اپنے پیر کی طرف راجع کرنے کا بیان مکتوب نمبر 20 دفتر سوم

 ہمت کی بلندی اور تمام نعمتوں کے حصول کو اپنے پیر کی طرف راجع کرنے کے بیان میں مولانا امان اللہ کی طرف صادر فرمایا ہے: ۔ 

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفٰى سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو۔

) برادرم شیخ امان الله کا مکتوب پہنچا۔ آپ نے اپنے احوال ومواجید کی نسبت جو کچھ لکھا تھا سب واضح ہوا۔ آپ سے ان امور کی زیادہ امید ہے جو کچھ عطا فرمائیں۔ منت و ادب سے قبول کرنا چاہئے اور تضرع و زاری و التجا و انکسار سےھل من مزید (کیا کچھ اور بھی ہے)کہتے ہوئے زیادتی اور مقام فوق کا سوال کرنا چاہئے اور احکام شرعیہ کے بجالانے میں بڑی رعایت و کوشش کرنی چاہئے۔ کیونکہ احوال کے صادق ہونے کی علامت شریعت کی استقامت ہے۔

 اس واقعہ کی تعبیر جو آپ نے عالم مثال سے لکھا تھا معاملہ کے نزدیک ہے۔ والأمر إلى الله سبحانہ (حقیقت حال اللہ تعالی ہی جانتا ہے چونکہ آپ صحبت میں بہت رہے ہیں اس لیے اللہ تعالی کا شکر ہے کہ آپ کی نظر بلند ہے۔ بچوں کی طرح جوز و مویز(اخروٹ و منقی)  پرفریفتہ نہیں ہوتے۔ ان الله سبحانه يجب معالي الهمم (اللہ تعالی بلند ہمتوں کو دوست رکھتا ہے) برادر حافظ مہدی علی کی نسبت حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلوة والسلام کی تربیت کا واقعہ جو آپ نے لکھا تھا۔ ہاں حافظ ہمارے طریق کے ساتھ بہت مناسبت رکھتا ہے لیکن اس قدر جاننا ضروری ہے کہ دولت اگر چہ بظاہر کسی جگہ سے پہنچے۔ درحقیقت اس کو اپنے شیخ کی طرف منسوب کرنا چاہنے تا کہ توجہ کا قبلہ پراگندہ نہ ہو اور کارخانہ میں خلل نہ پڑے اور جس جگہ سے کوئی فیض پہنچے۔ اس کو اپنے پیر ہی سے جاننا چاہئے کیونکہ وہ ہر صورت میں جامع ہے اور جو تربیت ظاہر ہوتی ہے درحقیقت اسی کی طرف سے ہے۔ اس مقام پر اکثر طالبوں  کے قدم پھسل جاتے ہیں اس مقام سے بخوبی واقف ہونا چاہئے تا کہ دشمن لعین موقع پا کر پراگندہ نہ کرے۔ آپ نے سنا ہی ہوگا

 ہر کہ یک جاست ہمہ جاست و ہر کہ ہمہ جاست ہیچ جا نیست.

 یعنی جو ایک جگہ ہے وہ سب جگہ ہے اور جو سب جگہ ہے وہ کسی جگہ بھی نہیں۔ حافظ کود عا پہنچائیں۔ والسلام 

مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفترسوم صفحہ71 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں