باطن کے اسرار کی چادر (چودھواں باب)

باطن کے اسرار کی چادر کے عنوان سے چودھویں باب میں  حکمت نمبر 139 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
چنانچہ ظاہر اور باطن کی تشریح کی طرف اپنے اس قول میں اشارہ فرمایا :-
139) أظْهَرَ كُلَّ شَيْءٍ لِأنَّهُ الباطِنُ، وَطوى وُجودَ كُلِّ شَيْءٍ لِأنَّهُ الظّاهِرُ.
اللہ تعالیٰ نے ہرشے کو ظاہر کیا ۔ اس وجہ سے کہ وہ باطن ہے اور ہرشے کے وجود کو پوشیدہ کیا ۔ اس وجہ سے کہ وہ ظاہر ہے۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں:۔ اس کا مفہوم یہ ہے:۔ اللہ تعالیٰ کا اسم پاک باطن جس کے حال میں اشیاء کے ظاہر ہونے کا تقاضا کرتا ہے۔ تا کہ اس کےحس کے ظاہر ہونے کے سبب وہ باطن (پوشیدہ ) ہو جائے ۔ کیونکہ حس باطن کے اسرار کی چادر ہے۔ اور اس کا اسم پاک ظاہر اشیاء کے چھپ جانے یعنی فنا ہو جانے کا تقاضا کرتا ہے
تا کہ وہ اس شے کے ساتھ ظاہر ہو۔ جو اس سے ظاہر ہوتی ہے۔ مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) کے اس قول کا یہی مفہوم ہے۔
اس نے ہرشے کو ظاہر کیا۔ اس سبب سے کہ وہ باطن ہے تا کہ اس کی پوشیدگی اس کے ساتھ ثابت ہو جائے ۔ اور ہرشے کے وجود کو پوشیدہ کر دیا۔ اس سبب سے کہ وہ ظاہر ہے۔ تا کہ اس کے انفرادیت ( یکتائی ) اس کے اندر ظاہر ہونے کے ساتھ ثابت ہو جائے۔ حاصل یہ ہے:۔ اللہ تعالیٰ کے قول : وہی ظاہر ہے میں حصر ( محدود کرنا ) اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے ساتھ کوئی ظاہر نہیں ہے۔ لہذا اشیاء کا وجود پوشیدہ اور فنا ہو گیا۔ اور اس کے قول : وہی باطن ہے میں حصر ، اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے سوا کوئی باطن (پوشیدہ نہیں ہے۔ لہذا تمام اشیاء اپنے ظاہر ہونے کے باوجو دفنا ہو گئیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کا کلام اس بات پر دلیل ہے۔ کہ وہ شے ، جس کے ساتھ وہ ظاہر ہے، وہی ہے، جس کے اندر وہ پوشیدہ ہے۔ اور وہی ، جس کے اندر وہ پوشیدہ ہے ۔ جس کے ساتھ وہ ظاہر ہے۔ ورنہ حصر درست نہ ہوگا۔
تو اگر تمہارا یہ اعتراض ہو ۔ کہ دو مقابل چیزیں جمع نہیں ہوسکتی ہیں۔ تو تم نے ان دونوں کو ایک ذات میں کس طرح جمع کر دیا؟
تو میرا جواب یہ ہے ۔ دونوں ایک مقام میں وارد نہیں ہیں ۔ بلکہ دونوں دو اعتبار سے ہیں۔ یعنی اس کا اسم پاک ظاہر جس کے اعتبار سے عالم حکمت میں ہے۔ اور اس کا اسم پاک باطن حقیقت کے اعتبار سے عالم قدرت میں ہے۔ لہذا حکمت ظاہر ہے اورقدرت باطن ہے۔ یا تم اس طرح کہو ۔ وہ ربوبیت کے مظہروں کے اعتبار سے ظاہر ہے۔ اور عبودیت کےجسموں کے اعتبار سے باطن ہے۔ یا اس طرح کہو :- وہ تعریف کے اعتبار سے ظاہر ہے۔ اور کیفیت کے اعتبار سے باطن ہے۔ لہذاذات پاک ایک ہے اور اعتبارات بہت ہیں اور ایسا اکثر ہوتا ہے۔ تو حاصل یہ ہوا : حق سبحانہ تعالیٰ اپنی پوشیدگی میں ظاہر ہے اور اپنے ظہور میں پوشیدہ ہے۔ جس کے ساتھ وہ ظاہر ہے وہ وہی ہے جس میں وہ پوشیدہ ہے۔ اور جس میں وہ پوشیدہ ہے ، وہ وہی ہے جس میں وہ ظاہرہے۔
یعنی جس میں وہ اپنی حکمت سے ظاہر ہے۔ اس میں اپنی قدرت سے پوشیدہ ہے۔ اور جس میں وہ اپنی قدرت سے پوشیدہ ہے۔ اس میں اپنی حکمت سے ظا ہر ہے۔ اور وہ وہی ہے جس کو ایک عارف نے اپنے کلام میں مراد لیا ہے ۔
لَقَدْ ظَهَرْتَ فَلَاتَخْفٰی عَلٰى أحَدٍ إلَّا عَلَى أَكْمَهِ لاَ يُبْصِرُ الْقَمَرَا
تو ایساظا ہر ہے۔ کہ کسی پر پوشیدہ نہیں ہے۔مگر ایسے اندھے پر جو چاند کو بھی نہیں دیکھ سکتا ہے
لٰكِنْ بَطَنْتَ بِمَا أظْهَرْتَ مُحْتَحِبًا وَكَيْفَ يُعرَفُ مَنْ بِالْعِزَّة ِاسْتَتَرَا
لیکن تو اس کے ساتھ پو شیدہ ہوا، جس کو تو نے پوشیدگی کی حالت میں ظاہر کیا۔ اور وہ ذات پاک کس طرح پہچانی جاسکتی ہے۔ جو عزت کے ساتھ پو شیدہ ہے۔ والله تعالیٰ اعلم
(تنبیہ ) میں نے اپنے شیخ اور ان کے شیخ سے ازلی جوہر کے بارے میں اس کے ظاہر ہونے سے پہلے کے متعلق سوال کیا تھا : کیا اُس کا نام ظاہر اور باطن رکھا جا سکتا ہے ۔ یااب اُس کی لطافت کی بنا پر اس کو صرف باطن کہا جا سکتا ہے؟ تو انہوں نے مجھے جواب دیا:- جو ظاہر ہونے سے پہلے تھا۔ وہ ظاہر ہونے کے بعد بھی وہی ہے۔ اور جو ظا ہر ہے۔ وہ اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے۔ جو ازل میں تھا۔
كَانَ اللَّهُ وَ لَا شَيءَ مَعَهُ ، وَ هُوَ الآنَ عَلَى مَا عَلَيْهِ كَانَ
اللہ تعالیٰ تھا اور اس کے ساتھ کوئی بھی نہ تھی اور وہ اس وقت بھی اسی حال پر ہے۔ جس حال پر پہلے تھا۔
یعنی وہ ذات عالیہ ازل میں جس طرح اپنی صفات اور اپنے اسما سے متصف تھی ۔ اسی طرح اب بھی ہے اور اسی طرح ہمیشہ باقی رہے گی۔ لہذا وہ ازل میں بھی ظاہر و باطن تھی ۔ اور ظاہر ہونے کے بعد بھی ظاہر و باطن ہے۔ اپنی ذات کے لئے ظاہر اور اپنی مخلوق سے باطن ہے۔ اس نے ظاہر ہونے کی حالت میں جس کے ساتھ تجلی کی ۔ اس میں وہ باطن (پوشیدہ ) بھی ہے۔
حضرت قاشانی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن فارض کی تائیہ کی شرح فرمایا ہے اور اس کو انہوں نے کچھ کلام کے بعد واضح فرمایا ہے :- اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور صفات کے راز کو افعال کے مظہروں میں ظاہر فرمایا اور اس کے پہلے اُس کے اوپر اس کی پوشیدگی نہیں تھی۔ جیسا کہ انہوں نے جمع کی زبان میں محبوب حقیقی کی طرف سے حکایت کرتے ہوئے اپنے اس شعر میں بیان فرمایا ہے۔
مَظَاهِرُ لِي فِيهَا بَدَوْتُ وَ لَمْ أَكُنْ عَلَيَّ بِخَافٍ قَبْلُ مَوْطِنُ بَرْزَةٍ
میرے لئے مظاہر ہیں۔ جن میں میں ظاہر ہوا۔ اور میں اپنے اوپر پہلے بھی پوشیدہ نہیں تھا۔ میرے لئے ظہور کا مقام تھا۔
لیکن ایسا اس لئے ہے۔ تا کہ وہ اپنے اسم پاک ظاہر کے ساتھ آخر میں جلوہ گر ہو۔ جیسا کہ اپنے اہم پاک باطن کے ساتھ ابتدا میں جلوہ گر تھا۔
اور تعجب پر تعجب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے افعال کے مظہروں میں سے جس شے میں ظاہر ہوا۔ اس میں پوشیدہ ہوگیا۔ جیسا کہ ایک عارف نے فرمایا ہے:۔
بَدَتْ بِاحْتِجَاب وَ اخْتَفَتْ بِمَظَاهِرٍ عَلَى صِيَغِ الْأَکْوَانِ فِي كُلِّ بَرْزَةٍ
اللہ تعالیٰ کی ذات پاک پوشیدہ ہونے کے باوجود ظاہر ہے۔ اور مخلوقات کے مظاہر میں پورے ظہور کی حالت میں پوشیدہ ہے۔ اور تحقیق یہ ہے کہ اس طرح کہا جائے : اللہ تعالیٰ اپنے اسماء اور اپنی صفات کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے۔ ازل میں بھی اور ابد میں بھی۔ لیکن اس کے آثار کا ظہور ابد میں واقع ہوا۔ لہذا وہ اپنے اسم پاک ظاہر و باطن کے ساتھ زل میں بھی متصف تھا۔ اور ابد میں دونوں اسماء کے آثار ظاہرہوئے۔ وَاللَّهُ تَعَالٰی أَعْلَمُ


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں