عاشق رساله در بیان عشق از سید محمد حسینی گیسو دراز خواجہ بندہ نواز

عاشق رساله در بیان عشق

مصنفه قطب الاقطاب حضرت سید محمد حسینی خواجہ گیسو دراز بندہ نواز رحمتہ اللہ علیہ

عاشق رساله در بیان عشق

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عاشق عشق کے دریا میں ڈوبا ہوا رہتا اور ہوتا ہے۔ اس کے باوجود بھی خود کو عاشق نہیں جانتا۔ عشق سے انکار کرنے والا ہوتا ہے۔ بہت ساری دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ عشق الٹے سیدھے ٹیڑھے بانکے حرف لکھتا اور الٹی سطر پڑھا کرتا ہے۔ نقیض( ہر شے کا ضد توڑنے والا ) کہہ کر محمول (خبر ) بے موضوع ( مبتدا کے بغیر ) مراد لیتا ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ عاشق پر عشق غلبہ کرتا ہے تو وہ معشوق کو بھی گم کر دیتا ہے اس سے معشوق گم ہو جاتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ عاشق معشوق کو بغل میں ڈالے ہوئے بوسہ لیتا، گردن میں ہاتھ ڈالے ہوئے بھی عشق سے فارغ نہیں ہو جاتا۔ اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ عین وصال میں عشق کی لہریں زور سے چلنے لگتی ہیں۔ وصال جتنا زیادہ ہوتا جاتا ہے اسی قدر عشق اور شوق غالب آتا جاتا ہے۔ عشق بڑھتا جاتا ہے۔ جتنا ٹھنڈا پانی پیتا جاتا ہے پیاس اور بڑھتی جاتی ، دوگنی ہوتی جاتی ہے۔ اکثر یہ بھی ہوتاہے کہ جب عشق میں کمی پاتا ہے تو اور زیادہ ہونے کے لئے روتا چیختا چلاتا ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ معشوق عاشق اور عاشق معشوق ہو جاتا ہے۔ لیکن سرافراز معشوق توجہ و شوخی نہ ہونے سے اپنے روکھے پن سے کسی مراد تک اس کو پہنچنے نہیں دیتا۔ اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ عاشق عشق کے بہاؤ میں وَمَنْ مِثْلِی و رب العرش محبوبی (اورکون ہے مجھ جیسا اور عرش کا پروردگار میرا معشوق ہے) سر اٹھائے ہوئے رہتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ معمولی آدمی بادشاہ کا عاشق ہو جائے اور یہ بڑھ ہانکے کہ دنیا جہان کا بادشاہ میرا معشوق ہے۔ بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ عاشق خود اپنے اختیار سے جدائی کو پسند کر لیتا ہے اور بعض دفعہ تو وصال ہی سے رونے لگتا ہے۔ بعض دفعہ عاشق معشوق کے شہر سے چل دیتا مسافرت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ عاشق معشوق ایک ہی بستر میں ہوتے ہیں لیکن ایک کو دوسرے کی خبر نہیں ہوتی ۔ باوجود اس کے بھی ایک ذوق میں ہاتھ سے اس کو خوب مضبوط پکڑا ہوا ہوتا ہے لیکن سبب معلوم نہیں ہوتا۔ اگر معشوق غصہ میں آ جائے تو عاشق کے لئے کیا تدبیر کرنی ضروری ہے۔ جب کہ وہ کسی بات سے راضی نہیں ہوتا اور راضی تھا، نہ ہے۔ وہ یہ کہ عاشق کو اپنی آنکھیں بند کر لینی چاہئیں اور اپنے متخیلہ (قوت خیال۔ نام ایک قوت کا جو دماغ میں ہوتی ہے) میں اس کی صورت کی تصویر بٹھانی چاہئے۔ اتنا خیال باندھنا چاہئے کہ وہ جو تجھ سے بیزار اور خفا تھا وہ اب رات دن تیرے پہلو میں تیرے ساتھ تیری مراد کے موافق ہے۔ کچھ سمجھے کہ کام کس حد تک پہنچ گیا۔ یہی کہ( انت مصيطر عليه وليس هو مصيطر عليك تو اس پر نگہبان ہے وہ تجھ پر نگہبان نہیں ) کبھی یہ ہوتا ہے کہ عاشق معشوق کو گالیاں دیتا ہے۔ بکتا ہے برا بھلا کہتا ہے۔ معشوق بدترین گالیاں انتہائی برے کہنے کو مزے لے کر چاہتا ہے کہ کہے اور خوب کہے۔ یہ سب کچھ انتہائی محبت کی وجہ ہے کہ وہ شاباشی دیتا ہے کہ اس کا چاہا ہوا اس کا چاہا ہوا ہے۔ یہ وہ کہتا ہے جو دوسرا نہیں کہہ سکتا اس کی وجوہات و اسباب بہت ہیں۔ عاشق کی یہی چیز دکھانے کی ہوتی ہے۔ اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ معشوق کے احترام اس کی عظمت کا لحاظ کرتے ہوئے اس کے وصال کا منتظر نہیں رہتا مگر وہ ہر دم ہر لحظہ اس کے لئے تڑپتا جلتا ہے۔ ادب کا پاس و لحاظ اس کو مقصود سے روکے ہوئے رہتا ہے۔ انتہا یہ ہوتی ہے کہ وہ محروم رہ جاتا ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر عاشق معشوق کے وصال سے لذت پانا چاہتا ہے تو یہی اس کا چاہنا اس کے لئے رد ( پھیر دینا۔ نہ ماننا) طرد( دور کرنا ۔ ہنکانا ) کی وجہ بن جاتا ہے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ معشوق دو چیزیں عاشق کے سامنے لاتا ہے جو اعتبار ( امتحان کرنا ۔ ایک کو دوسرے پر سے قیاس کرنا ) ہوتے ہیں۔ اگر ایک اعتبار کی رعایت کرتا ہے تو دوسرے اعتبار کی وجہ سے پکڑا جاتا ہے۔ دوسرے کو اگر مدعی رکھتا ہے تو پہلے کی وجہ سے الزام دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ابلیس علیہ اللعنہ اور آدم علیہ السلام کا واقعہ ہے۔ ابلیس کو فرمان ہوا کہ آدم کو سجدہ کر۔ ابلیس کے پیش نظر دو باتیں ہو گئیں وہ یہ کہ سجدہ کرے یا نہ کرے۔ اگر سجدہ کرتا ہوں تو کہیں یہ نہ پوچھ بیٹھیں کہ تجھ کو ہم سے محبت کا دعوی تھا۔ تیرا عشق تیری محبت کیا ہوئی۔ وہ کچھ بھی نہ تھی اس لئے تو ہمارے سامنے غیر کو سجدہ کیا اس کے سامنے اپنی پیشانی رگڑی۔ اگر نہیں کرتا ہوں تو یہ نہ کہیں کہ تو نے ہماری نا فرمانی کی ہمارا حکم نہ مانا۔ اگر تجھ میں ہماری دوستی محبت ہوتی ، ہمارا سچا محبت مند ہوتا تو ہمارا کہا ہوا کرتا۔ یہ حالت ایسی صورت عاشق کے لئے مشکل ترین ہوتی ہے۔ اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ عاشق و معشوق میں جھگڑا۔ بحث سخت باتیں ہوتی ہیں برا بھلا کہنا سننا ہوتا ہے اور عاشق وصال میں ہوتا ہے۔ آپس میں اخلاص خصوصیت محبت ہوتی ہے۔ ایک اپنے آپ کو دوسرے پر فدا کرتا ہے۔ اس کے باوجود بھی ایسی افتاد بڑھ جاتی ہے لیکن ان دونوں میں دوستی، محبت کا دعوی ایک ہونے کا ادعا ہوتا ہے۔ دائم اللہ (اللہ کی قسم ) انہیں اتنی بیگانگی ( دوری) ہے جو مشرق کو مغرب سے ہوتی ہے بلکہ اس سے بھی دور معشوق عاشق سے وصال ( ملنے ایک ہونے) کا وعدہ کر کے وعدہ خلافی کرتا ہے لیکن عاشق اس کو ظلم نہیں کہتا۔ ظلم سے نسبت نہیں دیتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ ایسا ہی ہونا تھا، ہوا۔ ہاں معشوق سے یہ ضرور کہتا ہے کہ آپ نے وعدہ کیا پورا نہ کیا۔ عاشق ہوتا ہے تا کہ معشوق کے جمال کو خواب میں دیکھے۔ معشوق اس پر راضی نہیں ہوتا خواب میں نہیں آتا۔ اس سے اس کو تکلیف ہوتی ہے۔ وہ روتا ہے۔ معشوق اس کے سچے عشق و عاشقی کو کاٹ دیتا ہے۔ عاشق دن بھر سوتا ہے ساری رات سوتے گزار دیتا ہے۔ آنکھ کھولنے کی فرصت نہیں پاتا اس کا دل ایک بات پر ٹھہر گیا۔ ایک خیال نے اس کو گھیر لیا۔ دماغ تر ہو گیا ۔ وہ سونے لگ گیا ۔ اگر ہلاؤ تو ہوشیار ہوتا ہے۔ عاشق نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے نہ قرار سے رہتا ہے۔ کچھ کھا لیتا۔ کچھ اونگھ لیتا ہے وہ ایسا ہوتا ہے جیسا کہ کسی توے پر دانہ۔ عاشق جینے کو پسند بھی کرتا ہے اور یک دم مر جانا بھی چاہتا ہے۔ عاشق بیمار ہونا چاہتا ہے اور خود کو صحت مند تندرست قوی بنائے رکھنا بھی چاہتا ہے۔ یہ امید رکھتا ہے کہ میں اس کو دوست رکھتا ہوں اس سے محبت کرتا ہوں تو اس کو مجھ سے تنگ ہونے کی وجہ نہیں۔ عاشق ہمیشہ جادو، ٹونے “تعویذ ” فلیتے میں مشغول رہتا ہے۔ عاشق معشوق کے لوگوں سے میل ملاپ رعایت مروت کرتا ہے۔ ہر ایک کے ساتھ ایک خصوصیت پیدا کرنا چاہتا ہے تا کہ وہ لوگ اس کو اپنا سمجھیں۔ رنج و خوشی میں اس کا ساتھ دیں۔ عاشق معشوق کی گلی میں بڑی چالیں چلتا ہے۔ مکر و حیلہ بہت کیا کرتا ہے۔ عاشق صلاح و تقوی اختیار کرتا ہے ( نیک پرہیز گار بنا ہوا رہتا ہے ) تاکہ معشوق اس سے نہ گھبرائے نیک اچھا سمجھ کر تھوڑی دیر کے لئے اس کے ساتھ بیٹھ جائے۔ عاشق کبھی کبھی جھوٹ بھی بول جاتا ہے۔ اپنے عشق اپنے مر مٹنے کو ذریعہ بنایا ہوا رہتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ میری مراد ہاتھ نہ آئے تو ابھی مر جاتا ہوں اس کے بغیر جی نہیں سکتا۔ ممکن ہے وہ سالہا سال تک جیتا رہے کیا کرے کہ اس کے لئے کوئی تدبیر اس کے سوانہیں۔ عاشق اپنے آپ کو دیوانہ بنا لیتا ہے۔ بلا ضرورت۔ معشوق کی گلی کے چکر کاٹتا ہے اگر پوچھیں تو کہتا ہے کہ دیوانہ ہوں گھوما کرتا ہوں۔ عاشق کی علامت صبح سویرے آہ بھرنا۔ دھاڑیں مار مار کر رونا ۔ چپکے چپکے رونا آنسو بہانا ہوا کرتا ہے۔ عاشق بھائی بند اور عزیزوں سے بیگانہ ہوتا ہے لیکن معشوق کے راستہ اور اس سے معاملہ کرنے میں بیگانہ نہیں۔
عاشق عشق کی آگ سے ایسا نہیں جلتا کہ راکھ ہو جائے۔ ہوا میں اڑ جائے بلكہ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا ( جب چمڑیاں جل جاتی ہیں تو ہم دوسری کھال سے بدل دیتے ہیں ) یعنی جلتا جاتا بنتا جاتا ہے۔
اے شمع مپرس از وصالت می سوزم و می سوزم و می سوزم
(اے شمع اس سے ملنے کو نہ پوچھ جلتا ہوں جلتا ہوں جلتا ہوں)
عاشق میں کھڑے رہنے۔ ٹھہرے رہنے کی قوت نہیں رہتی۔ جیسے ہی عشق کا تیر لگتا ہے فوراً گر پڑتا ہے۔ یہ ایسی افتاد ہے جس میں کھڑے رہ نہیں سکتے۔ عاشق اندھا بہرا ہوتا ہے۔ ایک دین رکھتا۔ ایک مذہب پر چلتا ہے۔ اس کا دین و مذہب معشوق کا راستہ ہے۔ عاشق کے گال زرد (پیلے) چشم تر( آنکھ بہتی ہوئی ) لب خشک( ہونٹ سوکھے ہوئے ) آہ سرد (ٹھنڈی سانسیں ) سینہ گرم ( گرم آہیں ) ہوتے ہیں اس کا تن سوکھ کر کانٹا اس کا کھانا پینا بہت ہی تھوڑا۔ عشق کے درد سے مرتا رہتا ہے۔ راستہ کے جاننے والے یہ کہتے ہیں کہ افسوس یہ بیچارہ عشق سے پھل نہیں پاتا، فائدہ نہیں اٹھاتا۔ عاشق فاسق (بے حکم نا فرمان ) نہیں ہوتا۔ اس کا فسق معشوق کی نافرمانی ہے۔ عاشق کاہل (سست) نہیں ہوتا۔ عاشق چالاک اچھی چال کا ہوتا ہے۔ عاشق بہت ہی غافل ہوتا ہے۔ عاشق بے شرم بے حجاب ہوتا ہے۔ عاشق تنہائی اور گھر کے کسی کونے میں رہا کرتا ہے۔ عاشق سر راہ اور بازار میں بھی بیٹھتا ہے۔ عاشق جنگلوں بیابانوں غاروں میں – رہا کرتا ہے۔ ذبول (لاغری پژمردگی ) خمول ( گمنامی ) میں رہتا ہے۔ عاشق مرد با آبرو( باعزت شخص) ہوتا ہے۔ عاشق اپنی عزت و آبرو کا پاس رکھتا ہے۔ معشوق کے نہ ہونے کے باوجود معشوق سے مشغول و متوجہ رہتا ہے۔ عاشق نسبت و نسب پر ناز کرتا ہے۔ عاشق سویا ہوا اور اس کا دل معشوق کا نام لیتا رہتا ہے۔ معشوق کا نام اتنی زور سے لیتا ہے کہ مجلس کے سب حاضرین سن لیتے ہیں۔ عاشق بیچارہ ہر ایک کے ساتھ عزت کے ساتھ پیش آتا ہے۔ عزت کرتا ہے اور کبھی بڑی شان کے ساتھ رہتا ہے کسی کو پاس پھٹکنے نہیں دیتا۔ عاشق نے دو جگہ اپنا کمال دیکھا۔ قہر یہیں سے سر نکالا معمولی آدمی بڑے آدمی پر۔ بڑا معمولی پر۔ بادشاہ غلام پر ۔ بھٹی جلانے والا بادشاہ پر محمود ایاز پر۔ بھٹی جلانے والا محمود شاہ پر عاشق ہوا۔ عشق اپنے آپ میں ایک کشادگی (پھیلاؤ) وسعت ( گنجائش ) رکھتا ہے۔ ایک گیند عاشق کے ہاتھ میں دے دی گئی۔ یوں سمجھو کہ وہ بہت ہی کم وزن بالکل سامنے ہے اس کا کوئی مد مقابل نہیں کہ گیند کو میدان سے لے جانے اور مقصود تک پہنچانے سے روکے۔ وہ شہسوار تنہا میدان میں اتر آتا ہے۔ گیند کھیلنا شروع کرتا ہے تو ہر طرف سے واہ واہ کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ عاشق معشوق کے بغیر جی نہیں سکتا۔ وہ رہے یا اس کا خیال یا اس کی یاد وہ عشق ہی سے غذا لیتا ہے۔ عشق اس میں اس سے کچھ باقی نہیں رہنے دیتا اس سے اس کو لے لیتا ہے۔ اس کو ایسا کہاں ملتا ہے۔ اس لئے اپنے آپ کو دے دیتا ہے۔ معشوق سے بھی یہی طریقہ برتتا ہے۔ نہ عاشق رہتا ہے نہ معشوق۔ دونوں ہی عشق کے حوصلہ (ہمت) میں مٹ مٹا جاتے، ایک جان ہو جاتے ہیں۔ حسن نے عشق پر سبقت پیش قدمی کی ہے۔ عشق ثابت قدمی کا دعوی رکھتا ہے کہتا ہے کہ اگر میں نہ ہوتا تو تیری خریداری کون کرتا۔ حسن یہ جواب دیتا ہے کہ اگر میں نہ ہوتا تو تو کیسے ابھرتا۔ عاشق باغوں اور جنگلوں میں جاتا ہے۔ درختوں کی بہاروں، پھولوں کو کانٹوں میں دیکھتا ہے۔ جس کسی کو عاشق دیکھتا ہے اس کو معشوق کہتا ہے۔ بادشاہ سلطنت کے تخت پر بیٹھے ہوئے عدل و انصاف سے فیصلے کرتا ہے کسی کو قتل کراتا، کسی کو بدلہ دلاتا ۔ کسی کو سرفراز کراتا ہے۔ وزیر عزت کی مسند پر بیٹھا ہوا کاروبار سلطنت چلاتا ہے۔ چوکیدار ہاتھ میں ڈنڈا لئے دروازہ پر کھڑا ہے۔ روکنے جانے دینے میں ہوتا ہے۔ قاضی اجلاس پر بیٹھا ہوا مقدمات کی سماعت کرتا ہے۔ نقصان کی تلافی کرتا ، مضرت کی سزائیں دیتا ہے۔ مدرس، منشی سر نیچے کئے ہوئے کتابوں مثلوں میں غور کرتے ہیں۔ ہم یہ مانتے۔ یہ نہیں مانتے میں ہوتے ہیں۔ قصاب کھال کھینچنے گوشت کے ٹکڑے کرنے تو لنے بیچنے میں ہے۔ غلہ بیچنے والا ۔ ترکاری فروش اور ایسے ہی اور پیشہ و کام کرنے والے اپنے اپنے کام میں ہیں۔ عاشق کو دیکھو کہ وہ معشوق کے دروازہ پر سر رکھا ہوا ہے۔
در ہر دو جہاں ہر چه شود کو شو کو وز دور زمان هر چه شود کو شو کو
(دونوں جہاں میں جو کچھ بھی ہو ہو زمانہ کے چکر سے جو کچھ بھی ہو ہو)
مشغول بحق باش ببر از دو کون وز سود و زیان هر چه شود کو شو کو
(حق کے ساتھ مشغول اور دونوں جہاں سے الگ رہ فائدہ نقصان جو کچھ بھی ہو ہو سو ہو )
عاشق کو اگر معشوق سے ملنا مقصود ہو تو یہ کام اس کے جال سے اور اسی کے کام سے نکلتا ہے۔ تم نے بڑھئی اور بادشاہ زادی کی حکایت سنی ہوگی۔ عاشق جیسا کہ معشوق کو ہنتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے ویسے ہی اس کو روتے ہوئے بھی دیکھنے کا خواہش مند رہتا ہے تاکہ اس کی آنکھ سے آنسو گرتے ہوئے ناز سے اس کو صاف کرتے ہوئے۔ چہرہ کی سرخی۔ گالوں کی تمتماہٹ کو دیکھے ۔ یہ عاشق کے عشق کے اور زیادہ ہونے کی وجہ ہو جاتے ہیں۔ عاشق یہ چاہتا ہے کہ معشوق غصہ میں آ جائے بپھر جائے۔ گالی گلوچ پر آمادہ ہو جائے طعنہ دینے لگ جائے۔ عاشق کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ معشوق حسن کے گھوڑے پر سوار ہو جائے۔ کمر میں تیر باندھے ہوئے ہاتھ میں نیزہ لئے ہوئے ۔ سینہ کو ابھارے ہوئے ناز کا تیر چھوڑ کر اس کے دل کو دو ٹکڑے کر دے تو کیا مزہ ہو۔ عاشق گناہگار کو ایسا معشوق درکار ہے جو اس کی گری ہوئی حالت میں اس کی درخواست پر اس کا ہاتھ تھامے۔ عاشق اس آرزو میں رہتا ہے کہ معشوق اس کے سینہ پر لات مارے۔ ایسا ہونے کی دعائیں کرتا ہے۔ معشوق کہتا ہے کہ جتنا تو مجھ کو عزیز رکھتا ہے میں تجھ کو اس سے بھی زیادہ عزیز رکھتا ہوں۔ اگر کسی پھول کی پتی سے بھی تیرے سینہ پر خراش آ جائے تو میری آنکھوں میں اس پھول کے کانٹوں کے زخم ہوں گے میں کیسے تیرے سینہ پر لات مار سکتا ہوں ۔ عاشق اس آرزو میں مر جاتا اور اپنی مراد کو نہیں پہنچتا۔ عاشق معشوق کے جو پیچھے پڑا ہوا ہوتا ہے وہ در حقیقت اپنے دل کے پیچھے پڑا ہوا ہے کہ وہ اس کے دل کو لے آیا وہ اپنے دل کے لئے اس کے پیچھے پھرتا ہے۔ اپنے دل کے لئے اس کا پیچھا کئے ہوئے ہے۔ مثلاً اگر کوئی تمہاری ٹوپی لے اڑے تو تم اس کے پیچھے دوڑتے ہو۔ یہ تمہارا دوڑ نا اپنی ٹوپی کے لئے ہے نہ کہ ٹوپی اڑا لینے والے کے لئے۔ عاشق معشوق کی باتیں سننے کا ویسا ہی مشتاق ہوتا ہے جیسے کہ اس کے دیکھنے کا۔ آنکھیں دیکھتی ہیں تو دل کو خبر ہو جاتی ہے۔ وہ مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کان سنتا ہے تو بات کو دل تک پہنچا دیتا ہے۔ دل عاشق ہو جاتا ہے۔ عاشق پورے طور سے ایک ہی دفعہ ملنا چاہتا ہے۔ معشوق اگر اس کو فوراً ایک ہی دفعہ میں اپنے آپ کو دے دے تو وہ برداشت نہیں کر سکتا۔ اس لئے حکمت والا معشوق ایسے وقت میں الٹی ٹوپی سر پر اور بدلی ہوئی قبا جسم پر پہن کر امن کی جگہ میں آ جاتا ہے آرام سے بے فکر رہتا ہے۔ معشوق کی یہ مرضی نہیں ہوتی ۔ عاشق اپنی خواہش و مراد کے لئے شکرے کے جیسا ہے۔ دوسری عجیب بات یہ ہے کہ شکرہ شکار کے لئے اڑتا ہے ممولا اس کو جھپٹ لے کر نگل جاتا ہے۔ عاشق سے اگر کوئی اس کے معشوق کے گھر کا پتہ پوچھے تو اگر وہ گھر مغرب میں ہو تو وہ مشرق کی طرف بتلا دیتا ہے۔ عاشق معشوق کی ایسی راز داری نزد یکی پیدا کر لیتا ہے۔ جس میں جدائی، علیحدگی کا تصور اور ایسی صورت پیدا نہیں ہو سکتی۔ معشوق چاہتا ہے کہ عاشق کو مصلحت کے لحاظ سے ایک پیالہ غم و رنج کے خم سے پلائے ۔ عاشق کو حاضر لائے اس میں حضوری پیدا کر کے اس سے منہ پلٹائے۔ جمال کی تجلی دوسروں پر ڈالے کچھ سمجھتے ہو کہ یہ کیسا عذاب ہے۔
ہر چہ خواہی بکن اے دوست مکن یار دیگر ۔
(اے دوست جو چاہے کر مگر دوسرا دوست نہ بنا۔) ایک تدبیر یہ بھی کی جاتی ہے وہ یہ کہ اس سے باتیں کی جاتی ہیں۔ حالات و واقعات کہے جاتے ہیں یہاں کی بات وہاں لگانی سکھلائی جاتی ہے۔ عیب نکالنے کو کہا جاتا ہے۔ وہ باتیں بھی اس کی کان تک پہنچائی جاتی ہیں جو دوسروں کے ساتھ کی گئیں۔ عاشق معشوق کے دوست کو دشمن سمجھتا ہے۔ عاشق اس آرزو میں رہتا ہے کہ معشوق چند روز غصہ میں رہے۔ چند دن کے بعد میل ملاپ ہو جائے۔ آپس میں صلح ہو جائے۔ – عاشق وہم کا مارا ہوا۔ وہم میں مبتلا وہی شخص ہوتا ہے۔ عاشق جس کسی کامبتلا ہے جس میں مبتلا ہے وہ سوائے پریشانی کے اور کچھ نہیں ۔ معدومی خرابی ہی خرابی ہے۔ عاشق سے اگر یہ سوال ہو کہ تو کس میں پھنسا ہوا ہے۔ عشق بیکار بیہودہ کام ہے تو عاشق یہی جواب دے گا کہ فلاں کی چال کا مارا ہوں۔ اس کی چال ڈھال پر مر مٹا ہوا ہوں۔ یہ چلن سوائے بیکار کام کے اور کیا ہے جو کہتے ہو وہ ایسا نہیں ہے بتاؤ کون ایسا ہے جو کسی نہ کسی چیز میں پھنسا ہوا نہ ہو۔ عاشق پر قدس کی صورت کا سایہ پڑا۔ وہ اپنے آپ میں نہ رہا۔ آمد و رفت کی اس کو خبر نہ رہی۔ ایک خیال رہ گیا صورت وہمی رہ گئی۔ اس کو وہاں تک لے گیا۔ یہ اس وقت تک جان سے جاتا نہیں جب تک جان تن سے نہ لے جائیں۔ یہ جان لیوا ہے۔
عاشق یہ یقین کے ساتھ جانتا ہے کہ میرا دل جس کو چاہتا ہے وہ مجھ کو ضرور چاہتا ہے۔ اس کے انکار میں بہت سارے اقرار ہیں۔ اگر غصہ ہوتا ہے تو ملنے کا امیدوار کر دیتا ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے سلام علیک سے زیادہ معاملہ نہ تھا غصہ ختم ہوتے ہی میل ملاپ پر آ جائے گا۔ یہ رسم و عادت چلی آئی ہے کہ ہاتھ ملانے ہاتھ پاؤں چومنے بغل میں آنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ کم از کم زمین کو چوم لینا ہی اس غصہ کو ٹھنڈا کر دے گا۔ میل ملاپ پر لے آئے گا۔ دوری نزدیکی سے بدل جائے ۔ دوری سے نزدیکی میں آ جائے ۔ عاشق جیسا کہ اپنے آپ کو دوست رکھتا ہے۔ کسی کو نہیں رکھتا۔ عاشق خود پرست ،خود رائے ،خود بین ،خود نما ہوتا ہے۔ عاشق کے پروبال ایسے ہیں (اس کی اڑان ایسی ہے کہ وہ )ستاروں سے بھی آگے نکل جاتا ہے اور ایسا پژمردہ دل ہے کہ زمین کے سات پتال کے اندر چلا جاتا ہے۔ عاشق دوستی کے ایسے دریا میں تیرتا ہے جس کا کنارہ نہیں دکھتا۔ عاشق دریا سے دوستی تو کرتا ہے لیکن دریا کا دوست نہیں ہوتا۔ عاشق کسی کے جال میں نہیں پھنستا۔ عاشق نصیحت کرتا ہے۔ جب کہتا ہے تباہی کی کہتا ہے۔ عاشق نصیحت کر کے دل کو قابو میں کر لیتا ہے۔ عاشق نصیحت کرتا ہے تو ہر بندہ کو بندہ بنا لیتا ہے۔ عاشق نصیحت کرتا ہے تو لوگوں کو رُلا دیتا ہے۔ عاشق نصیحت کرتا ہے تو سب کو ہنسا دیتا ہے۔ عاشق نصیحت کرتا ہے تو کیوں لفنگوں کے دل کو لگتی ہے آزادوں، قلندروں کو پسند آتی ہے۔ عاشق نصیحت کرتا ہے تو عابد و زاہد کو با نصیب کر دیتا ہے۔ عاشق نصیحت کرتا ہے تو عارف و مقرب کو اپنے آپ سے بھائی بندوں سے الگ کر دیتا ہے۔ عاشق نصیحت کرتا ہے تو مردہ کو زندہ زندہ کو مردہ کر دیتا ہے۔ عاشق نصیحت کرتا ہے تو ساری دنیا اس پر فدا ہو جاتی ہے۔ عاشق میں یہ بات بھی ہوتی ہے کہ وہ دوسرے کے ساتھ عشق، میل ملاپ ۔ محبت کا اظہار بھی کرتا ہے دوسرے کے لئے ملامت اٹھاتا ہے تا کہ معشوق کو طعنہ نہ دیا جائے ۔ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ یہ سب جان لیں کہ اسی ایک ہی کو دل دیا ہے۔ معشوق کے دل میں اگر آ جائے کہ وہ کیسا شخص ہے تو عاشق کے لئے یہ مار ڈالنے والا زہر ہے ۔ ہوسکتا اور اکثر ایسا ہوتا بھی ہے کہ مالک اپنی باندی پر عاشق ہو جائے ۔ یہ کوئی تعجب کی بات یا ندرت نہیں ۔ اس کو جس سے چاہو پوچھ لو۔ جنہیں پوجنے کو کہتے ہیں۔ انہیں پاؤں پڑنے کا حکم دیتے ہیں۔ پانی کی مشک سب کے سامنے ڈلوانا عاشق سے روا نہیں رکھتے۔ عاشق چور ہوتا ہے رات میں نگہبانی کرنے والا ہوتا ہے۔ عاشق دنیا کا طالب خواہشمند دنیا کو چھوڑا ہوا بھی ہوتا ہے۔ عاشق کو خوبصورت خوب سیرت ہونا چاہئے عاشق کو خوب بولنے والا۔ شیریں زبان ہونا چاہئے۔ عاشق چکنی چپڑی باتیں خوب کرتا ہے۔ عاشق خدا کا شکر بجالاتا رہتا ہے۔ عاشق رنج و غم ۔ دکھ درد میں بے انتہا صبر کرتا ہے۔ عاشق سلوک کے مقامات کو خوب سمجھتا ہے۔ عاشق کہتا ہے کہ وہ شخص عشق میں سچا نہیں جو معشوق کی جفا پر صبر نہ کرے اور یہ بھی کہتا ہے کہ کسی کا صدق عشق کے مرتبہ میں ٹھیک نہیں ہوتا جب تک کہ معشوق کے ظلم وستم و آزمائش میں وہ شکر نہ کرے۔ معشوق یہ کہتا ہے کہ جو ایسا نہ ہو۔ اس کا نام عاشقوں کی فہرست سے نکال دیا جاتا ہے۔ اس کو چاہئے کہ وہ معشوق کی جفا اس کے جوروستم سے لذت لیا کرے تاکہ میدان عشق میں پورا اترے۔ کسی محقق کا کہنا یہ ہے۔ سچائی کی ٹکسال میں ایسے کے وجود کے نام کا سکہ ڈھالا نہیں جاتا۔ جس میں معشوق کے ظلم وستم کا شعور ہو۔ احساس پایا جائے۔ عشق نامور انسان قوم کے سردار ذی عزت مرد کو۔ زمین پر پٹخ دیتا ہے ذلیل و خوار کر دیتا ہے۔ معمولی آدمی کے متعلق کیا کہا جا سکتا ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے جب کہ وہ کسی بلند و اعلیٰ مرتبہ والے کے عشق میں پھنس جائے۔ وہ آوارہ ہو جاتا ہے۔ جنگلوں بیابانوں میں بھٹکتا ہے۔ وہ کیا ہوتا ہے اس کو کچھ بیان نہیں کر سکتے ۔ یہاں اس کے سوا کوئی تدبیر نہیں کہ
من مات عشقا فليمت فكذا لا خير في اموات غير عشق
(جو مرا عشق میں ایسا مرا عشق کی موت کے سوائے مرنے میں بہتری نہیں)
عاشق بے نیاز بھی ہوتا ہے اور با نیاز بھی۔ عاشق چغلخور۔ ناز نخرے والا آنکھوں سے اشارہ کرنے والا ہوتا ہے۔ عاشق ۔ دلال کے جیسا بھی ہوتا ہے۔ ہر ایک سے اسی صفت کے ساتھ معشوق کا بیان کرتا ہے جس سے دو ایک کے دل میں طلب و خواہش اس کے دیکھنے پانے کا کھٹکا پیدا ہو جاتا ہے۔ عاشق یہ بھی کرتا ہے۔ اس کی آرزو یہ بھی ہوتی ہے کہ معشوق پریشان (آوارہ ) اور فاحشہ ہو جائے۔ چند ہوا پرستوں میں وہ بھی ایک رہے۔ اپنی مراد پوری ہونے کے بعد وہ اس خواہش میں رہتا ہے کہ سب سے اول وہ رہے۔ اس میں وہ موت کا نوالہ ہو جاتا ہے تو اس کے بعد وہ کوئی راحت اپنے آپ میں نہیں پاتا۔ عاشق یکتا یعنی آپ اپنا جواب ہوتا ہے۔ عاشق اپنے جیسا نہیں رکھتا اس کا کوئی مثل و مانند و برابر نہیں ہوتا۔ عاشق کبھی کبھی اپنے آپ کو مست کے جیسا بنالیتا ہے۔ معشوق پر ہاتھ چلا دیتا ہے۔ وہ راضی رہے تو مرا دمل گئی اگر خفا ہو گیا تو دیوانہ و مست ہونے کا عذر لئے ہوئے ہوتا ہے کہ میں مست ہوں ۔ مجھ کو اپنی ہی خبر نہیں کہ کیا ہوں تو آپ کی کیا خبر پاؤں کیسے جانوں کہ آپ کے ساتھ یہ بے ادبی ہوئی۔ معشوق کے سامنے اس طرح ادب کے ساتھ بے حس و حرکت کھڑا رہتا ہے جیسے کہ کوئی پرند اس کے سر پر بیٹھا ہوا ہو۔ انتہائی قرار و سکون کے ساتھ کھڑا رہتا ہے۔ اسی طرح سے کھڑا رہتا ہے جیسے کھڑا ہونا چاہئے۔ عاشق مقامر ( قمار بازی جوئے بازی میں حصہ لینے والا ) ہوتا ہے لیکن ہر وقت اور ہمیشہ دغا بازی کرتا ہے۔ حیلہ باز دغا باز ہوتا ہے۔ اگر عاشق کو معشوق کے ساتھ جوا بازی لگانے کا موقعہ مل جائے تو نہایت نزاکت کے ساتھ ہنستے بولتے دھوکہ دے جاتا اور بہترین دغا بازی کر جاتا ہے۔ جیت جاتا۔ ہار جاتا ہے تاکہ ہر حالت سے ایک مزہ لے۔ جیت کے دھوکے میں رکھ کر اس کو ایسا ہرا دے کہ وہ اپنی ہار مان کر اس کا ہی ہو جائے۔ اس سے اس کے ساتھ کھیلے۔ اس سے وہی کھیلے۔ عاشق بھیک مانگنے کا پیشہ بھی اختیار کرتا ہے۔ وقت بے وقت جب جی میں آیا معشوق کے دروازہ پر جاتا۔ بھیک مانگتا ہے بلند آواز سے اچھی لے میں اس کی تعریف و توصیف اس کے لئے دعا کرتا ہے۔ دعائیہ جملے کہتا ہے۔ اگر وہ پوچھ لے کہ تو کون ہے تو اپنا حال احوال کہہ کر مطلب عرض کر دیتا ہے اگر تم نے ایسی بات کی ہو تو اس کی لذت پاؤ گے۔ عاشق تماشہ بتانے۔ شعبدہ دکھانے والا بھی ہوتا ہے۔ وہ کھیل تماشے دکھلاتا ہے شعبدے کرتا ہے۔ سب لوگ اس کے دیکھنے میں لگ جاتے ہیں۔ وہ اس کو کرتے ہوئے اپنی مراد و مقصود پر نظر جمائے رکھتا ہے تو اس کو اپنی مراد کی خوشخبری یا اشارہ اچھی طرح سے ہاتھ آ جاتا ہے۔ عاشق معشوق کے سامنے اس مردہ کے جیسا رہتا ہے۔ جو نہلانے والے کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ ایسا عاشق معشوق سے مقصد و مطلب نہیں پاتا بلکہ اس کا ہی اس کے لئے ہو کر رہ جاتا ہے۔ عاشق ظلم ڈھانے والا ۔ سخت روش، سخت مزاج کا بھی ہوتا ہے کبھی کبھی سختی ظلم سے بھی کام بن جانے کی صورت ہو جاتی ہے۔ عاشق معشوق کو ڈراتا بھی ہے۔ اس سے کہتا ہے کہ اگر تو میرا مقصود پورا نہ کرے تو میں تجھ کو بدنام کر دوں گا۔ سر بازار رسوا کر دوں گا۔ اس کے جواب میں وہ فرماتا ہے کہ میں وہ نہیں ہوں کہ کوئی مجھ کو بد نام و رسوا کر سکے۔ تجھ جیسے کے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا اگر ہم کہہ دیں تو لوگ تجھ کو پتھروں ڈھیلوں سے مار کر مار ڈالیں گے۔ جو عاشق ہوتا ہے وہ نام اثر گمان ہی سے راضی ہو جاتا ہے۔ اس پر ایسا ٹھہر جاتا’ قرار پاتا ہے جیسا کہ اس سے محروم رہ گیا ہوا ہوتا ہے۔ یہ وہ ہے جو عین وصال میں لذت وصال سے محروم ہو جاتا ہے۔ عاشق سب سے کمتر ہوتا ہے تمہاری سمجھ میں یہ نہیں آ سکتا۔ تمہارا ذہن وہاں تک نہیں پہنچ سکتا کہ عاشق معشوق سے ملنے کے لئے کیا کیا تدبیریں کیا کیا کھیل، کیا کیا ڈھونگ مچاتا، کیسی کیسی کڑیاں ملاتا اور کیا کیا کرتا ہے سنو وہ کچھ کرتا ہے جو انتہائی سمجھدار انسانوں کے دل میں یا ان کی سمجھ میں بھی نہیں آتا۔ بلکہ وہ عاجز آ جاتے ہیں۔ اس کی معمولی، سب سے کمتر چال یہ ہوتی ہے کہ وہ معشوق کی نظر میں خود کو ایسا دکھلاتا ہے کہ اس کی کوئی غرض نہیں جس سے وہ سمجھتا ہے کہ یہ بے غرض ملتا ہے اور کچھ کہنے کا کوئی موقعہ نہیں۔ عجیب نادر حکایتیں ہی نہیں بلکہ دکھلاوے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سارے انبیاء و علیہم السلام سے عقلمند اور سمارے حکیموں سے سمجھدار ہیں۔ آپ نے کیا فرمایا اس کو سمجھ لو آپ جیسے عقلمند محبت مند کو کیا دکھایا۔ وہ بھی جان لو۔ عاشق کی نظر میں معشوق کی راستی ( سیدھا ہونا ) نہیں وہ اس میں کثری (ٹیڑھا ہونا) ہی پاتا ہے۔ معشوق کو اور معشوق کی معشوقیت کو ٹیڑھی چال کے سوائے مطلب نہیں کہ یہی اس کی چالیں ہیں ۔ وہ یہی کھیل کھیلتا ہے کسی بیچارے موزوں طبع نے اس بھید کو اچھی طرح سے پا کر الفاظ میں ڈھال دیا ہے۔ چنانچہ کہتا ہے۔
هرگز نگار طره بہنجار بشکند تا بار عشق پشت خرد زار بشکند
(معشوق کبھی کسی وضع سے طرہ نہیں توڑتا تاکہ عشق کے بوجھ سے عقل کی پیٹھ توڑ دے)
عاشق، کھلا پن کشادگی نہیں رکھتا۔ عاشق ایک ایسی تنگی میں آ پھنسا ہے کہ حرکت کرنے ملنے کی بھی جہاں گنجائش نہیں پاتا۔ عاشق ابتدائی حال میں جو کچھ اس سے ہو سکتا ہے اس کی تدبیر کرنے سے باز نہیں رہتا۔ مقصود کے حاصل کرنے کی ہر صورت کرتا رہتا ہے ذراسی بھی کمی نہیں کرتا۔ جب حاصل ہونے ملنے کی کسی قسم کی امید باقی نہیں رہتی اور یہ دیکھتا ہے کہ مقصد نہیں مل سکتا تو دو باتوں میں سے کوئی ایک بات اس کے سامنے آتی ہے۔ اس کے سوا اور کوئی صورت اس کو نظر نہیں آتی ۔ وہ جنگلوں پہاڑوں بیابانوں میں گھومتا روتا چلاتا آوارہ و پریشان پھرتا ہے یا کسی حجرۂ غار میں سب سے دور اپنا چہرہ سیاہ کر کے روتا چلاتا رہتا ہے۔ کسی کا منہ دیکھنا نہیں چاہتا۔ درد بڑھتا جاتا ہے۔ اس جلن اس کڑھن میں گزارتا رہتا ہے۔ یہی اس کی غذا ہو جاتی ہے۔ ایک عاشق وہ ہوتا ہے جو طلب میں رنج و مشقت اٹھا کر راستہ طے کر کے بغل میں پہنچ گیا ہے وہ خوش ہی خوش ۔ دل اس کا باغ باغ ہے۔ جنگل باغ آج اس کی نظروں میں برابر ہیں۔ دونوں میں جدائی نہ رہی۔ وہ کسی دالان یا حجرہ یا تہہ خانے میں دروازہ بند کئے ہوئے آپس میں ملے ہوئے ایک ہو کر یکسانیت کے ساتھ ہوں۔ رقیب دلال کا پتہ نہ ہو تو دنیا میں جو بھی ہو جائے اس کی پرواہ نہیں ہوتی ۔ دونوں بے فکر رہتے ہیں۔ اگر حکیم ان دونوں میں عقلی جدائی ثابت کرنا چاہے تو اس کی بھی گنجائش نہیں ۔ عاشق معشوق کو زیور لباس زینت چمک دمک میں دیکھتا ہے تو آنکھوں میں سرمہ لگا ہوا منہ پر غازہ ملا ہوا پان کھایا ہر طرح کی سجاوٹ و سنگار میں دیکھنے کا متمنی ہو جاتا ہے۔ اس کے سوا جو لباس ہوتا ہے وہ اس کی برہنگی کو چھپاتا ہے۔ دونوں صورت میں اس کو دیکھتا ہی رہتا ہے۔ عاشق بہت ہنستا ہے۔ اس کا ہنسنا رونا اور رونا ہنسنا ہوا کرتا ہے۔ عاشق معشوق کو لا پرواہ، شاندار بڑے مرتبے والا دیکھنا چاہتا ہے۔ اپنے آپ کو عاجز روتا گرا ہوا رکھنا مناسب جانتا ہے۔ تم نے سنا ہوگا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا کہا۔ وہ یہ کہ آپ آزاد ہیں۔ آزادی کی عزت کیا ہے اس کو جانتے ہیں ہم غلام ہیں غلامی کی ذلت کو غلامی کو جانتے ہیں۔ آپ غلامی کیا ہے کیا جانیں۔ عاشق اس آرزو میں مرتا ہے کہ معشوق کے ساتھ ایک بستر پر سوئے۔ یہ بھی نہ ہو تو اس کے زانو بزا نورہے۔ اگر اس کو دور کر دیں تو دور سے ہی نظارہ کرتا رہے۔ اگر اس کو گھر سے نکال دیں۔ تو دروازہ ہی پر رہ پڑے۔ اگر دروازہ سے بھی بڑھا دیں تو اس کی گلی میں رہے۔ اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو اس کے شہر کا رہنے والا ہو جائے۔ اگر شہر سے بھی نکال دیں تو جہاں کہیں بھی رہے معشوق کے شہر ہی کی طرف رخ کئے ہوئے رہے۔ اگر اس سے بھی روکیں تو دل ہی دل میں اس کو دیکھتا رہے اس کے خیال سے اس کو کون روک سکتا ہے۔ اس تمام گفتگو کا مطلب یہ ہے کہ معشوق عاشق کے سوا اور عاشق معشوق کے سوا نہیں رہ سکتا۔ عاشق کے لئے دونوں حالتیں مبارک ہیں کہ وہ کبھی وصال میں کبھی فراق میں ہوتا ہے بہر دو صورت ترقی کرتا ہی رہتا ہے۔ گھڑی دو گھڑی کے لئے کیوں نہ ہو۔ یہاں عاشق کے لئے ایک مشکل ہے وہ یہ کہ معشوق عاشق ہو جاتا ہے۔ عاشق میں ہر ہوس ہر آرزو کے بہاؤ کو جو تھا اپنے دباؤ سے دور کر دیا۔ عاشق میں اس کے روکنے کی مجال و طاقت نہیں اور یہ اس سے ممکن بھی نہیں ۔ یہاں معاملہ اس نوبت تک پہنچ جاتا ہے کہ اگر عاشق بھا گنا بھی چاہے تو بھاگ نہیں سکتا۔ دل کی دنیا کو معشوق کا جمال گھیرے ہوئے اس میں اترا ہوا شامل ہوتا ہے ایک دم کے لئے بھی اس سے علیحدہ یا جدا ہونا ممکن نہیں۔ عاشق راگ راگنی خوشنوائی گانے تان مارنے سے خالی نہیں ہوتا۔ نظم و نثر سنتا اس کو یاد کر لیتا ہے اس کو اپنے وقت کا ورد بنائے ہوئے رہتا ہے۔ عاشق یہ بھی کیا کرتا ہے کہ وہ معشوق کی صورت کو ایک کتاب میں اتارتا ہے اس کے شمائل اس کی شکل کو لکھتا ہے۔ اس کی تصویر بناتا ہے۔ مٹی پتھر لکڑی سونے چاندی سے صورتیں شکلیں بنا کر رات دن اس پر نظر جمائے رہتا ہے۔ اس سے اپنے آپ کو تسلی دیتا ہے۔ عاشق رات کو عزیز رکھتا ہے اور اس سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ وہ معشوق کی لَٹ کے جیسی کالی ہے عاشق رات کو اس لئے عزیز رکھتا ہے کہ اس میں چھپی چیز چھپی ہوئی ملتی ہے۔ عاشق رات کو اس لئے بھی دوست رکھتا عزیز جانتا ہے کہ دو کے درمیان جو کچھ ہوتا ہے اس سے دونوں کو بھی کوئی شعور نہیں ہوتا۔ ایک کا دوسرے کے ساتھ کیا معاملہ ہوا۔ دونوں بھی نہیں جانتے۔ عاشق ہمیشہ اپنے پسند کئے ہوئے دل کو بھلے لگے ہوئے گلہ کرتا رہتا ہے۔ عاشق نو مسلم ہے جو کچھ کرتا ہے اس کے لئے ایک عذر رکھتا ہے کہ یہ سب کچھ نہ جاننے سے ہوا۔ نادانی ہوئی کہ وہ ابھی عشق کی راہ چلنی نہیں سیکھا، دلداری کے مسائل کی تعلیم اس کو نہیں ہوئی۔ ابھی بچہ ہے۔ نیا نیا آیا ہوا ہے۔ جب بالغ ہوگا۔ مردوں کے حال میں پہنچے گا تو سب کچھ ٹھیک طور سے کر لے گا۔ عاشق کی معشوق سے شادی بھی ہو جاتی ہے چھوٹے بڑے بزرگ عزیز ،عزیز اقارب جاننے نہ جاننے والے سب جمع ہو جاتے ہیں۔ ہر طرح سے پورے اعزاز کے ساتھ اچھے کپڑے پہنا کر عطر و خوشبو پھولوں سے معطر کر کے روشنی کر کے سارے حرکات و سکنات سے اس کو روک کر دلہن بنا کر لاتے اور عاشق کے بغل میں بٹھلا دیتے ہیں اور مزہ کی بات یہ کہ سب خوشی کا اظہار کرتے تالیاں بجاتے ۔ ڈھول پیٹتے ہیں۔ گانا ہوتا ہے مبارک باد دی جاتی ہے۔ ساری چھپا ہٹ پردہ کو ترک کر کے اس کے سامنے کر دیتے ہیں۔ آہا آہا ایسا کون ہے۔ یہ کسی کو نصیب ہوتا ہے۔ کسی کے سننے میں بھی آیا ہے۔ اے میرے اللہ اے میرے اللہ ۔
عاشق کی زندگی معشوق کے خیال سے ہوتی ہے اس کے سوا وہ جی نہیں سکتا عاشق مرتا ہے تو اس کا مرنا درد، سوز کے سوا نہیں ہوتا۔ ایک عاشق وہ ہوتا ہے جو جمال مطلق پر مر مٹا ہوا ہوتا ہے یعنی جہاں کہیں بھی خوبی خوبصورتی ، شوخی، ناز نزاکت باغ پھول، جنگل، شادابی صاف ہوا دیکھتا ہے وہاں ٹھہر جاتا ہے۔ غور سے دیکھنے لگتا ہے ہر ایک سے ایک لذت ایک کیفیت ایک سرور پاتا ہے۔ ایک نئی قوت اس میں آ جاتی ہے۔ چنانچہ نظر باز کہتے ہیں کہ ایک لحظہ میں چھ ماہ کی قوت پیدا کر لیتا ہے۔ عشق جس کا پیشہ ہو وہ ہمیشہ جوان رہتا ہے بلکہ عنفوان شباب میں ہوتا ہے۔ اگر عاشق بوڑھے کو دیکھو تو سمجھو کہ اس نے عشق میں عاشقی میں بڑھاپا پایا ہے جوانوں کا استاد ہے۔ جوانوں ہی میں سے وہ بھی ہے۔ عاشق خوب ناچتا خوب ہاتھ پاؤں پٹکتا ہے۔ خوب گھومتا چکر کاٹتا آہیں کرتا ( گرم ٹھنڈی سانسیں بھرتا ) سینہ پیٹتا ہے۔ اس سے اس کو سکون و تسلی علاج ہاتھ آتا ہے۔ عاشق سماع کا مبتلا اس پر مر مٹا ہوا ہوتا ہے۔ عاشق و معشوق میں اگر کچھ معاملہ قصہ چل رہا ہے تو عاشق سماع سنتا ہے۔ سماع عاشق کو ٹھیک ٹھاک درست کر دیتا ہے۔ عاشق کے لئے سماع ایسا ہے جیسے کہ جلے ہوئے کے لئے دوائی جو جلن کو دور کر کے پوست ( کھال) کو ٹھیک کر دے۔ کبھی وہ دن بھی ہوتا ہے کہ عاشق و معشوق میں سلام و پیام جواب سوال نہیں ہوتا ۔ آہ و نالہ کی شنوائی نہیں ہوتی، عاشق کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ اگر معشوق سہارا نہ دے تو وہ فوری جھک جائے۔ عاشق کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ معشوق بے ہوشی کی کوئی چیز استعمال کرے تھوڑی دیر کے لئے ہی خوشی سے مست جھومتا آ جائے ۔ ممکن ہے کہ ایسی صورت میں کوئی بات سن لے مطلب نکل آئے۔ عاشق یہ چاہتا ہے کہ معشوق اس کو اس کے سامنے اس کو گالی دے برا بھلا کہے۔ اس کے لئے تدبیریں کرتا ہے تا کہ اس کا دل صبر کر سکے اس کی جان کو تسلی مل سکے۔ عاشق ہونے کی دلیل “دیکھنا” ہے لوگ تجربہ کی بناء پر یہ کہتے ہیں کہ عاشق کے جسم سے جو خون کا قطرہ زمین پر گرتا ہے وہ معشوق کا نقش بناتا ہے۔ یہ کیا ہے۔ یہی کہ عاشق معشوق کے ساتھ ایک ہو گیا ہے ایک خون ایک پوست ہو گیا ہے۔ اس کا نقش بن گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں فلاں ہوں۔ نام سے نام کو اتحاد ہو گیا۔ پورے طور سے مل گئے ایک ہو گئے ہیں خون سے خون گوشت سے گوشت مل گیا ۔ دونوں ایک جگہ جمع ہو گئے ہیں۔ عاشق معشوق کے نام کو گنگناتا ہے۔ تال سر میں کہتا ہے۔ غزل قصیدہ لکھتا ہے۔ یہ بہت ہی اچھی تدبیر ہے اس سے بہت سے معشوق اچھی طبیعت والے رام ہو گئے اور اس دام میں آ گئے عاشق اپنے آپ کو مردہ بنالیتا دانت پر دانت داب لیتا دم روک لیتا ہے گر پڑتا ہے۔ آزمانا چاہتا ہے کہ وہ اس سے کسی حد تک تعلق رکھتا ہے اور اس کے دل میں اس کی کتنی جگہ ہے وہ اس کو کتنا چاہتا ہے۔ اس کے مرنے سے کتنا رنجیدہ اور جینے سے کس قدر خوش ہوتا ہے اس کا مرنا اس کو رنجیدہ نمکین کرتا ہے یا نہیں۔ عاشق اپنے آپ کو زبردستی بیمار بناتا ہے تا کہ معشوق بیمار پرسی کو آئے کیونکہ یہ کہا گیا ہے کہ دوست کا دیکھنا بیمار کے لئے شفا ہے مگر وہ علت (بیماری) دوستی کی ہوتی ہے۔ عاشق اگر ملنے کا دروازہ بند پاتا ہے تو مسافرت اختیار کر لیتا ہے۔ سفر میں درد عشق کم تو نہیں ہوتا لیکن سفر کی محنتیں تکالیف اس کا کچھ بدل ہو جاتی ہیں۔ اس کو اسی درد و غم میں رہنے نہیں دیتیں۔ بہار کے موسم میں عاشق میں معشوق سے ملنے کا خیال زور پکڑ جاتا ہے۔ روز بروز شوق بڑھتا جاتا ہے۔ بیقراری بے چینی حد سے بڑھ جاتی ہے۔ موسم بہار میں عاشق مست و دیوانہ مستی میں چور رہتا ہے۔ بادل چھائے ہوئے ہوں بارش ہو رہی ہو تو اس میں بھی یہی صورت پیش آ جاتی ہے۔ ولولہ جوش انتہائی صورت میں زور دکھاتا ہے۔ عشق ان دو فصلوں میں انتہائی عروج کو پہنچ کر عاشق کو الٹ پھیر میں ڈال دیتا ہے۔ عاشق محبت کے قصے محبت کے نام بہت کہتا اور سنتا ہے۔ عاشق اندھیری راتوں میں ٹھیک ارادہ کر لیتا ہے۔ صحیح بلند ہمتی سے چھپے ہوئے مقامات اور کونوں میں جہاں معشوق ہوتا ہے داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے اور پہنچ جاتا ہے۔ اس کا پہنچنا اپنی ہییت کو بدلے بغیر نہیں ہوتا۔ وہ سینہ کے بل لیٹ جاتا ہے اور موری کے ذریعہ اندر پہنچ جاتا ہے۔ کوڑا کرکٹ کانٹے کو سینہ اور سر پر لے لیتا ہے تو اندر داخل ہوتا ہے۔ اگر مقصود حاصل ہو گیا تو بڑا کام ہو گیا۔ اگر نہ ہوا تو اسی راستہ سے باہر آتا ہے۔ یہ کس کام کے لائق ہے۔ کیا غرض پوری ہوئی ۔ کیا نام ہوا۔ لوگوں میں کیا مشہور ہوا۔ کیسا کام کیا۔ کیا اس کا دوست اس کا ہوا اسی میں رہتا ہے۔ عشق کے جال کے لئے ایک ملواح (وہ پرندہ جس کو جال میں باندھ دیتے ہیں تاکہ دوسرے پرندے اس کو دیکھ کر آئیں اور گرفتار ہو جائیں) درکار ہوتا ہے۔ عاشق معشوق سے بار بار کہتا ہے کہ میں تیرا وفادار ہوں۔ میرا حسب نسب ایسا ایسا ہے میرے ماں باپ ایسے ایسے ہیں، میرے باپ دادا یہ یہ تھے۔ میں کم عمر ہوں، بہت سے نو جوانوں سے بہتر و چالاک ہوں۔ خوش روش اور ڈیل ڈول کا اچھا ہوں ۔ عاشق معشوق جب آپس میں مل بیٹھتے ہیں تو عاشق معشوق سے کہتا ہے کہ تھوڑا سرمہ آنکھوں میں لگائے تو وہ جواب دیتا ہے کہ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ سلائی آنکھوں میں پھیری جائے اور میں پلک پر پلک رکھوں ۔ تیری بات سے یہ ثابت ہوا تو مجھ پر مر مٹا ہوا نہیں بلکہ میرے حسن و زیبائش پر تیری نظر ہے تو صورت پرست انسان ہے۔
عاشق اپنے آپ کو خود ہی تکلیف اور محنت میں ڈالتا ہے۔ خود ہی سینہ پیٹتا ہے۔ قینچی ہاتھ میں لے کر اپنے ہونٹ کاٹتا ہے۔ اس سے پوچھیں کہ اس سے کیا حاصل تو جواب دیتا ہے کہ معشوق کا جلال غلبہ کیا ہوا ہے۔ زوروں پر ہے۔ مجھ کو اس کی تاب نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے میں واپس آؤں مجھ پر اس کی نظر شفقت ہو جائے۔ وہ رحم کر دے۔ مجھ کو مجھ میں چھوڑ دے۔ عاشق کسی امیدواری کی بنا پر اپنے کام کو کم نہیں کرتا۔ اگر ایسا کرے تو اس حدیث سے حادثہ ظاہر ہو جاتا ہے جو اسی کی مراد کے خلاف ہو جائے گا۔ اگر اس سے کوئی امید رکھے تو وہ حسد و غیرت کم نہیں کرتا۔ عاشق کے لئے سخت حجاب اندھیرا پردہ مقصود سے دور رکھنے والا مرتبہ و منصب ہے۔ چاہے وہ بادشاہی پیغمبری مرشدی کیوں نہ ہو۔ یہ تینوں بھی سوز و درد میں جیتے ہیں لیکن ظاہر نہیں کرتے۔ اگر عشق پورے طور سے زور کرے۔ روک رکھنے کی طاقت ان میں نہ ہو تو دیوانہ کی طرح اپنے مطلب کو ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن وہ اس طرح کہ خود اس طلب سے لذت نہیں لیتے۔ یہ تینوں گروہ عشق ہی ہیں یا عشق نے ان کو کھا لیا ہے یا انہوں نے عشق کو کھا لیا ہے۔ عزت وقار تمکین ان کا نقد وقت ہوتا ہے۔ ان کے وجود کی بود عین شہود عشق ہے عاشق معشوق کو شرمندہ ممنون منت محتاج دیکھنا چاہتا ہے۔ عاشق شیر مرد ( بہادر ) ہوتا ہے۔ عاشق شجاع ( دلیر ) عاشق اپنے مطلب کا ہوتا ہے۔ عاشق کام کے نتیجہ کو نہیں سوچتا۔ عاشق کسی کام کا انجام سوچتا اس کی لے میں رہتا ہے۔ عاشق جب بوڑھا ہو جاتا ہے تو بہت ہی دل شکستہ رنجیدہ رہتا ہے۔ عشق متعدی ہے لازمی نہیں (ایک سے دوسرے تک پہنچتا ہے ایک ہی پر تمام نہیں ہوتا ) یعنی دل ایک شخص کو عزیز رکھتا ہے یعنی اس کے دل کی طرف ایک رغبت و التفات و توجہ ہو جاتی ہے۔ وہ اس سے ٹپک پڑتی ہے۔ یہ اثر کئے بغیر نہیں رہتی ۔ انتہائی شوق ہے نیکوں کو مجھ سے ملنے اور دیکھنے کا اور میرا شوق ان سے ملنے ان کو دیکھنے کا ان سے بہت زیادہ ہے۔ اگر عشق کے راستہ میں سچائی کے ساتھ پہلا قدم پڑ جائے تو پہلے ہی قدم میں معشوق پیشوائی و استقبال کے لئے آتا ہے۔ عاشق جادو کیا ہوا جیسا ہوتا ہے۔ جادو کیا ہوا وہی ہوتا ہے کہ جس کو اس کی گرفتاری معلوم نہ ہو۔ یہ بات اس پر ظاہر نہ ہو۔ عاشق جان باز ( جان لڑانے والا۔ جان پر کھیل جانے والا) ہوتا ہے۔ عاشق مرد با اختیار ہوتا ہے۔ عاشق ہر کام کا آدمی ہوتا ہے۔ عاشق میں بدلہ کا ڈر بد نامی رسوائی کا خوف نہیں ہوتا ۔ عاشق ہر کام سے گیا ہوا ہوتا ہے۔ عاشق کبوتر باز ہوتا ہے۔ کبوتر کو دل کی ہوا دیتا ہے۔ وہ معشوق کا نشان ہے وہ جانتا ہے یہ کس کے دل کی ہوا ہے اس میں کون اڑ رہا ہے اس تصور میں وہ یہ کھیل کھیلتا ہے کہ دونوں کا یہ ایک امتیازی نشان ہے۔ کیا نہیں جانتے کہ جو کبوتر اڑتا ہے وہ میری جان میرا ٹوٹا ہوا دل ہے۔ تو نے پر پکو ٹھے کھول دیئے ہیں کیا عجب کہ اسی اڑان میں بال و پر کھو کر گر پڑے۔ کبھی ایسا بھی اتفاق ہوتا ہے کہ کبوتر معشوق کی چھت پر اتر جاتا ہے۔ وہاں دانہ پانی حاصل کرنا چاہے تو عاشق کو ایک موقعہ ہاتھ آ جاتا ہے۔ وہ معشوق کے دروازہ پر کھڑے ہو کر چیخنا چلانا شروع کرتا ہے کہ میرا کبوتر یہاں آ گیا۔ خدا کے لئے واپس دے دو۔ معشوق کی عادت جیسی کہ ہوتی ہے وہ کہتا ہے کہ اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں۔ کبوتر کی یہاں گزر کیسے ہو سکتی ہے میرے گھر سے اس کو کیا نسبت۔ آخرش دونوں میں کبوتر کے لین دین کا معاملہ ہو جاتا ہے۔ بہر حال کسی نہ کسی بہانہ سے آنا جانا بات چیت کا موقع مل جاتا ہے۔ سیٹیاں بجانا۔ آنکھیں ملانا۔ گھاٹ لینا چھوڑ دینا۔
اب تم ہی دیکھ لو کہ عشق بازی کے کیا کیا دلی مراد ہوئے۔ اے محمد حسینی تم نے بہت کہا۔ اب قلم روک لو ۔ منہ زور گھوڑے کو بند کر لو۔ اس پر بات کو ختم کر دو۔ عشق کی منتہا یہاں تک لے آتی ہے۔ عاشق راستہ چلنا نہیں جانتا عشق کوئی سروکار نہیں رکھتا۔ عاشق کسی دین کی گرفت میں نہیں ہوتا ۔ عاشق کو کسی سے خوف و امید نہیں ہوتی ۔ عاشق جنت دوزخ سے نہیں ڈرتا ۔ عاشق خدا کو نہیں پہچانتا۔ عاشق خود کو کھویا ہوا ہوتا ہے۔ اب تم سمجھ لو کہ بقائے وجود کا اگر تصور کیا جا سکتا ہے تو یہ کہہ دو کہ یہ ایک وہم ہے۔
کے بود ما ز ما جدا مانده من و تو رفته و خدا مانده
(ہم کب ہم سے جدا رہتے ہیں میں تو چل دیا خدا رہ گیا)


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں