شَیر(درندہ) اور شِیر( دودھ) میں فرق

اگرچہ لکھنے میں شَیر(درندہ) اور شِیر ( دودھ) ایک جیسے ہیں لیکن شِیر کو آدمی پیتا ہے اور شَیر آدمی کو پھاڑ ڈالتا ہے۔ محض اسی وجہ سے پورا عالم گمراہ ہوگیا ہے۔ بہت کم کوئی خدا کے ابدال سے واقف ہے۔ بدبختوں کی دیکھنے والی آنکھ نہ تھی۔ اچھا اور بُرا اُن کی نظر میں یکساں ہے۔ انہوں نے نبیوں کے ساتھ برابری کا دعوی کیا اور اولیاء کو اپنے جیسا سمجھا اور کہا کہ یہ بھی انسان ہیں اور ہم بھی انسان ہیں۔ ہم بھی کھاتے اور سوتے ہیں اور یہ بھی۔ اندھے پن سے وہ طوطی کی طرح یہ نہیں سمجھے کہ ہم میں اور اِن میں بہت فرق ہے۔ دو قسموں کے بھڑوں نے ایک ہی جگہ سے کھایا لیکن ایک نے صرف ڈنگ اور ایک نے شہد دیا۔ دونوں قسموں کے ہرنوں نے گھاس کھائی اور پانی پیا لیکن ایک سے گوبر بنا اور ایک سے مُشک۔ دونوں نرسلوں نے ایک جگہ سے پانی پیا لیکن ایک کھوکھلی اور دوسری شکر سے بھری ہوئی۔ اس طرح کی لاکھوں مثالیں تیرے سامنے ہیں لیکن اُن میں ستر سالہ راہ کا فرق دکھائی دیتا ہے۔ یہ کھاتا ہے تو اس میں نجاست نکلتی ہے اور وہ کھاتا ہے تو خدا کا نور بن جاتا ہے۔ یہ کھاتا ہے تو سراسر بخل اور کینہ پیدا ہوتا ہے وہ کھاتا ہے تو نور الٰہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ یہ پاک زمین ہے وہ شور’ یہ پاک انسان ہے اور وہ بھوت درندہ’ اگر دونوں کی صورتیں ایک جیسی ہیں تو ٹھیک ہے۔ نمکین اور شیریں میں صفائی موجود ہے۔ صاحبِ ذوق کے سوا کوئی اور دونوں پانیوں میں فرق نہیں کر سکتا۔ جس نے شہد چکھا نہ ہو شہد اور موم میں فرق نہیں کر سکتا۔

مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں