باطنی امانتیں (باب دوم)

باطنی امانتیں حکمت نمبر28

باطنی امانتیں کے عنوان سے  باب  دوم میں  حکمت نمبر29 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمدعبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
وہ امور جن سے ابتداء روشن ہوتی ہے۔ اور وہ انتہا کے روشن ہونے کی علامات ہیں ۔ وہ باطنی احوال ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ، اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ، یا اللہ تعالیٰ کی طرف شوق و اشتیاق کا زیادہ ہونا۔ لیکن ظاہری جسم پر ان کا اثر ظاہر ہونا لازمی ہے۔ جیسا کہ مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اپنے اس قول میں فرمایا ہے۔
28) مَا اسْتُودِعَ في غَيْبِ السَّرائِرِ ظَهَرَ في شَهادةِ الظَّواهِرِ.
اللہ تعالی نے باطن کے غیب میں جو امانت رکھی۔ اس کا اثر ظاہر کی شہادت میں ظاہر ہوا۔

قلوب میں بھلائی یا برائی

میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں: اللہ تعالیٰ نے قلوب میں بھلائی یا برائی ، نور یا ظلمت ،علم یا جہالت، رحم یا بے رحمی بخل یا سخاوت تنگی یا فراخی ، بیداری یا غفلت ، معرفت یا انکار وغیر واچھے اخلاق یا برے اخلاق میں سے جو کچھ امانت رکھ دی ہے۔ یہ لازمی ہے کہ ان کے آثار ادب، اور تہذیب اور سکون ، اور اطمینان ، اور سنجیدگی، اور بخشش اور معافی ، اور غصہ اور بے قراری و غیر قلبی احوال اور جسمانی اعمال اعضائے جسم پر ظاہر ہوں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔ تَعْرِفُهُمْ بِسِيمَاهُمْ) تم ان کو ان کی نشانیوں سے پہچان لو گئے ۔ اور دوسری جگہ فرمایا: (سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ) ان کی نشانیاں ان کے چہروں میں ظاہر ہیں۔ حضرت نبی کریم اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:۔ مَنْ سَرَّ سَرِيرَةٌ ، كَسَاهُ اللَّهُ رِدَاءَ هَا ہرشخص باطن کو خوش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو اس خوشی کی چادر اڑھا دیتا ہے ۔ پس جسمانی افعال قلبی احوال کے تابع ہیں۔ لہذا جس شخص کے باطن میں اس کے مولائے حقیقی کی معرفت امانت رکھی گئی۔ وہ اس کے ماسوا کو نہیں طلب کرتا ہے۔ اور جس کے باطن میں اس کے مولائے حقیقی سے جہالت اور غفلت امانت رکھی گئی ۔ وہ اس کے ماسوا کی طلب میں مشغول رہتا ہے۔ اسی طرح ظاہری احوال باطنی احوال کے تابع ہیں جیسا کہ پہلے مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) کے اس قول کے بیان میں گزر چکا ہے:۔ احوال کے واردات بہت قسم ہو نیکی بناء پر اعمال کی جنسیں بہت قسم کی ہو گئی ہیں۔ پس ظاہر دلیل ہے باطن کی۔ اور بات صفت ہے بات کرنے والے کی ۔ جو کچھ تمہارے باطن میں ہے، وہی تمہارے منہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ ہر برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس میں ہوتا ہے۔ اور قلوب میں جو کچھ پوشیدہ ہوتا ہے اس کا اثر چہروں پر نمودار ہوتا ہے۔ وَاللَّهُ تَعَالٰی أَعْلَمُ ۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں