اللہ کی محبت بہت بڑی نعمت

حضرت شیخ المشائخ، قطب ربانی، غوث صمدانی ، محبوب سبحانی، سیدنا عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ وارضاہ نے تصوف و طریقت پر مشتمل کتاب” آداب السلوک والتواصل الی منازل الملوک“ میں فرمایا :

اے خالی ہاتھ دنیاوابنائے دنیاکاٹھکرایا ہوا بے نام و نشان بھوکا پیاسا انسان اے وہ کہ جس کے جسم پر کپڑے ہیں اور نہ سر چھپانے کے لیے چھت میسر ہے۔ تشنہ جگر، ہر دروازے سے دھتکارا ہوا۔ حسرت و یاس کا مارا، شکستہ دل یہ نہ کہنا کہ مجھے اللہ نے محتاج بنا دیا۔ دنیا کی نعمتوں کی بساط کومجھ سے لپیٹ دیا۔ مجھے لوگوں کی ٹھوکروں میں بٹھایا مجھے بکھیر دیا اور میری پراگندگی کو جمع نہیں کیا۔مجھے دنیاا تنی بھی نہیں دی کہ کفایت کرے۔ مخلوق میں اور دوستوں میں میرے ذکر کو بلندنہیں کیا۔ دوسروں پر اپنی رحمتوں کی بارش کی۔ وہ صبح و شام ان سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ انہیں مجھ پر اور میرےاہل دیار پر فضیلت دی۔ حالانکہ ہم دونوں مسلم ، دونوں مومن ہیں۔ دونوں ایک ہی باپ آدم اور حواء کی اولاد ہیں۔ آپ علیہ السلام جو خیر الانام تھے ہم دونوں کی رگوں میں اسی ایک باپ کا خون دوڑ رہا ہے۔ 

ہاں ہاں!یہ سب حقیقت ہے۔ توتہی دست و فقیر ہے اور دوسرا مالدار اور ہم جنسوں میں عزت دار ہے۔ یہ سب اس لیے ہے کہ تیری سرشت میں حریت ہے۔ اور اللہ تعالی کی رحمت کی بارش رضا، یقین، موافقت اور علم کی صورت میں موسلادهار تجھ پر برس رہی ہے۔ ایمان و توحید کے انوار تجھ پر برس رہے ہیں۔ تیرے ایمان کا درخت، تیرے دل کی زمین میں اس کی پیو ستگی اور اس کا بیچ  ثابت و قائم ہیں۔ ایمان کا یہ درخت شاداب بھی ہے اورپھلدار بھی اس کا سایہ راحت بخش اور شاخیں بلند ہیں۔ اور ایمان کا یہ درخت روزبروزبڑھ رہا ہے اور نشوونماپار ہا ہے۔ اسے نہ کھاد کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی دوسرے کوڑے اور گوبر کی۔ اس کی نموان چیزوں سے نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالی نے تجھے دنیا میں محروم رکھا۔ لیکن داربقا کی نعمتیں عطا کر دیں۔  نہ صرف عطا کیں بلکہ تجھے ان کا مالک بنا دیا۔ اور تجھے وہ کچھ دیا کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا خیال تک گزرا۔ 

رب قدوس کا ارشاد ہے۔ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

پس نہیں جانتا کوئی شخص جونعمتیں چھپا کر رکھی گئی ہیں ان کے لیے جن سے آنکھیں ٹھنڈی ہونگی۔ یہ صلہ ہے ان اعمال حسنہ   کاجووہ کیا کرتے تھے“ 

لیکن دنیامیں انہوں نے جو نیک اعمال کیے۔ احکام بجالائے، ترک مناہی پر صبر کیا، قضاء وقدر کے سامنے سر جھکایا اور تمام امور میں (فعل خداوندی کی) موافقت کی۔ انہیں ان کا پورا پور اجر ملے گا۔ 

لیکن وہ جسے دنیا کی یہ فانی نعمتیں دی گئیں۔ وہ ان سے لطف اندوز ہو ان کامالک بنارہا اور اللہ تعالی نے اسے خوب نواز تودہ صرف اس لیے کہ اس کے ایمان کا عمل یعنی دل کی زمین شوروالی اور پتھر یلی ہے۔ اس میں نہ تو پانی ٹھہر سکتا ہے اور نہ درخت آگ سکتے ہیں۔ نہ اس میں کھیتی باڑی ممکن ہے اور نہ میوں کے حصول کی کوئی امید۔ اسی لیے اس زمین پر کوڑا کرکٹ ڈال دیا جو نباتات واشجار کی نشوونما کے کام آتا ہے۔ اور کوڑا کرکٹ دنیا اور اس کا ایندھن ہے۔ اس کوڑے کرکٹ اور کھاد کو اس شوریدہ اورپتھریلی زمین میں ڈالنے کا مقصد یہ ہے کہ ایمان کا درخت اگر اگے تو وہ زمین کے ناکارہ ہونے کی وجہ سے مر جھانہ جائے۔ اگر اس زمین میں گندگی نہ ڈالی جائے تو نباتات اور درخت خشک اور پھل ختم ہو جائیں۔ اور پورا علاقہ بیابان بن جائے۔ حالانکہ اللہ تعالی چاہتا ہے کہ یہ علاقہ بھی آبادر ہے۔ 

مالدار کے ایمان کا درخت مضبوط نہیں ہوتا۔ اس کی جڑ کو اس شوریده زمین میں پیوستگی حاصل نہیں ہوتی۔ اور اے فقیر جو چیز تیرے شجر ایمان میں ہے وہ اس سے خالی ہے۔ اس کے ایمان کی خوراک اور بقاء صرف دنیا کی دولت اور نعمتوں سے ممکن ہے۔ اگر یہ دولت دنیا اس کمزور درخت کو میسر نہ ہو تو وہ بالکل خشک ہو جائے اور وہ کفر و الحاد کی روش اختیار کرے اور منافقین، مرتدین اور کافروں کے ساتھ مل جائے۔ ہاں اگر اللہ تعالی اپنے اس غنی بندے کی صبر، رضا، یقین کے لشکر سے مدد کرے اور اسے علم و معرفت کی توفیق دے تو اس کا ایمان مضبوط ہو جائے گا اور پھر اسے دنیا کے مال و دولت کے انقطاع و محرومی سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔

آداب السلوک شیخ عبد القادر الجیلانی صفحہ 95 ،مکتبہ دارالسنابل دمشق شام


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں