اسم مصون کا توسل(مناجات 22)

یہ بائیسویں دعا ہے کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ کی جوتالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔

بائیسویں مناجات

  اِلٰهِىْ عَلّمْنِىْ بِعِلْمِكَ الْمَخْزُونِ، وَصُنِّى بِاسْمِكَ الْمَصُونِ
اے میرے اللہ ! اپنے پوشیدہ غیبی علم میں سے مجھ کو علم عطا فرما۔ اور اپنے اسم پاک مصون (محفوظ)کے طفیل میری حفاظت فرما۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں:۔ علم محزون : وہ وہبی علم ہے جس کا فیضان علام الغیوب کی بارگاہ سے قلوب پر ہوتا ہے۔ وہ کسی تدبیر اور محنت سے نہیں پایا جا سکتا ہے۔ اور کسی دفتر اور کتاب سے حاصل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کمال سے اہل اللہ کی صحبت کی حکمت کے ذریعے یا صرف فضل وکرم سے عطا فر مایا جاتا ہے۔
حدیث شریف میں حضرت رسول اللہ ﷺ سے روایت کی گئی ہے۔ حضرت علی نے فرمایا ہے:۔
إِنَّ مِنَ الْعِلْمِ كَهَيْئَةِ الْمَكْنُونِ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا الْعُلَمَاءُ بِاللَّهِ تَعَالَى ، فَإِذَا نَطَقُوا بِهِ لَا يُنْكِرُهُ إِلَّا أَهْلُ الْعِزَّةِ بِاللَّهِ بے شک بعض علیم پوشیدہ موتی کی طرح ہیں۔ ان کو نہ تعالیٰ کا علم رکھنےوالے (عارف) کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے۔پس جب وہ اس علم کے ساتھ بات کرتے ہیں تو اس کا انکار اللہ تعالیٰ سے جاہل ہی کرتا ہے ۔ اور دو علوم ربوبیت کے وہ اسرار ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق سے پوشیدہ رکھا ہے اور ان سے صرف اپنے خواص اولیائے کرام ہی کو آگاہ فرمایا ہے۔لہذا جب کبھی انہوں نے اس کے نااہل کے سامنے اس علم کی بات کی ، تو نا اہلوں نے ان کی تردید کی ۔ بلکہ اکثر اوقات ان کا خون مباح کر دیا ہے ۔اور انہیں علوم میں سے ، قضا و قدر کے اسرار اور غیبی عجائب سے آگاہی ہے ۔ اور انہیں علوم میں سے علوم کی کنجیوں اور سمجھ کے خزانوں سے آگاہی ہے۔ لہذا وہ لوگ اپنی فکروں کے نتیجوں میں حکمتوں کی وہ موتیاں اور علوم کے وہ یاقوت نکالتے ہیں۔ جن کے بیان سے زبانیں گونگی اور ان کی برداشت سے عقلیں عاجز ہو جاتی ہیں۔
حضرت ابو بکر واسطی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں فرمایا ہے (وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ) اور وہ لوگ جو علم میں مضبوط ہیں کہتے ہیں رَاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ علم میں مضبوط ، وہ لوگ ہیں جن کی روحیں غیب الغیب اور سر السر میں مضبوطی سے قائم ہو گئیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو جو معرفت عطا کرنی تھی وہ معرفت عطا کی ۔ اور وہ علم و معرفت کی ترقی کی طلب میں سمجھ کے ساتھ علوم کے سمندروں میں گھس گئے ۔ لہذا ان کے سامنے غیب کے خزانوں کے ذخیروں میں سے کتاب اللہ کے ہر حرف اور کلام اللہ کی ہر آیت میں وہی معلومات کے عجائب منکشف ہو گئے تو وہ کامل حکمت اور اعلیٰ فصاحت کے ساتھ باتیں کرنے لگے۔ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے گروہ ہیں ۔ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے گروہ ہیں ۔ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے گروہ ہیں ۔ بعض تابعین نے فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ اپنے اسرار صرف اپنے امانت دار اولیائے کرام پر بغیر سننے اور پڑھنے کے ظاہر فرماتا ہے۔
حضرت شیخ ابو العباس مرسی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: فقہا یعنی علماء جن علوم میں مشغول ہیں ۔ ان میں ہم ان کے ساتھ شریک ہیں۔ لیکن جن علوم میں ہم مشغول ہیں۔ ان میں وہ لوگ ہمارے ساتھ شریک نہیں ہیں ۔ اور حضرت شیخ ابو العباس کا اکثر کلام عقل اکبر ، اور اسم اعظم اور اس کی چاروں شاخوں اور اولیائے کرام کے دائروں اور موقنین کے مقامات ، اور مقربین کے املاک (ملک کی جمع ) ، اور اسرار کے علوم ، اور اذکار کی امداد، اور مقادیر ( قضا و قدر ) کا دن اور تدبیر کی شان ، اور پیدائش کا علم ، اور مشیت کا علم، اور قبضے کی شان اور رجال الغیب، اور افراد کے علوم ، اور قیامت کی خبروں کے بارے میں ہے۔ اور یہ سب کے سب علم مخزون میں سے ہیں۔ اور مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے جو حفاظت طلب کی ہے۔ وہ اغیار کے دیکھنے، یا اللہ واحد قہار تک نہ پہنچ کر انوار کے ساتھ مشغول ہو جانے سے حفاظت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا اسم پاک مصون اس کا وہ اسم اعظم ہے کہ جب اس کے وسیلے سے دعا کی گئی تو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا۔ اور جب اس کے واسطے سے مانگا گیا تو اللہ تعالیٰ نے عطا فر مایا۔ اور اس کا راز : ان اشیاء میں جو اللہ کے وسیلے سے مانگی گئی ہیں۔ اس کے تصرف کا ظاہر ہونا ہے ۔ وَاللَّهُ تَعَالٰی أَعْلَمُ ۔
پھر جب اغیار سے حفاظت ثابت ہو جاتی ہے تو قلب اسرار کی بارگاہ میں داخل ہو جاتا ہے۔
اور وہ سالکین و مجذوبین میں سے مقربین کی بارگاہ ہے۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں