تعریف اور برائی کا مستحق (بارھواں باب)

تعریف اور برائی کا مستحق کے عنوان سے بارھویں باب میں  حکمت نمبر 124 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
تو اگر بندے میں طاعت پیدا کر کے اس کی طرف منسوب کرتا ہے تو وہ شریعت کی زبان میں تعریف کا مستحق ہوتا ہے۔ اور اگر اس کے اوپر نافرمانی جاری کر کے اس کے اوپر اس کو پورا کرتا ہے تو وہ شریعت کی زبان میں برائی کا مستحق ہوتا ہے۔
جیسا کہ مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اپنے اس قول میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے:۔
124) لا نِهَايَةَ لِمَذَامِّكَ إِنْ أَرْجَعَكَ إِلَيكَ ، وَلا تَفْرُغُ مدَائِحُكَ إِنْ أَظْهَرَ جُودَهُ عَلَيكَ.
تمہاری برائیوں کی انتہا نہیں ہے اگر تم کو تمہاری طرف رجوع کر دے اور تمہاری خوبیاں اور تعریفیں ختم نہیں ہوسکتی ہیں۔ اگر تمہارے اوپر اپنی بخشش ظاہر کرے
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں :- جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو ذلیل اور رسوا کرنے کا ارادہ کرتا ہے۔ تو اس کو اس کے نفس اور اس کی خواہش کی طرف لوٹا دیتا ہے۔ پھر وہ اس کے سپرد کر دیا جاتا ہے پھر وہ جو اختیار کرتا ہے اس کا مالک ہو جاتا ہے پھر جب اس پر خواہش غالب ہو جاتی ہے تو اس کو تباہی کے گڑھوں میں گرا دیتی ہے۔
جیسا کہ شاعر نے کہا ہے:۔
تركُکَ نَفْسَكَ وَهَوَاهَا سَعَى لَهَا فِي رَدَاهَا
تمہارے نفس کو ان کی خواہش کے ساتھ ایک دن کیلئے بھی چھوڑنا ، اس کی تباہی کی کوشش کرنی ہے
خواہش ذلت کا خلاصہ ، اور اس کا سبب ہے۔ جیسا کہ حضرت برعی نے فرمایا ہے:
لا تتبع النَّفْسَ فِي هَوَاهَا إِنَّ اتْبَاعَ الْهَوَى هَوَانٌ
نفس کی پیروی اس کی خواہش میں نہ کرو ۔ کیونکہ بلاشبہ خواہش کی پیروی رسوائی ہے۔
اور جب اللہ تعالی کسی بندے کو عزت دیتے ، اور اس پر مہربانی کرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو اس کے اوپر اپنی بخشش اور کرم ظاہر فرماتا ہے پھر اس کی سرپرستی اور حفاظت کرتا ہے اور اس کو ایک لمحہ کیلئے بھی اس کے نفس اور اس کی خواہش کے ساتھ نہیں چھوڑتا ہے۔ پس اے انسان! تیرے برائیوں کی انتہا نہیں ہے اگر تجھ کو تیرے نفس کی طرف لوٹا دے اور اس کو تیرے اوپر حاکم بنا دے یہ تجھ کو چھوڑ دینے اور اللہ تعالی کی نظر سے تیرے گر جانے کی علامت ہے
اور میں ہر نقصان اور وبال سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتا ہوں اور تیری خوبیاں، اور تعریفیں ختم نہیں ہو سکتی ہیں اگر تیرے اوپر اپنی بخشش ظاہر کر دے۔ پھر تجھ کو اپنی حفاظت میں لے لے۔ اور اپنی عنایت سے تیری نگرانی فرمائے ۔ اور تم کو تمہارے نفس سے روک دے اور تمہارے اور تمہاری تدبیر اور فکر کے درمیان حائل ہو جائے۔
اور حضرت محمد ﷺ کی دعاؤں میں سے یہ دعا ہے :-
إن تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تَكِلْنِي إِلَى ضُعْفٍ وَعَرُزَ و ذَنْبٍ وَ عَطِينَةٍ وَإِنِّي لَا أَفِقُ إِلَّابِرَحمَتِكَ اے اللہ ! اگر تو مجھ کو میرے نفس کے حوالے کر دے گا، تو تو مجھے کمزوری اور محتاجی اور گناہ اورخطا کے حوالے کر دے گا اور میں صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتا ہوں
حاصل یہ ہے:۔ کہ اگر تم اپنے رب کے ساتھ وابستہ رہو گے، تو تمہاری عزت مکمل جائے گی اور تمہاری تعریف اور خوبی بھی ختم نہیں ہوگی۔ اور اگر تم اپنے نفس کے ساتھ متعلق رہو گے تو نفس مکمل ہوگا ۔ اور تمہاری برائی کی انتہانہ ہوگی۔
یا تم اس طرح کہو :- جس شخص کو اللہ تعالی اس کے نفس ، اور اس کی خواہش کے ساتھ چھوڑ دیتا ہے اس کے برائیوں کی کوئی انتہا نہیں ہے کیونکہ نفس کیلئے اتنے ہی عیوب ہیں۔ جتنے اللہ تعالی کیلئے کمالات ہیں۔ اور جس کی سرپرستی اللہ تعالی کرتا ہے اور اس پر اپنی بخشش ظاہر فرماتا ہے اور اس کو اس کے نفس کے ساتھ نہیں چھوڑتا ہے اور اس کو اس کے فائدے سے نکال لیتا ہے۔ اور اس کے اور اس کی خواہش کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اس کی خوبیوں کی کوئی انتہا نہیں ہے۔
اس لیے کہ اللہ تعالی کے کمالات کی کوئی انتہا نہیں ہے اور یہاں اس دنیا میں اس کے مظاہر کی کوئی انتہا نہیں ہے اسی طرح اس کے جمال کی بھی کے سوا کچھ نہیں ہے تو جس طرح اس کے جلال کوئی انتہا نہیں ہے۔ واللہ تعالی اعلم ۔
یہاں بارھواں باب ختم ہوا۔
خلاصه اس کا حاصل :- اوارد کی تعظیم ، اور اعداد کے وارد ہونے کیلئے تیار ہونا ، اور کدورتوں سے باطنوں کو صاف کرنا ہے تا کہ ان کے اوپر انوار کے سورج روشن ہوں ۔ اور وہ عرفان کے سورج ہیں ۔ پھر عارف تدبیر اور اختیار سے فنا ہو جاتا ہے۔ پھر وہ ہر روز اس پر نظر رکھتا ہے کہ اس کے ساتھ اللہ واحد قہار کیا معاملہ کرتا ہے۔ پھر اس وقت ہر وہ شے سے مانوس ہو جاتا ہے اور ہرشے کے ساتھ با ادب ہو جاتا ہے۔ اور ہرشے کی تعظیم کرتا ہے اور ہرشے میں اللہ تعالی کی معرفت حاصل ہونے کے سبب کسی شے سے اس کو وحشت ، اور نفرت نہیں ہوتی ہے۔ تو وہ اس دنیا میں اللہ تعالی کی طرف نظر کرنے کے ساتھ ، اس کی صفات کے حجاب سے مانوس ہو جاتا ہے۔ اور وہ اس کی مخلوق کے مظاہر ہیں اور آخرت میں اللہ تعالی اس کے سامنے اپنی صفات کے حجاب کے بغیر اپنی مقدس ذات کے کمال کو ظاہر کرے گا۔ اور یہ اس وجہ سے ہے: کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ وہ اس کے دیدار کے بغیر صبر نہیں کر سکتا ہے تو اس نے اس کو اپنی مخلوق کا مشاہدہ کرایا۔ جو اس کی ذات سے ظاہر ہوئی ہے۔ اور اس کی صفات کومظہر ہے۔ اور چونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کے بندوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اس کی مخلوق میں اس کے مشاہدہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں۔ تو ان کو اپنی خدمت میں مشغول فرمایا، اور اسے یہ بھی علم تھا کہ اگر وہ ہمیشہ ایک ہی قسم کے عمل پر قائم رہے گا۔ (یعنی ایک ہی قسم کا عمل برابر کرتا رہے گا) تو اکثر اوقات اس کو گھبراہٹ اور پریشانی لاحق ہوگی، اور وہ اکتا جائے گا۔ تو اس نے اس کیلئے طاعت اور عمل کو مختلف قسموں اور صورتوں میں تقسیم کر دیا۔ اور چونکہ اس کو بندے کے اندر حرص کے موجود ہونے کا علم تھا اس لیے اس نے طاعت کو وقتوں کے ساتھ مقید کر دیا تا کہ ارادہ نماز کا قائم کرنا ہو، نہ کہ نماز کا وجود یعنی ظاہری شکل ۔ پھر نماز کے ثمرات اور نتائج بیان کیے اور تم کو اس پر اجر کی خواہش سے منع کیا۔ اس لیے کہ طاعت کے کرنے والے تم نہیں ہو بلکہ وہ صرف اللہ تعالی کی طرف سے تمہارے اوپر فضل ہے۔ اس نے تمہارے اندر طاعت کی طاقت پیدا کی اور اس کو تمہاری طرف منسوب کر دیا۔ کیونکہ اگر اللہ تعالی تم کو تمہارے نفس کی طرف لوٹا دے اور تم کو تمہاری خواہش نفسانی کے ساتھ چھوڑ دے تو تمہارے برائیوں کی انتہا نہ ہوگی۔ اور اگر تم کو تمہارے نفس سے لےلے اور اپنی بخشش اور فضل سے تمہاری سر پرستی فرمائے ۔ تو تمہاری خوبیوں کی کوئی انتہا نہ ہوگی اور وہ کبھی ختم نہ ہوں گی۔ اس حیثیت سے کہ تم اس کے اولیا میں سے ایک ولی ، اور اس کے مقبول دوستوں میں سے ایک دوست ہو جاؤ گے۔اللہ تعالی ہم کو اپنے فضل و کرم سے ان کی جماعت میں شامل فرمائے ، آمین ۔
پھر اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالی تمہارے اوپر اپنی بخشش ظاہر فرمائے اور تمہارے گرداپنی عطاؤں کو پھیلا دے تو تم اپنی عبودیت کے وصف کے ساتھ قائم ، اور اس کی ربوبیت کے وصف کے ساتھ متعلق ہو جاؤ، اور حضرت منصف نے تیرہویں باب کی ابتداء میں اس کو بیان فرمایا ہے۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں