قربت و بعد(مناجات 09)

یہ نویں دعا ہے کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ کی جوتالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔

نویں مناجات

 إِلٰهِي مَا أَقْرَبُكَ مِنِّى وَمَا اَبْعَدُنِي مِنْكَ، وَمَا أَرٌاَفُكَ بِيْ، فَمَا الَّذِي يَحْجُبُنِي عَنْكَ؟
اے میرے اللہ ! مجھ سے زیادہ تجھ سے قریب کون شے ہے۔ اور مجھ سے زیادہ تجھ سے دور کون شے کی ہے۔ اور تیری رافت ( مہربانی ) میرے ساتھ کتنی زیادہ ہے پھر وہ کون سی شے ہے جو مجھ کو تجھ سے محجوب کرتی ہے ۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں:۔ بندے سے اللہ تعالیٰ کا قرب : رحمت اور انتخاب ، اور تقریب اور مقبولیت کا قرب ہے۔ اور یہ خواص الخواص کے لئے ہے۔ اور عوام کے لئے قرب : ۔ احاطہ اور قدرت ، اور علم و مشیت اور تصریف وقہریت کا قرب ہے۔
اور یہاں مراد پہلا یعنی خواص الخواص کا قرب ہے۔ پس بے شک بندے کی اس کے رب سے دوری ، صرف اس کی بے ادبی کی وجہ سے ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ تو ہرشےسے قریب ہے۔ اور ہرشے کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کوئی شے اس سے کسی شے سے زیادہ قریب نہیں ہے۔ اور کوئی شے اس سے کسی شے سے زیادہ دور نہیں ہے ۔ اور بندے سے اس کے رب کی دوری صرف اس کا وہم اور اس کا بر افعل ہے۔ اس لئے مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے تواضع اور ادب کے ساتھ کہا
اے میرے اللہ ! تیرے لطف اور تیری رافت اور تیرے علم اور تیرے احاطہ کی بناء پر مجھ سے زیادہ تجھ سے قریب کون سی شے ہے ۔ اور میرے وہم اور میری بے ادبی کی بناء پر مجھ سے زیادہ تجھ سے دور کون سی شے ہے۔ یا اوصاف ربوبیت کے لحاظ سے مجھ سے زیادہ تجھ سے قریب کون سی شے ہے اور اوصاف عبودیت کے لحاظ سے مجھ سے زیادہ تجھ سے دور کون سی شے ہے۔ کیونکہ ربوبیت کے اوصاف بلند مرتبہ اور بڑی شان والے ہیں۔ اور عبودیت کے اوصاف کم تر در جے اور ادنی مرتبے والے ہیں۔ لہذا دونوں کے ایک مقام میں باہم لازم ہونے کے باوجود، مرتبہ میں دونوں کے درمیان کوئی مناسبت نہیں ہے۔ دونوں میں وحدت کی تحقیق کے اعتبار سے ، دونوں قیام میں با ہم لازم ہیں ۔ اور احکام میں متضاد ہیں۔
اور رافت رحمت اور مہربانی کا زیادہ شدید ہونا ہے اور رافت ، قرب و وصال کی زیادتی کا تقاضا کرتی ہے۔ اور غیریت اور جدائی کی نفی کرتی ہے۔ اور غیریت اور جدائی ہی حجاب ہے ۔ اس لئے مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اپنے لئے اپنے مولائے حقیقی کی رافت اور قرب کی زیادتی کے باوجود،اپنے اور اس کے درمیان حجاب کے وجود پر تعجب ظاہر کیا ہے۔ کیونکہ جس اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر مہربانی کی۔ اور تم کو پناہ دی۔ یہ ناممکن ہے کہ تم اس کو چھوڑ کر اس کے غیر کی طرف متوجہ ہو جاؤ ۔
حکمت میں مرقوم ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندے! میں نے کل کا ئنات کو جس میں ملک اور اس کی کل اشیاء اور ملکوت اور اس کی کل اشیاء ہیں، تیرے سامنے سرنگوں کر دیاہے۔ لہذا تو میری تائید کی بناء پر میں ہو گیا ہے۔ اور میں اپنی سپرد کی ہوئی شے کی بنا پرتو ہو گیا ہوں ۔ لہذا تو ابد تک زندہ رہ۔ کیونکہ تجھ کو ایسا مقام حاصل ہو گیا ہے جس میں کوئی شے تجھ سے مزاحمت نہیں کرسکتی ہے۔ اے میرے بندے! میں نے تیرا حجاب چاک کر دیا ہے اور تیرے لئے دروازہ کھول دیا۔ اور تیرے سامنے تعجب خیز امر ظاہر کر دیا۔ لہذا تو اپنی عقلمند قوم تک اس کو پہنچادے۔ اگر چہ وہ لوگ تجھ کو جادو گر یا جھوٹا کہیں اور چونکہ میں نے تجھ کو بہترین اخلاق عطا فر مایا ہے۔ اس لئے تو ان کو اس حال میں چھوڑ دے۔ کہ وہ یہ کہتے رہیں (ان هذا إِلَّا اخْتِلَاقٌ تو صرف افترا(بہتان) ہے۔
اے میرے بندے! میں نے تجھ کو ایسا بنا دیا ہے کہ جب تو کسی شے کے لئے کہے کن تو ہو جا۔ تو وہ ہو جائے۔ اور اگر لوگ تجھ کو جادوگر یادیوا نہ کہتے ہیں تو اس کی کوئی ذمہ داری تیرے اوپر نہیں ہے۔ تو حوض کوثر کا خالص شراب پیتا ہے اور وہ یہ کہتے ہیں:
اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ يُّؤْثَرُ صرف دوسروں سے نقل کیا ہوا جادو ہے ۔
تو اپنے سر کے ساتھ آسمان کی طرف چڑھا۔ اور میں نے تجھ کو اسموں کی خصوصیتوں کی تعلیم دی۔ لہذا تو حقیقت کے خزانوں کا امین، اور صراط مستقیم کی طرف کل مخلوقات کی رہنمائی کرنے والا ہے۔ اے میرے بندے! جس شخص نے وزیر کے اوپر نکتہ چینی کی۔ اور اس کے حکم کو حقیر سمجھا۔ توبے شک اس نے امیر یا بادشاہ کے حکم کو ٹھکرادیا۔ اور اس کی ناقدری کی ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔
مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرتا ہے۔ اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔
لہذا جب اللہ تعالیٰ اپنے احسان و فضل سے اپنے بندوں میں سے کسی بندے کو مقبول کر لیتا ہے۔ تو وہ اس کو اپنے فضل سے اپنے قریب کر لیتا ہے۔ اور اس کو اپنی بارگاہ قدس کے لئے منتخب کر لیتا ہے۔ اور اس کو اس کی طبیعت کی کثافتوں سے پاک کر دیتا ہے اور اس کی ذات کو اس سے نفس کی سرکشی سے محفوظ کر دیتا ہے۔ لہذا وہ اللہ تعالیٰ کے اہل قرب میں سے ہو جاتا ہے اور اس کے قلب کی آنکھ سے حجاب اٹھ جاتا ہے۔ پھر اس کی روح احدیت کے سمندر میں غرق ہو جاتی ہے۔ اور اس کا سر الوہیت کے جلال میں گم ہو جاتا ہے۔ پس اگر وہ ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کی ذات سےمخلوق کی رہنمائی مقصود ہوتی ہے تو اس کو اپنے وجود کے سر کے شہود کی طرف واپس کر دیا جاتا ہے۔ اور اس کے قلب کی آنکھ میں سر حقیقت کاسرمہ لگا ہوتا ہے۔ اور اس کی ذات ایسا وجود حاصل کر لیتی ہے، جو اس پر نمایاں ہوتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ جو تمام مخلوق کو فیض پہنچاتا ہے۔ پھر وہ اپنی ذات کو صرف یہی خیال کرتا ہے۔
‌كَسَرَابِۭ بِقِيْعَةٍيَحۡسَبُهُ ٱلظَّمۡـَٔانُ مَآءً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَهُۥ لَمۡ يَجِدۡهُ شَيۡـٔٗا وَوَجَدَ ٱللَّهَ عِندَهُۥ
جیسےریگستان کی ریت۔ پیاسا اس کو پانی سمجھتا ہے۔ لیکن جب اس کے پاس پہنچا۔ تو اس کو کچھ نہیں ملا۔ اور وہاں صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت نظر آئی۔
اس مقام میں بندہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ، اور اللہ تعالیٰ کے لئے ہو جاتا ہے۔ اس کا حکم اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس طریقے پر کہ اس میں ماسوی اللہ کا کوئی شائبہ باقی نہیں رہتا ہے۔ اور کوئی شے اس کو اللہ تعالیٰ سے محجوب نہیں کرتی ہے۔
لہذا یہی وہ شخص ہے جس سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے اور اس کو اپنی بارگا ہ قدس کے لئے قبول کرتا ہے۔ اور اس کو اپنی مناجات و انسیت کے لئے منتخب کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کا کان اور اس کی آنکھ اور اس کا مددگار بن جاتا ہے۔ اور اس کی گزرگاہ اور ٹھکانوں میں اس کا محافظ ہو جاتا ہے۔اس وقت وہ ہر حال میں خاص کر اختلاف احوال کے وقت عارف باللہ ہوتا ہے۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں