے اور اس کے بوجھ اٹھاتا ہے اور اس کے حکم کی مخالفت نہیں کرتا ، تیرے لئے بھلائی نہیں جب تک  تواپنے نفس کو پہچان لے  اورا سے لذت سے روکے اور اس کا   ضروری حق ادا کرے ۔ اب نفس قلب کی طرف اطمینان کرے گا ، اور قلب باطن کی طرف اور باطن حق تعالی کی طرف۔ اپنے نفس سے مجاہدے کا عصا نہ اٹھاؤ، اس کی مصیبتوں سے فریب نہ کھاؤ ۔ اس کے سونے سے دھو کے میں نہ آ ؤ – درندوں کی دکھاوے کی نیند سے فریب میں نہ آ ؤ، وہ تم پریہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ سورہا ہے، جبکہ اصل میں تم پر حملے کرنے کی تاک میں ہوتا ہے، یہ نفس بھلائی میں موافقت اور اطمینان اور انکسار اور تواضع کا اظہار کرتا ہے جبکہ در پردہ اس کے خلاف منصوبے باندھتا ہے، اس کے بعد اس سے جو کچھ رونما ہونے والا ہے، اس سے بچتا رہ۔ اولیاء اللہ یوں تو مخلوق سے منہ موڑے رکھتے ہیں، لیکن وہ مخلوق کی طرف نظر کرنے اور ان کے پاس بیٹھنے کی تکلیف اٹھاتے ہیں تا کہ انہیں امر و نہی کرتے رہیں ،  اولیاء اللہ کی مثال مخلوق کے ساتھ ان لوگوں کی طرح ہے کہ جنہوں نے ارادہ کیا کہ دریا عبور کر کے بادشاہ کے ہاں جائیں ، ان میں سے جو راہ جانتے تھے وہ عبور کر گتے ۔ بادشاہ کے پاس پہنچے اور اس سے ملاقات کی ۔ بادشاہ نے دیکھارہ جانے والے لوگ مجبور اور لاچار ہیں ، اور قریب ہے کہ ڈوب جائیں ۔ جس راہ سے پہلے لوگ آئے تھے، وہ جانے والے نہیں جانتے ، چنانچہ بادشاہ نے پہنچ جانے والوں کوحکم دیا کہ ان کی طرف لوٹ جائیں، اور جس راہ میں سے وہ آۓ ہیں، وہی راہ انہیں بھی بتائیں ، بادشاہ کے حکم پر وہ لوٹ آۓ ، اور شاہراہ پر آ کر ان بھولے ہوؤں کو آواز دی: یہ راہ ہے!‘‘ اور انکی رہنمائی کرنے لگے، یہاں تک کہ بھولے بھٹکے لوگ جب قریب آ گئے تو ان کے ہاتھ پکڑ لئے ، اس مثال کی اصل یہ ارشاد باری ہے: وَقَالَ الَّذِي آمَنَ يَاقَوْمِ اتَّبِعُونِ أَهْدِكُمْ سَبِيلَ ‌الرَّشَادِ ایمان والے نے کہا: اے قوم والو! میری اتباع کرو، میں تمہیں ہدایت کا راستہ بتاؤں گا ۔“ تم میں سے جو عقل والا ہے، وہ دنیا اور اولاد اور اہل اور مال اور کھانے پینے پہنے اور سواریوں اور بیویوں پر اترانا نہیں کیونکہ یہ سب حرص ہے – ایمان والے کی خوشی اس کی ایمانی قوت اور یقینی قوت میں ، اور اس کے دل کا قرب الہی کے دروازے پر واصل ہونے میں ہے  جان لو کہ عارف باللہ اور اللہ کی خوشنودی کے لئے عمل کرنے والے ہی دنیا وآخرت کے بادشاہ ہیں ۔

مخلوق کے ساتھ شرک کرنے والا کیسے فلاح پاسکتا ہے:

اے بیٹا! تیرا دل اور باطن کب صاف ہوں گے حالانکہ تو مخلوق کے ساتھ مشرک ہے، اور کیسے نجات پاۓ گا، ہر رات میں جس کی طرف تو جا تا ہے اس سے مدد مانگتا ہے اور اس سے شکایت کر کے بھیک مانگتا ہے ۔ تیرادل کیسے صاف ہوگا جبکہ اس میں توحید کا ایک بھی ذرہ نہیں ، توحید نور ہے اور مخلوق کے ساتھ شرک اندھیرا ہے، جبکہ تیرا دل تقوی سے خالی ہے ، اس میں تقوے کا ایک بھی ذرہ نہیں ، تیری نجات کیسے ہوگی ،  تو مخلوق کے ساتھ رہ کر خالق سے حجاب میں ہے،  بچوں میں الجھ کر سبب پیدا کرنے والے سے حجاب میں ہے مخلوق پر توکل اور بھروسہ کر کے حجاب میں ہے، خالی دعوے سے کیا حاصل ! – معرفت الہی صرف دو صورتوں سے پائی جاسکتی ہے: –

 اول مجاہدہ، ریاضت اورمشقتیں اور مصیبتیں برداشت کرنے سے یہ بات صالحین میں غالب اور مشہور ہے ،

 دوسری صورت ،عطاءالہی! – بغیر مشقت برداشت کئے ،یہ طریق بہت نادر ہے ۔

عطا ءالہی مخلوق میں سے خاص لوگوں کے لئے ہے، کہ اللہ جسے اپنی معرفت و محبت عطا فرما دے، اس کے اہل وعیال اور معاش سے الگ کر دے ۔ اس میں اپنی قدرت ظاہر کرے، اور لٹیروں میں سے اٹھا کر عبادت گاہ میں بٹھاد ے مخلوق کو اس کے دل سے نکال دے، اس کی طرف اپنے قرب کا دروازہ کھول دے اور اسے بکواس خانے سے علیحدہ کر دے ، یہاں تک کہ اس کے لئے تھوڑی چیز کفایت کرے، اسےفہم و دانش اور غلبہ و عزت عطا کرے جو کچھ دیکھے اور سنے ، اس سے نصیحت کرے سب کام اللہ کی قربت کے لئے کرے، ہدایت اور عنایت اور کفایت کا حکم کرے کہ وہ اس سے جدا نہ ہوں، اس کا حال ایسا ہو جائے جیسا کہ اللہ تعالی نے حضرت یوسف علیہ السلام کے حق میں ارشادفرمایا: كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ ۔ایسا ہی ہے تا کہ برائی اور بے حیائی کو اس کے نزدیک نہ آنے دیں، کیونکہ وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے ہے ۔“ اس سے برائی اور بے حیائی کو دور کرتا ہے اور توفیق اس کی خدمت کرتی ہے،  اللہ سے محبت رکھنے والا اور اسے پہچاننے والا مخلوق کو ہرانداز سے نصیحت کرتا ہے، کبھی اس طرح سے کہ وہ سمجھ لیتے ہیں ، اور کبھی اسطرح سے کہ وہ سمجھ نہیں  پاتے۔

ضعف ایمان کے وقت خاص اپنے نفس کی حفاظت کر :

 اے بیٹا! ضعف ایمان کے وقت خاص اپنے نفس کی حفاظت کر ، ایسے میں تجھ پر اپنے اہل اور ہمسائے اور ہمسائی اور تیرے شہر اور تیرے ملک کی اصلاح کا کوئی حق نہیں، جب ایمان مضبوط ہو جاۓ تو اپنے اور اہل و اولاد کی طرف توجہ کر، پھر مخلوق کی طرف دھیان دے ، تقوی کی زرہ پہن لے، اپنے قلب کے سر پر ایمان کا خودر کھے، تیرے ہاتھ میں توحید کی تلوار اور ترکش میں قبولیت دعا کے تیر ہوں ، اورتو فیق کے تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو، تلوار چلا اور نیزہ مارنا سیکھ لے، پھر اللہ کے دشمنوں پر حملہ کر ، اب ہر چھ طرف سے اللہ کی مدد اور نصرت آئے گی ، اور مخلوق کو شیطان کے ہاتھوں سے نکال کر دربار الہی کے دروازے کی طرف لاۓ گا، اسے جنت والوں کے عمل کا حکم دے گا اور دوزخ والوں کے عملوں سے بچاۓ گا، حالانکہ تو نے جنت دوزخ کو پہچان لیا ہے اور دونوں کے عملوں کو جان لیا ہے، جو اس مقام پر پہنچ جاتا ہے اس کے دل کی آنکھ سے پردے ہٹا دیئے جاتے ہیں ، یہ ان چھ طرفوں میں سے وہ جدھر بھی نظر کرتا ہے، اس کی نظر اس کے پار نکل جاتی ہے ، اور کوئی چیز اس سے پردے میں نہیں رہتی ، اپنے دل کے سر کو اٹھاتا ہے، عرش و آسمان کو دیکھ لیتا ہے، اور جب گردن کو جھکاتا ہے تو زمین کے طبقے اور جنوں کے ٹھکانے دیکھ لیتا ہے ۔ اس کا سبب اللہ کی معرفت اور ایمان ، اور علم وحکمت ہوں – جب تو اس مقام پر پہنچے تو مخلوق کو آستانہ الہی کے دروازے کی طرف بلا۔ اس حال سے پہلےتجھ سے کچھ بھی نہ بن پڑے گا ، اگر مخلوق کو دعوت دے اور خود اللہ کے دروازے پر نہ ہوتو تیری دعوت کا وبال تجھی پر ہوگا، اگرحرکت کرے گا تو گر جاۓ گا ابلندی چاہے گا تو پست ہوگا ،تجھے نیک بندوں کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ، تو فقط زبان دراز ہے ۔

 دل کے بغیر خالی زبان ہے، باطن کے بغیر ظاہر ہے، خلوت کے بغیر جلوت ہے۔ قوت کے بغیر بہادر ہے، تیری تلوار لکڑی کی اور تیر گندھک کا ہے،تو شجاعت کے بغیر بہادر بن بیٹھا ہے، ایک معمولی تیر تجھے ہلاک کردے گا، ایک ننھا سا مچھر تیرے لئے قیامت برپا کر دے گا۔ اللهـم قـوادياننا وإيماننا وأبداننا بقربك ، واتـنـا في الدنيا حسنة وفي الاخرة حسنة وقنا عذاب النّار۔ الہی! ہمارے دین اور ایمان اور بدنوں کو اپنے قرب سے قوی کرے اور ہمیں دنیا میں بھلائی عطافرما۔ اور ہمیں آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچاۓ رکھ ‘‘ وصلى الله تعالى على خير خلقه محمد واله واصحبه أجمعين برحمتك يا أرحم الراحمين امین

فیوض یزدانی ترجمہ الفتح الربانی،صفحہ 489،مدینہ پبلشنگ کمپنی ایم اے جناح روڈ کراچی

الفتح الربانی والفیض الرحمانی صفحہ 245 دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں