اخلاص اور صفائی کی کان(پہلا مراسلہ)

اخلاص اور صفائی کی کان کے عنوان سے پہلے مراسلے کا آٹھواں حصہ ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔

جو شخص اس مقام میں پہنچ جاتا ہے اس کا علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتا ہے۔ لہذا شریعت کی طرف اس کا نزول کرنا ، بارگا ہ الہٰی سے خاص کر اس نماز سے اس کا نکلنا نہیں ہوتا ہے جو اخلاص اور یہ صفائی کی کان ہے کیونکہ نماز میں اسرار کے میدان کشادہ ہوتے ہیں اور اس میں انوار الہٰی کی روشنیاں چمکتی ہیں۔

لہذا بہتر یہ ہے کہ مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) کے کلام میں نزول کو جسم کے ساتھ نزول پر محمول کیا جائے قلب کے ساتھ نزول نہ سمجھا جائے ۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ اور اس مفہوم پر مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) کا یہ قول دلیل ہے جس کی تشریح عنقریب آئے گی۔ بلکہ وہ اس مقام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ داخل ہوئے ) حضرت شعرانی   نے اپنے بعض جوابات میں فرمایا ہے۔ میں نے اپنے شیخ سیدی علی خواص سے دریافت کیا :۔ بندے کیلئے نماز کی حالت میں ، دو حالتوں میں سے کون سی حالت افضل ہے؟ کیا یہ حالت کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے کہ گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے آیا یہ حالت کہ، گویا کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھ رہا ہے؟ انہوں نے مجھ کو یہ جواب دیا ۔ بندے کی یہ حالت کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے کہ گویا کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھ رہا ہے۔ اس کی اس حالت سے افضل ہے کہ گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے پھر اس کی وجہ بہت تفصیل سے بیان فرمائی ۔

میں (احمد بن محمد بن  العجیبہ ) کہتا ہوں :۔ میں نےاس کلام پر اعتراض کیا تھا اور اس کو لکھا تھا اس کا مضمون یہ ہے ۔

عارفین باللہ اس پر متفق ہیں کہ عمل باللہ (اللہ تعالیٰ کے ساتھ عمل ) عمل للہ (اللہ تعالیٰ کیلئے عمل ) سے افضل ہے۔ کیونکہ باللہ مشاہدہ سے اور عمل للہ مراقبہ ہے۔ اور مشاہدے کا مقام ، مراقبہ کے مقام سے افضل واعلی ہے۔ لہذا مشاہدہ کے ساتھ نماز مراقبہ کے ساتھ نماز سے افضل ہے اور جس کو حضرت علی خواص نے لازم قرار دیا ہے، وہ غیر لازم ہے۔ پھر میں نے اپنا اعتراض اپنے شیخ الشیوخ حضرت مولائے عربی   کے سامنے پیش کیا تو وہ اس سے بہت خوش ہوئے اور حضرت علی خواص پر میرے اعتراض کو پسند فرمایا اور یہ خواص سے کچھ عجیب و غریب نہیں ہے۔

اور حضرت شعرانی نے تسہیل میں فرمایا ہے۔ جبکہ معلوم عطائے الہٰی اور خصوصی بخششیں ہیں ۔ تو یہ کچھ بعید نہیں ہے کہ بہت سے متاخرین کیلئے علوم ومعارف کے وہ ذخیرے جمع ہو جائیں ، جو بہت سے متقدمین کیلئے دشوار ہو گئے تھے۔ لہذا حقوق کے آسمان یا فوائد کی زمین کی طرف ان کا نزول صرف اجازت اور تمکین سے ہوتاہے۔ لیکن حقوق کی طرف ان کے نزول میں اجازت، شریعت کی اجازت سے متعلق ہے۔ کیونکہ شریعت کے کل حقوق یقینی اور مسلم ہیں اور مقررہ وقت کے ساتھ مقید ہیں اور اس میں تمکین اس حیثیت سے ہے کہ اس کو کوئی شرعی یا طبیعی رکاوٹ نہ لاحق ہو جو نزول سے روک دے۔ لیکن فوائد کی زمین کی طرف ان کے نزول میں اجازت الہام اور اعلام ( خبر دینا ) سے متعلق ہے۔ اس حیثیت سے کہ وہ اس معاملے میں آہستہ روی اختیار کر لے۔ یہاں تک کہ وہ بخوبی یہ سمجھےلے کہ اللہ تعالیٰ کی مراد یہی ہے۔

شیخ المشائخ حضرت عبد القادر جیلانی اپنی سیاحت کی حالت میں کچھ نہیں کھاتے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو یہ کہا جاتا تھا۔ میرا حق ادا کرنے کیلئے تم کچھ کھا لو۔

میں (احمد بن محمد بن  العجیبہ ) کہتا ہوں:۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی سمجھ رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کرتا ہے۔ اور لکیر کے فقیر سخت دل فقہاء میں سے بعض وہ فقیہ جس کے قلب پراللہ تعالیٰ نے مہر کر دی ہے وہ اس سے انکار کرتا ہے کہ عارفین اللہ تعالیٰ کی اجازت سے تصرف کرتے ہیں۔ لیکن وہ کمزوری کے شہر میں ہونے کی وجہ سے معذور ہے اس لیے کہ جو شخص کسی شے کو نہیں جانتا ہے، وہ اس کی مخالفت کرتا ہے

اورتمکین سے مراد : اللہ تعالیٰ کی صحیح سمجھ رکھنی ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اس سمجھنے میں کوئی شک وشبہ نہ باقی رہے کہ یہی اللہ تعالیٰ کی مراد ہے اس حیثیت سے کہ اس کیلئے کوئی شرعی یا طبعی رکاوٹ نہ دیکھے۔

اور ایسے ہی یقین میں رسوخ ( مضبوطی): کسی فعل کے ارادے کے حال میں معرفت میں ثابت ہوتا ہے۔ میں اس کے سمجھانے کیلئے ایک مثال بیان کرتا ہوں ۔ ایک شخص اپنے لڑکے کو اٹھا کر لے گیااور اس کو کسی باغ یا گھر میں اتار دیا۔ پھر اس کووہیں چھوڑ کر چلا آیا ، پھر کچھ لوگ آئے اور اس سے اس جگہ اترنے کیلئے اس کے باپ کی اجازت کے بارے میں مخالفت کرنے لگے اور اس سے کہنے لگے کہ تم اس جگہ بغیر اجازت کے اترے ہو تو اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہے کہ وہ اس جگہ باپ کی اجازت سے اترا ہے۔ تو وہ اپنی قسم میں سچا ہوگا کیونکہ جب اس کے باپ نے اس کو اس جگہ اتارا تو یہی اس کے باپ کی صریح اجازت ہے۔ اگر چہ اس نے اپنی زبان سے اجازت کا لفظ نہ کہا ہوا اور کسی جاہل یا مغرور کے سوا کوئی اس سے انکار نہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے تمام معاملات میں ہم کو اپنی سمجھ عطا کر کے ہمارے اوپر احسان فرمائے ۔آمین۔

پھر مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اپنے قول اذن اور تمکین کے ساتھ    کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرمایا ۔

فلم يَنزِلُوا إِلَى الْحُقوقِ بِسُوءٍ الْآدَبِ وَالْغَفْلَةِ، وَلَا إِلَى الْحُظُوظِ بِالشَّهْوَةِ وَالْمُتعَةِ پس وہ حقوق کی طرف بے ادبی اور غفلت کے ساتھ نہیں اترے۔ اور نہ فوائد کی طرف خواہش اور نفس کے فائدے کیلئے اترے

میں (احمد بن محمد بن  العجیبہ ) کہتا ہوں ۔ بے ادبی کے ساتھ نزول یہ ہے کہ ان کا نزول بدلہ حاصل کرنے کیلئے ہو اورغفلت کے ساتھ نزول:۔ عمل کی حالت میں نفس کا دیکھنا ہے۔ اور نفس کا دیکھنا عارفین کے نزدیک گناہ ہے جس سے وہ استغفار کرتے ہیں۔ لہذا نماز کے بعد ان کا استغفار ، ان کے عمل میں ان کے نفس کے حاضر ہونے سے ہوتا ہے اس لیے کہا گیا ہے

وُجُودُكَ ذَنْبٌ لَا يُقَاسُ بِهِ ذَنْبٌ    تمہارا وجود ایسا گناہ ہے جس کی طرح کسی دوسرے گناہ کا خیال نہیں کیا جا سکتا ہے

حاصل یہ ہے:۔ اہل بارگاہ قدس کا نزول اور ان کا عمل اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوتا ہے وہ اپنی ذات کیلئے کوئی اختیار اور قوت نہیں دیکھتے ہیں، اور نہ وہ اپنے رب سے کوئی جزا اور بدلہ چاہتے ہیں ۔ اس لیے کہ دوسرے کے عمل پر جزا اور بدلہ چاہنا محال ہے، اور یہ حقوق کے آسمان کی طرف ان کے نزول کی حالت میں ہوتا ہے۔ لیکن فوائد کی زمین کی طرف ان کا نزول ۔۔ تو وہ صرف عبودیت کے حقوق کے ادا کرنے کیلئے ہوتا ہے۔ لہذا ان کا نزول نفس کی خواہش اور فائدہ کیلئے نہیں ہوتا ہے اس لیے کہ ان کے نفوس فنا ہو چکے اور مر چکے ہیں اور ان کے فوائد حقوق بن گئے ہیں ۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں