حیات قلب اطاعت پر خوشی (باب ششم)

حیات قلب اطاعت پر خوشی کے عنوان سے  باب  ششم میں  حکمت نمبر58 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمدعبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
چونکہ کل نور اور سر اور خیر کی اصل، اللہ تعالیٰ کی طاعت ہے۔ اور کل ظلمت اور حجاب اور بعد کی اصل ، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ اور قلب کی حیات کی علامت ، طاعت سے اس کا خوش ہوتا۔ اور نافرمانی صادر ہونے پر اس کا رنجیدہ ہونا ہے۔ لہذا مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے تم کو طاعت سے، جو قلوب کے نور کا سبب اور غیوب کی کنجیاں ہیں۔ خوش ہونے کی وجہ سے آگاہ کیا۔ چنانچہ فرمایا۔
58) لا تُفْرِحْكَ الطَّاعَةُ؛ لأنَّها بَرَزَتْ مِنْكَ، وَافْرَحْ بِهَا لأنَّها بَرَزَتْ مِنَ الله إليكَ ﴿ قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ).
تم کو طاعت اس وجہ سے خوش نہ کرے کہ وہ تم سے ظاہر ہوئی ہے۔ بلکہ تم اس سے اس لئے خوش ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے (اس کی توفیق سے ) تمہاری طرف صادر ہوئی ہے۔آپ فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے۔ پس اس سے لوگوں کو خوش ہونا چاہیئے ۔ یہ اس سے بہتر ہے جو وہ لوگ جمع کرتے ہیں۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں:۔ من سرَّتْهُ حَسَنَاتُهُ ، وَسَالَهُ سَيِّئَاتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ جس شخص کو اس کی نیکیاں خوش کرتی ہیں اور اس کی برائیاں رنجیدہ کرتی ہیں وہ مومن ہے ۔
اور طاعت سے خوش ہونے میں آدمی تین قسم کے ہیں۔ ایک قسم وہ لوگ ہیں ۔ جو طاعت سے اس لئے خوش ہوتے ہیں کہ وہ اس کے ذریعہ نعمتوں کی امید رکھتے ہیں اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے درد ناک عذاب سے بچتے ہیں۔ تو وہ لوگ اس کے صادر ہونے کو اپنی طرف سے اپنے نفس کے لئے دیکھتے ہیں۔ وہ اس طاعت میں اپنے اختیار اور طاقت سے بری نہیں ہوتے ہیں۔ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے قول:۔ (إِيَّاكَ نَعۡبُدُ والوں میں سے ہیں
دوسری قسم :۔ وہ لوگ ہیں۔ جو طاعت سے اس لئے خوش ہوتے ہیں کہ وہ رضا مندی اور مقبولیت کا عنوان یعنی دیباچہ ہے۔ اور قرب اور وصول الی اللہ کا سبب ہے۔ تو وہ بادشاہ کریم کی طرف سے ہدیہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور تک لے جانے والی سواریاں ہیں ۔ وہ لوگ اپنے نفس کے لئے نہ ترک دیکھتے ہیں نہ عمل نہ طاقت دیکھتے ہیں نہ اختیار ۔ وہ یہ سمجھتے ہیں ۔ کہ وہ ازلی قدرت کے ساتھ لے جائے جاتے ہیں اور اصلی مشیت کے ساتھ پھرائے جاتے ہیں۔ اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے قول: (إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ) والوں میں سے ہیں۔ پس پہلی قسم کے لوگوں کی عبادت اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کی عبادت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ، اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ساتھ ہے۔ اور دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔۔
تیسری قسم : وہ لوگ ہیں ۔ جن کی خوشی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ اس کے سوا کسی شے کے ساتھ نہیں۔ وہ اپنے نفسوں سے فنا ہو چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ باقی ہیں ۔ تو اگر ان سے کوئی طاعت ظاہر ہوتی ہے۔ تو وہ اسے اللہ تعالیٰ کا احسان سمجھتے ہیں ۔ اور اگر ان سے کوئی معصیت ظاہر ہوتی ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ کے ادب کا لحاظ کرتے ہوئے اس کے سامنے معذرت کرتے ہیں۔ اگر ان سے کوئی لغزش سرزد ہوتی ہے تو ان کی خوشی کم نہیں ہوتی ہے۔ اور اگر کوئی طاعت یا بیداری ظاہر ہوتی ہے تو ان کی خوشی زیادہ نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں۔ اور (لا حولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ) والوں میں سے ہیں ۔ اور وہ لوگ عارفین باللہ ہیں۔ پس اے مرید! اگر تم سے کوئی طاعت یا احسان ظاہر ہو ۔ تو تم اس حیثیت سے خوش نہ ہو کہ وہ تم سے ظاہر ہوئی ہے۔ ور نہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنیوالے ہو جاؤ گے۔ کیونکہ بے شک اللہ تعالیٰ تم سے ، اور تمہاری طاعت سے، اور اپنے ماسوا کی اطاعت کرنیوالے کی محتاجی سے غنی اور بے نیاز ہے ۔ اللہ تعالیٰ نےفرمایا ہے:۔
وَمَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ جو شخص کوشش کرتا ہے وہ در حقیقت اپنے لئے کرتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ تمام عالم سے بے نیاز ہے ۔ حضرت نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے حکایت کرتے ہوئے فرمایا ہے
‌يَا ‌عِبَادِي ‌لَوْ ‌أَنَّ ‌أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ مِنْكُمْ لَمْ يَزِدْ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا
بے شک اگر تمہارے اگلے اور پچھلے اور تمہارے انسان اور جن سب کے سب ایک شخص کےپر ہیز گار قلب پر جمع ہو جائیں تو یہ میری بادشاہت میں کچھ اضافہ نہ کرے گا۔ بلکہ اے مرید تم طاعت سے اس حیثیت سے خوش ہوکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری طرف ہدیہ ہے ۔ اور وہ اس کی دلیل ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور احسان کے مظہر ہو۔ تو خوشی در حقیقت اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔
قُلۡ بِفَضۡلِ ٱللَّهِ وَبِرَحۡمَتِهِۦ فَبِذَٰلِكَ ‌فَلۡيَفۡرَحُواْ
آپ فرمادیجئے! کہ ہدایت اور توفیق اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے۔ تو ان لوگوں کو اس سے خوش ہونا چاہیئے ۔
اللہ تعالیٰ کا فضل:۔ اس کی ہدایت اور توفیق ہے اور اس کی رحمت اس کا منتخب کرنا اور قریب کرنا ہے۔ اور کہا گیا ہے: اللہ تعالیٰ کا فضل ، اسلام ہے۔ اور اس کی رحمت ، قرآن ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل دین کی ہدایت ہے۔ اور اس کی رحمت ، جنت نعیم ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ کا فضل : دلیل و برہان کی توحید ہے اور اس کی رحمت ، عیان و مشاہدہ کی تو حید ہے۔ اور اس کے سوا بھی کہا گیا ہے۔ وَاللَّهُ تَعَالٰی أَعْلَمُ ۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں