صوفیاء کا سماع کیا ہے؟

محض گا ناسننایا اشعارسننا یا کمالات موسیقی سے حظ نفس حاصل کرنا صوفیائے کرام کی اصطلاح میں سماع سے تعبیر نہیں کیا جاتا کہ ان حضرات کے نزدیک مجلس سماع اس کو کہتے جبکہ اہل صفا حظوظ نفسانی سے مجرد(خالی) اور عادات شہوانی سے بے تعلق ہو کر صدق و صفا کے ساتھ طلب الہی کے ذوق و شوق میں اکٹھے ہوں اور پابندی شرائط ضروریہ و آداب مناسبہ کے ساتھ اصحا ب حال ومواجید کا توحید و عشق میں ڈوبا ہواکلام موزوں حسن صوت اورلحن دلکش میں سنیں اور از اول تا آخر حضور قلب سے حق تعالی کے ساتھ قیام کرنے کی نیت سے نہ کہ کسی اور غرض سے اجتماع رکھیں جو سماع ان لوازمات سے  پاک نہیں  وہ صوفیاءکے نزدیک سماع نہیں۔اجتماعات رسمی اور نمائشی کو تصوف حقیقی کی دنیا میں کوئی دخل نہیں۔

اکابر صوفیاء نےشرائط سماع کے لئے تین چیزوں کی صحت کی سب سے زیادہ ضرورت بتائی ہے ، ان ہی کی صحت پر سماع صوفیہ کے جواز و مفید و موثر ہونے کا مدار ہے

(1)زمان

(2)مکان

(3)اخوان

زمان سماع سننے کے لئے ایسا وقت تجویز کرنا چاہیے جبکہ دلوں میں یکسوٹی ہو جمعیت خاطر ہو شوق سماع بھڑ کا ہوا ہو حق تعالی کے ساتھ خلوت میں بیٹھنے کے لئے طبعیت آما دہ ہو ۔ اور کوئی امراس سے مانع نہ ہو یا کسی سے کوئی وعدہ ایفا کرنے کا وقت نہ ہو یا کسی اور ایسے کام کا وقت نہ ہو جس سے جمعیت خاطر کے پراگتہ ہونے کا اندیشہ ہو ۔

مکان جگہ سماع کے لئے ایسی منتخب کی جائے جہاں یکسوٹی پیدا کرنے والے اور یکسوٹی میں ترقی دینے والے سامان مہیا ہوں۔ وہ جگہ شارع عام نہ ہو ۔ بازار نہ ہو میلوں ، تماشوں سیرگاہوں ،تفریج گاہوں کے میدان نہ ہوں کوئی ایسی جگہ نہ ہو جہاں دوسروں کے لئے تکلیف دہ ثابت ہو، ایسا مقام نہ ہو جہاں اہل سماع شرائط ضروری کی پابندی نہ کر سکیں یا صحبت ناجنس سے اپنے کو محفوظ رکھنا ان کے اختیار سے باہر ہو خانقاہ یا مکان اس قسم کی عبادت کے لئے مختص ہو ۔

اخوان ہم نشیں ایسے ہوں جو ہم مذاق ہوں ہم مشرب ہوں ۔ ہم رنگ ہوں سماع کے اہل ہوں غلیہ نفسانی سے آزاد ہوں ، بندہ حرص و ہوا نہ ہوں سماع کے منکر نہ ہوں۔ اعتراض وعیب جوئی کی غرض سے محفل میں نہ آئے ہوں۔ اہل دنیا نہ ہوں ریا کار نہ ہوں مغرور و متکبرنہ ہوں ، وجاہت ذاتی اور اعزاز خاندان کے تحفظ کا سودا اپنے دماغ میں لے کر وہاں نہ آئے ہوں کھیل تماشہ کے طور پر شریک محفل نہ ہوئے ہوں۔ حظ نفس کے لئے راگ سننے کی نیت سے نہ آئے ہوں بلکہ سماع کو عبادت سمجھ کر متوجہہ الی اللہ ہونے کی نیت سے باوضو محفل میں حاضر ہوتے ہوں اور آخر تک باوضو رہیں ۔ ادب سے بیٹھیں ۔

خواجہ فخر الدین خلیفہ حضرت نظام الدین اولیاء اپنی کتاب اصول السماع میں لکھتے ہیں

خلاصہ یہ کہ سماع از روئے لغت و اصطلاح غنا کا غیر ہے، کیونکہ غناان اشعار کے سننے سے عبارت ہے جوغوانی عورتوں کی یاد میں ہوں اور غوانی وہ بد کارعورتیں ہیں جو بہ سبب حسن و جمال بے پردہ ہوں۔ پس غنا کے حرام ہونے سے سماع حرام نہ ہو گا اس لیے کہ وہ امور قبیحہ غنا کے معنی میں ہی ہیں اوراگرکسی عبارت میں بجاۓ سماع کے غنایا بالعکس واقع ہو وہاں قرینہ کے لحاظ سے معنی لئے جائیں گے جیسے اگر کوئی شخص قسم کھائے کہ گوشت نہیں کھاؤں گا پر مچھلی کا گوشت کھائے تو وہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک حانث ( قسم توڑنے والا ) نہ ہوگا۔ پس سماع مطلق ہے اورغنا مقید ہے اور مطلق مقید کے حکم سے خارج ہوتا ہے ۔

علامہ شامی فتاوی شامی میں لکھتے ہیں

اگر سماع قرآن مجید اوروعظ کے سماع کی صورت میں ہو تو جائز ہے او را گرغتاء کا سماع ہے تو اس پر علماء کرام کااجماع حرام ہے اور صوفیہ کرام میں سے جس نے مباح قرار دیا تو وہ یقینا لہو سے خالی ہونے اور تقوی وطہارت سے مزین ہونے کے ساتھ مشروط ہے اور اس کی طرف ان کی محتاجی ایسی ہے، جیسے دواء کی طرف مریض کی محتاجی ہوتی ہے ۔

نیز سماع کی چھ شرائط ہیں ۔

(1) محفل سماع میں کوئی امرد(نوعمر حسین)لڑ کا نہ ہو۔ (2) محفل سماع میں لوگ ہم جنس اور ہم ذہن ہوں ۔ (3) قول ( کرنے والے ) کی نیت میں اخلاص ہو کمائی اور کھانا مقصد نہ ہو ۔ (4) سامعین کھانے کے لیے اکٹھے نہ ہوئے ہوں ۔ ( 5 ) وجد اور مغلوب ہو کر ہی کھڑے ہوں ۔ (6) صادقین کے علاوہ کوئی اور اپنے وجد کو ظاہر نہ کرے۔

نتیجتا یہ کہ ہمارے زمانے میں سماع کے اندر رخصت نہیں کیونکہ اپنے زمانے میں حضرت جنید بغدادی نے توبہ کر لی تھی

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 349))


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں