توبہ وانابت وورع و تقوی کے بیان میں مکتوب نمبر66دفتر دوم

توبہ وانابت وورع و تقوی کے بیان میں خانخانان کی طرف صادر فرمایا ہے:۔ 

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ . اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی الله تعالیٰ  کے لیے حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو۔ 

چونکہ تمام عمر معصیت اور لغزش اور تقصیر اور بیہودہ کارروائیوں میں گزر گئی ہے اس لیے مناسب ہے کہ تو بہ وانابت کی نسبت کلام کی جائے اورورع وتقوی کا بیان کیا جائے۔ 

اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے ‌وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اے مومنوسب کے سب اللہ کی طرف توبہ کرو۔ تا کہ تم نجات پا جاؤ۔ 

اور فرماتا ہے۔ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ‌تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ اے ایمان والو۔ اللہ تعالیٰ  کی طرف خالص توبہ کرو۔ امید ہے کہ الله تعالیٰ  تمہاری برائیوں کو دور کر کے تمہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہتی ہیں۔ 

اور فرماتا ہے۔ وَذَرُوا ظَاهِرَ ‌الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُظاہری اور باطنی گناہوں کو چھوڑ دو۔ 

گناہوں سے توبہ کرنا ہرشخص کے لیے واجب اور فرض عین ہے۔ کوئی بشر اس سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔ جب انبیا علیہم الصلوة والسلام توبہ سے مستغنی نہیں ہیں تو پھر اوروں کا کیا ذکرہے۔ حضرت سید المرسلین خاتم الرسل علیہ الصلوة والسلام فرماتے ہیں ۔ إِنَّهُ ‌لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي حَتَّى أَسْتَغْفِرَ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ ‌سَبْعِينَ مَرَّةً میرے دل پر پردہ آ جاتا ہے۔ اس لیے رات دن میں ستر بار اللہ تعالیٰ  سے بخشش مانگتا ہوں۔ 

پس اگر گناہ اس قسم کے ہیں کہ جن کا تعلق اللہ تعالیٰ  کے حقوق کے ساتھ ہے جیسے کہ زنا اور شراب کا پینا اور سروداور ملاہی کا سننا اور غیرمحرم کی طرف بنظر شہوت دیکھنا اور بغیر وضو کے قرآن مجید کو ہاتھ لگانا اور بدعت پر اعتقاد رکھنا وغیرہ وغیرہ۔ تو ان کی توبہ ندامت اور استغفار اور حسرت و افسوس اور بارگاہ الہی میں عذر خواہی کرنے سے ہے اور اگر گناہ اس قسم کے ہیں جو بندوں کے مظالم اور حقوق سے تعلق رکھتے ہیں تو ان سے توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ بندوں کے حقوق اور مظالم ادا کیے جائیں اور ان سے معافی مانگیں اور ان پر احسان کریں اور ان کے حق میں دعا کریں اور اگر مال و اسباب والا شخص مر گیا ہو تو اس کے لیے استغفار کریں اور اس کا مال اس کے وارثوں اور اولاد کو دے دیں اور اگر اس کا وارث معلوم نہ ہوتو مال و جنایت (نقصان)کے برابر صاحب مال اور اس شخص کی نیت کر کے جس کو ناحق ایذادی ہو فقرا و مساکین پر صدقہ و خیرات کر دیں۔ 

حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے جو صادق ہیں سنا کہ رسول الله ﷺنے فرمایا ہے۔ مَا مِنْ عَبْدٍ ‌أَذْنَبَ ‌ذَنْبًا ‌فَقَامَ فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ (جب کسی بنده 

سے گناہ سرزد ہو تو وضو کرے اور نماز پڑھے اور اللہ تعالیٰ  سے اپنے گناہ کی بخشش چاہے تو ا.للہ تعالیٰ  ضرور اس کے گناہ کو بخش دیتا ہے۔

الله تعالیٰ  فرماتا ہے۔ وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا ‌أَوْ ‌يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا (جوشخص برائی کرے یا اپنی جان پرظلم کرے پھر الله تعالیٰ  سے بخشش مانگے تو الله تعالیٰ  کو غفور ورحیم پائے گا)۔ 

رسول الله ﷺنے ایک اور حدیث میں فرمایا ہے۔ ‌من ‌أذنب ذنبًا ثم ‌ندم عليه فهو كفارته جو گناہ کر کے نادم ہوا۔ تو یہ ندامت اس کے گناہ کا کفارہ ہے۔ اور حدیث میں ہے۔ وإن الرجل إذا قال: أستغفرك وأتوب إليك، ‌ثم ‌عاد ثم قالها ‌ثم ‌عاد ثلاث ‌مرات كتبت في الرابعة من ‌الكبائر– کہ جب آدمی  نے کہا میں بخش مانگتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں پھر اس نے گناہ کیا پھر اسی طرح کہا پھر گناہ کیا تین بار چوتھی بار کبیرہ گناہ لکھا جائے گا۔ 

ایک اور حدیث میں رسول خدا ﷺنے فرمایا ہے ھَلَكَ ‌الْمُسَوِّفُونَ آج کل کرنے والے ہلاک ہو گئے۔ 

لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کو نصیحت کے طور پر فرمایا کہ اے بیٹا توبہ میں کل تک تاخیر نہ کر۔ کیونکہ موت ناگاہ آ جاتی ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جوشخص صبح شام توبہ نہ کرے وہ ظالم ہے۔ عبداللہ بن مبارک رحمتہ الله علیہ فرماتے ہیں کہ حرام کے ایک پیسے کا پھیر دینا سو پیسوں کے صدقہ کرنے سے افضل ہے۔ بعض بزرگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک رتی چاندی کا پھیر دینا الله تعالیٰ  کے نزدیک چھ سوحج قبول سے افضل ہے رَبَّنَا ‌ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ  يا الله ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اگر تو نے ہم پر بخشش اور رحمت نہ کی تو ہم زیاں کار ہوں گے۔ 

نبی ﷺسے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے۔ ‌عَبْدِي أَدِّ مَا افْتَرَضْتُ عَلَيْكَ، تَكُنْ مِنْ أَعْبَدِ النَّاسِ، وَانْتَهِ عَمَّا نَهَيْتُكَ عَنْهُ، تَكُنْ مِنْ ‌أَوْرَعِ ‌النَّاسِ، وَاقْنَعْ، بِمَا رَزَقْتُكَ تَكُنْ مِنْ أَغْنَى النَّاسِمیرے بندے جو کچھ میں نے تجھ پرفرض کیا ہے ادا کرے تو سب لوگوں میں سے زیادہ عابد ہو جائے گا اور جن باتوں سے میں نے تجھے منع کیا ہے ہٹ جا تو سب سے پرہیز گار ہو جائے گا اور جو کچھ میں نےتجھے رزق دیا ہے۔ اس پر قناعت کر تو سب سے غنی بن جائے گا۔ 

رسول الله ﷺنے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ كُنْ ‌وَرِعًا تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِتو پرہیز گار بن، تمام لوگوں سے زیادہ عابد بن جائے گا۔ 

حضرت حسن بصری رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مثقال ورع ہزار مثقال نماز روزه سے بہتر ہے۔ 

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قیامت کو پرہیز گار اور زاہد الله تعالیٰ  کےہم نشین ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ  نے حضرت موسی کی طرف وحی کی کہ میرا تقرب حاصل کرنے کے لیے جتنا ورع (پرہیز گاری) کام دیتا ہے۔ ویسے کوئی اور شے نہیں۔ 

بعض علماء ربانی فرماتے ہیں کہ جب تک انسان ان دس چیزوں کو اپنے اوپر فرض نہ کر لے تب تک کامل ورع حاصل نہیں ہوتی۔ 

(1) زبان کو غیبت سے بچائے (2) بدظنی سے بچے، (3) مسخرہ پن یعنی ہنسی ٹھٹھے سے پرہیز کرے،(4) حرام سے آنکھ بند رکھے،(5) سچ بولے، (6) ہرحال میں اللہ تعالیٰ  ہی کا احسان جانے، تا کہ اس کا نفس مغرور نہ ہو،(7) اپنا مال راہ  حق میں خرچ کرے اور راہ باطل میں خرچ کرنے سے پچے،(8) اپنے نفس کے لیے بلندی اور بڑائی طلب نہ کرے،(9) نماز کی محافظت کرے،(10) سنت و جماعت پر استقامت اختیار کرے۔ 

رَبَّنَا ‌أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ یا اللہ ہمارے نور کو کامل کر اور ہم کو بخش۔ تو سب شے پر قادر ہے

اے میرے مخدوم ومکرم اوراے شفقت و مکرمت کے نشان والے۔ اگر تمام گناہوں سے توبہ میسر ہو جائے اور تمام محرمات اورمشبہات سے ورع و تقوی حاصل ہو جائے تو بھی اعلی دولت اورنعمت ہے۔ ورنہ بعض گناہوں سے توبہ کرنا اور بعض محرمات سے بچنا بھی غنیمت ہے۔ 

شاید ان بعض کی برکات و انوار بعض دوسروں میں بھی اثر کر جائیں اور تمام گناہوں سے توبہ و ورع کی توفیق نصیب ہو جائے ۔ ‌مَا ‌لَا ‌يُدْرَكُ ‌كُلُّهُ لَا يُتْرَكُ كُلُّهُ جو چیز ساری حاصل نہ ہو اس کو بالکل ہی ترک نہ کرنا چاہیئے۔ 

اللهم وفقنالمرضاتک وثبتنا على دينک و على طاعتك بصدقة سيد المرسلين و قائد الغر المحجلين عليہ و علیھم و على ال كل من الصلوت افضلها و من التسليمات اکملها یا اللہ تو ہم کو اپنی رضامندی کی توفیق دے اور اپنے دین اور طاعت پر ثابت رکھ۔ بحرمت سید المرسلین ﷺ۔ 

مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر دوم صفحہ229ناشر ادارہ مجددیہ کراچی


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں