حصول استقامت اورمایوسی (سولہواں باب)

حصول استقامت اورمایوسی کے عنوان سے سولہویں باب میں  حکمت نمبر 148 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔

سولہواں باب

سیر کرنے کی حالت میں سائر کے آداب کے بیان میں حضرت مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) رضی اللہ عنہ نے فرمایا:-
148) إِذَا وَقَعَ مِنْكَ ذَنْبٌ فَلاَ يَكُنْ سَبَبًا لِيَأْسِكَ مِنْ حُصُولِ الاسْتِقَامَةِ مَعَ رَبِّكَ ، فَقَدْ يَكُونُ ذَلِكَ آَخِرَ ذَنْبٍ قُدِّرَ عَلَيْكَ.
جب تم سے کوئی گناہ سرزد ہو، تو وہ تمہارے رب اللہ تعالیٰ کے ساتھ استقامت کے حاصل ہونے سے تمہارے مایوس ہونے کا سبب نہ ہو جائے ۔ کیونکہ کبھی یہ ان گناہوں کا آخری گناہ ہوتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر مقدر کیا ہے۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں :۔ سچا سائر، یا حقیقت تک پہنچا ہواو اصل، تیز رفتار سوار کی طرح ہے۔ چلنے میں کوشش کرنے والا ، اس قدر تیز رفتار، کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُڑ رہا ہے۔ پھر اگر وہ پھسلتا ہے اور گر جاتا ہے۔ تو اپنے گھوڑے پر مضبوطی سے جم کر بیٹھتا ہے اور اپنے مقصود کے حاصل کرنے کے لئے برابر اس کو چلاتا رہتا ہے۔ پھر جب اس طرح کرتا ہے۔ کہ مرغ کی طرح لوٹنے لگتا ہے۔ تو یہ اس کے کمزور ہونے اور اپنے مقصد کے حاصل نہ کرنے کی دلیل ہے۔
لہذا اے فقیر ! اگر تم سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے ۔ تو وہ اللہ تعالیٰ سے تم کو جدا کرنے کا ، یا اللہ تعالیٰ کے ساتھ استقامت سے تم کو مایوس کرنے کا سبب نہ ہو جائے۔ ورنہ تمہارے اوپر گناہ کا عذاب دو گنا ہو جائے گا۔ اور تمہارے حق میں مصیبت اور بلا بڑھ جائے گی۔ کیونکہ یہ معصیت کبھی تمہارے لئے رحمت اور تمہاری عادتوں پر تمہارے لئے تنبیہ ثابت ہوتی ہے۔ جیسے کہ غم اورکمزوری کا واقع ہونا ۔
لہذا اگر تم گر پڑو۔ تو پھر اُٹھ جاؤ۔ اور جب اٹھ جاؤ تو کوشش کرنے لگ جاؤ۔ اور کبھی یہ ان گناہوں میں سے آخری گناہ ہوتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ازل میں مقدر فرمایا ہے۔
اور ان واقعات میں غور کرو ۔ جو بہت سے اکابر ( بڑے بڑے ) اولیائے کرام کو پیش آئے ۔ پہلے وہ چور اور ڈاکو تھے۔ پھر وہ خواص ہو گئے ۔ جیسے حضرت ابراہیم ابن ادہم اور حضرت فضیل بن عیاض اور حضرت ابو یعزی رضی اللہ عنھم ۔ اور ان کے علاوہ بے شمار حضرت اولیا ئے عظام ۔ لہذا یہ حضرات ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن رکھنے کے بارے میں تمہارے لئے اسوہ حسنہ (بہترین نمونہ ) ہونے چاہیئے ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:- ( قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ ) آپ فرمادیجئے ! اے میرے وہ بندو ، جو اپنے اوپر زیادتی کر چکے ہو۔ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :-
وَ مَنْ يَقْنُطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهِ إِلَّا الضَّالُونَ ) اور گمراہ لوگوں کے سوا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہوتا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:- لَا يَبْسُ مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ) کا فرقوم کے سوا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کوئی نا امید نہیں ہوتا ہے۔
اور حضرت رسول کریم ﷺ کر نے فرمایا ہے :- كُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَاءٌ ، وَ خَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ )سب آدمی بہت بڑے خطا کار ہیں۔ اور بہترین خطا کار، تو بہ کرنے والے ہیں ۔
نیز حضرت رسول کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے :- ( إِنَّ اللهَ يُحِبُّ كُلُّ مُفْتَنٍ تَوَّابِ يَعْنِي كَثِيرَ الذَّنْبِ كَثِيرَ التَّوْبَةِ ) اللہ تعالیٰ ہر فتنہ انگیز توبہ کرنے والے، یعنی زیادہ گناہ کرنے والے، زیادہ تو بہ کر نیوالے کو پسند کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :- ( إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ ) بیشک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ اور پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
پس یہ مذکورہ بالا آیات شریفہ :- بندوں کی رجاء (امید ) کوقوی کرتی ہیں اور اعتدال اور اصلاح کا سبب بنتی ہیں۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں