اللہ تعالی کی کمال پردہ پوشی (چودھواں باب)

اللہ تعالی کی کمال پردہ پوشی کے عنوان سے چودھویں باب میں  حکمت نمبر 131 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔

چودھواں باب

حضرت مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اسی احسان اور فضل و کرم کو چودھویں باب کی ابتداء میں بیان فرمایاہے
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم ، بہترین ساتھی ، یقین کے نور مخلوق کی حیثیت حجاب کی حقیقت کے بیان میں
اللہ تعالی کی خوبصورت پردہ پوشی
حضرت مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) رضی اللہ عنہ نے فرمایا
131) لولا جَميلُ سَترِهِ لَمْ يَكُنْ عَمَلٌ أهْلاً لْلْقَبولِ.
اگر اللہ تعالی کی بہترین پردہ پوشی نہ ہوتی تو کوئی عمل قبول کرنے کے لائق نہ ہوتا ۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں :۔ اس لئے کہ وہی عمل قبول کرنے کے لائق ہوتا ہے۔ جس میں قبولیت کے لوازمات کثرت سے ہوتے ہیں۔ اور قبولیت کے لوازمات :- اخلاق کا سر اور انتہائی درجہ کی حضوری اور اپنے اختیار اور قوت سے بری ہونا ہے۔ اور یہ بہت ہی کم ہوتا ہے لہذا اگر اللہ تعالیٰ اپنی بہترین پردہ پوشی سے ہمارے اوپر فضل و کرم نہ فرماتا اور اپنے عظیم لطف و احسان سےہمارے عیوب کو نہ ڈھانپتا تو کوئی عمل قبول کرنے کے لائق نہ ہوتا۔ لیکن وہ اللہ رحمن و رحیم ہے جس نے ہم کو اعمال کی توفیق عطا کر کے احسان فرمایا۔ اور پھر اُس کو قبول کر کے اور ہماری طرف متوجہ ہو کر احسان فرماتا ہے۔
ایک عارف نے فرمایا ہے :۔ یہاں صرف اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے اور ہم اُس کی پردہ پوشی میں زندگی گزارتے ہیں۔ اگر پردہ اُٹھا دیا جائے تو بہت بڑا معاملہ (فساد ) بر پا ہو جائے۔
حضرت یحییٰ بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے :۔ بے چارہ آدم کی اولاد، ایک معیوب جسم اور معیوب قلب کا مجموعہ ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ان دو معیوب چیزوں سے بغیر عیب کا عمل کر کےنکل جائے (لیکن یہ ممکن نہیں ہے )
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں : اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :- أولئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا یہی وہ لوگ ہیں۔ جن سے بہترین عمل کو قبول کرتے ہیں ۔
پس اللہ تعالیٰ نے عنھم فرمایا ۔ کیونکہ عن تجاویز پر دلالت کرتا ہے۔ منھم نہیں فرمایا کیونکہ من عمل کامل کا تقاضا کرتا ہے۔ تو گویا اللہ تعالیٰ نے فرمایا :- أولئك الَّذِينَ نَتَجَاوَزُ عَنْهُمْ فِي أَعْمَالِهِمْ فتتقبلها مِنْهُمْ یہی وہ لوگ ہیں ۔ جن سے اُن کے اعمال میں ہونے والے نقائص سے ہم تجاوز کرتے ہیں ۔ ( نظر انداز کرتے ہیں) پھر ان اعمال کو ہم اُن کی طرف سے قبول کرتے ہیں۔ واللہ تعالٰے اَعْلَمُ
حضرت رسول اللہ ﷺ سے روایت کی گئی ہے۔ حضرت نے فرمایا ہے :-
البَلاءُ وَالْهَوَى وَالشَّهْوَةُ مَعْجُونَةٌ بِطِينِ ادم مصیبت ،خواہش اور شہوت آدمی کی مٹی میں ملائی ہوئی ہے۔
بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا یہی مفہوم ہے:۔
إِنَّا خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن نُّطۡفَةٍ ‌أَمۡشَاجٖ نَّبۡتَلِيهِ ہم نے انسان کو ملے ہوئے نطفے سے پیدا کیا۔ تا کہ ہم اُس کی آزمائش کریں۔
پس انسان کی خمیر میں بلا ، خواہش اور شہوت ملائی ہوئی ہے ۔ تو آدمی انہی سے مرکب ہے۔ لہذا یہ تینوں اُس وقت تک انسان کے ساتھ لازم رہتی ہیں،جبتک اُس کی بشریت قائم رہتی ہے۔ پھر جب بشریت ظاہری یا باطنی طریقے پر زائل ہو جاتی ہے۔ تو مخلوط نطفہ کا حکم باقی نہیں رہتا ہے بلکہ نورانی روح کا حکم اُس کے اوپر صادر ہوتا ہے۔ وَاللَّهُ تَعَالٰی أَعْلَمُ


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں